HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ذبح کرنے کا صحیح طریقہ

اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کا ایک مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے، جس میں صفائی، احتیاط اور اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ ✅ ذبح کا درست طریقہ: جانور کو قبلہ رخ لٹائیں بہتر یہ ہے کہ جانور کو بائیں کروٹ پر لٹایا جائے تاکہ ذبح کرنے میں آسانی ہو۔ تیز چھری استعمال کریں چھری اچھی طرح تیز ہو تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔ اللہ کا نام لیں ذبح کرتے وقت یہ پڑھیں:"بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰہُ أَكْبَرُ” صحیح جگہ پر ذبح کریں جانور کے گلے میں حلق اور لبہ کے درمیان چھری چلائیں۔ضروری رگیں کاٹیںدرج ذیل چار چیزیں کاٹنا ضروری ہیں:حلقوم (سانس کی نالی)مری (کھانے کی نالی)دو رگیں (اوداج) جو خون لے جاتی ہیںگردن مکمل نہ کاٹیںسر کو الگ نہ کریں اور نہ ہی حرام مغز تک چھری پہنچائیں۔ ⚠️ اہم ہدایات: جانور کو تکلیف دینا منع ہے، اس لیے نرمی اختیار کریںمکمل خون نکلنا ضروری ہے، اسی میں پاکیزگی ہےذبح کے علاوہ دوسرے طریقے (جھٹکا وغیرہ) درست نہیں 📖 حدیث کی روشنی میں: صحابی حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہحضرت محمد ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے قربانی کی،"بسم اللہ، اللہ اکبر” پڑھا اور جانور کو لٹا کر ذبح فرمایا۔(صحیح مسلم) 📚 فقہی خلاصہ: فقہ حنفی کے مطابق اگر چار میں سے اکثر رگیں کٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہو جاتا ہے، لیکن مکمل طریقہ یہی ہے کہ چاروں کاٹ دی جائیں۔(ماخوذ از: فتاویٰ ہندیہ)⭐ خلاصہ:صحیح ذبح وہ ہے جس میں:اللہ کا نام لیا جائےتیز چھری استعمال ہوضروری رگیں کاٹی جائیںجانور کو کم سے کم تکلیف دی جائے

Read more

حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر

﷽حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندویاستاذ حدیث وفقہ: جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات آج سے تقریباً تیس سال پہلے ۳۰ / دسمبر ۱۹۹۴ء تا ۲ / جنوری ۱۹۹۵ء كو دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں ایك فقہی سمینار منعقد ہوا تھا ، اس وقت حضرت قاضی مجاہد الاسلامی قاسمی ؒ (بانی اسلامك فقہ اكیڈمی ، انڈیا ) باحیات تھے اور سمینار كی قیادت كر رہے تھے، اس سمینار میں شركت كی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی تھی، اور یہیں سے اسلامك فقہ اكیڈمی (انڈیا) كے فقہی سمینار میں میری شركت كی ابتداء ہوئی ، اس سمینار میں ایك موضوع” رؤیت ہلال “ بھی تھا ، جس پر میں نے بھی مقالہ لكھا تھا ، بعدمیں اس پورے مقالہ كو” رمضان كے شرعی احكام “ میں شامل اشاعت كردیا ، جو كہ راقم الحروف كی تصنیف اور وجہ تعارف ہے، بہر حال فقہی سمینار كے لئے یہ میرا پہلا مقالہ تھا، اس كے بعد سےالحمد للہ ہر سال ایك دو كبھی تین موضوعات پر لكھتا رہتا ہوں ، اور یہ جو كچھ بھی ہوتا ہے محض اللہ كے فضل وكرم سے ہوتا ہے ۔ حدیثی سمینار میں شركت: ایك لمبے عرصہ كے بعد اسی مقام یعنی دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں گذشتہ سال پہلا حدیثی سمینار ہوا تھا جس میں میری حاضری ہوئی تھی، امسال تیسری مرتبہ دوسرےحدیثی سمینارمنعقدہ ۱۹، ۲۰ / شوال المكرم ۱۹۴۷ھ مطابق ۸، ۹ / اپریل ۲۰۲۶ء بروز بدھ اور جمعرات میں شركت كے لئےجانا ہوا، میرے ساتھ جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات سے دو اور مؤقر اساتذہ جناب مولانا توصیف صاحب مظاہری مدظلہ العالی اورجناب مولانا سفیان صاحب ندوی مدظلہ العالی بھی تھے، ہم لوگ مؤرخہ۱۸ / شوال المكرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۷ / اپریل ۲۰۲۶ء روز منگل دس بجے رات میں پہنچے ، ریلوے اسٹیشن پر داعی كی جانب سے مہمانوں كے استقبال كے لئے كوئی نظم نہیں تھا؛ اس لئے خود ہی اپنے طور پر كرایہ كے آٹو…

Read more

مولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)

از ابوالحسن نظام الدین محمدفرنگی محلی سہ شنبہ ۱۴؍ ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ؁ مطابق ۷؍اکتوبر ۲۰۲۵ء؁ تقریباً گیارہ (۱۱) بجے یا اس کے کچھ بعد کا وقت رہا ہوگا۔ اچانک فون کی گھنٹی کی بجی۔ دیکھا تو استاذی مولانا ڈاکٹر ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ندوی کا فون ہے۔ فوراً اٹھایا۔ انہوں نے اپنی طبیعت خرابی کے ذکر کےساتھ کہا۔’’سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے‘‘ تواحقر نے کہاکسی ڈاکٹر کو دکھا دلیجئے مگر اُن کو نہیں جن کے یہاں آپ ایڈمٹ تھے بلکہ کسی دوسرے کو۔ کہنے لگے ہاں غالباً بلغم ہے۔ میں نے کہا میں حاضر ہوں گا۔ لیکن کہتے وقت ذہن میں ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ فوراً ابھی جاؤں گا بلکہ کل ورنہ پرسوںجانے کا خیال ذہن میں تھا۔ چند مختصر جملوں کا مزید تبادلہ ہوا۔ اور خاکسار ہی نے اجازت لے کر فون منقطع کردیا۔ہمارے محلہ کی مسجد میں پونے ایک بجے ظہر کی جماعت ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک بجے کے بعد سنتوں سے فارغ ہو کر اندرون خانہ پہنچنے کے بعد فون اٹھایا تو دیکھا کہا بارہ پچپن( ۵۵:۱۲) کی ندوہ سے حافظ مصباح الدین صاحب کی کال لگی ہوئی ہے نیز دفتر الرائد سے مولوی عبدالکریم صاحب ندوی کی بھی کال لگی ہے۔ ابھی کال کرنے ہی جارہا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب نے دوبارہ فون کیا اور حادثہ کی اطلاع دی پھر دفتر الرائد ہی سے مولانا عثمان خاں صاحب ندوی نے بھی اسی روح فرساخبرکو دہرایا ۔جس کے بعدحافظ مصباح الدین کو فون کیا۔خبر کی تصدیق کے ساتھ انہوں نےبتایا کہ فہمینہ ہاسپٹل سے جنازہ لے کر اب میں ندوہ جارہا ہوں۔ خاکسار بھی فوراً ندوہ پہنچا جہاں حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد۔ کا منظر سامنے تھا۔طلبہ کے ہجوم کے درمیان مولانا کے جنازہ کی زیارت کی۔ نماز جنازہ کا وقت معلوم کرکے مکان واپس آکر قبل عصرد وبارہ ندوہ پہونچا۔ جہاں بعد نماز عصر فیلڈ میں ہزاروں طلبہ، اساتذہ ودیگر سوگواروں کے مجمع کے درمیان ناظم ندوۃ العلماءجناب مولانا سید بلال عبدالحئی صاحب حسنی ندوی کی ا قتداء میں نماز جنازہ ادا ء کی اور لاش گاڑی…

Read more

نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)

نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں) نماز ایک نہایت اہم عبادت ہے، اس لیے ان امور کو جاننا ضروری ہے جن سے نماز فاسد (ٹوٹ) ہو جاتی ہے۔ ذیل میں تمام اہم صورتیں مختصر اور سادہ انداز میں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے:نماز توڑنے والی 38 اہم چیزیں

Read more

نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)

نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی) نماز کی نیت دراصل دل کے ارادے کا نام ہے۔ یعنی انسان جس نماز کو ادا کرنا چاہتا ہے، اس کا ارادہ دل میں کر لینا ہی نیت کہلاتا ہے۔ نیت کے لیے زبان سے الفاظ کہنا ضروری نہیں، بلکہ دل کا پختہ ارادہ کافی ہوتا ہے۔جب آپ نماز پڑھنے لگیں، تو تکبیرِ تحریمہ (اللہ اکبر) کہنے سے پہلے دل میں یہ ارادہ کر لیں کہ آپ کون سی نماز پڑھ رہے ہیں، مثلاً:میں آج کی ظہر کی چار رکعت فرض نماز پڑھ رہا ہوںیامیں ظہر کی چار رکعت سنت نماز پڑھ رہا ہوںبس یہی دل کا ارادہ نیت کے لیے کافی ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص زبان سے بھی نیت کے الفاظ ادا کر لے تو یہ بھی جائز ہے، بلکہ بعض علماء کے نزدیک بہتر ہے، کیونکہ اس سے دل کا ارادہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اصل نیت دل ہی میں ہوتی ہے، زبان سے کہنا ضروری شرط نہیں۔خلاصہ:نیت دل کے ارادے کا نام ہےتکبیرِ تحریمہ سے پہلے نیت کرنی چاہیےدل میں ارادہ کافی ہےزبان سے کہنا بہتر ہے، مگر ضروری نہیںاس طرح آسانی کے ساتھ ہر نماز کی نیت کی جا سکتی ہے۔

Read more

قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات

قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات ​اسلامی عقیدے کے مطابق جادو محض ایک وہم یا افسانہ نہیں ہے، بلکہ قرآن کریم نے اس کے وجود اور اس کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جادو ایک شیطانی فن ہے جو انسان کے ایمان اور دنیا دونوں کے لیے مہلک ہے۔ ​جادو کی حقیقت اور نقصان ​قرآن کریم نے جادو کو ایک ایسے علم کے طور پر متعارف کرایا ہے جس کا سیکھنا سراسر نقصان کا باعث ہے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:​”وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ”(اور وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں نفع نہیں دیتی۔)​اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جادو کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کے روحانی نظام کو تباہ کر دیتا ہے۔ جادوگر اپنے ناپاک مقاصد کے لیے شیاطین کا سہارا لیتا ہے، جو اسے اللہ کی بندگی سے دور کر کے کفر کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔​ نظر بندی اور تخیلاتی جادو ​جادو کی ایک قسم وہ ہے جس میں جادوگر انسانی حواس، بالخصوص نظر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسے "سحرِ تخئیل” یا نظر بندی کہا جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال قرآن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کی صورت میں دی ہے:​”يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ”(ان کے جادو کے زور سے موسیٰ علیہ السلام کے خیال میں یہ بات آئی کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔)​یہاں جادوگروں نے رسیوں کو سانپ نہیں بنایا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھوں پر ایسا اثر کیا تھا کہ انہیں وہ رسیاں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جادو انسان کی نفسیات اور ادراک کو متاثر کر سکتا ہے۔ ​خاندانی بگاڑ اور میاں بیوی میں تفریق ​جادو کا ایک بدترین سماجی پہلو یہ ہے کہ اسے انسانی رشتوں کو توڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جادوگر ایسے عمل سیکھتے ہیں جن کے ذریعے وہ میاں بیوی جیسے مقدس اور…

Read more