HIRA ONLINE / حرا آن لائن
راہل گاندھی کا بے باکانہ خطاب ——از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ)

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی ایوان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر پارلیامنٹ میں بحث کے دوران جس بے باکی کے ساتھ راہل گاندھی نے ملکی مسائل بے روزگاری، مہنگائی، اگنی ویر، کسانوں کی تحریک اور ایجنسیوں کے غلط استعمال پر روشنی ڈالی اور حکمراں جماعت کو گھیرے میں لیا، اس نے پورے ہندوستان کے لوگوں کے دل کو جیت لیا، ان کے مخالفین بھی اس تقریر کی تعریف پر خود کو مجبور پارہے ہیں، حکومت کے خلاف یہ تقریر اس قدر مؤثر اور مواد سے بھر پور تھی کہ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد جاری حزب مخالف کے لیڈر کی ایوان کی اس تقریر کے دوران وزیر اعظم کو دو، وزیر داخلہ امیت شاہ کو تین، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور شیو راج سنگھ چوہان کو ایک ایک بار مداخلت کرنی پڑی، حد تو تب ہو گئی، جب اسپیکر اوم برلا کو بھی اپنی صفائی میں راہل گاندھی کی تقریر روک کر بیان دینا پڑا، راہل گاندھی نے جب یہ کہا کہ اسپیکر بھی جانب داری برتتے ہیں۔ انہوں نے اپنے انتخاب کے دن وزیر اعظم نریندر مودی کو جھک کر آداب کیا اور مجھے کھڑے کھڑے، اس پر اسپیکر ضبط نہیں کر سکے اور کہا کہ ہماری تہذیب ہے کہ بڑوں سے جھک کر ملا جائے، بلکہ ان کے پاؤں بھی چھوئے جائیں، اور برابر والوں سے یا کم عمر والوں سے برابری سے ملا جائے۔ میں نے اس ہندوستانی تہذیب اور سنسکرتی کا پالن کیا، ان کے خاموش ہوتے ہی راہل گاندھی نے یہ کہہ کر سب کی بولتی بند کر دی کہ پارلیامنٹ کے اندر اسپیکر سے بڑا کوئی نہیں ہوتا۔ راہل گاندھی نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ہندو صرف بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ نہیں ہیں، جو نفرت اور خوف پھیلانے کا کام کرتے ہیں، ہندو اور بھی لوگ ہیں جو شیو کو مانتے ہیں، وہ نفرت کی بات نہیں کرتے، اس پر خوب ہنگامہ ہوا، لیکن راہل گاندھی نے اس پورے ہنگامہ کے بعد پھر اپنی تقریری جاری رکھی، اور حکومت کو آئینہ دکھانے کا…

Read more

علمی سیاحت نامہ (10)——( ✍️ معاویہ محب اللہ )

رات ساڑے دس بجے ٹرین لکھنؤ سے روانہ ہوگئی اور پوری رات ٹرین میں ہی گزری، عین صبح کی پَو پھوٹتے ہی سہارنپور کے ریلوے اسٹیشن پر آموجود تھے، الحمد للہ یہ سفر بہت آسان، آرام دہ اور ہنسی وخوشی میں پورا ہوگیا، مظاہر العلوم سہارنپور میں ایسی گہری جان پہچان اور شناسائی تو کسی سے تھی نہیں لیکن اللہ تعالٰی کا فضل وکرم ہی تھا کہ مظاہر العلوم قدیم کے مہمان نواز جناب رفاقت علی صاحب نے بڑی دل داری فرمائی، مہمان خانہ میں ٹھیرایا، نلّی نہاری سے لے کر چائے وناشتہ تک کا معقول انتظام فرمایا۔ اس کے بعد مظاہرِ قدیم کے مہتمم صاحب مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان سے دعائیں لیں کچھ علمی گفتگو ہوئی لیکن سوال وجواب کے بجائے صرف آپ ہی کی پند ونصائح پر اکتفا فرما لیا گیا، مولانا محمد اللہ سعیدی صاحب نے بڑی بصیرت افروز اور پتے کی بات کہی کہ عام طور سے سہارنپور دیکھنے والے جذبات کی رَو کا شکار ہوتے ہیں، انہیں بس اکابرین کے تبرکات وبقایات سے دلچسپی ہوا کرتی ہے، عقیدت کی حد تک تو یہ بھی درست ہے، اگر ایک عاشقِ محبوب اپنی معشوقہ کی گلیوں سے عشق کر بیٹھتا ہے، اس کے دیار کے رہنے والوں سے اسے انسیت واپنائیت ہوجاتی ہے، اس شہر کی خبروں میں وہ وہ شیرینی محسوس کرتا ہے جو کہیں نہیں، لہذا اگر کسی کو اپنی محبوب علمی ودینی شخصیت سے محبت وعقیدت ہے، جس کا لازمی نتیجہ ہے کہ اس کے بقایا کو دیکھنے کی آرزو رہتی ہے، اس کے متروکات کی زیارت سے دل فرحت محسوس کرتا ہے، لیکن جب عقیدت میں اندھا ہوکر غلو کی حدود کراس ہونے لگے اور محبت وعقیدت کے بجائے اس پر دینی جذبات کے پھول نچھاور ہونے لگے، اس کے متروکات کے ساتھ عقیدت ومحبت، چومنے وچاٹنے کو کارِ ثواب سمجھانے جانے لگے تو یہ لمحۂ فکریہ ہے، ان کو وہ درجہ دے دینا جس سے غلو آمیز عقیدت، تبرکات وبقایات کے ساتھ وہ تمسک اختیار کیا جائے کہ غلو کی بُو…

Read more

*علمی سیاحت نامہ (9)*—–(مولانا عبد القادر ندوی پٹنی)

مولانا عبد القادر صاحب پٹنی کے ساتھ تعلق وعقیدت سالوں پرانا ہے، مولانا بھی مجھ سے بے حد محبت فرماتے ہیں، اس کا اندازہ ان کو ہوگا جنہوں نے ہمیں مولانا کے ساتھ دیکھا ہے، آپ چھوٹوں اور خردوں کو نوازنے میں بہت زیادہ تواضع سے کام لیتے ہیں، جب بھی مولانا عبد القادر صاحب کا چھاپی کے اطراف میں آنا ہوتا ہے ضرور ہم کو اطلاع دیتے ہیں اور یوں ملاقات وزیارت کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے، دو مرتبہ رمضان المبارک میں مولانا کے آگے تراویح بھی سنائی ہے، یک دفعہ شبینہ میں دو پارے سنائے تھے، اور یک دفعہ سہ شب تراویح میں ایک آد پارہ کے قریب سنانے کا اتفاق ہوا تھا، اس وقت ہمارا رہنا وہنا اور قیام وطعام مولانا کے گھر سے ہی میں تھا، اس کےعلاوہ مولانا دامت برکاتہم کے لکھنؤ کے گھر میں بھی کئی روز اور پٹن میں تو بارہا پانچ چھ دن گزارنے کا موقع میسر آیا ہے۔ اس مرتبہ بھی لکھنؤ کے سفر میں جمعہ کے بعد ظہرانہ پر مولانا نے اپنے ہی گھر پر دعوت کا انتظام فرمایا تھا، بہر حال مولانا دامت برکاتہم کے گھر جمعہ کے بعد پہنچ گئے۔ ابھی ابھی آپ کی تازہ تصنیف جو قرآن کریم کے ہندی، انگریزی اور گجراتی ترجمہ پر مشتمل ہے سامنے آئی ہے، ندوۃ العلماء میں اس کا رسمِ اجراء بھی ہوچکا ہے، مولانا نے ہم تمام رفقاء کے ہاتھ میں بھی وہ کتاب تھمائی اور تصویر بھی محفوظ کرلی، اس سے زیادہ آپ کی ذرہ نوازی کیا ہوگی کہ راقم الحروف کو اس کتاب کا ایک نسخہ بھی ہدیتا عنایت فرمایا۔ گرچہ میں مستقلا درسی اعتبار سے مولانا کا شاگرد تو نہیں ہوں لیکن ایک اعتبار سے شاگردیت کا شرف ضرور حاصل ہے، اجازتِ حدیث، مختصر سوال وجواب، اور مشکوۃ المصابیح کی مختصر سہی تقریر سننے کا موقع ملا ہے، مولانا دامت برکاتہم بھی بطور خُرد نوازی کے فرماتے کہ معاویہ بھی میرا شاگرد ہے، خلاصۂ کلام ہم بھی آپ کے خوشہ چینوں میں شامل ہیں۔ تازہ تازہ بھونی ہوئی مچھلی، گوشت کا سالن…

Read more

سال نوکی آمد -مرحبا ———-(از:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ)

1445ھ گذرگیا اور ہم 1446ھ میں داخل ہوگیے، یعنی نئے سال کا سورج ہماری زندگی کے مہ وسال سے ایک سال اور کم کرنے والا ہے، ہم موت سے اور قریب ہو گیے، انسان بھی کتنا نادان ہے وہ بڑھتی عمر کا جشن مناتا ہے، مبارک بادپیش کرتا ہے، قبول کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ ہماری عمر جس قدر بڑھتی ہے، موت اور قبر کی منزل قریب ہوتی رہتی ہے اور بالآخر وقت موعود آجاتا ہے اور آدمی قبر کی آغوش میں جا سوتا ہے۔ جو لوگ صاحب نظر ہیں اور جن کے ذہن میں فکر آخرت رچی بسی ہوئی ہے، وہ گذرے ہوئے سال سے سبق لیتے ہیں، اعمال کا محاسبہ کرتے ہیں، نئے سال کا استقبال تجدید عہد سے کرتے ہیں کہ آئندہ ہماری زندگی رب مانی گذرے گی، من مانی ہم نہیں کریں گے، اس عہد پر قائم رہ کر جو زندگی وہ گذارتے ہیں وہ رب کی خوش نودی کا سبب بنتا ہے اور اس کے نتیجے میں بندہ جنت کا مستحق ہوتا ہے۔ نئے سال کی آمد پر ہم لوگ نہ محاسبہ کرتے ہیں اور نہ ہی تجدید عہد، بلکہ ہم میں سے بیش تر کو تو یاد بھی نہیں رہتاکہ کب ہم نئے سال میں داخل ہو گیے، عیسوی کلینڈر سب کو یادہے، بچے بچے کی زبان پر ہے، انگریزی مہینے فرفر یاد ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے سے جب چاہیے سن لیجئے؛ لیکن اسلامی ہجری سال، جو اسلام کی شوکت کا مظہر ہے، اس کا نہ سال ہمیں یاد رہتا ہے اور نہ مہینے، عورتوں نے اپنی ضرورتوں کے لئے کچھ یاد رکھا ہے، لیکن اصلی نام انہیں بھی یاد نہیں بھلا،بڑے پیراور ترتیزی، شب برأت، خالی، عید، بقرعید کے ناموں سے محرم صفر، ربیع الاول، ربیع الآخر، جمادی الاولیٰ، جمادی الآخر، رجب، شعبان، رمضان، شوال ذیقعدہ اور ذی الحجہ جو اسلامی مہینوں کے اصلی نام ہیں، ان کو کیا نسبت ہو سکتی ہے، ہماری نئی نسل اور بڑے بوڑھے کو عام طور پر یا تو یہ نام یاد نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ترتیب سے…

Read more

علمی سیاحت نامہ——–(ندوۃ العلماء لکھنؤ)

ندوۃ العلماء لکھنؤ ایک علمی وفکری دانش گاہ ہے، ندوۃ کے محاسن اور اس کے کارناموں کے لئے میرے قلم میں تابانی نہیں ہے، اس کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لئے میرے دل ودماغ میں الفاظ ومعانی کے درمیان ہنگامہ بپا ہے، الفاظ نوکِ قلم آنا چاہتے ہیں معانی نے انہیں کم ظرف اور ناتواں ہونے کے باعث روکے رکھا ہے۔ ندوۃ کی جلالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے سید سلیمان ندوی جیسا علم کا کوہِ گراں ملتِ اسلامیہ ہندیہ کی نذر کیا، ندوۃ العلماء : سیرت النبی جیسی معرکۃ الآراء کتاب کے مصنف شبلی نعمانی جیسی عبقری شخصیات کی فکر ونظر کا محور ہے، ندوۃ کو شبلی نعمانی نے بال وپَر دئے، علامہ نے ندوۃ کو ” قدیم صالح اور جدید نافع ” کا سنگم بنایا، جو بھی ، جس مسلک کا بھی، جس سوچ کے ساتھ آتا ہے اپنی جھولی بھر کے جاتا ہے۔ علومِ قرآنی کا گنجینہ سمیٹ کر جاتا ہے، قرآن میں تدبر وتفکر کا درس لےکر نکلتا ہے، طبری وابن کثیر کی مرویات سے روشناس ہوتا ہے، کشاف ورازی کے عقلی عقدوں کو حل کرنے کا گُر سیکھتا ہے، فراہی واصلاحی کے نظمِ کلام کے تصور سے متعارف ہوتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تفسیری آراء سے بہرہ مند ہوتا ہے، غرض علم تفسیر کے گوشہ گوشہ سے اپنے سینے کو لبریز پاتا ہے۔ یہاں صحیح بخاری ومسلم کے تراجم پر بحث ہوتی ہے، یہاں اسماء الرجال کی کتابیں کھنگالی جاتی ہیں، یہاں جرح وتعدیل کی میزان میں راویوں پر کلام کرنا سکھایا جاتا ہے، یہاں روایت ودرایت میں پوشیدہ علتوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، الغرض اس فن کا پیاسا یہاں سے علمِ حدیث کا شناور بن کر نکلتا ہے۔ فقہ میں دلچسپی رکھنے والا تمام مسالک کے فقہاء کرام کی فقہی آراء سے مستفید ہوتا ہے، کبھی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کو ترجیح دیتا ہے تو کبھی امام اعظم رحمہ اللہ کی فقہی بصیرت کا اسیر ہوکر رہ جاتا ہے، یہاں عملِ اہلِ مدینہ سے واقفیت حاصل کرتا ہے…

Read more

غنچہء ادب : ایک مطالعہ—–مبصر : مظہرؔ وسطوی

"غنچہ ادب” جناب قمر اعظم صدیقی کی پہلی تصنیف ہے جو مختلف النوع مضامین کا مجموعہ ہے ۔ اس کتاب میں شامل مضامین کی تعداد 15 ہے ۔ مصنف نے غنچہ ادب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ کتاب کی فہرست میں شخصیات , صحافت اور کتابوں کی باتیں عنوان دیے گئے ہیں ۔ شخصیات کے گوشے میں سات مضامین شامل ہیں , صحافت کے حصے میں ایک مضمون شامل ہے اور گوشہ ‘کتابوں کی باتیں میں’ تبصراتی اور تاثراتی نوعیت کے سات مضامین شامل ہوئے ہیں۔ شخصیات کے عنوان سے جو مضامین شامل کتاب ہیں ان کی فہرست ہے ۔ علامہ اقبال : ایک مطالعہ , علامہ ماہر القادری کی شخصیت اور کارنامے , قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایک بے مثال شخصیت , حضرت مولانا محمد ولی رحمانی میری نظر میں , میرے نانا جان محمد داؤد حسن مرحوم , محبت و اخلاص کے پیکر ڈاکٹر ممتاز احمد خان مرحوم , ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق : تمہاری نیکیاں زندہ تمہاری خوبیاں باقی ۔ اس طرح ساتوں مضامین مختصر اور سلیس انداز میں تحریر کیے گئے ہیں ۔ نانا جان محمد داؤد حسن مرحوم , ڈاکٹر ممتاز احمد خان مرحوم اور ڈاکٹر مشتاق احمد مشتاق مرحوم کے تعلق سے مصنف نے جو مضامین قلم بند کیے ہیں اس حوالے سے حرف چند میں صفحہ نمبر 11 پر نامور ادیب مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ مصنف نے ان حضرات کے بارے میں اپنے تاثرات مشاہدات تعلقات اور تجربات پر کھل کر گفتگو کی ہے جس میں کہیں کہیں داستان نگاری کا رنگ و آہنگ پیدا ہو گیا ہے ۔ مفتی صاحب کے اس رائے اور خیال سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ قمر اعظم صدیقی کے اندر لکھنے کی صلاحیت اور جنون دونوں موجود ہیں ۔ کتاب میں صحافت کے عنوان سے جو مضمون شامل ہے وہ ایک عام قاری کے معلومات میں اضافہ کرنے کا اہل ہے کیونکہ اس مضمون میں مصنف کی محنت , عرق ریزی اور جانفشانی صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے جیسا کہ…

Read more