HIRA ONLINE / حرا آن لائن
جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیں

جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیں ✍️ریحان بیگ ندوی 20 دسمبر 2025 کو “Does God Exist?” کے عنوان سے مفتی شمائل احمد ندوی اور معروف شاعر، اسکرین رائٹر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے درمیان کنسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں ایک لائیو ٹیلی کاسٹ مباحثہ منعقد ہوا۔ مباحثے کا اختتام عمومی تاثر کے مطابق مفتی صاحب کے حق میں ہوا۔ اس کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مثبت اور منفی—دونوں طرح کے ردِّعمل کی ایک لہر دوڑ گئی۔کئی لوگوں نے مفتی صاحب کے اسلوبِ گفتگو، مضبوط استدلال اور علمی تیاری کو سراہا، حتیٰ کہ بعض مقامات پر اس موقع کی خوشی میں پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔ اس کے برعکس، کچھ صارفین نے جاوید اختر صاحب کو نشانہ بناتے ہوئے مختلف نوعیت کی میمز تیار کیں، جو سنجیدہ فکری گفتگو کے مزاج سے ہم آہنگ نظر نہیں آئیں۔ کچھ حلقوں کی جانب سے اس امر پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ ایک ایسے مباحثے کے لیے—جسے علمی اور اکیڈمک نوعیت کا قرار دیا جا رہا تھا—جاوید اختر صاحب کا انتخاب کس حد تک موزوں تھا، کیونکہ وہ بنیادی طور پر ایک شاعر، اسکرین رائٹر اور نغمہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں، نہ کہ مذہبی فلسفے یا الحاد کے باقاعدہ ماہر کے طور پر۔ مزید یہ کہ “نئے ہندوستان” کے تناظر میں دیگر اہم اور فوری سماجی و فکری مسائل کو نظرانداز کر کے الحاد جیسے موضوع کو مرکزی حیثیت دینے پر بھی بعض سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔اسی پس منظر میں ذیل میں چند نکات پر غور پیش کیا جا رہا ہے۔ 1- یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بحث و مناظرہ اظہارِ خیال کا ایک معروف ذریعہ ہے، اور بعض مخصوص حالات میں اس کی گنجائش بھی نکل آتی ہے۔ تاہم تاریخ اور عصرِ حاضر کے تجربات یہ واضح کرتے ہیں کہ اکثر مواقع پر مناظرے فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بنتے ہیں اور بنے ہیں—خصوصاً جب انہیں جیت اور ہار کے پیمانے پر پرکھا جائے، عوامی تماشہ بنایا جائے، اور فتح کے نعروں کے…

Read more