Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
04.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
04.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  1. Home
  2. کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

کبیر داس برہمنواد کا باغی اور محبت کا داعی

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جون 12, 2025
  • 0 Comments

🖋 احمد نور عینی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

آج ۱۱ جون (۲۰۲۵) کو کبیر جیتنی منائی جا رہی ہے، کبیرداس پندہویں صدی کےایک انقلابی شاعر، سماجی مصلح ومفکر،اور محبت کے عظیم مبلغ گذرے ہیں، اترپردیش کی جلاہا ذات سے ان کا تعلق تھا، یہ ذات ماقبل اسلام زمانے سے ہی کپڑے بننے کا کام کرتی آرہی ہے، انھیں کوری کہا جاتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد یہ جلاہا سے متعارف ہوئے، ادھر ماضی قریب میں انصاری سے موسوم ہوئے، شیخ انصاری سے امتیاز کرنے کے لیے انھیں مومن انصاری بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ذات اسلام قبول کرنے سے پہلے ہندو سماج میں نیچ اور کمتر سمجھی جاتی تھی، اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی سماجی حیثیت میں کچھ تبدیلی تو ضرور آئی مگر یہ سچ ہے کہ انھیں برابری اور عزت وافتخار کا وہ مقام نہ مل سکا جو اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر انھیں ملنا چاہیے تھا، کبیر نے ذات پات کی تفریق کو اپنی سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اونچ نیچ کے جذبات کو اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا، سماج کی طبقاتی تقسیم اور ذات پات کی لعنت نیز ہندو مسلم تصادم کا حل تلاش کرنے اور انسانیت کی بنیاد پر انسانی سماج کو ایک دیکھنے کے لیے انھوں نے کافی غور وخوض کیا، انھیں ان سارے مسائل کا حل ایک لفظ ’محبت‘ میں ملا، اور کیوں نہ ہو کہ ایک لفظ محبت کا اتنا سا فسانہ ہےسمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے کبیر نے ذات پات اور برہمنواد پر کھل کر ہلہ بولا ہے اور جم کر حملہ کیا ہے۔

برہمنیت پر وار کرتے ہوئے انھوں نے اپنے دوہوں میں برہمن لفظ کو استعمال کرنے سے کوئی گریز نہیں کیا۔انھوں نے انسانیت اور مساوات کی قدر کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے دوہوں کا مطالعہ کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے انسانیت، مساوات اور محبت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ مذہب کی حیثیت ثانوی ہوگئی، جب کہ سچے مذہب اور ان اقدار میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کبیر کے نزدیک مذہبی وابستگی میں تصلب ایک منفی قدر ہے، اس سے دو مذہب کے ماننے والوں کے بیچ دیوار اٹھتی ہے اور دراڑ پڑتی ہے، اسی وجہ سے کبیر وحدت دین کے بجائے وحدت ادیان پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔

کبیر کے تصور مذہب سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا، لیکن جس مقصد کے لیے انھوں نے یہ تصور اپنایا وہ مقصد یقینا بہت اہم ہے، وہ مقصد ہے انسانوں کے درمیان مساوات قائم کرنا، نفرت کی دیواریں گرانا، محبت کی شمع جلانا، ذات پات کا خاتمہ کرنا،طبقاتی نظام کو زمین بوس کرنا اور ہندو مسلم دونوں قوموں کے بیچ کی خلیج پاٹنا۔

کبیر نے پوری زندگی پریم کے دیپ جلائے، اور جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا۔ کبیر کے چراغ سے کئی چراغ جلے، سماج ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ایک ’پنتھ‘ بن گیا۔ کبیر کی پوری تحریک برہمنواد کے خلاف تھی، برہمنواد یہ سب ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر سکتا تھا، اس نے جب دیکھا کہ اس شخصیت کا دائرۂ اثر بڑھتا ہی جا رہا ہے اور اس کو دبانا آسان نہیں ہے تو اس نے اپنی پالیسی کے مطابق کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی، اور وہ اپنی کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوا، اس نے کبیر کو برہمنوادی مفاد میں استعمال کرنے کے لیے ایک افواہ تو یہ پھیلائی کہ کبیر خود برہمنی کے شکم سے پیدا ہوئے، اور یہ چوں کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لیے ان کی ماں نے بدنامی کے ڈر سے انھیں تالاب کے کنارے پھینک دیا، پھر انھیں مسلم جولاہے خاندان کے ایک جوڑےنے اٹھا کر اپنی پرورش میں لیا۔ یہ پوری کہانی گھڑی ہوئی ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس کہانی سے خود کبیر کی بے عزتی ہوتی ہے، برہمنواد نے یہ پوری کہانی یہ ثابت کرنے کے لیے گھڑی کہ کبیر نسلا برہمن تھے، اور کبیر کے ذریعہ جو اتنا بڑا سماجی اصلاح کا انقلاب برپا ہوا وہ ایک برہمن نے ہی برپا کیا تھا۔

برہمن کے دماغ نے زیب داستاں کے لیے جو یہ بے بنیاد حکایت گھڑی ہے اس کے جواب کے لیے وہ دوہے کافی ہیں جن میں کبیر نے اپنے کو جلاہا کہا ہے، مثلا وہ کہتے ہیں:جاتی جلاہا نام کبیرا، اجہو پتیجو ناہی(گرنتھاولی: 270)ایک دوہے میں وہ برہمن کو مخاطب کر کے کہتے ہیں:تو برہمن میں کاسی کا جلاہا، چینہ نہ مور گیانا (گرنتھاولی: 250)اگر کبیر برہمن نسل کے ہوتے تو وہ یوں کہتے کہ تو اگر برہمن ہے تو میں بھی برہمن ہوں، اور کوئی عام برہمن نہیں؛ کاشی کا برہمن ہوں، بجائے اس کے وہ کہتے ہیں کہ تو اگر برہمن ہے تو میں کاشی کا جلاہا ہوں۔

کبیر کو برہمنوادی رنگ میں رنگنے اور ان کی تعلیمات کی انقلابیت پر زد لگانے کے لیے برہمنواد نے جو دوسرا کام کیا وہ یہ کہ کبیر کو برہمن گرو رامانند کا چیلا (مرید) بتایا، اور اس کے لیے بھی ایک خوبصورت حکایت گھڑی جس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور اس دعوی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ان کا یہ دوہہ پیش کیا جاتا ہے کہ ’’ کاشی میں ہم پرکٹ بھییے، رامانند چیتائے‘‘۔ یہ دوہہ بہت مشہور کیا گیا، اور اس بنیاد پر کبیر کے رامانند کے چیلا ہونے کی بات اتنی زیادہ چلائی گئی کہ وہ ایک حقیقیت کے طور پر قبول کرلی گئی، اورکبیر پر لکھنے یا بولنے والا یہ مان کر چلتا ہے کہ کبیر داس ویشنوی گرو رامانند کے چیلے تھے۔ جہاں تک اس دوہے کی بات ہے تو یہ دوہہ کبیر کی شاعری کے مستند مراجع میں نہیں ملتا ہے، کبیر کے دوہوں کے دو ہی مستند مراجع ہیں: ایک گرو گرنتھ صاحب، دوسرے کبیر گرنتھاولی۔ رامانند والا دوہہ ان دونوں میں نہیں ملتا۔ اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ کبیر نے رامانند سے رام نام لیا تھا، تو اس کے لیے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیاکبیر کی ملاقات رامانند سے ہوئی بھی ہے یا نہیں، ملاقات کے ثبوت پر کوئی دلیل نہیں ملتی، اگر معاصرت کو ملاقات کے امکان کے لیے کافی مان لیں تو بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ رامانند کی حیات میں کبیر اس عمر کو پہنچ گئے تھے جس عمر میں نِرگرو ہونے (بے پیری کے رہنے) کا احساس انسان کو بے چین رکھتا ہے اور سچے گرو کی تلاش میں وہ سرگرداں رہتا ہے۔

رامانند کے سن وفات اور کبیر داس کے سن پیدائش دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، پھر بھی اگر ہم رامانند کی وفات کو کھینچ تان کر ۱۴۶۷ء تک لے کر جائیں اور کبیر داس کی پیدائش کو کھینچ تان کر ۱۴۵۶ء تک لے کر آئیں تو بھی رامانند کے انتقال کے وقت کبیر داس کی عمر ۱۱؍ سال کی ہوتی ہے، اور پیری والی داستان اس عمر کو زیب نہیں دیتی۔ اور اگر ہم رامانند کی وفات کے تعلق سے دوسرے اقوال لے لیں تو ان کی وفات کبیر کی پیدائش سے قبل ہی ہو جاتی ہے۔تاریخی پہلو کے علاوہ اگر ہم نظریاتی وفکری پہلو سے غور کریں تو دونوں کے راستے واضح طور پر جدا نظر آتے ہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ رامانند ورن آشرم دھرم کو سماجی نظام میں اساسی حیثیت دیتے ہیں، جب کہ کبیر داس اس نظام کی جڑیں کھودتے ہیں، اسی طرح رامانند مورتی پوجا کا عقیدہ رکھتے ہیں ، اوتار واد کو تسلیم کرتے ہیں، وید کو مقدس مانتے ہیں، ویدک دھرم کے پر جو ش مبلغ ہیں، ذات واجب الوجود ہستی کو سگن اورساکار مانتے ہیں، جب کہ کبیر مورتی پوجا کا کھنڈن کرتے ہیں، اوتار واد کا انکار کرتے ہیں، وید پر سخت تنقید کرتے ہیں، ویدک دھرم کے سخت مخالف وناقد ہیں، خدا کو نراکار مانتے ہیں۔ ہاں رام کا ذکر کبیر کے یہاں ملتا ہے، جس سے ان کا رشتہ رامانند سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس طور پر کہ رامانند ویشنوی فرقوں میں اس فرقہ کے گرو مانے جاتے ہیں جو رام کی محبت، عقیدت اور عبادت پر زیادہ زور دیتا ہے، مگر غور کرنے پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کبیر کے رام اور رامانند کے رام میں فرق ہے، کبیر کا رام نرگن نراکار ہستی ہے، جب کہ رامانند کا رام سگن برہم وشنو دیوتا کا اوتار ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسا چیلا ہے جو اپنے گرو کے راستے کو نہ اپنا سکا اور یہ کیسا گرو ہے جو اپنے چیلے کو اپنے راستے پر نہ لگا سکا۔ یہاں اس بات کا ذکر بے فائدہ نہ ہوگا کہ کبیر کو رامانند کا چیلا بتانے سے برہمنواد کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بھکتی تحریک کا بہ آسانی برہمنی کرن کر دیا گیا۔ بھکتی تحریک ذات پات اور انسانی عدم مساوات کے خلاف شروع ہوئی تھی، وہ صوفی تحریک سے واضح طور پر متاثر تھی، اور صوفی تحریک اسلامی تعلیمات کا نتیجہ تھی، یعنی بھکتی تحریک اس ملک میں اسلام کی آمد سے پیدا ہونی والی ایک مثبت تبدیلی تھی، یہ اگر کامیاب ہوجاتی تو صوفی تحریک کی لگائی کھیتی لہلہا اٹھتی اور برہمنواد کا نشیمن بلکہ سارا گلشن خاکستر ہوجاتا، اس لیے اس کو بے اثر کیے بغیر برہمنواد چین کی نیند نہیں سو سکتا تھا، بے اثر کرنے کے لیے اس نے جو حربہ اپنایا وہ یہ کہ اس نے بھکتی تحریک کے سنتوں کو برہمن گرووں کا مرید بنا دیا، اور ان کے فرمودات میں برہمنی دیوی دیوتا اور سناتنی معتقدات گھسا دیے، یوں جس تحریک کے سہارے شودر اور اتی شودر سماج سے آنے والے سَنتوں نے دبے کچلے مولنواسی سماج کو برہمنواد سے آزادی کے لیے بیدار کیا اس تحریک کو برہمنواد نے سنتوں کے برہمن کرن کے ذریعہ اپنی گود میں تھپکی دے کر سلا دیا۔خزینۃ الاصفیاء میں کبیر کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ وہ شیخ علی متقی کے مرید تھے، (دیکھیے محولہ کتاب: ۱/۴۴۶)۔

یہ بات مشہور تو ہے مگر اس کی استنادی حیثیت کیا ہے اس بابت قبل از تحقیق کچھ کہا نہیں جا سکتا۔کبیر کے مسلم سماج سے ہونے بلکہ موحد ہونے میں کوئی شک نہیں، البتہ یہ بات محتاج تحقیق ہے کہ کیا ان کا عقیدۂ توحید عین اسلامی عقیدۂ توحید ہی تھا یا اس سے کچھ مختلف تھا، اسی طرح کیا کبیر دیگر اسلامی عقائد کو بھی اسی طرح مانتے تھے جس طرح انھیں ماننے کا حکم ہے یا ان کی ایمانیات کچھ الگ تھیں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کبیر کو ملحد یا گمراہ مان لیا جائے، وہ چوں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اس لیے جب تک ان کے مسلمان نہ ہونے کی یا غیر اسلامی عقائد کے حامل ہونے کی کوئی تحقیق کے ساتھ ثابت نہیں ہوجاتی تب تک ان کی تکفیر یا تضلیل سے احتراز کیا جانا چاہیے۔ ہاں ان کی طرف جو کلام منسوب ہے اس میں اگر کوئی بات خلاف اسلام ملتی ہے تو اس بات پر نکیر ضرور کی جانی چاہیے۔کبیر داس کی زندگی اترپردیش کے کاشی (بنارس) اور مگہر میں گذری، ان کا مزار مگہر (ضلع سنت کبیر نگر) میں آمی ندی کے کنارے واقع ہے، مزار کے بازو میں ہی ان کی سمادھی بھی بنی ہوئی ہے۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

امارت شرعیہ کی مجلس ارباب حل وعقد نے مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی امارت اور قیادت میں شرعی زندگی گذارنے کا عہد پیمان کیا.
قربانی، ماحول اور مسلمان: عبادت سے ذمہ داری تک مولانا مفتی محمد اعظم ندوی

Related Posts

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 18, 2026
  • 0 Comments
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی                      کلیم الدین ندوی  مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ   امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔   زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔   یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟   امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026
  • کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟ 29.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟
فقہ و اصول فقہ

کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top