HIRA ONLINE / حرا آن لائن
مردوں کے لیے مہندی کا استعمال

مردوں کے لیے مہندی کا استعمال محمد رضی الاسلام ندوی سوال : شادی کے موقع پر دولہا کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگائی جاتی ہے – کیا یہ جائز ہے؟ جواب : مردوں کے لیے مہندی لگانے کا حکم مقصد اور طریقۂ استعمال کے اعتبار سے مختلف ہے : سر کے بالوں یا ڈارھی میں مہندی لگانے کا حکم * سر کے بالوں یا داڑھی کو رنگنے کے لیے مہندی لگانا جائز ، بلکہ بعض صورتوں میں مستحب ہے۔ نبی کریمﷺ سے سفید بالوں کو ’حنا‘ (مہندی) اور ’کتم‘ (رنگ پیدا کرنے والی ایک نبات) وغیرہ سے رنگنے کی ترغیب منقول ہے   زینت کے لیے مہندی لگانا * ہاتھوں اور پیروں میں زینت کے لیے مہندی لگانا ، جیسا کہ عموماً عورتیں لگاتی ہیں ، مردوں کے لیے جائز نہیں ، کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔ احادیث میں مردوں کے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔ علاج کے لیے مہندی لگانا * علاج یا کسی طبّی ضرورت سے ہاتھ یا پیر میں مہندی لگانا جائز ہے ، کیوں کہ اس کا مقصد زینت نہیں ، بلکہ علاج ہے ۔ اسلام کا فلسفۂ یُسر اور آج کل کی شادیاںاز:ڈاکٹر محمد طارق ایوبی اسلام میں شادی کا طریقہ – مکمل رہنمائی

Read more

میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح

*میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام: شرعی ہدایات اور معاشرتی اصلاح*  حدیثِ جعفرؓ اور میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام بنیادی حدیث اور اس کا پس منظر: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا؛ فَإِنَّهُ قَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ شَغَلَهُمْ” (رواہ الترمذی: 3132) ترجمہ و مفہوم: جب حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: "جعفر کے اہل و عیال کے لیے کھانے کا انتظام کرو، کیونکہ ان پر ایسا حادثہ گزرا ہے جس کے غم اور تکلیف کی وجہ سے ان کے لیے کھانے وغیرہ کا نظم کرنا ممکن نہیں۔” احادیث کی روشنی میں اہم شرعی و اصلاحی نکات: اس حدیثِ مبارکہ سے ہمیں درج ذیل اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں، جن پر توجہ دینا اور ان کے مطابق معاشرے کی اصلاح کرنا انتہائی ضروری ہے: 1:  میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا اہتمام مستحب ہے، لازم نہیں اعزہ اور پڑوسیوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ میت کے گھر والوں کے لیے بقدرِ استطاعت کھانے پینے کا انتظام کریں۔ علماء نے اسے ‘مستحب’ لکھا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسے لازم سمجھ لیا گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض غریب رشتہ داروں کو معاشرتی دباؤ کی وجہ سے قرض کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے، لہٰذا اسے فرض کا درجہ نہ دیا جائے۔ 2. کھانا صرف غم زدہ خاندان کے لیے ہے ضیافت کے لیے نہیں: یہ انتظام صرف اور صرف میت کے گھر والوں (اہلِ خانہ) کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ نمازِ جنازہ کے تمام شرکاء یا میت کے اطراف و اکناف کے سارے رشتہ داروں کے لیے۔ آج کل دیکھا یہ جا رہا ہے کہ کھانے کے وقت آس پڑوس کے لوگوں اور اعزہ کو باضابطہ بلایا جاتا ہے اور اسے لازم سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کسی صورت درست نہیں ہے کیونکہ اس سے انتظام کرنے والوں…

Read more

اکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلمات

حقیقی اکراہ کی حالت میں خلافِ توحید کلمات کہنے کا کیا حکم ہے؟ اس مضمون میں قرآن کریم کی آیتِ اکراہ، حضرت عمار بن یاسرؓ کے واقعے، اکراہ کی شرائط، مصلحت اور مجبوری کے فرق اور رخصت کی شرعی حدود کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

Read more

ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم

 (25) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیم ٹرین ، بس وغیرہ کی دیواریں عموما لکڑی ، لوہے یا پلاسٹک کی ہوتی ہیں ، ان پر تیم کرنا درست نہیں ہے ۔ البتہ عموما سفر کے دوران ان پر گرد و غبار جم جاتا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے یہاں گردو غبار پر بھی تیم کیا جاسکتا ہے : ويجوز التيمم عنه ابي حنيفة و محمد بكل ماكان من جنس الارض من التراب والرمل والحجر والجص و كذا يجوز بالغبار اگر ٹرین پر اس طرح گرد و غبار ہو تو تیمم کیا جاسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم حوالہ:  کتاب : جدید فقہی مسائل  جلد : 1  صفحہ : 98

Read more

کیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*

*کیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟* از: محمد رضی الاسلام ندوی سوال : ایک صاحب بیرونِ ملک جاب کرتے تھے ۔ وہیں ایک سڑک حادثے میں ان کی وفات ہو گئی ۔ ان کے وارثین میں اہلیہ ، تین لڑکیاں (شادی شدہ) اور ایک لڑکا ہے ۔ ان کا صرف ایک چھوٹا سا مکان ہے ۔ حادثہ کے بعد بیرونِ ملک سے کچھ معاوضہ (Compensation) کی رقم ملی تھی ۔ اس سے ایک نیا مکان تعمیر کیا گیا اور ایک آٹو رکشہ خریدا گیا ۔ مکان کی ایک منزل کرایے پر اٹھا دی گئی اور آٹو رکشہ کو کرائے پر لگا دیا گیا ۔ دونوں کی آمدنی سے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کا گزر بسر ہو رہا ہے ۔ اب وراثت کی تقسیم پیشِ نظر ہے ۔ کیا مکان (جس کی قیمت بارہ لاکھ روپے لگ رہی ہے) کو فروخت کر کے اس کی رقم تمام ورثہ میں تقسیم کر دی جائے ، یا اسے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کے قبضے میں رہنے دیا جائے اور اسے فروخت کر کے ان کے لیے مزید آمدنی کے کسی ذریعے میں خرچ کر دیا جائے؟ مرحوم کی تینوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں اور خوش حال زندگی گزار رہی ہیں ، جب کہ ان کی بیوہ اور لڑکے کو رقم کی ضرورت ہے ۔ جواب: 1 ۔ ایکسیڈنٹ کے بعد ملنے والی رقم بہ طور معاوضہ دی گئی ہے تو اس میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا ، لیکن اگر وہ بہ طور امداد بیوہ یا لڑکے کے نام سے جاری کی گئی ہے تو وہ صرف اسی کی سمجھی جائے گی جس کے نام سے جاری کی گئی ہے ۔ 2 ۔ موروثی مکان میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا ، جو درج ذیل تفصیل کے مطابق دیا جائے گا : بیوہ کو آٹھواں حصہ(1/8) ملے گا ۔ باقی لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر ملے گا ۔(لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیینِ) دوسرے الفاظ میں بیوہ کو 12.5% ، لڑکے کو35% اور ہر…

Read more

مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برش

فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ (24) مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برش    مسواک کے دو پہلو ہیں ۔ ایک مسواک کا اصل مقصود اور یہ ظاہر ہے کہ نظافت اور صفائی و ستھرائی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اتنے دنوں تک مسواک نہ کرنا کہ منہ میں بدبو پیدا ہو جائے اور دانتوں پر زردی آجائے ، مکروہ ہے دوسرا پہلو آلہ مسواک کا ہے یعنی وہ چیز جس کے ذریعے دانتوں کی صفائی و ستھرائی کا کام لیا جائے ۔ ٹوتھ پیسٹ، برش اور منجن کے ذریعہ مسواک کی پہلی سنت ادا ہو جائے گی امام نووی کا بیان ہے : و باي شيئى إستاك مما يقلع القلح ويزيل التغير كالخرقة وغيرها أجزاه لانه يحصل به المقصود وان امر اصبعه على اسنانه لم يجزئه لانه لا يسمى سواكا – (1) گندگی اور دانتوں کی زردی کو ختم کر دینے والی چیزوں میں سے جس چیز سے بھی مسواک کرے کافی ہے کہ اس سے مقصود حاصل ہو جاتا ہے اگر دانتوں پر محض انگلی سے ملا ہو تو کافی نہیں کہ اس کو مسواک سے تعبیر نہیں کیا جاتا۔ اور شیخ سید سابق کہتے ہیں : وان كانت السنة تحصل بكل ما يزيل صفرة الاسنان فينظف الفم كالفرشة ونحوها – () دوسری سنت اسی وقت ادا ہو گی جب کہ مسواک لکڑی کی ہو اور اسی بنیت جس طرح کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ۔ حوالہ:  کتاب : جدید فقہی مسائل  جلد : 1  صفحہ: 96

Read more