HIRA ONLINE / حرا آن لائن
دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے

دعوت ڈبیٹ پر مقدم ہے ✍️ڈاکٹر محمد طارق ایوبی گذشتہ دنوں دہلی میں ایک ڈبیٹ منعقد ہوئی، جس کا عنوان تھا” کیا خدا موجود ہے”، پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا یہ سوال درست ہے، ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خود قرآن وجود باری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے وجود کا احساس دلاتا ہے نہ کہ وجود باری کے ثبوت پر اپنی قوت استدلال خرچ کرتا ہے، قرآن کی نظر میں اصل شے خدا کی طرف بلانا ہے نہ کہ خدا کا وجود ثابت کرنا، علامہ شبلیؒ نے الکلام میں قرآنی طریقہ استدلال کے متعلق جو بحث کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے انسان کے وجدان شہادت کو اپیل کیا جائے اور پھر کائنات کے نظم اور اس کی حکیمانہ ترتیب کی طرف توجہ دلائی جائے، اس تناظر میں آیات قرآنیہ کا مطالعہ کرتے جائیے تو آپ ہی وجود باری کا ثبوت ملتا جائے گا، ساتھ ہی توحید باری کا بھی اثبات ہوتا جائے گا جو کہ عقیدہ اسلامی کا امتیاز ہے،وجود باری کا ثبوت تو کسی کسی نہ کسی صورت میں دیگر مذاہب میں بھی موجود ہے،لیکن تصور وحدانیت ہی دراصل اسلام کا امتیاز ہے، اس لحاظ سے دیکھیے تو قرآن مجید خدا کی صفات کو موضوع بناکر اس طرح گفتگو کرتا ہے کہ وجود باری ، تصور وحدانیت پر بیک وقت استدلال کرتا ہے، اور اس کے لیے اس کا سب سے طاقتور استدلال کائناتی نظم و نسق ہے، جس کا کوئی معقول جواب دینے سے ملحدین بہر حال عاجز رہے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وجود باری کے رد و اثبات کی بحث فلسفہ یونان کی دین ہے، قرآن مجید تو وجود باری کے اعلان کا حکم دیتا ہے، جاہلوں اور منکروں سے اعراض کرتے ہوئے اس اعلان اور موحدانہ موقف پر جم جانے کی تلقین کرتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے یہی آشکار ہے اور یہی دعوت کا نبوی اسوہ اور طریقہ کار ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اسلامی مزاج اور نبوی منہج…

Read more

عصر حاضر میں مکاتب کی اہمیت

عصرِ حاضر میں مکاتب کی اہمیت مکاتب اسلامی معاشرے کی دینی بنیاد کو مضبوط کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں جب فکری یلغار، اخلاقی بگاڑ اور دینی غفلت عام ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں مکاتب کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں بچوں کو گھر اور معاشرے سے خودبخود دینی ماحول مل جاتا تھا، مگر آج یہ ماحول کمزور پڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل دینی اقدار سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ #مکاتب مکاتب وہ ادارے ہیں جہاں بچوں کو کم عمری ہی میں عقیدۂ توحید، کلمۂ طیبہ کی حقیقت، قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم، نماز، سنتِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔ یہی تعلیمات بچوں کے دل و دماغ میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرتی ہیں اور انہیں گمراہ کن نظریات، فتنوں اور ارتداد جیسی خطرناک سازشوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مکتب میں حاصل ہونے والی دینی تربیت بچے کی شخصیت کو متوازن بناتی ہے اور اسے اچھا مسلمان اور باکردار انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہر مسجد میں منظم انداز سے مکاتب قائم ہوں اور والدین بچوں کی دینی تعلیم کو ترجیح دیں تو ان شاء اللہ ہماری نسلیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رہیں گی۔ بلاشبہ مکاتب امتِ مسلمہ کے ایمان کے محافظ اور مستقبل کے معمار ہیں۔

Read more

الوافی شرح اصول الشاشی

🌴الوافی شرح اصول الشاشی🌴اساتذہ اور طلبہ کے لیے اصول الشاشی کی ایک بہترین عربی شرح. کتاب : الوافی شرح اصول الشاشی (اصول الشاشی کی عربی شرح)زبان : عربیصفحات : 206تالیف : حضرت مولانا مفتی محمد ذیشان احمد قاسمی صاحب مد ظلہ العالی۔(استاذ مدرسہ امداد العلوم حیدرآباد، انڈیا)واٹس ایپ :+91 9032100126ناشر : مکتبہ احیاء سنت، مدرسہ امداد العلوم، جامع مسجد ٹین پوش، حیدرآباد، تلنگانہ، انڈیا۔تعارف نگار: امدادالحق بختیار (استاذ حدیث وافتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد انڈیا) بر صغیر میں دار العلوم دیوبند کے منہج اور نظام ونصاب کو اختیار کرنے والے بیشتر مدارس کے درسِ نظامی میں اصول فقہ کے مدخل، مبادی اور بنیادی اصطلاحات وتعریفات کے لیے سب سے پہلے’’ تسہیل الاصول ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، بعض مدارس میں اس مقصد کے لیے دوسری کتابیں بھی شاملِ نصاب ہیں، بعد ازاں بالترتیب اصول الشاشی، نور الانوار اور حسامی کا درس دیا جاتا ہے، یہ تمام کتابیں اپنے موضوع اور مقصد میں بہت مفید ہیں؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ طلبہ کو اصولِ فقہ کے موضوع میں سب سے زیادہ جس کتاب سے فائدہ ہوتا ہے، وہ ’’ اصول الشاشی ‘‘ ہے، اس کتاب کی ترتیب ، منہج اور اسلوب بہت شاندار ہے، عبارت سلیس اور آسان ہے، یہ کتاب اصولِ فقہ کی تقریباً تمام بنیادی اصطلاحات، قواعد اور احکام کو جامع ہے، ا س کتاب میں اصول اور قواعد کے ساتھ ایک معتد بہ مقدار میں مثالیں پیش کی گئی ہیں، جس سے قاعدہ اور اس کی تطبیق بخوبی طلبہ کو ذہن نشیں ہو جاتی ہے؛ اسی لیے اصول فقہ کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یہ کتاب بہت مقبول ہے۔اردو میں بھی اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی ہیں اور عربی میں بھی بعض مستقل شرحیں لکھی گئی ہیں اور متعدد حواشی لکھے گئے ہیں؛ تاہم اس کتاب کی کوئی ایسی عربی شرح دستیاب نہیں تھی، جو معاصر زبان، ترتیب اور اسلوب کے مطابق ہو، اور عصری تقاضوں کوپورا کرتی ہو، جس میں اصل کتاب کے تمام مضامین اور اجزاء کی شرح کی گئی ہو، اسی لیے طلبہ کے درمیان کے اس…

Read more

شعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہ

از : مولانا ابو الجیش ندوی شعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہ ​اسلامی سال کے مہینوں میں شعبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو رجب کی پیاس اور رمضان کی بہار کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔ امام ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چونکہ شعبان رمضان کا مقدمہ ہے، اس لیے اس میں وہی اعمال (روزہ اور تلاوت) مشروع کیے گئے جو رمضان میں کیے جاتے ہیں، تاکہ روح رمضان کی اطاعت کے لیے تیار ہو جائے۔ ​1. شعبان کی اہمیت اور حکمت ​نبی کریم ﷺ اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے دو اہم اسباب بیان فرمائے:​اعمال کی پیشی: یہ وہ مہینہ ہے جس میں بندوں کے اعمال اللہ رب العالمین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔​غفلت کا مہینہ: رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے لوگ اکثر اس سے غفلتاً اعراض کرتے ہیں، جبکہ اللہ کے نزدیک اس وقت کی عبادت کی بڑی قدر ہے۔ ​2. اسلاف کا طرزِ عمل: "قاریوں کا مہینہ” ​ہمارے اسلاف شعبان کا چاند دیکھتے ہی اپنی ترجیحات بدل لیتے تھے۔​تلاوتِ قرآن: وہ اسے "شہر القراء” (قاریوں کا مہینہ) کہتے تھے۔ کثرت سے تلاوت شروع کر دی جاتی تاکہ زبان رمضان کے لیے رواں ہو جائے۔​مال کی زکوٰۃ: کئی اسلاف اسی مہینے میں زکوٰۃ ادا کرتے تھے تاکہ غریب مسلمان بھی رمضان کی تیاری کر سکیں اور اطمینان سے روزے رکھ سکیں۔ ​3. پندرہویں شعبان (شبِ برات) کی حقیقت ​اس ماہ کی پندرہویں رات اللہ کی رحمت عامہ کا ظہور ہوتا ہے۔ مستند روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے دو بدنصیبوں کے:​مشرک: جو اللہ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک ٹھہرائے۔​کینہ پرور (مشاحن): وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے دل میں…

Read more

پالنپور میوزیم یادیں، باتیں

پالنپور میوزیم یادیں، باتیں معاویہ محب الله۱۹ جنوری، ۲۰۲۶ء اپنی تہذیبی روایت سے ہر ایک کو انس ہوتا ہے جو مجھے بھی ہے، جو قوم اپنی تہذیب سے عاری ہو جاتی ہے وہ اپنا روشن، تابناک اور سنہری ماضی سے بہت دور ہو جاتی ہے، پالنپور ریاست اپنی تاریخی نوعیت میں بہت دلچسپ ہے، ہندوستان میں بنسبت دیگر علاقوں کے یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، یہاں نواب سلطنت کا دورانیہ تقریبا چھ صدیوں تک پھیلا ہوا ہے، روایتی تمہید کے بعد ہم آپ کو تحریری زیارت کرائیں گے اپنی اس حیسن ماضی کی، آپ کو اپنا اجڑا دیار یاد دلائیں گے، اپنا بھولا ہوا سبق جو یاد رکھنا تھا لیکن اسے ہم نے فراموش کردیا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمسایہ قوم نے اس پر فخر کرنا شروع کر دیا۔ موجودہ ہندوستانی سیاست زہر آلود اور مسلم مخالف پروپیگنڈہ کے لئے معروف ہے اور اس پر سوشیل میڈیا کی وجہ سے مذہبی عصبیت میں تڑکا لگ چکا ہے، ان سب کے باوجود ہم سے ملنے والے سبھی برادران نے خندہ پیشانی، وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کیا، میوزیم کے در و دیوار سے ایسا محسوس ہوا کہ یہ ہمیشہ کھلا نہیں رہتا بلکہ ہماری خصوصی خواہش پر اسے کھولا گیا ہے، اسی طرح کالج کی لائبریری؛ جس کی داستان سرائی آگے کروں گا، میں بھی لائبریرین نے توقع سے زیادہ تعاون کیا، گویا سوشل میڈیا کے درمیان رہنے سے ہمیں جو محسوس ہوتا ہے وہ باہم دیگر مجالس میں وہ تعصب، مذہبی جراثیم اس قدر گہرے نہیں ہے۔ خیر آمدم بر سرِ زیارت! میوزیم میں پالنپور لوہانی نواب کے دَور کی کئی یادگار تصاویر رکھی ہے، سب سے حسین یادگار ” کِرتی ستنبھ ” (Kirti Stambh) منارہ ہے جو صدی گزرنے کے بعد بھی شھر میں جگمگا رہا ہے، ۲۲ میٹر لمبائی لئے ہوئے ہے جسے اس وقت کے چالیس ہزار روپے میں بنایا گیا تھا، میرے لئے اس میں کشش کی بات یہی ہے کہ وزیرِ تعمیر اور "تاریخِ پالنپور” کے مصنف سید گلاب میاں رحمہ الله کی وزارتِ تعمیر کے زمانہ میں بنایا گیا ہے، یہ…

Read more

وسوسہ کیا ہوتا ہے ؟

وسوسہ کیا ہوتا ہے؟ وسوسہ دراصل شیطان کی طرف سے انسان کے دل میں ڈالا جانے والا ایسا خیال ہوتا ہے جو عبادت، طہارت اور ایمان میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بالخصوص نماز کے وقت شیطان انسان کو مختلف خیالات میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کی یاد سے غافل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں شیطان کے اسی کردار کو واضح فرماتے ہیں: ﴿لَّعَنَهُ اللَّـهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا ،  وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّـهِ ) ( النساء: 118–119) (جس پر اﷲ کی لعنت ہے ، جس نے کہا تھا : میں تمہارے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا) (میں ضرور انھیں گمراہ کروں گا ، انھیں آرزوئیں دلاؤں گا ، ان کو سکھاؤں گا کہ جانوروں کے کان کاٹیں ، اوران کو حکم دوں گا کہ اﷲ کی تخلیق میں تبدیلی کردیں ،  اورجو اﷲ کو چھوڑ شیطان کو دوست بنالے ، اس نے کھلا ہوا نقصان اُٹھایا) ان آیات سے معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو بہکانے اور عبادت سے دور کرنے کے لیے مسلسل وسوسے ڈالتا رہتا ہے۔ https://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D9%88%D8%B3%D9%88%D8%B3%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%BA%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D9%86%DB%8C-/16-11-2019

Read more