HIRA ONLINE / حرا آن لائن
وسوسہ کی بیماری اور اس کا علاج

وسوسہ یہ ایک عام بیماری ہے ، اور اکثر لوگ آج کل اس مرض کے شکار ہیں ، جس کی وجہ سے بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وسوسہ سے بچنے کے یوں تو بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں ، لیکن شریعت مطہرہ میں وسوسہ سے بچنے کے لیے جو باتیں آئی ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ انسان اپنی قوت ارادی کو مظبوط کریں ، اور پوری قوت سے وسوسہ دور کرنے اور اپنے ذہن کو کسی اور طرف متوجہ کرنے کی کوشش کریں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا علاج یہ بتایا ہے کہ جب بھی وسوسہ آئے تو انسان "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم ” پڑھیں ، اور اگر کوئی کفریہ خیال آئے تو ” آمنت بالله و رسله” (میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا) پڑھے ، اس کے علاوہ پیشاب کی چھینٹوں سے بھی بچنا چاہیے ، حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب میں بے احتیاطی کی وجہ سے وسوسہ پیدا ہوتا ہے ،

Read more

سب سے بہتر ذکر کیا ہے ؟؟

سب سے بہتر ذکر "لا إلاه إلا الله” ہے ، کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص نے دل کی گہرائی سے اخلاص کے ساتھ "لا إلاه إلا الله” کہا وہ قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق ہوگا ( کنز العمال: حدیث نمبر: 1818) پس کلمہ طیبہ سب سے افضل ذکر ہے ، لہذا انسان کو جس قدر ممکن ہو اس کلمہ کو پڑھتے رہنا چاہیے

Read more

کیا دیٹ بوڈی کو میڈیکل کے لیے وقف کرنا کی وصیت کرنا یا  جسم کے کسی حصے کو وقف کرنا کی وصیت کرنا کیسا ہے ؟

کیا دیٹ بوڈی کو میڈیکل کے لیے وقف کرنا کی وصیت کرنا یا  جسم کے کسی حصے کو وقف کرنا کی وصیت کرنا کیسا ہے ؟ جواب انسانی جسم ایک عظیم نعمت ہے ، جس کی تکریم و تعظیم ہر ایک انسان کے لیے ضروری ہے  ، اور  اسلام میں بھی انسانوں کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی تحقیر و تذلیل سے منع کیا گیا ہے ،  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِی آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّیبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَى كَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیلًا (الإسراء: 70) ‘‘ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور انھیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انھیں فوقیت دی ۔’’      اور  یہ حکم عام ہے ، زندہ  اور مردہ دونوں کے لیے ہے ، جس طرح زندہ انسانوں کی تعظیم ضروری ہے ، اسی طرح مرنے کے بعد بھی انسانی لاش کا احترام کرنا ضروری ہے ، اس لئے احادیث نبویہ میں بھی بے حرمتی سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے ،  ام المومنین حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : كَسْرُ عَظْمِ المَیتِ كَكَسْرِهِ حَیا (ابوداود: 3207 ، ابن ماجہ: 1616) ‘‘ میت کی ہڈی توڑنا، اس کی زندہ ہونے کی حالت میں ہڈی توڑنے کے مثل ہے ۔’’    اس لیے عام حکم تو یہی ہے انسانی لاش کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور  چیڑ پھاڑ جائز نہیں ہے ، اور اکثر ہندوستان کے علماء کی رائے بھی یہی ہے ، گرچہ  لاش لاوارث ہی کیوں نہ ہو،       لیکن  آج کل میڈیکل میں طلباء کو انسانی جسم کے اعضاء ، ہڈیوں کی بناوٹ ، طبیعی ہیئت سے آگاہ کرانے کے لیے انسانی لاش کا استعمال کیا جاتا ہے ، جس کا مقصد طلبہ کو انسانی جسم کے اعضاء ، ہڈیوں اور احشا (Viscera)کی بناوٹ ، طبیعی ہیئت اور مرضی صورتوں سے واقف کرانا ہوتا ہے ، اور  طلبۂ طب کو آئندہ مریضوں کے علاج معالجے کی…

Read more

وضو کے فرائض وضو کے چار فرائض (1) ایک بار پورے چہرے کو دھونا ، پیشانی کے بالوں کی جڑ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کی لو تک ، ایک بار دونوں ہاتھوں کی کہنیوں سمیت دھونا ایک بار چوتھائی سر کا مسح کرنا ایک بار دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا

Read more

گود لینے کی شرعی حیثیت

سوال : میری شادی کو بیس (20) برس ہو چکے ہیں ۔ کوئی اولاد نہیں ہے ۔ بہت ڈپریشن میں رہنے لگی ہوں ۔ سب لوگ طنز کرتے ہیں ۔ میری بہن چپکے سے اپنی بیٹی مجھے دینے پر تیار ہے ۔ میرے شوہر بھی اس کے لیے راضی ہیں ۔ میں چاہتی ہوں کہ بیٹی کو اپنا بچہ سمجھ کر پالوں اور بچی کو پتہ بھی نہ چلے ۔ کیا شریعت مجھے اس بات کی اجازت دیتی ہے؟ لڑکی کے والدین راضی ہیں اور ہم دونوں میاں بیوی بھی ۔ چار کے علاوہ دوسروں کو خبر نہیں کریں گے ، تاکہ بچی کو نفسیاتی مسئلہ نہ ہو ۔ کیا شریعت کی روشنی میں اس کی گنجائش نکلتی ہے؟ جواب :اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ ان سے دنیوی زندگی کی رونق قائم رہتی ہے ۔(سورۃ الکہف: 46) ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے ہوں ، جن کی کلکاریاں گھر میں گونجیں ، پھر ان کی اولادیں : پوتے ، پوتیاں ، نواسے ، نواسیاں ہوں ، تاکہ ایک بھَرا پُرا خاندان وجود میں آئے ۔ اس دنیا میں ہر شخص آزمائش کی حالت میں ہے ۔ جو صاحبِ اولاد ہے وہ بھی اور جو اولاد سے محروم ہے وہ بھی ہ۔ کسی کو اولاد سے نواز کر اللہ تعالیٰ آزماتا ہے کہ وہ اس پر شکر ادا کرتا ہے یا نہیں اور اس کی صحیح تربیت کرتا ہے یا نہیں اور اولاد سے محروم شخص کی آزمائش اس میں ہوتی ہے کہ وہ صبر کرتا ہے یا نہیں اور تقدیر الٰہی پر راضی رہتا ہے یا نہیں ۔ اس قانونِ الٰہی کا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے:لِلّٰـهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الـذُّكُـوْرَ اَوْ يُزَوِّجُهُـمْ ذُكْـرَانًا وَّاِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا ۚ اِنَّه عَلِيْـمٌ قَدِيْر(سورۃالشوری: 49 , 50)(اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے ، جسے…

Read more

*عورتوں کا حقِّ وراثت __ اور ___* *موجودہ ہندوستانی مسلم معاشرہ* از: محمد رضی الاسلام ندوی

کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی ملکیت میں رہنے والی تمام چیزیں (زمین ، جائیداد ، مکان ، دکان ، نقدی وغیرہ) اس کے قریبی رشتے داروں میں تقسیم ہوں ، اسے وراثت کہتے ہیں ۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ مختلف سماجوں میں جو شخص زور آور ہوتا ہے وہ اس پر قبضہ کرلیتا ہے اور میّت سے اپنے برابر یا اپنے سے زیادہ قریبی تعلق رکھنے والے دوسرے لوگوں کو محروم کر دیتا ہے ۔ یہ عمل صدیوں سے جاری ہے ۔ عورتیں مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں اپنے جائز حقِ وراثت سے محروم رہی ہیں اور عموماً انھیں نظر انداز کیا گیا ہے ۔ وراثت کا حق دار صرف بڑا لڑکا ہوتا تھا اور بیوہ اور لڑکیاں اس کے رحم و کرم پر ہوتی تھیں ۔ لڑکا نہ ہوتا ، تب لڑکیاں میراث پاتی تھیں ۔ اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے عورتوں کو سماج میں مردوں کے مساوی حیثیت دی اور انھیں بھی وراثت کا مستحق قرار دیا ۔ قرآن کریم نے پوری صراحت اورقوت کے ساتھ اس کا اعلان کیا ہے : ” مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے ۔“ (النساء : 7) اس آیت میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مالِ وراثت چاہے زیادہ ہو یا کم ، ہر حال میں عورتیں بھی اس میں سے حصہ پائیں گی ۔ ساتھ ہی ’مقرّر حصہ‘ کہہ کر مزید تاکید کردی گئی ہے کہ مالِ وراثت میں عورتوں کا حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی کی جاسکتی ہے نہ انھیں بالکلیہ محروم کیا جاسکتا ہے ۔ وارثین میں تین خواتین ایسی ہیں جو کسی بھی حال میں بالکلیہ میراث سے محروم نہیں ہوتیں : وہ ہیں ماں ، بیوی اور…

Read more