HIRA ONLINE / حرا آن لائن
تدفین کا صحیح طریقہ

*تدفین کا صحیح طریقہ* تدفین (دفنانے) کا صحیح طریقہ اسلامی تعلیمات اور سنت رسول ﷺ پر مبنی ہے۔ اللہ کے نبی محمد ﷺ نے اپنے عمل، ارشادات اور صحابہ کے عمل سے تدفین کے طریقے کی وضاحت فرمائی ہے۔ درج ذیل میں تدفین کا صحیح طریقہ اور اس کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں۔ قبر کھودنے کے دو طریقے ہیں*شق* یہ عام طریقہ ہے جس میں سیدھی قبر کھودی جاتی ہے۔*لحد*اس میں قبر کی ایک جانب دیوار سے متصل کھود کر چھوٹا قبر نما بنایا جاتا ہے، جس میں میت کو رکھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ سنت سے ثابت ہے اور زیادہ مستحب ہے۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت وصیت کی”لحد بناؤ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بنایا گیا تھا تدفین کی سنت اور سنت مؤکدہ میت کو قبر میں اتارتے وقت میت کوقبلہ کی طرف سے اتارا جائے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ میت کو داہنےکروٹ قبلہ رخ لٹایا جائے۔*بر خلاف اپنے گاؤں یکہتہ کے اپنے یہاں چت لٹایا جاتا ہے اور چہرا کے نیچے مٹی کا ڈھیلا رکھ کر قبلہ رخ کیا جاتا جو غلط ہے* نیز اپنے یہاں دفن کے وقت جو بیر کی شاخ ڈالی جاتی ہے یہ کہیں سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ روافض کا طریقہ اور یہ واجب الترک ہے۔میت کو قبر میں رکھنے کا طریقہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”جب تم اپنے مُردوں کو قبر میں رکھو تو یہ دعا پڑھو: ‘بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَىٰ مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ’یہ دعا پڑھنے سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ میت اللہ کی امانت ہے اور اسے دینِ اسلام کے مطابق دفن کیا جا رہا ہے۔ میت کو قبر میں رکھنے کے بعد ہاتھوں سے تین مٹھی مٹی ڈالنا مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم کسی میت کو دفن کرو تو تین مٹھی مٹی ڈالو۔”قبر کو ہموار کرنا: قبر کو زمین کے برابر یا معمولی سا اونچا کیا جا سکتا ہے تاکہ قبر کی پہچان ہو اور اس پر پانی نہ جمع…

Read more

مارجن ٹریڈنگ ( margin trading) شرعی نقطئہ نظر

(Margin Trading) شرعی نقطہء نظر ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندویسوال نمبر: 293"مارجن ٹریڈنگ” کے شرعی حکم کی وضاحت فرمادیں- الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: "مارجن ٹریڈنگ” کی حقیقت مارجن ٹریڈنگ وہ حکمت عملی ہے جس میں مالیاتی اثاثہ خریدنے کے لیے بروکر (broker: دلال) سے رقم قرض لی جاتی ہے-اس طرح سرمایہ کار "بروکرج اکاؤنٹ” میں بروکر سے قرض لینے کے لیے ضمانت کے طور پر نقد رقم جمع کرتے ہیں، اس کے بعد سرمایہ کار اپنے اکاؤنٹ میں موجود رقم سے زیادہ رقم کے ساتھ تجارت کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں-اسے "لیوریجڈ ٹریڈنگ” (leveraged trading) بھی کہا جاتا ہے- "مارجن ٹریڈنگ” کے فوائد: مارجن ٹریڈنگ کے درج ذیل فوائد ہیں:1- مارجن ٹریڈنگ کے ذریعہ ایک سرمایہ کار اپنی قوت خرید سے زیادہ شیئرز خرید سکتا ہے-2- زیادہ شیئرز کی خریداری کی وجہ سے زائد منافع کے امکانات ہوتے ہیں-3- مارجن ٹریڈنگ کی سہولت زیادہ تر ڈیلیوری تجارت میں حاصل ہوتی ہے-4- یہ سہولت منتخب اسٹاک میں حاصل ہوتی ہے-5- مارجن ٹریڈنگ بالواسطہ سرمائے کے مسئلے کو ختم کرتی ہے-مارجن ٹریڈنگ کے نقصانات:مارجن ٹریڈنگ کے نقصانات درج ذیل ہیں:1- مارجن ٹریڈنگ میں زیادہ نقصانات کے بھی قوی امکانات ہیں، اگر سرمایہ کاری کی قدر میں کمی آتی ہے تو سرمایہ کار کو کافی نقصان ہوسکتا ہے-3- اگر ایک سرمایہ کار کی سرمایہ کاری اچھی کارکردگی پیش نہیں کرتی ہے، تو مارجن کال ہوتی ہے- بروکر اس کال کو اس وقت جاری کرتا ہے، جب ایک سرمایہ کار کے اکاؤنٹ میں بیلنس مطلوبہ طے شدہ سطح سے نیچے آجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اثاثے کو قرض میں تبدیل کرنے کے لیے ختم کردیا جاتا ہے-3- مارجن ٹریڈنگ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی حساسیت کو بڑھاتی ہے؛ کیونکہ قرض لی ہوئی رقم کے استعمال سے، نفع اور نقصان کے امکانات بڑھتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے بستہ کو قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کا زیادہ خطرہ رہتا ہے-4- مارجن ٹریڈنگ کے لیے لی گئی قرض کی رقم پر سود عائد ہوتا ہے، جو منافع کو کم کر سکتا ہے، یا نقصان کو بڑھا…

Read more

آن لائن بینکنگ (online banking) شرعی نقطہء نظر

:ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی سوال نمبر: 287آن لائن بینکنگ کی شرعی حیثیت واضح فرمادیں -الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: "آن لائن بینکنگ” کی تعریف:”آن لائن بینکنگ” بینکوں اور مالیاتی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ ایک سہولت ہے، جس کی بدولت صارفین انٹرنیٹ پر بینکنگ خدمات حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں-یہ خدمات ” یو ایس ایس ڈی کوڈ” (ussd code)، "ٹیلی بینکنگ” (tele banking)، "ڈیبٹ کارڈ” (debit card) اور "کریڈٹ کارڈ”(credit card) کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہیں-دیگر نام:”آن لائن بینکنگ” کو "ای بینکنگ”(e- banking)، "ورچول بینکنگ” (virtual banking) اور "انٹرنیٹ بینکنگ” (internet banking) وغیرہ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے- "آن لائن بینکنگ” کے فوائد: "آن لائن بینکنگ” کے درج ذیل فوائد ہیں :1- کسی وقت بھی اپنے بیلنس کو چیک کیا جا سکتا ہے، اور لین دین کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے-2- ہر ماہ آسانی سے بل کی ادائیگی ہوسکتی ہے-3- ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی جاسکتی ہے-4- اپنے ٹیکس یا ذاتی ریکارڈ کی تفصیلات ڈاؤن لوڈ یا پرنٹ کی جاسکتی ہیں-5- ہفتہ کے ساتوں دن 24/ گھنٹے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے- "آن لائن بینکنگ” کے نقصانات: "آن لائن بینکنگ” کے درج ذیل نقصانات ہیں:1 – آن لائن بینکنگ خدمات انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں-2- آن لائن بینکنگ لین دین ہیکرز (hackers) کی زد میں آسکتی ہے-3- جو لوگ انٹرنیٹ کے استعمال سے دور ہوں، ان کے لیے انٹرنیٹ بینکنگ کو سمجھنا دشوار ہے-4- پاس ورڈ کے بغیر انٹرنیٹ بینکنگ تک رسائی نہیں ہوسکتی ہے، لہٰذا اسے محفوظ رکھنا بہت اہم ہے، دوسروں پر ظاہر ہونے کی صورت میں دھوکہ دہی کے لیے اس کا استعمال ہوسکتا ہے- یہی وجہ ہے کہ لوگ بار بار پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں، جس کی بنا پر خود ان کو پاس ورڈ یاد رکھنے میں پریشانی ہوسکتی ہے- شرعی احکام:” آن لائن بینکنگ” کے درج ذیل احکام ہیں:1 – "ڈیبٹ کارڈ” کا استعمال جائز ہے، اس لیے کہ اس کا استعمال اکاؤنٹ میں موجود بیلنس کے ساتھ مشروط ہے، اگر اکاؤنٹ میں بیلنس ہے، تو…

Read more

مختصر فروخت ( short selling ) شرعی نقطئہ نظر

"شارٹ سیلنگ” کے سلسلے میں شرعی حکم کی وضاحت فرما دیں- #shortselling #shortselling الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: کی تعریف (short selling) "مختصر فروخت” عاریتا لے ہوئے ایسے حصص (shares) یا سیکیورٹیز (securities) کو کھلے بازار میں فروخت کرنے کا نام ہے، جن کی قیمت میں کمی آنے کی امید ہوتی ہے-یعنی مختصر فروخت میں بروکر (broker: دلال) سے کچھ ایسے حصص عاریتا لیے جاتے ہیں، جن کی قیمت میں کمی متوقع ہوتی ہے، پھر ان کو کھلے بازار میں فروخت کردیا جاتا ہے، بعد میں ان ہی فروخت کردہ اسٹاکس (stocks) کو خرید کر بروکر کو واپس کردیا جاتا ہے- فروخت اور خرید کی قیمت میں جو فرق ہوتا ہے، وہی نفع سمجھا جاتا ہے-مستعار لے گئے حصص کی قیمت پر سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے- : کی خصوصیات (short selling) :”درج ذیل خصوصیات ہیں 1- مختصر فروخت کرنے والے کے پاس حصص (stocks) یا سیکیورٹیز (securities) کی ملکیت نہیں ہوتی ہے، وہ مستعار لے ہوئے حصص فروخت کرتا ہے-2- ادارہ جاتی اور خوردہ سرمایہ کار دونوں "مختصر فروخت” میں داخل ہوسکتے ہیں-3- تاجروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستعار لے گئے حصص فروخت کنندہ کو تصفیہ کے وقت واپس کریں-4- "مختصر فروخت” عام طور پر مندی والی منڈیوں (bearish markets ) میں رائج ہے-5- مختصر فروخت کی اجازت صرف "انٹراڈے ٹریڈنگ” (intraday trading) میں ہے-6- مختصر فروخت میں وقت کی بڑی حساسیت ہوتی ہے، اس کے لیے تاجروں کو مناسب وقت پر رجحانات کی نشان دہی کرنے اور اس کے مطابق تجارت میں داخل ہونے کی ضرورت ہوتی ہے-” مختصر فروخت” کے فوائد:مختصر فروخت کے درج ذیل فوائد ہیں:1- اگر مندی کا رجحان قائم رہتا ہے تو تاجر کو خاطر خواہ فائدہ ہوسکتا ہے-2- مختصر فروخت سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو اپنے پورٹ فولیو (portfolio: سرمایہ کاری کے بستہ) میں خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے-3- اس سے سرمایہ کاری کا بازار مستحکم ہوتا ہے-4- مختصر فروخت سے نقد رقوم کو فروغ حاصل ہوتا ہے-مختصر فروخت کے نقصانات:مختصر فروخت کے نقصانات درج ذیل ہیں:1- مختصر فروخت میں قیمت میں کمی…

Read more

غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر آفر ( offer) کا شرعی حکم

دیوالی و ہولی وغیرہ غیر مسلم تہوار کے موقع پر شاپنگ مال وغیرہ کی طرف سے جو آفر دیئے جاتے ہیں، کہ اتنی خریداری پر اتنا ڈسکاؤنٹ کیا جائے گا، یا کوپن دیا جائے گا، اور قرعہ میں نام نکلنے پر فلاں چیز انعام میں دی جائے گی- اس کو حاصل کرنے کے لیے مقررہ رقم تک اشیاء کی خریداری جائز ہے یا نہیں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: شاپنگ مال وغیرہ گاہکوں کو خریداری کی ترغیب دینے کے لیے مختلف مواقع پر اس طرح کے آفر (offer) دیتے ہیں، اس کا مذہبی عقائد، رسم و رواج، یا مذہبی تہوار کی شان و شوکت بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے- چنانچہ مسلم تہواروں، جیسے: عید الفطر اور عید الاضحی کے موقع پر بھی اس طرح کے آفر دیئے جاتے ہیں-لہٰذا ضرورت کی چیز اتنی رقم کی خریدی جائے کہ اس پر ڈسکاؤنٹ ہوسکتا ہو، یا انعام کے طور پر کوئی چیز مل سکتی ہو، شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے-شرعاً صرف یہ ممنوع ہے کہ غیر مسلموں کے مذہبی تہوار میں شرکت کی جائی، یا مذہبی تہوار کا تماشا دیکھا جائے، یا بتوں پر چڑھائی ہوئی چیز کو قبول کیا جائے، یا مذہبی تہوار کی تعظیم کے طور پر گفٹ و ہدیہ دیا جائے-اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (والذين لا يشهدون الزور و إذا مروا باللغو مروا كراما)- (25/ فرقان:72)- ( اور اللہ کے نیک بندے وہ ہیں، جو باطل میں شریک نہیں ہوتے ہیں، اور جب لغو و لا یعنی اور بیہودہ کام کے پاس سے ان کا گزر ہوتا ہے، تو شریفانہ (نگاہیں نیچی کرتے ہوئے) گزر جاتے ہیں)-عام طور سے مفسرین نے اس سے ہر طرح کے باطل کام، جیسے: غیر مسلموں کے مذہبی تہوار، بت اور دیوی دیوتاؤں کے تماشے اور رقص و سرود کی محفلیں مراد لی ہیں-"روح المعانی” میں ہے: ” قال: قتادة: لا يساعدون أهل الباطل على باطلهم ولا يؤملونهم فيه…. وعن ابن عباس: أنه صنم كانوا يلعبون حوله سبعة أيام، و في رواية أخرى عنه: أنه عيد المشركين. وروي ذلك عن الضحاك، و عن هذا أنه…

Read more

بارات کے کھانے کا شرعی حکم

:سوال نمبر: 266بارات میں جانا، اور لڑکی والے کے یہاں کھانا کیسا ہے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: بارات جانا اسلامی طریقہ نہیں ہے- اسلامی طریقہ یہ ہے کہ جب رشتہ طے ہوجائے، تو لڑکا اور اس کے گھر والوں میں سے چند افراد لڑکی والے کے یہاں جاکر سادہ انداز میں نکاح گاہ میں، اور بہتر ہے کہ مسجد میں نکاح پڑھوا کر رخصتی کرواکر دلہن کو لے آئیں- شادی کے موقع سے کھانے کا انتظام لڑکی والے کی ذمہ داری نہیں ہے- عام طور سے لڑکی والے سماجی دباؤ میں کھانے کا انتظام کرتے ہیں، لہٰذا بارات میں جانے اور کھانا کھانے سے بچنا چاہیے-نبی کریم – صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- کا ارشاد ہے: "دع ما يريبك إلى ما لا يريبك”. (سنن نسائی، کتاب الاشربہ، باب الحث علی ترك الشبهات، حدیث نمبر 5711، سنن دارمی، حدیث نمبر 2532، بہ روایت: حسن بن علی – رضی اللہ تعالیٰ عنہما-، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)-در اصل شادی کے موقع سے کھانے کا انتظام لڑکے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عقد کے وقت یا عقد کے بعد، اور بہتر یہ ہے کہ میاں بیوی کے ملاپ کے بعد ولیمہ کا انتظام کرے- لیکن ولیمہ میں بھی تکلفات سے بچے، نام و نمود سے دور رہے اور ولیمہ میں مالدار کے ساتھ فقراء کو بھی مدعو کرے-خود نبی اکرم – صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم- نے اپنے ولیمہ کے موقع سے کبھی بکرے کے گوشت کا بھی انتظام فرمایا، تو کبھی کھجور اور ستو وغیرہ جو میسر تھا، اسی کا ولیمہ کیا-اسلامی تعلیمات و ہدایات اپنانے میں ہی خیر و برکت ہے- تمام مسلمانوں کو ان کا اہتمام کرنا چاہیے-حضرت انس بن مالک – رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے: "ما أولم النبي -صلى الله تعالى عليه و سلم- على شيء من نسائه ما أولم على زينب، أولم بشاة”. (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الولیمہ ولو بشاة، حدیث نمبر 5168، مسند ابی عوانہ، حدیث نمبر 4165)-ان ہی کی ایک دوسری روایت ہے:…

Read more