HIRA ONLINE / حرا آن لائن
اک بزم وفا پروانوں کی

اک بزم وفا پروانوں کی ڈاکٹر محمد اعظم ندویاستاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد دار العلوم وقف دیوبند کی ہر دلعزیزی کا آفتاب نصف النہار تک پہنچ چکا ہے، اس نے اپنی عمر کے چالیس بیالیس برس پورے کرکے قربانی اور ریاضت کی چلہ کشی بھی کرلی ہے، اس کے شان وشِکوہ کا کیا کہنا! قسام ازل کی فیاضی جسے چاہے دل نواز کرے، اس کی عظمت کے امتیازی نقش ونگار اور دلکش خط وخال کی تصویر کشی یہاں ممکن نہیں، خدا اسے سدرہ آشنا بنائے، ہندوستان کی وہ باکمال شخصیات کہ جن کے چراغوں کے سامنے دوسرے چراغ نہیں جلتے، علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ بھی ہیں، ان کا علم ایک قلزم نا پیدا کنار ہے، اقبال نے اورنگ زیب رحمہ اللہ کے بارے میں کہا تھا: درمیان کار زار کفر ودیںترکش ما را خدنگ آخریں ہم دلائل کی دنیا میں اسے علامہ پر بے تکلف منطبق کرسکتے ہیں۔ دار العلوم وقف دیوبند میں تقریباً دس برس سے "حجۃ الاسلام اکیڈمی” قائم ہے، اس نے ایک عشرہ میں اپنی عالمی سطح کی رنگا رنگ طباعتوں، تحقیقات اور سیمیناروں کے ذریعہ اہل علم میں وہ مقام بنایا ہے جس کا عشر عشیر بھی کئی کئی دہائیوں سے قائم بعض تحقیقی ادارے نہیں پیش کرسکے ہیں، ابھی 20-21 جمادی الثانی 1447ھ مطابق 13-14 دسمبر 2025ء اس نے اپنے روشن کارناموں میں ایک اور گراں قدر اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے علامہ انور شاہ کشمیری کی حیات وخدمات اور افکار وآثار پر ایک دو روزہ اور دو لسانی عالمی سیمینار کا کامیاب انعقاد، جس کے خیر کثیر کا ذکر خیر چہار جانب ہے۔ مجھ نابکار کو بھی اس سیمینار میں مقالہ نویسی اور باریابی کا شرف بخشا گیا تھا، موضوع تھا "علامہ کشمیری پر عربی زبان میں اہم تصنیفات وتحقیقات- تحلیل وتجزیہ”، میں 13 کی صبح انڈیا کی ٹرینوں اور جہازوں کی طرح معمول کے مطابق لیٹ پہنچا، انڈیگو کے حالیہ غیر مجاز تصرفات کی زد میں آگیا تھا، واپسی میں بھی یہی حشر ہوا، دو راتیں آنکھوں کی نذر ہوئیں، "غیر مستطیع” انڈیگو نے ایک عدد…

Read more

کیا خدا کا وجود ہے؟

کیا خدا کا وجود ہے؟ ✍🏻 محمد ظفر ندوی مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اور عالم دین مفتی شمائل ندوی کے مابین ایک اعلی سطحی اور ہائی پروفائل علمی مباحثہ اس موضوع پر ہوا کہ "کیا خدا کا وجود ہے؟” چوں کہ جاوید اختر صاحب”ایتھسٹ” یعنی ملحد ہیں، خدا کے وجود کے قائل نہیں ہیں، اس لیے وہ خدا کے نا ہونے پر دلائل دینے کی کوشش کر رہے تھے اور مفتی صاحب خدا کے وجود پر دلائل دے رہے تھے۔ میں اپنے اس مضمون میں مفتی شمائل ندوی کی طرف سے دیے گئے دلائل پر بحث کروں گا اور اگلے مضمون میں جاوید اختر صاحب کے الزامات اور جوابات پر گفتگو کروں گا۔ Argument of Contingencyپہلے دس منٹ میں جو سب سے اہم موضوع تھا وہ آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی تھا۔ آئیے ہم سب سے پہلے اسی پر بحث کرتے ہیں اور اس کو آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے "آرگیومنٹ آف کونٹیجینسی” کے آغاز سے پہلے ہی ایک بنیادی اور بڑے مسئلے کو واضح کردیا، وہ یہ کہ سائنس کے ذریعے خدا کی شناخت ممکن نہیں، سائنس کا یہ میدان نہیں ہے، سائنس خدا کے وجود کو ثابت کرنے یا اس کے وجود کو رد کرنے کا معیار نہیں ہے۔ مفتی صاحب نے "نیشنل اکیڈمی آف سائنس” کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتھا کہScience doesn’t have the processes to prove or disprove the existence of God. یعنی "سائنس کے پاس خدا کے وجود کو ثابت یا رد کرنے کے طریقے (processes) نہیں ہیں۔” یہ بات اکثر سائنسدان، فلاسفہ، اور الہیات دان بھی تسلیم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کا تعلق empirical evidence سے ہے "امپیریکل ایویڈینس” کا مطلب "تجرباتی ثبوت” ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ "حواسِ خمسہ یا سائنسی آلات سے جن اشیاء کی تصدیق اور تثبیت ہو۔ مثلاً ہوا نظر نہیں آتی مگر ہم محسوس کرسکتے ہیں، یہ حواس کی مثال ہے۔ اسی طرح "تجربہ” مثلاً پانی ایک سو سینٹی گریڈ پر ابلنے لگتا ہے تو یہ تجربہ ہے، ان کو امپریکل ایوڈینس کہتے ہیں۔ اس کے…

Read more

دار العلوم دیوبند کی سیر

محمد رضی الاسلام ندوی دار العلوم دیوبند میں اپنی حاضری درج کرنے کے لیے میں نے دو فوٹو لگائے تو بہت سے احباب نے توجہ دلائی کہ آپ نے صرف فوٹو لگادیے ، کچھ لکھنا بھی چاہیے تھا – اسی کی تعمیل میں چند سطریں تحریر کی جارہی ہیں – دار العلوم (وقف) میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ پر منعقدہ سمینار (13، 14 دسمبر 2025) کا افتتاحی اجلاس پونے بارہ بجے ختم ہوا تو برادر مکرم ڈاکٹر محی الدین غازی نے کہا : ” اس وقت دار العلوم کے مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا ابو القاسم نعمانی کا درس چل رہا ہوگا – چل کر اس میں شرکت کرلیتے ہیں – “ میرے ساتھ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نائب امیر جماعت ، جناب عبد الجبار صدیقی سکریٹری جماعت اور ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی فلاحی اسسٹنٹ سکریٹری جماعت بھی تیار ہوگئے – دار العلوم (وقف) کیمپس ہی میں ایک بیٹری رکشہ کھڑا ہوا تھا – ڈرائیور سے کہا : ” دار العلوم لے چلو -“ وہ فوراً تیار ہوگیا – تھوڑی دیر میں ہمیں گلیوں سے گھماتے ہوئے اس نے دار العلوم میں ‘مسجد رشید’ تک پہنچا دیا – بڑی خوب صورت اور پُر شکوہ مسجد تعمیر ہوئی ہے – کرایہ پوچھنے پر اس نے کہا : ” کرایہ دینے کی ضرورت نہیں – میں نانوتہ سے سمینار میں شرکت کرنے والوں کی خدمت ہی کے لیے آیا ہوں – “ رکشہ چلانے والے کے اس جواب نے بہت متاثر کیا – اس کے جذبۂ خدمت کو سلام – بانی دار العلوم مولانا محمد قاسم نانوتوی کے اخلاص ، خیر خواہی اور خدمت کے اثرات نسل در نسل اب تک محسوس کیے جاتے ہیں – ایک طالب علم سے درسِ حدیث کے بارے میں معلوم کیا – اس نے بتایا کہ درس 12 بجے ختم ہوجاتا ہے – بہت افسوس اور مایوسی ہوئی – چند ماہ پہلے دیوبند حاضری ہوئی تھی تو اس موقع پر دار العلوم (وقف) میں شیخ الحدیث مولانا احمد خضر شاہ کشمیری اور دار العلوم میں مولانا ابو القاسم…

Read more

دو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میں

تحریر: سید شعیب حسینی ندوی صاحبِ فکر و نظر اور ذی استعداد نوجوان عالم، برادرِ مکرم ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی کی دعوت پر دار العلوم وقف دیوبند میں منعقد عظیم الشان سیمینار بعنوان "علامہ انور شاہ کشمیریؒ: حیات، افکار اور خدمات” میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ میں دہلی سے سیدھا جمعہ، 12 دسمبر 2025 کو کاندھلہ پہنچا، جہاں اقرباء سے ملاقات مقصود تھی۔ وہاں ایک دن کا قیام ہمارے دادا، مولانا نور الحسن راشد صاحب مدظلہ (دادا محترم مولانا سید محمد طاہر حسینیؒ کے حقیقی بہنوئی) کے دولت کدہ پر رہا۔ دادا کی علمی و تحقیقی مجالس سے بھرپور استفادہ کا موقع ملا، جبکہ دادی کی شفقت، محبت اور بے مثال ضیافت حسبِ روایت دل کو چھو لینے والی تھی۔ وہ پورے خاندان میں مہمانوں کے اکرام کے لیے معروف ہیں۔ اسی قیام کے دوران چچا محترم مولانا ارشد کاندھلوی کے ادارے کی زیارت کا موقع بھی ملا، جو دینی اور عصری علوم کے حسین امتزاج کے ساتھ علاقے میں ایک مؤثر تعلیمی مرکز کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دیوبند حاضری اور سیمینار کا آغاز: بروز سنیچر، 13 دسمبر 2025 کو دادا اور چچا کے ہمراہ دیوبند روانہ ہوئے۔ وہاں مولانا اسجد مدنی دامت برکاتہم کے ہاں پر تکلف ناشتہ سے تواضع ہوئی، جس کے بعد دار العلوم وقف دیوبند حاضری ہوئی۔ دار الحدیث کی عمارت کے داخلی دروازے پر ہی نائب مہتمم دار العلوم وقف اور ڈائریکٹر حجۃ الاسلام اکیڈمی، ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ اگرچہ برسوں پرانی شناسائی تھی، مگر بالمشافہ یہ پہلی ملاقات تھی، خلوص، محبت اور اپنائیت نے اجنبیت کا شائبہ بھی باقی نہ رہنے دیا۔ افتتاحی نشست اختتامی مرحلے میں تھی، تاہم شرکت کا موقع ملا اور اکابر علماء سے ملاقات و نیازمندی کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ حضرت مولانا محمد سفیان صاحب (مہتمم دار العلوم وقف)، حضرت مولانا سید احمد خضر شاہ صاحب (صدر مدرس)، چچا محترم مفتی سلمان منصورپوری، چچا عفان (مفتی عفان منصورپوری) اور دیگر اکابر اہلِ علم سے ملاقاتیں رہیں۔ علمی نشستیں اور انتظامی حسن: سیمینار میں مقالات کی کل چار نشستیں رکھی…

Read more

دار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمینار

دار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمینار محمد رضی الاسلام ندوی دار العلوم (وقف) دیوبند کی حجۃ الاسلام اکیڈمی کے زیر اہتمام مولانا انور شاہ کشمیری پر دو روزہ (13 ، 14 دسمبر 2025) سمینار میں شرکت کرنے کا موقع ملا – مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی کی سرپرستی و سربراہی اور نائب مہتمم ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی کی نگرانی میں دار العلوم (وقف) الحمد للہ ترقی کے منازل طے کر رہا ہے – 2018 میں یہاں ایک بڑا سمینار خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی رحمہ اللہ پر منعقد ہوا تھا – اگلے برس مولانا انور شاہ کشمیری پر سمینار ہونا تھا ، لیکن کورونا کی وجہ سے تمام سرگرمیاں معطّل ہوگئی تھیں – بالآخر اس سمینار کا انعقاد اب ہوسکا – چند ماہ قبل استاذِ مدرسہ مولانا محمد اظہار الحق قاسمی مرکز جماعت اسلامی ہند تشریف لائے تھے اور امیر جماعت اور دیگر کو دعوت دے گئے تھے – چنانچہ امیر جماعت نے ایک وفد کے ساتھ شرکت کی ، جس میں مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی نائب امیر جماعت ، جناب عبد الجبار صدیقی سکریٹری ، ڈاکٹر رضوان احمد رفیقی فلاحی اسسٹنٹ سکریٹری ، ڈاکٹر محی الدین غازی اور راقم سطور نے شرکت کی – علی گڑھ سے ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی کے سکریٹری مولانا اشہد جمال ندوی ایک وفد کے ساتھ شریک سمینار ہوئے – حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ( 1875–1933ء) دار العلوم دیوبند کے نام ور فضلاء میں سے ہیں – وہ اس کے چوتھے صدر مدرس تھے ۔ 13 سال وہاں شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز رہے ۔ پھر بعض اسباب سے دار العلوم دیوبند سے ان کا تعلق باقی نہ رہ سکا تو جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل (گجرات) چلے گئے ، جہاں آخرِ حیات تک تعلیم و تدریس اور تحقیق و تصنیف میں مصروف رہے – مختلف اسلامی موضوعات پر ان کی عربی اور فارسی میں تقریباً دو درجن تصانیف ہیں ، جن میں فیض الباری علی صحیح البخاری ، العرف الشذی شرح سنن الترمذی اور مشکلات القرآن شہرت رکھتی ہیں…

Read more

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب صفاانسٹی ٹیوٹ فارمیڈیالٹریسی اینڈجرنلزم کے زیراہتمام مدرسہ سیدنابلال ڈالی گنج میں میڈیالٹریسی کے عنوان سے ایک پروگرام کاانعقادہوا،جس میں طلباء کو میڈیاکی حقیقت،اس کے کردارواثرات کے ساتھ فیک نیوزکی پہچان جیسے موضوعات پربنیادی معلومات فراہم کی گئیں،مفتی منورسلطان ندوی نے فیک نیوزکی پہچان کیسے کریں کے عنوان پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ایک دورتھاجب کسی خبرکی اشاعت کو خبرکی صحت کے لئے کافی سمجھاجاتاتھا،اس کے بعد تصویر کوبڑی اہمیت حاصل ہے،اس کے بعد ویڈیوکوغیر معمولی سمجھاگیا،مگرموجودہ دورمیں ان میں سے کوئی بھی خبرکی صحت کی دلیل نہیں ہے،اخبارپڑھتے وقت یہ دیکھناضروری ہے کہ اس خبرکاذریعہ کیاہے،انہوں نے مزیدکہاکہ خبراور رائے میں بڑافرق ہوتاہے،اسی طرح سرخی کے ذریعہ بھی خبرکے زاویہ کو بدلنے کی کوشش ہوتی ہے،اور بیانیہ سیٹ کیاجاتاہے،اس لئے اخبارکی خبریں دیکھتے وقت ان چیزوں کوذہن میں رکھناضروری ہے۔ صحافی غفران نسیم نے کہاکہ کسی معاشرہ کوسنورانے اور بگاڑنے میں میڈیا کازبردست کردارہوتاہے، میڈیاعوام اور حکمراں طبقہ کے درمیان پل کاکام کرتاتھا،مگراب یہی میڈیااپنی اس خصوصیت کو کھوچکاہے،موجودہ دورمیںمیڈیاافواہوں کوپھیلانے اور چھوٹی خبروں کونشرکرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنےکی کوشش میں سرگرداں رہتاہے،انہوں نے کہاکہ میڈیاکوسمجھناموجودہ وقت کی اہمیت ضرورت ہے،اس لحاظ میڈیالٹریسی کے عنوان سے کی جانے والی یہ کوشش قابل تعریف ہے۔ مولانامصطفی ندوی مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحافت میں نوجوانوں کااہم رول ہوتاہے،اس میڈیالٹریسی پروگرام کامقصد نوجوانوں کو میڈیاکے غلط اثرات سے بچانے اور صحیح اثرات ڈالنے کے لائق بناناہے،نوجوان میڈیاکاصحیح استعمال کریں توسماج میں موثررول اداکرسکتے ہیں۔ صحافی سعودالحسن نے میڈیاکی مختلف اقسام اور ان کی خصوصیات کوتفصیل سے بیان کیا۔مولانامناظر منعم رحمانی مہتمم مدرسہ سیدنابلال نے صفاانسٹی ٹیوٹ فارمیڈیالٹریسی اینڈ جرنلزم کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے اس ادارہ کے منتظمین کو مبارکبادپیش کی،نوشادخان ندوی نے پروگرام کی نظامات کرتے ہوئے میڈیالٹریسی کی اہمیت وضرورت پرروشنی ڈالی اورمہمانوں کاتعارف کرایا،اس پروگرام میں مدرسہ کے طلبہ کے علاوہ جمشید قادری ندوی ،ابرارعالم ،عبداللہ ندوی ،مزمل حسین ندوی خاص طور پر شریک رہے۔،صدرمجلس کی دعاپرپروگرام کااختتام ہوا۔

Read more