HIRA ONLINE / حرا آن لائن
🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔

🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔ المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ سہ روزہ سمینار کا اختتام مولانا عتیق بستوی، مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی اور دیگر کے خطابات ، مختلف تجاویز کی منظوری حیدرآباد،23نومبر(پریس نوٹ) المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بہ عنوان :”بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار”بتاریخ 21، 22، 23 نومبر 2025ء میں مختلف موضوعات پر 60 سے زائد مقالات پیش کئے گئے، سیمینار اس ناقابل انکار حقیقت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل ہے، سیمینار کی مختلف نشستوں میں ملک کے علماء ودانشوران، مؤرخین، ماہرین تعلیم، محققین اور سماجی وسیاسی رہنماؤں نے اپنی وقیع آراء سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ مسلمان نہ صرف اس ملک کے معمارِ اوّل رہے ہیں بلکہ آج بھی اس کے استحکام، امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔ان علمی وفکری مباحث کے نتیجے میں جو نکات سامنے آئے، ان کی روشنی میں درجِ ذیل تجاویز وسفارشات اتفاقِ رائے سے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ سیمینار محض علمی نشست نہ رہے بلکہ ایک فکری تحریک اور عملی منشور کی صورت اختیار کرے۔ اختتامی نشست میں جناب اقبال احمد انجینیئر معزز ٹرسٹی معہد نے یہ تجاویز پڑھ سنائے ،تجاویز و سفارشات -بھارت کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں کا کردار محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ مستقبل کی ضمانت ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ یہ تجاویز گفتار سے نکل کر کردار میں ڈھلیں، علم سے عمل میں منتقل ہوں، اور ہمارے ملک کی وحدت، ترقی، اور امن کا ذریعہ بنیں۔مولانا عتیق بستوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں نے ہر دور میں اتحاد بین المذاہب کی کوششیں کی اج بھی اس کی جدوجہد جاری ہے یہ بات ضرور ہے کہ مذہب وحدت کے نام پر مسلمان اپنے مذہبی تشخص اور دین کے بنیادی عقائد اور تعلیمات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے اس موقع پر…

Read more

بہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہار

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی بہار کے حالیہ انتخابی نتائج نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ ریاست کی سیاست خواہ کتنی ہی شوریدہ کیوں نہ دکھائی دے، اس کی جڑیں نہایت گہری اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، بظاہر زمین ہلتی نظر آتی ہے، مگر نیچے تہہ در تہہ چٹانیں جمی رہتی ہیں، عام تاثر یہ تھا کہ اس مرتبہ نتائج میں بڑا تغیر آئے گا، لیکن ووٹ شیئر کے اعداد وشمار نے یہ دکھا دیا کہ بہار میں ووٹ بینک اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں، گویا نسلوں سے منتقل ہونے والی سیاسی یادداشت نے ووٹرز کی انگلیوں کو آخری لمحے تک تھامے رکھا۔ جے ڈی یو اور بی جے پی نے اپنے روایتی ووٹ مجموعی طور پر برقرار رکھے، اور اصل تبدیلی چھوٹے اتحادیوں کی شکل میں آئی جنہوں نے چند فیصد ووٹ کا اضافہ کر کے بڑے پلڑے کو فیصلہ کن طور پر جھکا دیا، ایل جے پی اور ہم جیسے گروہوں کے چھوٹے لیکن ٹھوس ووٹ پیکٹ اس الائنس کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ اپنے ووٹ کو بچا لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے چھوٹے سیاسی دھڑوں کو کتنی دانائی سے اپنے دائرے میں سمیٹتے ہیں۔ اس انتخاب نے یہ بھی واضح کیا کہ فلاحی مدد اور براہِ راست نقد رقوم کی منتقلی اور ترسیل اپنے اندر غیر معمولی کشش رکھتے ہیں، خواتین کو ملنے والی امدادی رقم اور مزید فوائد کا وعدہ محض کوئی انتخابی نعرہ نہ تھا، بلکہ اس کے پیچھے حکومت کے قائم شدہ فلاحی نظام کا اعتبار موجود تھا، بہار جیسی غریب ریاست میں جہاں اوسط آمدنی کم ہے، وہاں ایسے اقدامات ووٹروں کے لیے فوری اور دور رس تبدیلیوں کی تاثیر رکھتے ہیں، اور سیاسی جماعتیں اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ "جو دے سکتا ہے، وہی لے سکتا ہے”۔ اس کے مقابلے میں اپوزیشن کی مہم بعض جگہ اپنی ہی سنگینی کے بوجھ تلے دبتی رہی، تیجسوی یادو کا ہر گھر سے…

Read more

ملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میں

ملک وملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندوی ؒ کی تحریروں کی روشنی میں (منورسلطان ندوی (استاذ فقہ ،دارالعلوم ندوۃ العلماء، )ورفیق علمی مجلس (تحقیقات شرعیہ،ندوۃ العلماء لکھنؤ) مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کی اٹھان اپنے خاندانی پس منظر،اوراپنے مخصوص مزاج نیزدارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی وعلمی اشتغال کے تناظر خالص علمی شخصیت کے طورپرہوئی،رائے بریلی اوردارالعلوم ندوۃ کے علمی ماحول اورپرسکون فضامیں خاموشی کے ساتھ علم وادب کی گرانقدرخدمت انجام دے رہے تھے،علمی پختگی ،عربی زبان پرمہارت ،تحریر کااسلوب،تصنیفی ودعوتی ذوق ومزاج اورادب وشائستگی آئندہ علمی میدان میں ’مقام بلند‘کی نشاندہی کررہی تھی، اور یقینا ایسا ہوا بھی،لیکن اسی کے ساتھ آپ کی شخصیت میں ایک دوسراپہلوبھی ہے، جب ملک کے حالات خراب ہوئے،مسلمان مصائب وآلام سے دوچارہوئے توآپ کی طبیعت بے چین ہوگئی،مسلمانوں کے دردکواپنے دل میں محسوس کیااورپھرمیدان عمل میںآگئے، شہرشہر دورے کئے،مسلمانوں کوتسلی دی،ملت کے امراض کی نشاندہی کی،اوران کاحل بتایا، مسلمانوں کوان کابھولاہواسبق یاددلاتے رہے،انسانیت کاپیغام سناتے رہے۔ ملکی تناظرمیں مسلمانوں کے حالات ،ان کے مسائل،باعزت زندگی کاطریقہ، جیسے موضوعات پرحضرت مولاناؒ نے بے شمارتحریریں لکھیں، سینکڑوںتقریریں کیں،ان تقاریراوررسائل میں ملت کابے پناہ دردہے،ان تحریروں سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ آپ کے الفاظ نہیں بلکہ دل کی دھڑکنیں ہیں، سامعین کے سامنے آپ باربار اپناکلیجہ نکال کررکھ رہے ہیں،آپ نے مسلمانوں کی ذبوں حالی کے اسباب بھی بتائے،امراض کی نشاندہی بھی کی اورپھرلائحہ عمل بھی بتایا،آپ کے افکارکی بنیادپربعض تحریکیں بھی وجودمیں آئیں اوربہت سی تجاویزاوررہنماخطوط آج بھی عمل کی راہ دیکھ رہی ہیں،ضرورت ہے کہ ان افکاروخیلات اورآپ کی تجویزکردہ رہنماخطوط کوسامنے لایاجائے،مسلمانوں کویہ سبق باربارسنایاجائے ،آپ کی تجویزکردہ لائحہ عمل ملت کے لئے نسخہ کیمیاہے،اوراس میں کامیاب زندگی اورباعزت زندگی کارازمضمرہے۔ ملکی حالات کاصحیح شعور و آگہی ایک قائدکے لئے سب سے ضروری چیزحالات سے صحیح باخبری اورزمانہ شناسی ہے، حالات کی نبض پرانگلی ہوتبھی مسائل کاصحیح حل سوچا جاسکتا ہے، حضرت مولاناؒکی تحریروں میں ملکی حالات کاصحیح شعوراورمکمل آگہی صاف محسوس کی جاسکتی ہے،آپ نے تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں ملکی مسائل…

Read more

کتاب پر رحم نہ کرو ! پڑھو

کتاب پر رحم نہ کرو! پڑھو! ✍️ معاویہ محب الله بہت سارے لوگوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ کتابیں محض خریدتے ہیں لیکن اسے پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے، اسے دلہن کی طرح محض الماری کی زینت بنائے رکھتے ہیں، اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پڑھتے تو ہیں لیکن اسے ناز و نخرے کی طرح حفاظت کرتے ہیں، سرِ ورق کو پھٹنے کے خوف سے کاغذ یا اخبار کے صفحات سے ڈھانپ دیتے ہیں، دورانِ مطالعہ فٹ نوٹس کا اہتمام نہیں کرتے، کتاب کے صفحات میں نقش و نگار سے ڈرتے ہوئے ہائی لائٹ سے دور بھاگتے ہیں، کتاب کو لیٹے ہوئے نہیں پڑھتے اس لئے کہ جِلد ٹوٹ جانے یا پھٹنے کا اندیشہ ہے، بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بطور نشانی کوئی علامت استعمال نہیں کرتے، صفحات کو صرف اس لئے فولڈ نہیں کرتے کہ اس کا حسن و جمال غارت ہو جائے گا۔ میرے عزیز قارئین! کتاب تو ایک محبوبہ ہے جس کے ساتھ عمر بھر کا عہدِ وفا باندھنے کا عزم کر لینا چاہئے! کتاب خریدنے کے بعد یہ آپ کی اپنی بن جاتی ہے، آپ اس کے ساتھ جو چاہیں کرسکتے ہیں، اس سے کسی اَور کا کوئی لینا دینا نہیں حتی کہ اس کے مصنف کا بھی نہیں!آپ نے اسے پڑھنا ہے، اس کی جو رقم ادا کی ہے اسے ضائع ہونے سے بچانا ہے، اس میں پسندیدہ جملوں اور الفاظ کو ہائی لائٹ کریں، قابلِ ذکر عبارات پر رنگ برنگی قلم سے خط کھینچیں، اعداد و شمار اور ماہ و سنین کو یاد رکھنے کے لئے علامتیں بنائیں!کتاب کے صفحات میں اپنی قیمتی آرا مزین کریں، جو مقامات دل پسند ہو اسے ڈائری میں نقل کریں، جن باتوں سے اختلاف ہو وہاں نقد و نظر کا فریضہ انجام دیں!اس بات سے نہ گھبرائے کہ کتاب کا حسن و جمال متاثر ہوگا، اس کی وقعت و قیمت میں کمی آئے گی، نہیں! بلکہ کتاب کی وقعت میں، قاری کی عظمت میں اور جس لائبریری کی وہ زینت ہے اس کی افادیت میں حیرت انگیز اضافہ…

Read more

کتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہ

کتابوں سے دوری اور مطالعہ کا رجحان ختم ہونا ایک المیہ محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 تمہید آج جو قوم علم کے میدان میں سب سے آگے ہے، وہ اسرائیل ہے، یہ وہ قوم ہے، جس پر غضب نازل ہوئی اس کے پاس آج 80/ فیصد نوبل انعامات ہیں، جب کہ باقی پوری دنیا نے 20/ فیصدحاصل کئے۔غور کیجئے کہ اسلام میں علم کا تصور دیگر مذاھب کے مقابلے بالکل مختلف ہے ،اسلام میں علم کا سر چشمہ ذات باری تعالٰی ہے،اور چونکہ اللہ کی ذات و صفات لا محدود ہیں ،لہذا علم کی وسعت بھی لا محدود ہے۔ اس اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ نوبل کا استحقاق مسلمانوں کو بننا چاہیے ۔لیکن افسوس کہ جس دین میں علم کا تصور مہد سے لحد تک دیا گیا اور جس کی ابتداء اور آغاز ہی اقراء سے ہے، وہ دین اور اس کے ماننے والے تعلیم کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں اور ان کی شرح فیصد سب سے کم ہے ، ان کو کتابوں اور مطالعہ سے سب سے کم دلچسپی ہے ۔ایک سروے کے مطابق یہودی ایک سال میں چالیس کتابیں پڑھتے ہیں ، عیسائی پینتیس کتابیں اور پوری مسلم قوم اوسطاً سال میں چھ گھنٹے پڑھتی ہے ۔جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داعی سے پہلے اپنی حیثیت معلم کی بتائی تھی، جن کا لقب ہی معلم انسانیت تھا۔اس قوم کا یہ حال ہے ۔راقم کو اس سروے کا اندازہ یوں ہوا کہ ایک بڑے جلسے میں جہاں ہزاروں لوگ تھے، وہاں کتاب کی دکان بھی تھی ، اس دکان سے لوگ عطر مسواک اور ٹوپی خرید رہے تھے ، جس کی حیثیت اور درجہ سنت کا ہے ، اگر چہ اس نیت سے اس کا خریدنا بھی بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے ، لیکن کتاب کی طرف کسی کی توجہ نہیں تھی کہ وہ زندگی اس کو خرید کر اور مطالعہ کرکے اپنی میں تبدیلی لائیں،( بہت قیمتی اور اہم کتابیں وہاں موجود تھیں)…

Read more

مطالعہ کا جنوں

مطالعہ کا جنوں معاویہ محب الله مطالعہ، کتاب خوانی اور لکھنا ایک جنون ہے، شوق ہے، عشق ہے اور وہ بھی لازوال ہے، آدمی جب کتاب پڑھنا شروع کرتا ہے اس وقت جس علمی پوزیشن میں ہوتا ہے ختم کرتے ہوئے اپنے آپ میں تبدیلی محسوس کرتا ہے، بڑا بن جاتا ہے، سوچتا ہے، غور کرتا ہے، لوگوں سے ہٹ کر اپنی راہ خود بناتا ہے۔ یہی مطالعہ اسے اپنے ہم عصروں میں ممتاز کر دیتا ہے، کسی نے خوب کہا ہے کہ: ” اگر آپ ایک کتاب مکمل کرتے ہیں تو آپ اپنے ہم عصر و اقران سے ایک سال بڑے بن جاتے ہیں " کتاب صرف ایک کتاب پڑھنا نہیں ہے بلکہ مصنف کے فکری سفر اور علمی سیاحت میں اس کا رفیق بننا ہے، مصنف کتاب میں اپنے طویل تجربات کا خلاصہ پیش کر دیتا ہے، بہت ساری علمی وادیوں کو سر کرنے کے بعد ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے، بے شمار خیالات کے انبار سے لعل و گوہر نکال کر فکر و تدبر کی صورت میں اوراق پر بکھیر دیتا ہے، بعض مصنفین نے اپنی کتابیں دس سال، بیس سال اور کسی نے تو چالیس پچاس میں مکمل کی ہیں، تو گویا وہ مصنف سے چالیس پچاس سالہ طویل رفاقت کا شرف رکھتا ہے۔ انسان کتابوں کے مطالعہ سے مصنف کے ذہن و دماغ میں چلنے والی نقل و حرکت، غور و تدبر اور فکر و نظر کا ہم دم ہوتا ہے، مصنف کئی ہزار صفحات کا مطالعہ کرنے کے بعد ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے، دو صفحات میں پھیلی ہوئی فکر کے پیچھے ہزار ہا صفحات کے مطالعہ کی ریاضتیں ہوتی ہیں جسے قاری چٹکیوں میں پا لیتا ہے، اسی لئے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ نے کہا : ” اچھی کتابیں پڑھنا پچھلی صدیوں کے بہترین لوگوں سے گفتگو کرنے کی طرح ہے " مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں کہ میں نے ۲۳ سال کے طویل مطالعہ و تدبر کے بعد تدبر قرآن کو لکھا ہے، سید مودودی نے تیس سال کی ریاضتوں کے بعد تفہیم القرآن جیسی تفسیر سپردِ…

Read more