HIRA ONLINE / حرا آن لائن
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلام تعارف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی برصغیر کے اُن ممتاز علما میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے فقہ اسلامی، جدید فقہی مسائل، دعوت، تدریس اور تصنیف و تالیف کے میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں۔ آپ اپنی فقہی بصیرت، اعتدال پسند فکر، وسیع مطالعہ اور عصری مسائل پر گہری نظر کے باعث علمی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔آپ اس وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری، اور المعہد العالی الاسلامی کے بانی و سرپرست کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فقہ اسلامی کے جدید تقاضوں کو سمجھنے اور ان کے شرعی حل پیش کرنے میں آپ کی خدمات کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ پیدائش اور خاندانی پس منظر ( مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی پیدائش 5 نومبر 1956ء کو ریاست بہار کے ضلع دربھنگہ کے قصبہ جالے کے ایک علمی اور دینی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا اصل نام “خالد سیف اللہ” رکھا گیا جبکہ تاریخی نام “نور خورشید” تھا۔آپ کا خاندان علم و دیانت کے اعتبار سے مشہور رہا ہے۔ آپ کے دادا مولانا عبد الاحد صاحب دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اپنے زمانے کے معروف عالم تھے۔ اسی طرح آپ کے چچا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی برصغیر کے ممتاز فقہا اور ملی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ تعلیم و تربیت( مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی) مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر ہی سے حاصل کی۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد اور خاندان کے دیگر اہلِ علم سے پڑھیں۔ بعد ازاں مدرسہ قاسم العلوم حسینیہ دوگھرا میں داخلہ لیا، پھر جامعہ رحمانیہ مونگیر میں متوسطات سے دورۂ حدیث تک تعلیم حاصل کی۔جامعہ رحمانیہ میں آپ کو مولانا منت اللہ رحمانی جیسے عظیم فقیہ سے استفادہ کا موقع ملا۔ اس کے بعد آپ نے دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث مکمل کیا اور اکابر علما سے علم حدیث…

Read more

مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے

مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامے سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی برصغیر ہند کے معروف عالمِ دین، داعی، ادیب اور سماجی رہنما ہیں۔ آپ موجودہ دور میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے ناظم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ علمی خانوادے سے تعلق رکھنے والے مولانا بلال حسنی ندوی نے دینی، تعلیمی، دعوتی اور اصلاحی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وہ اپنی سادہ مزاجی، معتدل فکر اور دعوتی حکمت کی وجہ سے علمی حلقوں میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ خاندانی پس منظر مولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی کی ولادت 1969ء میں رائے بریلی میں ہوئی۔ آپ کا تعلق مشہور حسنی قطبی سادات خاندان سے ہے۔ آپ کے والد سید محمد الحسنی اردو و عربی کے ممتاز ادیب اور علمی شخصیت تھے، جبکہ آپ عظیم مؤرخ عبد الحی حسنی کے پڑپوتے ہیں۔ اسی علمی اور روحانی ماحول نے آپ کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ سابق ناظم ندوۃ العلماء ڈاکٹر عبدالعلی حسنی قاسمی کے پوتے اور معروف اسلامی مفکر سید ابو الحسن علی ندوی کے خانوادے سے وابستہ ہیں۔ ابتدائی تعلیم اور علمی سفر مولانا کی ابتدائی تعلیم رائے بریلی اور لکھنؤ کے مکاتب میں ہوئی۔ بعد ازاں آپ نے دار العلوم ندوۃ العلماء سے عالمیت اور علومِ حدیث میں فضیلت حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے آپ علمی ذوق، مطالعے اور دعوتی سرگرمیوں میں نمایاں تھے۔ فراغت کے بعد کچھ عرصہ آپ نے سید ابو الحسن علی ندوی کی خدمت اور صحبت میں گزارا، جس سے آپ کی فکری اور دعوتی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ تدریسی اور دعوتی خدمات تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا مدرسہ ضیاء العلوم سے وابستہ ہوگئے، جہاں آپ نے علومِ حدیث کی تدریس کی۔ تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ نے رائے بریلی اور اطراف کے علاقوں میں دعوت و اصلاح کا وسیع کام انجام دیا۔ مولانا بلال حسنی ندوی کی دعوتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد معاشرے میں دینی بیداری، اخلاقی اصلاح اور انسانیت کی خدمت ہے۔ آپ کا اندازِ…

Read more

سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری

سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری 🖋️ احمد نور عینی کہا جاتا ہے کہ اس ملک کا تہذیبی مزاج عدم تشدد کا ہے، اور جیو ہتیا (ذبح جانور) تشدد ہے اس لیے ذبح وقربانی اور گوشت خوری اس ملک میں ناقابل برداشت عمل ہے، اور چوں کہ مسلم قوم کا نظریاتی وعملی دونوں سطح پر گوشت خور ہونا ایک بے غبار حقیقت ہے، نیز اسلام اور مسلم قوم سے بھارتی اقوام کو مانوس نہ ہونے دینا دور جدید کے برہمنواد کا اہم منصوبہ ہے اس لیے ذبح وقربانی اور گوشت خوری کو لے کر اسلام پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ گو کہ یہ دعوی بھی محتاج بحث ہے کہ آیا ذبح وقربانی اور گوشت خوری اس ملک کے تہذیبی مزاج اور ثقافتی ورثہ کے خلاف ہے یا نہیں نیز یہ مسئلہ بھی تحقیق طلب ہے کہ جیو ہتیا کے پاپ ہونے کا تصور کہاں سے شروع ہوا، مگر اس مضمون میں اس بحث کو نہ چھیڑتے ہوئے سناتنی لٹریچر سے ذبح وقربانی اور گوشت خوری کے منتروں اور اشلوکوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اپنے پیاروں سے ہم کہہ سکیں کہاتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایتدامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ ▪️ وید: سناتنی لٹریچر میں سر فہرست وید آتے ہیں، وید کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع یگیہ (قربانی) ہے، ویدوں میں رگ وید کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس کے پہلے منڈل کے سوکت: ۱۶۲، کے دوسرے منتر میں گھوڑے اور بکروں کی قربانی کا ذکر ہے، آگے اس سوکت کے دیگر منتروں میں اشومیدھ یگیہ (گھوڑے کی قربانی) کی تفصیلات ہیں۔دسویں منڈل میں ہے کہ اندر دیوتا کہتا ہے: میرے لیے یگیہ کرتا (قربانی کرنے والے) لوگ پندرہ سے بیس بیل پکاتے ہیں (۸۶:۱۴) ۔اسی منڈل کا سوکت ۹۱ بتاتا ہے کہ اگنی کے لیے گھوڑوں،سانڈوں، بیلوں، جوان گایوں اور مینڈھوں کی قربانی دی جاتی تھی (۱۴)، سوکت ۷۲ بتاتا ہے کہ گائے کو تلوار یا کلہاڑی سے ذبح کیا جاتا تھا (۶)۔ اور سوکت ۲۸ بتاتا ہے کہ اندر کے لیے یجمان…

Read more

موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !

از : محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ جب سے یہ دنیا قائم ہے، ہر دور میں افراد و اشخاص اور قومیں آزمائشوں سے گزری ہیں، مگر تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں سربلند ہوئیں جنہوں نے مشکل حالات میں اپنے اصولوں، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق اور اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آج ہندوستان کے مسلمان بھی ایک نازک، مشکل ، ناگفتہ بہ اور پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ سماجی بے چینی، فکری انتشار، مذہبی غلط فہمیاں اور سیاسی کشمکش نے ملت اسلامیہ کے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں وقتی جذبات، شور و غوغا اور بے مقصد ردِّ عمل کوئی پائیدار حل نہیں دے سکتے، بلکہ کامیابی کا راستہ سنجیدہ فکر، خاموش خدمت، اتحادِ ملت، دینی شعور اور جمہوری و آئینی جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔ مسلمانوں کی حقیقی کامیابی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو آباد کریں ، مسجد سے اپنے دلوں کو معلق کریں ،اپنے گھروں کو ایمان، علم، اخلاق اور تسبیح و تلاوت اور ذکر و شکر کا مرکز بنائیں۔کوئی بھی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اس کے اندرون مضبوط نہ ہوں۔ اگر ہمارے گھروں میں فجر کی نماز کی پابندی نہ ہو، اگر تلاوتِ قرآن کی آوازیں خاموش ہوجائیں، اگر بچوں کی تربیت اسلامی فکر و شعور کے مطابق نہ ہو، اگر سونے سے پہلے گھروں میں سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلامی کتابوں کا مطالعہ نہ ہو، اگر نئی نسل کو اسلامی تاریخ، اعلیٰ اخلاق اور صحیح افکار سے واقف نہ کرایا جائے، تو پھر محض نعروں اور احتجاجوں سے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھر کو ایک چھوٹا دینی و اخلاقی مرکز بنائے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھیں۔ معاشرتی اصلاح کی ایسی مہم چلائی جائے جس میں محبت، خیر خواہی، اخلاق اور کردار کی طاقت ہو۔ کیونکہ قوموں کی تعمیر جلسے جلوسوں سے نہیں بلکہ گھروں کی علمی ، روحانی اور دینی…

Read more

دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں

کمال مولانا مسجد تاریخ کے آئینے میں یہ تصاویر "مسجد کمال مولانا” دھار کے اندرونی حصے کی ہیں۔ جس کے بارے میں کل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ مسلم فریق کے دلائل سے قائل نہ ہو سکے۔ یہ باتیں وکلا اور لیگل ٹیموں کی ہیں۔‌ ان کو یہ ہینڈل کر لینے دیا جائے۔ ہمیں چند موٹی موٹی باتیں اِس مسجد کے بارے میں جان لینا چاہیے۔ اس علاقے کو جس وقت سلطان علاؤالدین خلجی نے فتح کیا اس وقت سلسلۂ چشتیہ کے ایک صوفی بزرگ شیخ کمال یہاں مقیم تھے۔ سلطان مشائخِ چشتیہ کا ارادت مند اور عقیدت مند تھا، اس نے یہاں ایک عالیشان مسجد بنوانے کا حکم دیا۔ ساتھ ساتھ اس میں درویشوں اور طلبا کے لیے کمرے بھی بنوائے تاکہ شیخ کے مریدین اور شاگرد یہاں آرام کر سکیں۔ چونکہ یہ عمارت بہت کم مدت میں تعمیر ہوئی تھی اور اس میں خاطر خواہ گارہ یا اس وقت کے لحاظ سے مضبوط مسالے کا استعمال نہیں ہوا تھا، لہذا ایک صدی پوری ہونے سے پہلے پہلے یہ محمد بن تغلق کے دور میں مرمت کی طالب ہوئی۔ سلطان علاؤالدین نے اس مسجد کو چودھویں صدی عیسوی کے بالکل ابتدائی دنوں میں بنوایا تھا اور اس کی مرمت چودہویں صدی بالکل آخر میں ہوئی۔ محمد بن تغلق کے گورنر دلاور خان غوری نے اس کی مرمت کروائی اور اس پر تختی بھی لگوا دی کہ مسجد محمد بن تغلق کے عہد میں مرمت کے بعد مزین ہوئی۔ اس مسجد کی عمارت میں چونکہ جو پتھر لگا ہے، یہ بالکل صاف طور سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہ کسی پرانے مندر کا ملبہ ہے۔ اور چونکہ ان پتھروں اور ستونوں میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ہے، لہذا اِس بات کی پوری گنجائش موجود ہے کہ اس کو ہندو عوام سے خرید کر یہاں لگایا گیا ہو۔ اور جب کہ ہمیں کئی سو سال تک اس پر کسی طرح کی کوئی چپقلش اور باہمی عداوت نہیں نظر آتی سو اس کو درست…

Read more

ماہ ذی الحجہ فضائل و اعمال

*_ماہ ذی الحجہ: فضائل و اعمال_* (١) *نظام الہی ہے کہ سخت گرمی، تپش اور چلچلاتی دھوپ کے بعد برسات کا موسم آئے، رِم جھم بارش سے جھلستی جلدیں، انسانی دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچائی جائے، تھکے ہارے انسان کیلئے یہ بھی اس رحیم و کریم. کا بندوبست ہے کہ خاص مشروبات سے اس کی آنتیں ٹھنڈی اور روح پرسکون کر دی جائیں، تنگی بعد آسانی کا فارمولا اسی نے بنایا ہے، بندوں کو گناہوں سے بچانے اور اگر دامن عصیاں سے لگ جائے تو اسے پاک و صاف کرنے کیلئے توبہ و استغفار کا دروازہ بھی اسی نے کھولا ہے؛ جس میں بسااوقات ایسے مواقع بھی فراہم کر دیتا ہے کہ انسان کی معراج ہوجائے اور عبدیت کے فرائض انجام دیتا ہوا رب ذوالجلال کا سب سے قریبی بندہ بن جائے؛ چنانچہ یہ اللہ تعالی کا کرم و احسان ہے کہ وہ جس کو چاہے منتخب کرے اور جس کو چاہے ترک کرے، کسی کو افضل تو کسی کو مفضول قرار دے، وہ اللہ حاکم اور قادر مطلق ہے، مالک الملک اور سبھوں کا پالنہار ہے، اس سے کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا، اس کے حکم کو کوئی رد نہیں کر سکتا؛ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تخلیق اور عدل کے ساتھ اس نے بعض کو بعض پر فوقیت و اہمیت بھی دی ہے، فرشتوں میں روح الامین، انسانوں میں انبیاء اور ان میں بھی سردار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا ہے، تو وہیں ہفتے میں جمعہ کو اور مہینوں میں رمضان المبارک کو برتری عنایت کی ہے، مگر ایک روایت میں رمضان کے ساتھ ساتھ سید الشھور ذوالحجہ کو بھی قرار دیا گیا ہے، خاص طور پر ذی الحج کے ابتدائی دس دن کی فضیلت اور ان میں بھی یوم عرفہ کی اہمیت کو دوچند بیان کیا گیا ہے، بسااوقات یہ خیال آتا ہے کہ یوم عرفہ ہی سب سے افضل ترین دن ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے ان دونوں ماہ کا تقابلی جائزہ لیا ہے، اور اس بارے میں اختلاف نقل کیا ہے…

Read more