HIRA ONLINE / حرا آن لائن
بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ

بینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃ سوال: وہ رقم جو کرنسی اکاؤنٹ یا فکسڈ ڈپازٹ کی شکل میں ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہو گی ؟ جواب: وجوب زکوۃ کے لئے ملکیت ضروری ہے اور مذکورہ مال پر ملکیت ہوتی ہے اس لئےشرعا ز کوۃ واجب ہے (۳) از : قاضی محمد حسن ندوی

Read more

اسقاط حمل کا مسئلہ

اسقاط حمل کا مسئلہ سوال: کیا ضرورت شرعی کے پیش نظر اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہوگی؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: اگر یہ صحیح ہے کہ حمل ضائع نہ کرنے کی صورت میں ماں کی جان خطرہ میں ہو یا ماں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہو یا دودھ پینے والے بچے کی صحت پر بھی اثر پڑ رہا ہو یا اس کی جان خطرہ میں ہو اور نہ بچہ کے والد کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ دایہ رکھ کر بچہ کو دودھ پلوا سکے یا پرورش کا دوسرا نظم کر سکے تو ایسی صورت میں اسقاط حمل کی شرعاً گنجائش ہے۔ در مختار میں ہے: و قالوا يباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو چلا اذن الزوج و من الاعداد أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستاجر به الظئر و يخاف هلاكه قال ابن حبان فاباحه الاسقاط محمولة على حالة العذر أو أنها تاثم اثم القتل. (1) لو كان أحدهما أعظم ضررا من الآخر فان الاشد يزال بأخف (۲)

Read more

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟

سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: چونکہ اس میں بعض ایسے اشعار ہیں جن کا مطلب ہے اے زمین ہم تجھے پوجتے ہیں، یہ جملہ شرک پر دلالت کرتا ہے، حالانکہ اسلام شرک کے مخالف ہے، جس کی بنیاد خالص توحید پر ہے، یعنی اللہ تعالی کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ، جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اللہ تعالی انہیں بھی معاف نہیں کرتے ، قرآن مجید میں ہے. إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يُشَاءُ (نساء ۔ 166) لہذا کسی مسلمان کے لیے وندے ماترم کا پڑھنا اور گانا شرعاً درست نہیں ہے بلکہ حرام ہے، اس سے خود بھی بچے اور اپنی اولاد کو بھی بچائے۔ جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں مذہب اسلام نے ترغیب دی ہے کہ ہر شخص اپنے وطن اور ملک سے محبت رکھے اور اس کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دے، بلکہ وطن سے محبت رکھنے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ملک کے ذرے ذرے سے پیار و محبت ہے۔ جب جب ملک کو خوں کی ضرورت پڑی تو مسلمانوں نے اپنی جان و مال کو ملک کی آزادی کے لیے نچھاور کر دی، مگر محبت اور عبادت میں فرق ہے، محبت ہر ایک چیز سے ہو سکتی ہے لیکن ہر ایک کی عبادت جائز نہیں ، مثلاً مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ ، خانہ کعبہ مسجد حرام، مسجد نبوی ، گنبد خضراء والدین اور اساتذہ سے محبت ہے لیکن ان کی عبادت کسی حالت میں درست نہیں ہے، قرآن پاک میں ہے۔ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَهُ النَّارُ وَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ( قرآن مجید

Read more

شب برات کی فضیلت

شب برات کی فضیلت احادیث اور علماء دین کی آراء کی روشنی میں غلام نبی کشافیآنچار صورہ سرینگر کئی قارئین نے شب برات کے حوالے سے مضمون لکھنے پر اصرار کیا ۔ حالانکہ میں نے پچھلے سال شب برات پر ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا ،لیکن صحیح بات یہ ہے کہ مجھے اچھا نہیں لگتا ہے کہ میں اس طرح کے موضوعات پر بار بار مضامین لکھنے بیٹھ جاؤں ، جبکہ موجودہ دور میں اس سے بھی زیادہ اہم موضوعات پر کام کرنے اور لکھنے کی ضرورت ہے ، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق انہی اہم موضوعات پر لکھنا یا بولنا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔اس لئے میں آج دوبارہ پچھلے سال ہی کا لکھا گیا مضمون کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اس مضمون کو خود بھی پڑھیں گے اور اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شئیر بھی ضرور کریں گے ۔ شب برات کے حوالے سے ایک قاری کا سوال ان الفاظ میں موصول ہوا ہے ۔ ” شعبان کی پندرہویں شب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز اور تحریریں بھی دیکھنے کو ملی تھیں ، جن میں بعض اس شب کی فضیلت کے قائل نظر آتے ہیں ، اور بعض اس کی فضیلت کے قائل نہیں ہیں ، اور وہ اس کے بارے میں قطعی طور پر بتاتے ہیں کہ اس رات کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے ، اور اس کے متعلق جتنی بھی روایات ہیں ، وہ سب کی سب یا تو ضعیف ہیں اور یا پھر موضوع ۔اس سلسلہ میں اگر آپ کوئی مضمون لکھیں گے تو بڑی مہربانی ہوگی ، کیونکہ آپ کی تحریر سے اطمینان سا حاصل ہوجاتا ہے ، اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے جواب سے ضرور ممنون فرمائیں گے " محمد شفیع ڈار / سرینگر اس سے کافی عرصہ پہلے ایک اور نوجوان کا مسیج ان الفاظ میں آیا تھا ۔ ” میں پچھلے چند ماہ سے آپ کے تعمیر فکر کے…

Read more

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

زکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میں از : مولانا ابو الجیش ندوی اسلام ایک ہمہ گیر دین ہے جو فرد کی عبادت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کا بھی ضامن ہے۔ زکوة اسی اجتماعی نظامِ عدل و رحمت کی ایک بنیادی کڑی ہے۔ قرآن کے بعد احادیثِ نبویہ میں زکوة کی فرضیت، اس کی حکمت، اس کے فوائد اور ترکِ زکوة کے انجام کو نہایت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔زکوة: اسلام کی بنیادوں میں سے ایکرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ… وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ»اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں نماز کے ساتھ زکوة کا ذکر بھی ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ زکوة کوئی نفلی یا اختیاری عمل نہیں بلکہ دین کا ستون ہے۔ جس طرح نماز ترک کرنا سنگین گناہ ہے، اسی طرح زکوة کی ادائیگی میں کوتاہی بھی دین کی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔ زکوة: اجتماعی عدل کا نظام جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو انہیں ہدایت دی کہ لوگوں کو بتائیں:“اللہ نے ان پر صدقہ (زکوة) فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں میں لوٹائی جائے گی”۔یہ حدیث زکوة کے معاشرتی فلسفے کو واضح کرتی ہے۔ زکوة دولت کی گردش کو یقینی بناتی ہے، طبقاتی خلیج کو کم کرتی ہے اور معاشرے میں ہمدردی اور تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ زکوة نہ دینے کا ہولناک انجام احادیث میں ترکِ زکوة کے سخت انجامات بیان ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زکوة ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال ایک زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کرے گا، جو اسے طوق کی طرح لپٹ کر کہے گا: “میں تیرا خزانہ ہوں”۔اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ جن لوگوں کے پاس اونٹ، گائے یا بکریاں ہوں اور وہ ان کی زکوة نہ دیں تو قیامت کے دن وہ جانور انہیں روندیں گے اور سینگ ماریں گے، یہاں تک کہ حساب مکمل ہو جائے۔ یہ احادیث زکوة کی عدم…

Read more

بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام

اے ٹی ایم کارڈ ( 🏧 ATM ) چونکہ معاملات میں اصل اباحت ہے ، اس لیے اے ٹی ایم ( ATM ) کارڈ جس کے ذریعے مشین سے اپنی جمع کردہ رقم نکالی جاتی ہے کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ( یعنی جائز ہے) ڈیبیٹ کارڈ (debit card) ڈیبیٹ کارڈ کا استعمال ، اس کے ذریعہ خرید و فروخت اور ایک کھاتہ سے دوسرے کھاتہ میں رقم کی منتقلی درست اور جائز ہے۔ کریڈٹ کارڈ ( Cradit card) کریڈٹ کارڈ کی مروج صورت چونکہ سودی معاملہ پر مشتمل ہے ، لہذا کریڈٹ کارڈ یا اس قسم کے کسی کارڈ کا حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔ نوٹ : اے ٹی ایم کارڈ اور ڈیبیٹ کارڈ کے حصول اور استعمال کے لیے جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ کارڈ کا معاوضہ اور سروس چارج ہے ، اس لیے اس کا ادا کرنا جائز ہے حوالہ: کتاب نام : بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام: ص : 19 )

Read more