ڈاکٹر منموہن سنگھ: ترقی یافتہ ہندوستان کے اصل معمار
۔✍️ مرزا ریحان بیگ ندوی (سابق سکریٹری: اللقاء الثقافی، لکھنؤ) ڈاکٹر منموہن سنگھ، بھارت کے چودھویں وزیرِاعظم، ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی سمت کو نئی جہت عطا کی ہے۔ ان کی قیادت میں بھارت نے اقتصادی میدان میں زبردست ترقی کی، اور عالمی سطح پر ایک اہم اقتصادی طاقت کے طور پر ابھرا۔ ڈاکٹر سنگھ کا دورِ حکومت (2004-2014) بھارت کی تاریخ کا ایک سنہری دور ثابت ہوا، جس میں معیشت کی اوسط شرح نمو 7.7% رہی اور ملک کی معیشت دو کھرب ڈالر تک پہنچ گئی، جو اسے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بناتا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کا وژن صرف تیز رفتار اقتصادی ترقی تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اس ترقی سے ہر طبقہ اور ہر فرد فائدہ اٹھائے، اور ملک کے تمام حصے ایک ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔ ان کی حکومتی پالیسیوں نے ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے بنیادی حقوق کو بھی مستحکم کیا۔ ان کے دور میں جو اہم قوانین نافذ کیے گئے، وہ بھارت کی عوام کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیوں کا سبب بنے، جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں: حقِ تعلیم قانون (Right to Education Act): اس قانون کے ذریعے ہر بچے کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جس سے لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوئے اور بھارت کی تعلیمی شرح میں اضافہ ہوا۔ حقِ خوراک قانون (Right to Food Act): اس قانون کے تحت حکومت نے غریب طبقے کو سستا اور معیاری کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری لی، جس سے ملک کے لاکھوں افراد کی خوراک کی ضروریات پوری ہوئیں اور غریبی کی سطح میں کمی آئی۔ منریگا (MGNREGA): یہ منصوبہ دیہی علاقوں میں روزگار کی ضمانت فراہم کرنے والا تھا، جس کا مقصد دیہی عوام کی معاشی حالت بہتر کرنا اور انہیں بنیادی ضروریات کے لیے روزگار مہیا کرنا تھا۔ حقِ معلومات قانون (Right to Information Act): اس قانون کے ذریعے عوام کو حکومتی اداروں سے…
Read more

