نفسیاتی جنگ Psychological warfare کو ایک آزمودہ اور کارآمد ہتھیار کے طور پر دنیا کے اکثر ممالک اپنے دشمنوں کو زیر کرنے لیے استعمال کرتے آئے ہیں، کیونکہ کامیاب سیاستدانوں اور نفسیاتی ماہرین کو یہ علم ہے کہ نفسیاتی جنگ کے ذریعہ ایک بہادر سپاہی کو بزدل اور ایک شریف شہری کو ملک دشمن دہشت گرد اور قاتل بنایا جا سکتا ہے، نفسیاتی جنگ کا مقصد جھوٹے پروپیگنڈے تیار کرنا، بے جا الزامات لگانا، ذہنی دباؤ بنانا، ذلیل کرنا، اور بین الاقوامی سطح پر کسی قوم کی معیشت اور امن وعافیت کو متاثر کرنا، اس کے جذبات سے کھلواڑ کرنا، مختلف سازشیں رچنا، صبر کا امتحان لینا، اور مختلف فریب کاریوں میں اسے الجھا کر رکھنا ہے۔
زمانۂ قدیم سے ہی یہ طریقہ بہت کار گر رہا ہے، اسے سرد جنگ ، اعصاب کی جنگ یا معنوی جنگ بھی کہہ سکتے ہیں، اس کا مقصد مد مقابل کی ترجیحات ومعتقدات کے بارے میں شک پیدا کرنا اور خود اس کو اپنی ہی نظر میں کمزور کردینا ہوتا ہے، اور یہ کام قلب ونظر کے شکار سے ہی ہوجاتا ہے، جسم وجان پر وار کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، دوسرے لفظوں میں یہ نظروں سے پرے نظریہ کی جنگ بنادی جاتی ہے، مد مقابل opponent کی معنویات morales پر حملہ کردیا جاتا ہے، گویا یہ حرب(جنگ) نہیں حربہ ہے، قدیم دور میں آشوریوں کے یہاں نفسیاتی جنگ کے مختلف حربوں کا بہت زیادہ استعمال تھا، دوسری جنگ عظیم میں بھی اس کو ایک کامیاب ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا، اس کے کامیاب ہتھیار کے طور پر زبان و قلم، کارٹونز، فوٹوز اور ویڈیوز وغیرہ کو استعمال کرنا عام ہے، ملک کی جاسوسی اور غداری Fifth column کا ۱۹۳۶۔۱۹۳۹ءکے دوران ہونے والی اسپین کی خانہ جنگی میں بہت خطرناک کردار رہا تھا، جس میں زر خرید جاسوسوں نے اپنی صفوں میں انتشار پیدا کرکے داخلی ٹکراؤ میں گھناؤنا کھیل کھیلا اور پھر اپنی ہی قوم کو شکست سے دوچار کیا۔
آج کی دنیا میں وڈیوز وائرل کرنا ،کسی کو ٹرول کرنا، منفی ٹرینڈ چلانا، فوٹو شاپ سے جعلی مواد تیار کرنا اور اب مصنوعی ذہانت AI کے استعمال سے ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کرنا سنگھ پریوار اور دیگر سماج دشمن عناصر کے اسی مخصوص ایجنڈے کا حصہ اور نفسیاتی جنگ کی ایک کڑی ہے، منظم طور پر ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں، یہ سلسلہ جاری ہے اور مستقبل میں بھی رہےگا، تاکہ اس کے ذریعہ سے بالخصوص مسلمانوں پر خوف کا ماحول مسلط کیا جاتا ہے، انہیں مستقل ذہنی تناؤ میں رکھا جاتا ہے، تاکہ ان کو ناامیدی و مایوسی کے سوا کچھ نظر ہی نہ آئے۔
یوری الیگزینڈرووچ بیزمینوفYuri Alexandrovich Bezmenov(وفات:۱۹۹۳ء)روس (سوویت اتحاد)کی سابق پریس ایجنسی RIA Novosti کا مشہور صحافی تھا اور۱۹۷۰ء میں نئی دہلی میں سوویت مشن کے ایک رکن کے طور پر کام کررہا تھا، یہ سوویت یونین کی انٹیلی جنس ایجنسی KGB کا بھی ایجنٹ رہ چکا تھا، کے جی بی ایسا خطرناک خفیہ ادارہ تھا جس نے بلشفی انقلاب میں اہم کارنامہ انجام دیا تھا ،اور امریکہ سے ایٹم بم کے راز چوری کرلئے تھے، کے جی بی سے منحرف ہونے کے بعد بیزمینوف نے امریکی مصنف اور فلم ساز جی ایڈورڈ گرفینG.Edward Griffin کو ۱۹۸۴ء میں ایک انٹرویو دیا تھا جس میں بتایا تھا کہ روس نے چار مراحل میں امریکہ کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، سب سے پہلا کام demoralization ہے یعنی کسی کو اعتماد، جوش اور امید سے محروم کرنے کا عمل، دوسرا کام destabilization یعنی کسی علاقے یا نظام، خاص طور پر حکومت کے استحکام کو ڈیمیج کرنے کا عمل، ان دو بنیادی کاموں کے بعد تیسرا کام بہت آسان ہو جاتا ہے اور وہ ہے crisis یعنی کسی ملک کو بحران سے دوچار کرنے کا کھیل، اور پھر normalization یعنی جس مرحلہ میں اپنے نظام کو کمتر سمجھتے ہوئے کسی دوسرے نظام کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات اور معاملات نارمل کرلئے جائیں، دوسرے لفظوں میں ایک بے اعتمادی کی فضا میں خود اور خودی کو تحلیل کرنے کا عمل۔
(http://bigthink.com/the-present/yuri-bezmenov/)
ماقبل مسیح کے چینی جرنیل، فلسفی اور ماہر فنون حرب و ضرب سن زو Sun Tzu (وفات: ۴۹۶ قبل مسیح) کا قول مشہور ہے: ’’دشمن کے مضبوط قلعوں کے بجائے اس کے فکر ونظر پر حملہ کرنا زیادہ دانشمندی کی بات ہے‘‘،سن زو جنگ نے حکمت عملی کی اہمیت پر بہت زور دیتا تھا، اس کا کہنا تھا کہ ایک اچھے عسکری قائد کو صورت حال کا بغور جائزہ لینا چاہیے، دونوں فریقوں کے مضبوط اور کمزور پہلوؤں کو سمجھنا چاہیے، اور اس کے مطابق جامع منصوبہ تیار کرنا چاہیے، آج بھی طاقتور حکومتوں اور ایجنسیز کا سب سے محبوب اور آسان مشغلہ اعصابی جنگ ہی ہے، اس میں مالیاتی خسارہ بھی نہیں، کوئی جانی نقصان بھی نہیں، اور گمراہ کن نظریات کی نظر واشاعت کو علمی انداز میں پیش کرنے پر کوئی فرد جرم بھی عائد نہیں ہوتا، اس کا سب سے طاقتور ہتھکنڈا پروپیگنڈا ہے، ایک قوم کے لوگوں کو کسی بہت ہی جزوی قسم کی بحث میں الجھا کر باہم دیگر دست و گریباں کرنا بھی اس کا ایک نمایاں حصہ ہے، ۱۲۵۰ء کی ساتویں صلیبی جنگ میں گو کہ صلیب بردار مسیحیوں کو مسلمانان مصر کے سامنے شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا، لیکن اس جنگ کے ناکام قائد شاہ فرانس لوئی نہم Louis IX نے مسلمانوں کو ناکام کرنے کا جو غیر عسکری منصوبہ بنایاتھا، اس کی بنیادوں میں بھی اسی فکری یلغار اور نفسیاتی جنگ کا جذبہ کارفرما تھا ۔
قدیم دور میں اس کے حربے آج سے ذرا مختلف تھے، شمالی امریکہ کے جنوبی ملک میکسیکو کے آزٹیک Aztecs قبائل پر جب کوئی دشمن حملہ آور ہوتا ہے تو وہ انسانی کھوپڑی کے ذریعہ انتہائی خوفناک آوازیں نکالتے تھے، وہ کھوپڑی کے پچھلے حصے میں سوراخ کر کے اس میں پوری طاقت سے ہوا بھردیتے تھے، جس سے ایسی آواز نکلتی تھی کہ دشمن حواس باختہ ہو جاتے تھے، ایسا ہی قبل مسیح فارس کی ہخامنشی سلطنت Achaemenid Empire کے شہنشاہ کمبیسیس دوم Cambyses II نےمصری فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے کیا اور انہیں آسانی کے ساتھ شکست دی، اور وہ اس طرح کہ اس نے اپنے مخصوص سپاہیوں کی ڈھالوں پر بلیوں کی تصویریں بنوائیں اور انہیں پہلی صف میں کھڑا کیا، جب مصری فوج مصر کے آخری فرعون سامتیک سوم Psamtik III کی قیادت میں آگے بڑھی، اور فوجیوں نے بلیوں کی تصویریں دیکھیں تو وہ اس خوف سے پیچھے ہٹ گئے کہ اگر وہ اس مقدس رمز پر حملہ کرتے ہیں تو ان پر حملہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بلی کو وہ مقدس سمجھتے تھے یا منحوس سمجھتے ہوں گے۔
قرون وسطی میں سلطنت روما کے ماتحت فرنگی قوم Frnks کے فرانسیسی لیڈر چارلس مارٹل نے افواہ کا طریقہ استعمال کیا جب اس نے اپنے ایجنٹ کارندوں کو یہ خبر دی کہ مسلمانوں کے قبضہ میں موجود مال غنیمت لوٹا اور چوری کیا جا رہا ہے، مسلمان سپاہی معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے میدان جنگ چھوڑ کر جھٹ اپنے کیمپ میں پہنچ گئے، فرنگی فوجیں جو اس موقع کی تاک میں تھیں، چارلس کے ساتھ ان پر پیچھے سے حملہ آور ہوگئیں، اور اس طرح عبد الرحمن غافقی کو جنگ دربار شہداء (معركة بلاط الشهداء) میں شکست اٹھانی پڑی تھی، اور اسی میں غافقی شہید بھی ہوئے، نفسیاتی جنگ کی تاریخ کا یہ عجیب وغریب واقعہ ما قبل مسیح چین کے’’دور بہار و خزاں‘‘کے بادشاہ گوجیان کا ہے کہ وہ اپنے کئی وفادار سپاہیوں کو عین میدان جنگ میں پہلی صف میں کھڑا کرتا تھا اور ان کو اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے کاٹنے کا حکم دیتا تھا، جس سے اس کے دشمنوں میں ہیبت طاری ہو جاتی تھی، پھر گوجیان اچانک حملہ کردیتا تھا، اس سے پہلے کہ دشمن سمجھ پاتا کہ اس کے سامنے یہ کیا ہو رہا ہے۔
یاد کیجئے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے اسلام کی دعوت پیش کی اور کھل کر دین حق کا اعلان کیا تو قریش کی میڈیا مشین کام کرنے لگی، انہوں نے افواہیں پھیلائیں، کبھی کہا کہ نبیﷺ مجنوں ہیں، اور کبھی کہا کہ وہ شاعر ہیں، کبھی کہا کہ انہوں نے یونانیوں اور ہندوستانیوں کی قدیم کتابوں سے قرآنی آیات کو جمع کرلیا ہے، اور پھر جب ان الزامات میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے ایک نئی تکنیک اپنائی، اور وہ ہے’’اِغراء‘‘یعنی مال و زر ، نام ونمود اور حسن وجمال کی پیشکش کرکے کر سودا کرنا چاہا، یہ بھی کارگر نہ ہوا تو دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور پھر ہر طرح کا تشدد ان کے اور ان کے نام لیواؤں اور ہمنواؤں کے ساتھ روا رکھا گیا،صحیح کہا گیا ہے:
لا تحسبّن الحربَ سهماً ومِغفراً ولكن سلاح الصائلين عقولُ
(جنگ کو تیر اور خود کا مجموعہ نہ سمجھو بلکہ حملہ آوروں کا اصل ہتھیار ان کا دماغ ہے)، امیر شکيب ارسلان کا قول ہے: “إذا أردْتَ أن تقتل إنساناً فلا تُطلق عليه رصاصة، بل أطلِقْ عليه إشاعة”(اگر آپ کسی کومارڈالنا چاہتے ہیں تو اس پر گولی نہ چلائیں بلکہ اس کے خلاف افواہ پھیلادیں)۔
آج امت مسلمہ کو آسان نشانہ سمجھ لیا گیا ہے کہ جب بھی بھوک لگے ان کا گوشت کھا لیا جائے اور ان کا خون پی لیا جائے، لیکن اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کو منجھے ہوئے دشمنوں سے نفسیاتی جنگ کا سامنا ہے، صہیونیت، صلیبیت، لادینیت اور زعفرانیت ہر ایک کا ٹارگٹ اسلام اور مسلمان ہیں، تمام ذرائع ابلاغ اس کے لیے وقف ہیں، جھوٹے پروپیگنڈوں، افواہوں، معاشی پریشر، برین واشنگ اور ڈرانے یا للچا نے کے پرانے حربے ہیں جن پر آج بھی یہ قائم ہیں، اور ہمارے درمیان سے ان کو سماج سے چھٹے ہوئے معنوی طور پر بھوکے ننگے، نا پختہ ذہن اوربزدل شکار ملتے رہتے ہیں ، جن کو عربی میں ’’شُذّاذ الآفاق‘‘(آبادی سے دور،اپنے ہی آفاق میں گم)کہتے ہیں، بطور خاص یہ صورت حال ۱۹۹۱ء میں سوویت یونین USSRکے سقوط اور پھر۲۰۰۱ء میں نائن الیون کے بعد سے روز افزوں ہے، نیو ورلڈ آرڈر کا شور، گلوبلائزیشن کے نعرے، اور دہشت گردی کو عنوان بنا کر ہر اس ملک کو کچلنے کی کوشش جو سیاسی طور پر خود کو نام نہاد سوپر پاور کا حلیف نہ بناسکے، ایک کامیاب حربہ ہے، اور اسلام سے منسوب باطل تحریکات اس آگ میں تیل کا کام کرتی ہیں، جن کی ناپاک حرکتوں سے اسلام کے چہرۂ روشن پر پرچھائیاں اور جھریاں نظر آتی ہیں ، مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف اسلام کا نام لینے پر اکتفا نہ کریں، ایمان، اتباع اور استقامت کے جذبہ سے سرشار رہیں،اور دشمنوں کے مکر وفریب سے باخبر رہیں اور اسلام کے ’’حصن حصین‘‘ پر زرہ پوش سپاہی بن کر ڈٹے رہیں، اور ان مذبذب لوگوں میں شامل نہ ہوں جن کے بارے میں قرآن نے کہا: ’’اور جب آپ ان کو دیکھیں تو ان کے ڈیل ڈول آپ کو خوشنما معلوم ہوں، اور اگر یہ باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتیں سنتے رہ جائیں، گویا کہ لکڑیاں ہیں جو دیوار کے سہارے لگادی گئی ہیں، ہر زور کی آواز کو یہ اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں، یہی لوگ دشمن ہیں، آپ ان سے بچ کر رہئے، اللہ ان کو ہلاک کردے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں‘‘(المنافقون:۴)۔
نفسیاتی جنگ حرب سے بڑا حربہ از: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی
Related Posts
ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی
ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ اے مسلمانو!دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔ اللہ کے بندو!تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔اے (رمضان کے) مشتاقو!تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا اور…
Read moreجہاد ضرورت اور فضیلت
اصلاحِ امتجہاد۔ضرورت و فضیلت آدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔…
Read more