شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ باتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ Jawed Akhtar-Shamail debate-Alamullah-25-12-25جاوید اختر۔شمائل مباحثے کے تناظر میں ایک فکری جائزہ(ایشیاء ٹائمز میں شائع ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کی رائے کی بنیاد پر) محمد علم اللہ ، لندن ۲۰ دسمبر ۲۰۲۵ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں جاوید اختر اور مفتی شمائل احمد ندوی کے درمیان "کیا خدا موجود ہے؟” کے موضوع پر مباحثہ ہوا ۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جشن کا سا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ویڈیوز بنا رہے ہیں، آرٹیکلز لکھ رہے ہیں، فیس بک پر کمنٹس کر رہے ہیں اور مختلف انداز میں اسے دیکھ رہے ہیں۔ ایک طبقہ اسے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ یہ ماحول بالکل اسی قسم کا ہے جو ۱۹ انیسویں صدی میں مناظروں کے وقت ہوتا تھا، جہاں بڑے بڑے لوگ آتے تھے اور عیسائی، مسلمان یا ہندو کے نمائندے سے بحث کر کے فتح کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب ڈائیورژن (توجہ ہٹانا) ہے، اصل مسئلہ نہیں۔ہندوستان میں اب یہ مناظرے دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ جاوید اختر صاحب سے اگرچہ ہم متفق نہیں، لیکن وہ کبھی ہندوتوا کے خلاف بولتے ہیں، حکومت کی اقلیتوں کے بارے میں پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ماب لنچنگ پر لب کشائی کرتے ہیں۔ انہیں بلاکر ذلیل کرنا کوئی اچھا طریقہ نہیں، نہ یہ مسلمانوں کا طریقہ ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے: "ادع إلى سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ” یعنی حکمت اور عمدہ طریقے سے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ۔ یہ ہمارا طریقہ ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے مناظرے نہیں ہوتے تھے، سوائے بہت خاص حالات کے جیسے نجران کا واقعہ۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں انیسویں صدی میں شروع ہوا، جب انگریز اور عیسائی ہندوستان کو عیسائی بنانا چاہتے تھے۔ اب ایسا ماحول پیدا کرنا مناسب نہیں۔ اسے پبلک میں دکھانا، یوٹیوب پر ڈالنا، دنیا بھر میں ہنگامہ کرنا، جشن منانا اور خوشیاں بانٹنا ۔ یہ سب غلط ہے۔ یہ لوگوں کو اصل مسائل سے ہٹانے کا طریقہ ہے۔ہمارا اصل مسئلہ اس وقت ہندوتوا سے حکمت کے ساتھ…
Read more