HIRA ONLINE / حرا آن لائن
فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں

فتنہ انکار حدیث فتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میں غلام نبی کشافیآنچار، صورہ، سرینگر ____________________ تمہیدی کلمات/ بدقسمتی سے ہمارے علمی ماحول میں شخصیات کے بارے میں دو انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے پسندیدہ مفکرین اور قائدین کو تنقید سے بالاتر سمجھتا ہے، اور دوسرا وہ ہے جو کسی شخصیت کی ایک لغزش کو بنیاد بنا کر اس کی تمام خدمات کا انکار کر دیتا ہے۔ اہلِ علم کا راستہ ان دونوں انتہاؤں سے الگ ہے۔ وہ نہ اندھی عقیدت کے قائل ہوتے ہیں اور نہ اندھی مخالفت کے۔ ان کے نزدیک ہر شخصیت کا جائزہ دلیل، تحقیق اور انصاف کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔سرسید احمد خان برصغیر کی تاریخ کی ایک بڑی اور مؤثر شخصیت ہیں۔ ان کی تعلیمی، سماجی اور سیاسی خدمات اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہیں، لیکن ان کے مذہبی افکار و نظریات بھی ایک مستقل علمی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ چنانچہ اگر ان کی بعض فکری لغزشوں یا اجتہادی خطاؤں پر گفتگو کی جائے تو اسے نہ دشمنی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی خدمات کا انکار۔ علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ شخصیات کو میزانِ حق پر پرکھا جائے، نہ کہ حق کو شخصیات کے ترازو میں تولا جائے۔میرا واسطہ اکثر ایسے افراد سے پڑتا ہے جو مخصوص شخصیات کے بارے میں تنقید کو تو پسند کرتے ہیں، لیکن اگر ان کی کسی محبوب شخصیت کے متعلق دو تنقیدی جملے بھی لکھ دئے جائیں تو وہ طیش میں آ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (1903ء۔1979ء) کا یہ اقتباس نہایت اہم ہے: ’’انسان آخر انسان ہے، بڑے بڑے نیک اور ذی فہم آدمی سے بھی بسا اوقات لغزش ہو جاتی ہے اور اس کی لغزش عام لوگوں کی لغزش سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، عقیدت میں بے جا غلو رکھنے والے ان بزرگوں کی صحیح باتوں کے ساتھ ان کی غلط باتوں کو بھی آنکھیں بند کرکے ہضم کر جاتے ہیں۔‘‘( تفہیم القرآن…

Read more