HIRA ONLINE / حرا آن لائن
قلم پر "اللہ عزوجل” لکھوانے کے سلسلے میں شرعی حکم

سوال نمبر: 253کیا میں اپنے قلم پر "اللہ عزوجل” لکھوا سکتا ہوں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: قلم پر ” اللہ عزوجل”، یا "حسبی اللہ ونعم الوکیل”، یا "ربی اللہ” جیسے الفاظ لکھوانے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ لکھوانے والا کا مقصد اللہ تعالیٰ کا استحضار، اور اس کی یاد ہے- تہاون و تساہل برتنا نہیں ہے-البتہ اسے ادب واحترام کے ساتھ رکھے- اور جب قابل استعمال نہ رہ جائے تو کسی قبرستان میں دفن کردے-” ہندیہ” میں ہے: ” لا بأس بكتابة اسم الله تعالى على الدراهم؛ لأن قصد صاحبه العلامة، لا التهاون، كذا في جواهر الأخلاطي. ولو كتب على خاتمه اسمه، أو اسم الله تعالى، أو ما بدا له من أسماء الله تعالى، نحو قوله: حسبي الله و نعم الوكيل، أو ربي الله، أو نعم القادر الله، فإنه لا بأس به”. (ہندیہ، کتاب الکراہیہ، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلہ…5/323، بيروت، دار الفکر، 1411ھ، 1991ء،ع.أ.:6)-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

کیا پنشن کا شمار مال وراثت میں ہوگا

از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سوال : والد کا انتقال ہوگیا ہے ۔ ان کی پنشن منجھلی بیٹی کو ملنے والی ہے ، کیوں کہ وہ غیر شادی شدہ ہے ۔ باقی تین بیٹیاں ہیں ، جو شادی شدہ ہیں اور دو بیٹے ہیں ، جو خود کفیل ہیں ۔ کیا پنشن میت کے ترکے میں شمار ہوگی اور سب اولادوں میں تقسیم ہوگی ، یا اس پر صرف غیر شادی شدہ بیٹی کا حق ہوگا ؟ جواب : کسی شخص کا جس وقت انتقال ہو اُس وقت اُس کی ملکیت کی تمام چیزوں (نقدی ، حصص ، مکان ، دکان ، کھیت ، باغ ، پلاٹ وغیرہ) میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے اور زندہ ورثہ کے درمیان شرعی ضابطے کے مطابق مالِ وراثت کی تقسیم ہوگی ۔ پنشن کی رقم ملازم کے لیے حکومت یا ادارے کی طرف سے عطیہ ہوتی ہے ، جو اس کے کسی قریبی عزیز کے نام سے جاری ہوتی ہے ۔ کبھی ملازم کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ، مرنے کے بعد اپنی پنشن کے لیے کسی کو نام زد کردے اور کبھی حکومت یا ادارہ اپنے ضوابط کے مطابق کسی کو خود نام زد کرتا ہے ۔ جو بھی صورت ہو ، پنشن کی رقم جس کے نام سے جاری ہوگی وہ اس کا مالک ہوگا ، تمام ورثہ کے درمیان اس کی تقسیم نہیں ہوگی ۔

Read more

دونوں سلام کا وجوب

کیا نماز کے اندر دونوں سلام واجب ہیں؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: نماز کے اندر دونوں سلام واجب ہیں- نبی اکرم- صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم- نے دونوں سلام پر مواظبت و مداومت فرمائی- حضرت عبداللہ بن مسعود – رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے: "أنه – صلى الله تعالى عليه و آله و صحبه و سلم- كان يسلم عن يمينه و عن يساره”. (سنن نسائی، کتاب الصلاۃ، باب السلام، حدیث نمبر 1324، سنن ابی داود، کتاب الصلاۃ، باب فی السلام، حدیث نمبر 996، سنن ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی التسلیم فی الصلاۃ، حدیث نمبر 295، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)- (نبی کریم- صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے)-” "الدر المختار” میں ہے:” و لفظ السلام مرتين. فالثاني واجب على الأصح، برهان، دون عليكم”. (حصکفی، الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب صفة السلام 1/468، بيروت، دار الفكر، 1386ھ، ع.أ.:6)-"رد المحتار” میں ہے: "قوله: على الأصح. و قيل: سنة، فتح. قوله: "دون عليكم” فليس بواجب عندنا”. ( ابن عابدين، رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة 1/468، بيروت، دار الفكر، 1421ھ/2000ء، ع.أ.:8)-"البحر الرائق” میں ہے: "قوله: ولفظ السلام للمواظبة عليه…. و أطلق بعض المشايخ اسم السنة عليه، و هو لا ينافي الوجوب. والخروج من الصلاة يحصل عندنا بمجرد لفظ السلام، ولا يتوقف على قوله: عليكم”. (ابن نجیم، البحر الرائق، کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة 1/318، بیروت، دار المعرفہ)-واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب، علمہ اتم و احکمکتبہ: العبد المفتقر الی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ:محمد شاہ جہاں ندویدار الافتاء والقضاء:جامعہ سید احمد شہید، احمد آباد، کٹولی، ملیح آباد، لکھنؤ، یوپی (انڈیا)226102

Read more

کرنسی ٹریڈنگ شرعی نقطہء نظر

از: ڈاکٹر مفتی محمد شاہ جہاں ندوی سوال نمبر: 248کرنسی ٹریڈنگ شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک آدمی کرنس ٹریڈنگ کے لیے رجسٹریشن کراتا ہے، مگر اس کو اس فیلڈ کی معلومات نہیں ہونے کی وجہ سے ایک ماہر کی خدمات حاصل کرتا ہے، جس کے لیے وہ اس کو معاوضہ دیتا ہے- اب وہ آپ کے لگائے ہوئے سرمایہ سے کرنسی ٹریڈنگ کرتا ہے، جس کے منافع میں سے وہ تیس فیصد لیتا ہے، اور ستر فیصد آپ کو دیتا ہے -الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: شرعی احکام جاننے سے پہلے ” کرنسی ٹریڈنگ” کی حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے، تاکہ آسانی سے شرعی احکام کو سمجھا جا سکے- کرنسی ٹریڈنگ” کی حقیقت: ” کرنسی ٹریڈنگ” کی حقیقت یہ ہے کہ مخصوص مدت کے اندر جوڑوں کی شکل میں ایک ملک کی کرنسی کو دوسرے ملک کی کرنسی سے تبدیل کیا جائے-یعنی کرنسیوں کی تجارت جوڑوں میں کی جاتی ہے- اس میں ایک کرنسی خریدی جاتی ہے، اور دوسری کرنسی فروخت کی جاتی ہے- وہ کرنسی خریدی جاتی ہے جو جوڑے میں پہلی ہوتی ہے، اسے بنیادی کرنسی بھی کہا جاتا ہے- اور اس کرنسی کو فروخت کیا جاتا ہے، جو جوڑے میں دوسری ہوتی ہے- اسے ” کوٹ کرنسی” (quote currency) کہا جاتا ہے-جوڑے کرنسیاں جن کی تجارت ہوتی ہے:کرنسی منڈی میں عام طور سے جن جوڑے کرنسیوں کی تجارت ہوتی ہے، وہ درج ذیل ہیں (1) یورپین یورو اور امریکی ڈالر، یعنی ( EUR/USD) (2) امریکی ڈالر اور جاپانی ین ، یعنی (USD/JPY) (3) برطانوی پاونڈ اسٹرلنگ (pound sterling) اور امریکی ڈالر، یعنی (GBP/ USD)  (4) برطانوی پاونڈ اسٹرلنگ (pound sterling) اور امریکی ڈالر، یعنی (GBP/ USD)  (5) امریکی ڈالر اور لونی (loonie) یعنی کناڈا کی کرنسی (USD/CAD) (6) اوسی (Aussie) یعنی آسٹریلوی ڈالر اور امریکی ڈالر (AUD/USD) (7) کیوی (kiwi) اور امریکی ڈالر، یعنی نیوزی لینڈ کی کرنسی اور امریکی ڈالر (NZD/USD) دیگر کرنسی جوڑوں میں بھی یہ تجارت ہوتی ہے، لیکن کم ہوتی ہے- مختلف نام "کرنسی ٹریڈنگ” کو ” فاریکس ٹریڈنگ” (forex…

Read more

خلع کے احکام

خلع کے احکام محمد رضی الاسلام ندوی سوال:ایک خاتون خلع لینا چاہتی ہیں ۔ ان کا نکاح تینتیس (33) برس قبل ہوا تھا ۔ ان کے دو بیٹے ہیں : ایک کی عمرا ٹھائیس (28) برس اور دوسرے کی پچیس (25) برس ہے ۔ ان کے شوہر نکاح سے قبل سعودی عرب میں کام کرتے رہے ۔ اب واپس آگئے ہیں ۔خاتون کا کہنا ہے کہ شوہر کی جانب سے شروع سے انھیں جھڑکنے ، ڈانٹ ڈپٹ کرنے اور بے اعتنائی برتنے کا سامنا کرنا پڑا ۔ بات بات میں پیسے کا ذکر ہوتا رہا ۔ انھیں سکون ، اپنائیت اور محبت نہیں ملی ۔ یہ رویہ اب ان کی برداشت سے باہر ہے ، اس لیے وہ خلع لینا چاہتی ہیں ۔ان کی عمر پچپن(55) برس ہے ۔ دونوں بیٹے بھی باپ سے عاجز ہیں اور ماں کے ساتھ ہیں ۔ خاتون مہر واپس کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ شوہر بیوی بچوں کو ایک فلیٹ اور ایک پلاٹ دینے پر رضامند ہے ۔براہ کرم اس مسئلے میں رہ نمائی فرمائیں ۔ خلع حاصل کرنے کے لیے بیوی کو کیا کرنا ہے ؟ کیا خلع کے بعد شوہر گھر سے چلا جائے ؟ خلع کے کیا شرعی احکام ہیں ؟ :جواب یہ بہت سے گھرانوں کی کہانی ہے ۔ جن خاندانوں میں شوہر طویل عرصے سے باہر ملازمت کرتے ہوں ، نکاح کے بعد انھیں بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہ ملا ہو ، چند دن ساتھ رہ کر واپس ملازمت پر چلے گئے ہوں، پھر سال در سال انھیں بس چند روز کے لیے گھر آنے اور بیوی بچوں کے ساتھ رہنے کا موقع ملتا ہو ، ان کے اور اہلِ خانہ کے درمیان گہری وابستگی نہیں پیدا ہو پاتی ۔ بیرونِ ملک ملازمت کی وجہ سے پیسے کی ریل پیل تو ہو جاتی ہے ، لیکن خوش گوار زندگی گزارنے کے لیے صرف پیسہ کافی نہیں ہوتا ۔ بیوی بچے محبت ، اپنائیت ، توجہ اور سرپرستی بھی چاہتے ہیں ، جن سے عموماً وہ محروم رہتے ہیں ۔ مزید…

Read more

غیر ارادتاً تین بار ’طلاق‘ کہنے کا مسئلہ

:سوال ایک گھریلو مجلس میں میں نے طلاق کے لیے اختیار کیے جانے والے غیر اسلامی طریقے کا ذکر کرتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا ۔ اس پر میری اہلیہ نے کہا کہ اگر میں آپ کے ساتھ ایسا ہی طریقہ اختیار کروں تو آپ کیا کریں گے؟ میری زبان سے غیر اراد تاً تین مرتبہ لفظ ’طلاق‘ ادا ہوا ۔ اس کے بعد مجلس میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔ کچھ دیر بعد سب اپنے گھر چلے گئے ۔ پھر کئی دن تک ہمارے درمیان اس ضمن میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔ ایک دن میری اہلیہ نے اپنی عالمہ بہن سے اس دن کی ہوئی گفتگو اور میری زبان سے ادا ہوئے لفظ ’طلاق‘ کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور نکاح ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا ہے ۔ میں پورے ہوش و حواس سے کہتا ہوں کہ میری نیت قطعاً طلاق دینے کی نہیں تھی ، بس دورانِ گفتگو مذکورہ پس منظر کے ساتھ لفظ’طلاق‘ میری زبان سے ادا ہو ا تھا ، جس کا مجھے بہت افسوس ہے ۔ میری اہلیہ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ طلاق واقع ہو گئی ہے ، جب کہ میں اور میرے گھر والے یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ جواب :اس مسئلے پر چند باتیں عرض ہیں          بغیر کسی پس منظر کے یا کسی دوسرے پس منظر کے ساتھ زبان سے طلاق کا لفظ دہرانے سے طلاق نہیں ہوتی ۔ اساتذہ کلاس میں طلاق کے مباحث پڑھاتے ہیں تو ان کی زبان سے بار بار طلاق کے لفظ نکلتے ہیں ۔ شریعت کے احکام سمجھاتے ہوئے مقرر بار بار لفظ ’طلاق‘ کہتا ہے ، لیکن ایسا کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔          بیوی سے اختلاف اور تنازع کے پس منظر میں اگر کوئی شخص طلاق کہے تو اس وقت اس کا یہ کہنا معتبر نہیں ہوگا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی ، بلکہ طلاق واقع ہوجائے گی ۔ البتہ اگر وہ علیٰحدگی والا کوئی اور لفظ استعمال کرتا ہے…

Read more