HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ارتداد کا سد باب از: قاضی محمد حسن ندوی

اس وقت امت مسلمہ دو طرح کے فتنوں سے دوچار ہے، ایک خارجی فتنہ ہے تو دوسرا داخلی ، لیکن داخلی جو فتنہ ہے وہ خارجی فتنہ سے زیادہ سنگین ہے(،یعنی مسلم معاشرے میں عقیدہ ،معاملات اور اخلاقی گراوٹ جس طرح عام ہے وہ خارجی فتنوں کے مقابلے میں اشد ہے،) یہی بنیادی وجہ ہے کہ آج ہماری مسلم بہنیں اپنے ایمانی نعمت عظمی ،دائمی لذت پر کفر وشرک الحاد و ارتداد کو ترجیح دے رہی ہیں ،( العیاذ باللہ) اسلئے ان فتنوں سے معاشرے کی تطہیر کے لئے تعلیم کے ساتھ تربیت ضروری ہے،نسل نو کی ترقی میں اگر کسی چیز کا بڑا دخل ہے تو وہ تربیت ہے بلکہ اس باب میں دو چیزیں اہم ہیں ،ایک تعلیم تو دوسری تربیت، دونوں میں بڑا گہرا رشتہِ ہے، چنان چہ جو والدین دونوں میں بیلنس اور اعتدال قائم رکھتے ہیں( یعنی جس طرح تعلیم کو نسل نو کی ترقی میں ضروری قرار دیتے ہیں اسی طرح تربیت کو بھی) ، تو ان کے بچوں کا نہ صرف مستقبل تابناک ہوتا ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کی ہدایت کے لئے ذریعہ بنتے ہیں ،لیکن اگر صرف تعلیم اور اعلی تعلیم حاصل کرنے کی فکر کرتے ہیں اور تربیت پر پر کوئی توجہ نہیں دیتے ،تو وہ اعلی تعلیم ان کےلئے وبال جان ہوتی ہے، ایسے ہی بچے عام طور پر الحاد واعتدال کے شکار ہوتے ہیں،اور دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوتی ہیں اس وقت الحاد و ارتداد کا جو جل سیلاب آیا ہوا ہے ،شب وروز لڑکیوں کے مرتد ہونے کی خبریں آرہی ہیں ،اس کے اسباب پر زمینی سطح پر غور کرنے کے بعد ہم ا س نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ موجودہ ناسور بیماری کا یہی سبب ہے کہ والدین نے صرف تعلیم کی فکر کی،اور اسی کو ہر طرح کی ترقی کا زینہ سمجھا اور تربیت کو پس پشت ڈال دیا،اس پہلو سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ والد تعلیم کے ساتھ تربیت اور تزکیہ اخلاق پر توجہ دیں ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ…

Read more

شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

     مظلومِ مدینہ، شہیدِ مدینہ ، کاتبِ وحی، حافظِ قرآن، حیا و پاکبازی کا استعارہ ، السابقون الاولون میں شامل ، صاحبِ ثروت، سخی و فیاض، مسلمانوں کا تیسرا خلیفہ ، عشرہ مبشرہ میں سے ایک، دامادِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اندوہناک حادثہ اٹھارہ ذو الحجہ ۳۵ ؁ ہجری بروز جمعہ کو پیش آیا ، یہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ تھا کہ اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان پھوٹ پڑگئی ، جو مسلمان اخوت، مساوات، عدل و انصاف کی عظیم علم بردار قوم تھی ،ان میں فرقہ بندیاں پیدا ہونے لگی ، اسی پھوٹ اور گروہ بندی کے نتیجے میں جنگ ِ جمل، جنگ صفین، حضرت علیؓ کی شہادت، مکہ پر فوج کشی اور واقعہ کربلا جیسے المیے پیش آئے، اور مسلمانوں کی تلواریں اپنے بھائیوں کے خون سے آلودہ ہوئیں،(تاریخ الخلفاء، علامہ جلال الدین سیوطی)        حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پیدائش 576 عیسوی میں عام الفیل کے چھ سال بعد مکہ کی خوشگوار وادی طائف میں ہوئی، آپؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی رہنمائی اور کوشش سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اسلام لانے میں آپؓ کا شمار پانچویں نمبر پر ہوتا ہے،  جس طرح حضرت علی المرتضیؓ حضور اکرمؐ کے داماد تھے، اسی طرح حضرت عثمانؓ بھی حضور کریمؐ کے دوہرے داماد تھے، چناچہ ہجرت سے قبل حضور اکرمؐ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ آپؓ کے نکاح میں آئیں اور سن دو ہجری میں حضرت رقیہؓ کے انتقال کے بعد حضور اکرمؐ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام کلثومؓ بھی آپؓ کے نکاح میں دے دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ذَاکَ امْرُؤٌ یُدْعٰی فی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی ذَالنُّوْرَیْنِ. (ابن حجر العسقلانی، الاصابة، 4: 457)      حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور اکرمؐ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپؐ کے پاس باری باری صحابہ کرامؓ آرہے تھے، پھر ایک شخص نے دستک دی اور آنے کی اجازت مانگی، حضور کریمؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لیے دروازہ کھولو اور اسے جنت…

Read more

یکم محرم الحرام: یوم شہادت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  از : اسجد حسن     آج اسلامی تاریخ کا پہلا دن ہے ، آج ہی کے دن امیر المومنین ، مراد قلب رسول ، انتخاب رب العالمین ،فاتح بیت المقدس ، وزیر پیغمبر ، خلیفہ دوم ، فاتح قیصر و کسریٰ، میدان عدالت کے نیر تاباں ، احقاقِ حق کے لیے تیغِ بُرّاں، ابطالِ باطل پہ شمشیرِ عریاں ، مطلوب و محبوب، فاروقِ اعظم، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے،      حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی عدل و انصاف، جرات و بہادری، روشن خدمات پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کارناموں سے اسلامی تاریخ منور ہے ،     آپ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی قدر عمر بن خطاب، لقب فاروق اور کنیت ابو حفص ہے، آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب نویں پشت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے ،         آپ رضی اللہ عنہ ’’عام الفیل‘‘ کے تقریباً 13 سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور نبوت کے چھٹے سال پینتیس سال کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہو ئے،         حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ بن خطاب ہی ہوتے،( لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ) .        اس دنیا میں جتنے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محدث ضرور ہوا ہے، اگر میری امت کا کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہیں صحابہ کرامؓ نے عرض کیا، محدث کون ہوتا ہے؟ تو فرمایا: جس کی زبان سے فرشتے گفتگو کریں،         قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم): «لقد كان فيما قبلكم من الأمم مُحدَّثُون، فإِن يك في أمَّتي أحدٌ؛ فإِنَّه عمر».(طبرانی اوسط)        آپ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ ان باتوں سے بھی لگا یا جاسکتا ہے کہ قیدیوں کے سلسلے میں آپ کی رائے اور حکم قتل کا…

Read more