HIRA ONLINE / حرا آن لائن
بارات اور نکاح سے پہلے دولہا کا مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ 

سوال : بارات اور نکاح سے پہلے دولہا کا دو رکعت نماز پڑھنا ؟ شرعی حکم بارات لے جانے یا نکاح سے پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھنے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس عمل کو لازم سمجھنا یا بطور رواج اپنانا بدعت ہے ، صحیح طریقہ اگر دولہا چاہے تو نماز الحاجت یا شکرانے کی نماز گھر پر یا مسجد میں تنہا پڑھ سکتا ہے، لیکن اسے لازم و ضروری نہ سمجھےاس میں تکلفات اور خرافات نہ کرے ،  خلاصہ نکاح سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کا ثبوت شریعت میں نہیں۔اگر دولہا نفل نماز پڑھ لے تو جائز ہے، مگر لازم نہیں۔اس پر اصرار یا رواج دینا بدعت ہے۔

Read more

شعبان المعظم میں روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

شعبان المعظم میں مطلق روزہ رکھنا جائز ہے ، درست ہے ، اور سنت نبوی سے ثابت ہے ، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں دوسرے مہینوں کے بنسبت زیادہ روزہ رکھا کرتے تھے ۔ ارشاد نبوی ہے : "قلتُ يا رسولَ اللهِ لم أرَك تصومُ من شهرٍ من الشُّهورِ ما تصومُ شعبانَ قال ذاك شهرٌ يغفَلُ النَّاسُ عنه بين رجبَ ورمضانَ وهو شهرٌ تُرفعُ فيه الأعمالُ إلى ربِّ العالمين وأُحِبُّ أن يُرفعَ عملي وأنا صائمٌالراوي : أسامة بن زيد | المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب | الصفحة أو الرقم : 2/130 | خلاصة حكم المحدث : [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما] | التخريج : أخرجه النسائي (2357) باختلاف يسير، وأحمد (21753) مطولاً البتہ کسی دن کو خاص کر لینا اور ہر سال اسی دن روزہ رکھنا اس کی اجازت قرآن و حدیث سے نہیں ملتی ہے ، اگر روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو مطلق کسی دن بھی روزہ رکھا جائے خواہ وہ ایک دن ہو یا ایک سے زیادہ ۔

Read more

كيا تشبيه/تمثيل دليل ہے؟

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ كسى چيز كو دوسرى چيز كے مثل قرار دينے كو تشبيه كہتے ہيں، جيسے كہا جائے "مولانا آزاد كى نثر شيرينى ميں شہد كے مانند ہے”، تشبيه كے چار اركان ہوتے ہيں: 1- مشبه، 2- مشبه به، 3- اداة تشبيه، 4- وجه شبه، يہاں دى گئى مثال ميں "مولانا آزاد كى نثر” مشبه، "شہد” مشبه به، "مانند” اداة تشبيه، "شيرينى ميں” وجه شبه ہے۔ اگر كسى صورت حال كو دوسرى صورت حال كے مماثل قرار ديا جائے تو اسے تمثيل كہتے ہيں، جيسے نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كى زندگى كا تقابل يوسف عليه السلام يا موسى عليه السلام كے قصه سے كيا جائے۔واعظين ومصلحين كے كلام ميں تمثيلات كثرت سے پائى جاتى ہيں، مولانا روم كى مثنوى، اور شيخ سعدى كى گلستان وبوستان كى بنياد تمثيلى قصوں اور كہانيوں پر ہے۔ تشبيه وتمثيل كا مقصد بات كو واضح كرنا ہوتا ہے، يعنى آپ ايكـ بات كہتے ہيں، اس كى دليل پيش كرتے ہيں، مگر پهر بهى مخاطب كے ذہن ميں وه بات اچهى طرح نہيں بيٹهتى تو آپ اسے ان مثالوں يا قصوں سے واضح كرتے ہيں جنہيں وه جانتا ہے يا جنہيں وه اچهى طرح سمجهتا ہے، مثلا ٹرمپ كا يه بيان كه "وه غزه كى پٹى كو وہاں كے باشندوں سے خالى كركے اسے امريكه كى ايكـ سياحت گاه بنائے گا”، ہر شخص جانتا ہے كه يه ظلم ہے، اور يه جرم عظيم اور اثم مبين ہے، آپ اس كے انجام كى مثال فرعون وغيره ظالمين سے ديتے ہيں، اس سے سامع كے دل ميں بات اتر جاتى ہے، ٹرمپ آپ كى مثال سے ظالم نہيں بنا، بلكه وه ظالم پہلے سے ہے، آپ كى مثال نے اس كا ظلم واضح كرديا۔تشبيه وتمثيل بذات كوئى دليل نہيں، جب آپ كہتے ہيں كه خالد بہادرى ميں شير كى طرح ہے، تو آپ اچهى طرح جانتے ہيں كه اس كى بہادرى پہلے سے ثابت ہے، تشبيه ديكر اسے واضح كر رہے ہيں، كوئى بهى يه نہيں كہے گا كه شير كى تشبيه كى وجه سے وه بہادر ہو…

Read more

*سفر میں دو نمازیں جمع کرنا؟

از : ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کیا سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھی جاسکتی ہیں ؟ اس سلسلے میں معروف یہ ہے کہ حنفی مسلک میں یہ جائز نہیں ہے – حنفی علماء جمع صوری کی اجازت دیتے ہیں ، یعنی ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل اوّل وقت میں ، اسی طرح مغرب کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عشاء کی نماز بالکل اوّل وقت میں – وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نمازوں کے اوقات متعین کردیے ہیں – صرف دو صورتیں مستثنیٰ ہیں : ایامِ حج کے دوران میں 9 ذی الحجہ کو عرفات میں زوال کے بعد جمع تقدیم ، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنا اور غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ پہنچ کر جمع تقدیم ، یعنی مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں پڑھنا – ان دو مواقع کے سوا کسی نماز کو اس کے وقت کے علاوہ دوسرے وقت میں پڑھنا جائز نہیں ہے – یہ حضرات اپنے اس موقف پر بعض احادیث اور آثارِ صحابہ سے استدلال کرتے ہیں ، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے – (فتاویٰ شامی ، كتاب الصلاة ، ج1 ، ص :381) دیگر فقہاء (امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد) کے نزدیک جمع بین الصلاتین (دو نمازوں کو جمع کرنا) کی دونوں صورتیں جائز ہیں – جمعِ تقدیم بھی ، یعنی ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر اور مغرب کے وقت میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھ لینا ، اور جمعِ تاخیر بھی ، یعنی عصر کے وقت میں ظہر اور عصر اور عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا – ان حضرات کا استدلال بعض ان احادیث سے ہے جن میں رسول اللہ ﷺ کے جمع بین الصلاتین کا عمل انجام دینے کا ثبوت ملتا ہے – مثلاً صحیح مسلم میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ایک…

Read more

*اگر دورانِ عدّت حیض بند ہو جائے …

از: ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی سوال : ہمارے یہاں ایک صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ تین مہینے گزر گئے تب انھوں نے بیوی سے کہا کہ تمھاری عدّت پوری ہو گئی ہے ، اب تم میرے گھر سے نکلو ۔ بیوی نے کہا کہ طلاق کے بعد مجھے اب تک ایک بار بھی حیض نہیں آیا ہے ۔ اس معاملے نے تنازع کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ شوہر بیوی کو زبردستی گھر سے نکال رہا ہے ۔ جب کہ بیوی کا کہنا ہے کہ عدّت پوری ہونے سے پہلے میں گھر سے نہیں نکلوں گی ۔ بہ راہِ کرم شرعی طور پر رہ نمائی فرمائیں کہ ایسی عورت کی عدّت کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟ جواب : قرآن مجید میں عدّت کے احکام صراحت سے بیان کیے گئے ہیں ۔ جس عورت کو حیض آرہا ہو اس کی عدّت تین حیض ہیں ۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :وَالْمُطَلَّقَاتُ یتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ [سورة البقرة : 228](جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں) اور جن لڑکیوں کو ابھی حیض نہ آیا ہو یا زیادہ عمر کی وجہ سے حیض بند ہو گیا ہو ان کی عدّت تین مہینے ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:وَاللَّائِی یئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِی لَمْ یحِضْنَ [سورة الطلاق: 4](اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملے میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدّت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو – ) جس عورت کو مستقل طور پر حیض آنا بند ہو گیا ہو اسے ‘آئسہ’ کہتے ہیں ۔ فقہ حنفی میں آئسہ ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں : اوّل یہ کہ اس کی عمر پچپن (55)برس ہو چکی ہو ، کیوں کہ اس عمر تک کسی بھی وقت حیض آسکتا ہے ۔ دوم یہ کہ ماہ واری بند ہوئے…

Read more