سیاحت نامۂ علمی(قسط سوم) ✍️ معاویہ محب اللہ علیگڑھ کی طرف روانگی
تاج محل کی زیارت و ملاقات سے مشرف ہو جانے کے بعد ظہرانہ کے لئے جناب ظل الرحمن صاحب کے دولت کدے کے لئے روانہ ہوگئے، بہر حال مہمان خانہ پہنچے تو چند ساعات ٹھہرنے کے بعد کھانے کے لئے بلادئے گیے، کھانا تو کھایا جو کھایا، اس کے بعد ظہر کی نماز کے لئے مسجد روانہ ہو گئے، نماز سے فراغت کے بعد اگلی منزل علیگڑھ کے لئے روانہ ہونے کی پلاننگ ہوئی، اس میں یہ طے پایا کہ چار بجے چلنے والی اے- سی بس سے علیگڑھ کے لئے روانہ ہونا ہے، بہر حال اس بس میں بیٹھنے ہی والے تھے کہ آگرہ کی معروف میٹھائی جسے ” پیٹھے” کہا جاتا ہے لے لیا، میٹھا کھاکر سوگئے، پھر اٹھے دوبارہ ناشتہ کیا، ان سب ناز نخروں میں غروب کے وقت علیگڑھ تھے، یہ تھے آگرہ میں گزارے ہوئے آخری لمحات اور علیگڑھ کی آمد آمد ! علیگڑھ آنے سے قبل ہی ہم نے عزیز دوست اور رفیقِ درس مفتی اسجد حسن ندوی کو فون ملایا ، اللہ تعالی ” مدرسۃ العلوم الاسلامیہ” کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے اور رفیقِ محترم مفتی اسجد حسن ندوی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے ! علیگڑھ میں قیام وآرام کا یہی ایک آخری سہارا تھا جس کا اللہ تعالی نے ہمارے لئے انتظام فرمایا تھا۔ مدرسۃ العلوم الاسلامیہ لندن سے واپسی کے بعد سر سید احمد خاں نے علیگڑھ میں کالج قائم کرنے کا ارادہ کیا تھا، اسی ارادہ کی تکمیل کے لئے ابتداء میں ’’مدرسۃ العلوم‘‘ کے نام سے عصری ادارہ ودانش گاہ کی بنیاد ڈال دی، جو بعد میں جاکر پہلے ’’ اینگلو اورینٹل کالج‘‘ اور آخر میں ’’مسلم یونیورسٹی علیگڑھ ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ علیگڑھ میں واقع ’’مدرسۃ العلوم الاسلامیہ‘‘ بھی وہی سرسید کے قائم کردہ ’’مدرسۃ العلوم‘‘ کی بھولی بسری یاد ہے، مدرسۃ العلوم ایک کالج اور عصری تعلیم کا ادارہ تھا، لیکن علیگڑھ کے غیور مسلمانوں نے اسی نام سے دینی وعلمی ادارہ کا دوبارہ احیاء کیا، آج کل وہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کی شاخ کے طور…
Read more