HIRA ONLINE / حرا آن لائن
فتنۂ انکارِ حدیث

فتنۂ انکارِ حدیث از: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آکسفورڈ سوال: فضیلت مآب ڈاکٹر اکرم صاحب ندوی صاحب زید مجدہ، السلام علیکم۔آپ محدثِ کبیر ہیں، آپ کا یکتائے روزگار، یگانۂ روزگار، درۂ یتیمہ کارنامہ بے شمار محدثات کا تحقیقی دستاویزی ڈاکٹریٹ ہے۔ آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ آپ ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اور منکرینِ حدیث کی ناپاک، متعفن، ناکام کوششوں کو علمی، تحقیقی انداز میں بے نقاب فرمائیں۔ اس کا پس منظر، پیش منظر اور مقاصد پر روشنی ڈال کر ہم طلبۂ علمِ حدیث کو ایک ایسا نادر، نایاب تحفہ عطا فرمائیں، جس سے ہم منکرینِ حدیث کو منہ توڑ اور دنداں شکن جواب دینے میں کامیاب ہو سکیں۔ حوضِ کوثر پر آپ کے آتے ہی یہ ندا بلند ہونے لگے: ’’میرے کلام کا محافظ و پاسبان آ رہا ہے۔‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے آپ کو جامِ کوثر پلا رہے ہوں، ملائکہ آپ کو رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں، حشر والے کہہ رہے ہوں کہ یہ ہے مردِ جیالا، مردِ کارہائے نمایاں، جس نے فتنۂ انکارِ حدیث کا قلع قمع کیا ہے، اس کی اتھلی جڑوں کو اکھاڑ پھینکا ہے، اس کی ایسی سرکوبی کی کہ اس کا نام و نشان مٹا دیا۔ امید ہے کہ آپ میرے ان جذبات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے محقق، مدلل، مؤثر جواب عنایت فرمائیں گے۔آپ کا نالائق دوست محمد یوسف یاسین صدیقی ندوی، بھوپال جواب: وعلیکم السلام۔ آپ نے ازراہِ تواضع اپنے آپ کو ’’نالائق‘‘ قرار دیا ہے اور ساتھ ہی مجھے اپنا دوست بھی لکھا ہے۔ اگر فارسی مقولے ’’کند ہم جنس با ہم جنس پرواز‘‘ کو معیار بنایا جائے تو اس نسبت کا کچھ اثر مجھ پر بھی لازم آتا ہے، اس لیے اس دعوے میں آپ کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تاہم اہلِ علم کی مجلسوں میں اس نوع کی خود تنقیصی عموماً حسنِ ظن اور انکسار کا اظہار ہوتی ہے، ورنہ آدمی اپنے عیوب اور اپنی کوتاہیوں سے دوسروں کی نسبت زیادہ واقف ہوتا ہے۔ آپ نے میری بابت جو تعریفی کلمات تحریر فرمائے ہیں، میں نے ابتدا…

Read more

فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

فتنہ انکار حدیث فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں غلام نبی کشافیآنچار، صورہ، سرینگر ____________________ تمہیدی کلمات/ بدقسمتی سے ہمارے علمی ماحول میں شخصیات کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے پسندیدہ مفکرین اور قائدین کو تنقید سے بالاتر سمجھتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جو کسی شخصیت کی ایک لغزش کو بنیاد بنا کر اس کی تمام خدمات کا انکار کر دیتا ہے۔ اہلِ علم کا راستہ ان دونوں انتہاؤں سے الگ ہے۔ وہ نہ اندھی عقیدت کے قائل ہوتے ہیں اور نہ اندھی مخالفت کے۔ ان کے نزدیک ہر شخصیت کا جائزہ دلیل، تحقیق اور انصاف کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔سرسید احمد خان برصغیر کی تاریخ کی ایک بڑی اور مؤثر شخصیت ہیں۔ ان کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی خدمات اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہیں، لیکن ان کے مذہبی افکار و نظریات بھی ایک مستقل علمی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ چنانچہ اگر ان کی بعض فکری لغزشوں یا اجتہادی خطاؤں پر گفتگو کی جائے تو اسے نہ دشمنی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی خدمات کا انکار۔ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ شخصیات کو میزانِ حق پر پرکھا جائے، نہ کہ حق کو شخصیات کے ترازو میں تولا جائے۔میرا واسطہ اکثر ایسے افراد سے پڑتا ہے جو مخصوص شخصیات کے بارے میں تنقید کو تو پسند کرتے ہیں، لیکن اگر ان کی کسی محبوب شخصیت کے متعلق دو تنقیدی جملے بھی لکھ دئے جائیں تو وہ طیش میں آ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903ء۔1979ء) کا یہ اقتباس نہایت اہم ہے: ’’انسان آخر انسان ہے، بڑے بڑے نیک اور ذی فہم آدمی سے بھی بسا اوقات لغزش ہو جاتی ہے اور اس کی لغزش عام لوگوں کی لغزش سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، عقیدت میں بے جا غلو رکھنے والے ان بزرگوں کی صحیح باتوں کے ساتھ ان کی غلط باتوں کو بھی آنکھیں بند کرکے ہضم کر جاتے ہیں۔‘‘( تفہیم القرآن…

Read more