بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا
بینک ایک سودی کاروبار ہے ، اس لئے اگر پہلے سے مقصد معلوم ہو تو خالص اس مقصد کے لئے مکان کرایہ پر دینا جائز نہ ہو گا کہ یہ معصیت میں ایک طرح کا تعاون ہے ۔ ہاں اگر یوں ہی کسی نے کرایہ پر مکان لے لیا اور بعد کو اس میں بینک قائم ار دیا ۔ تو اب اس پر کوئی بار گناہ نہیں ، امام سرخسی، لکھتے ہیں :
لاباس بان يواجر المسلم دارا من الزمي ليسكنها فان شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أوادخل فيها الخنازير لم يلحق للمسلم اثم فى شيئى من ذالك لانه لم يواجرها لذالك والمعصية فى فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا اثم
على رب الدار في ذالك –
مسلمان ، ذمی کو کوئی گھر رہائش کے لئے دے ۔ اس میں مضائقہ نہیں ۔ پھر اگر وہ اس میں شراب پیتے ، صلیب کی پرستش کرے یا سور داخل کرے ، تو مسلمان کو ان کا کوئی گناہ نہ ہوگا، اس لئے کہ اس نے اس مقصد کے لئے نہیں دیا ہے ۔ گناہ کرایہ دار کا عمل ہے اور اس کے اس عمل میں صاحب مکان کے ارادہ کو کوئی دخل نہیں ہے ۔ اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ "
بعض فقہاء کے اقوال سے جواز بھی معلوم ہوتا ہے ۔ مگر شریعت کا مزاج اسے قبول کرتا نظر نہیں آتا ۔ واللہ اعلم

