Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
04.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
04.08.2026
Trending News: مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)قرآن اور جادو: حقیقت اور اثرات🔰حقیقی گھر کی طرف واپسیایران-امریکہ کے مابین عارضی جنگ بندیاسرائیل و امریکہ اور ایران کی جنگ اور اہل سنت کا موقفمولانا یحییٰ نعمانیمنفی سوچ اور اس کے نقصاناتوضو کے فرائضوضو کا مسنون طریقہگھر میں اعتکافزہد کیا ہے اور زاہد کون ہے؟اعتکاف ، احکام و آدابصدقہ فطر کی ادائی کیسے؟زکوۃ کے واجب ہونے کی شرطیںٹیکس ادا کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی ؟جس مال پر قبضہ نہیں کیا اس کی زکوۃبینک میں جمع شدہ مال پر زکوۃروزہ کی اہمیت احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںرمضان المبارک اور برادران وطناسقاط حمل کا مسئلہسوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟جواہرِ قرآن: امام غزالی کی نظر میں قرآن کے چھ بنیادی مقاصدروزہ، ایک جامع نظامِ تربیتماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

اردو ادب اور فارغین مدارسایک مفروضہ کا مدلل جواب

  1. Home
  2. اردو ادب اور فارغین مدارسایک مفروضہ کا مدلل جواب

اردو ادب اور فارغین مدارسایک مفروضہ کا مدلل جواب

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جون 17, 2025
  • 0 Comments

ڈاکٹر یوسف رام پوری

فی زمانہ مدارس کے بہت سے فارغ التحصیل طلباء کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طرف رخ کرتے ہوئے نظر ارہے ہیں۔ان میں سے کتنوں نے ملک کے کئی اہم مقابلہ جاتی امتحانات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سرفرازی بھی حاصل کی ہے تاہم ان میں سے اکثریت ایسے طلباء کی ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق اردو زبان و ادب کی تعلیم و تدریس سے ہے۔تعلیمی اداروں کے علاوہ دیگر ان سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں جہاں مختلف صورتوں میں اردو کے کام کاج ہوتے ہیں ان میں بھی فارغین مدارس کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
سوال یہاں یہ قائم ہوتا ہے کہ اخر مدارس کا پس منظر رکھنے والے طلبہ اردو کے مختلف کاموں کو بخوبی سر انجام دینے کے متحمل کیسے ہو جاتے ہیں یا ہو سکتے ہیں جبکہ مدارس کے تعلیمی نظام کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہاں صرف دینیات کی تعلیم دی جاتی ہے۔اس بات کے عرف عام میں مشہور ہونے یا مدرسے کے تعلیمی نظام سے عدم واقفیت کے سبب فارغین مدارس کی بابت کچھ لوگوں کی طرف سے یہ مفروضہ بھی سامنے اتا رہتا ہے کہ مدارس کے طلباء عصری و سماجی علوم اور اردو ادب سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے اردو ادبیات سے ہم اہنگ نہیں ہو پاتے اور نہ ہی وہ اردو کے خلقیے کو جان پاتے ہیں لیکن جب ان طلباء کی امتحانات میں کامیابی یا اردو زبان و ادب کے حوالے سے ان کی خدمات پر نظر ڈالی جاتی ہے تو یہ مفروضہ خود بخود دم توڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اردو کے مختلف میدانوں مثلا زبان و ادب نثر و نظم،تعلیم و تعلم،صحافت و کتابت، تصنیف و تالیف اور تحقیق و تخریج میں طلبائے مدارس کی کامیابی کی وجہ دراصل ان کا وہ تعلیمی بیک گراؤنڈ ہے جو مدارس کی چہار دیواری میں درس نظامی کے سائے تلے تیار ہوتا ہے لیکن اس دعوے کو مدلل و محقق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طلبائے مدارس کی صلاحیتوں اور یونیورسٹیوں کے ذریعے تیار کردہ اردو کے نصاب اور فی نفسہ اردو ادب پر غائرانہ نگاہ ڈالی جائے۔


بی اے( پروگرام/ انرز )سے لے کر ایم اے اردو تک جو نصاب کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے ان میں شعری اور نثری اصناف شامل ہیں، بالفاظ دیگر شعری اصناف میں غزل، نظم، رباعی،قصیدہ،مثنوی، مرثیہ ، اور نثری اصناف میں داستان، ناول، افسانہ، ڈرامہ، خاکہ، انشائیہ وغیرہ کو ترجیحی طور پر زیر تدریس لایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں مزید کچھ شعری و نثری ذیلی اصناف کے ساتھ اردو زبان و ادب کی تاریخ،آغاز و ارتقا، اردو زبان کی لسانی تشکیل ، اردو زبان کے مزاج ،اردو زبان کے اسالیب، قواعد ،ہیٔتیں،صنعتیں، اردو تنقید اور ان سے متعلق شاعروں ،نثر نگاروں ،تخلیق کاروں، ناول نگاروں، افسانہ نگاروں اور تنقید نگاروں وغیرہ سے بھی طلباء کو متعارف کرایا جاتا ہے تاکہ طلباء اردو زبان و ادب کے مزاج، پس منظر اور خلقیے سے بھی واقف ہو سکیں اور اگے چل کر متعلقہ موضوعات پر پی ایچ ڈی بھی کرسکیں۔


پی اے اردو انرز اور ایم اے اردو کے نصاب کی یہ جھلکیاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مذکورہ نصاب یا اردو ادب میں کلاسیکی شاعری یا اردو کے مقبول ترین شعراء کے یہاں لفظیات و تراکیب کے برتاؤ اور ان کے کلام کے اندر موجود معانی و تعبیرات کے بحر ذخار میں وہی شخص غوطہ زن ہو سکتا ہے جس کے پاس لغوی و اصطلاحی معنی اور مصادر و مشتقات کی معلومات ہو۔ ذرا نو طرز مرصع، عجائب القصص اور فسانہ عجائب جیسی داستانوں کا مطالعہ کر کے دیکھیے ،عربی و فارسی اور مختلف زبانوں کے الفاظ وتراکیب کا ہجوم قدم قدم پر نظر ائے گا حتی کہ ان میں عربی و فارسی کہاوتوں اور شعروں کی بھرمار بھی دکھائی دے گی۔ اس صورتحال کو سامنے رکھ کر ہم اولا مدرسے کے تعلیمی نظام اور طلبائے مدارس کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ بعدزاں اسکول کے بیک گراؤنڈ والے طلبہ کی استعداد پر بھی نظر ڈالیں گے۔


مدارس کے تعلیمی نصاب میں فارسی کی پہلی، گلزار دبستان ،گلستاں،کریما،پندنامہ ،بوستاں کو بالاستیعاب اساتذہ کے ذریعے پڑھایا جاتا ہے۔ یہ کتابیں مدارس کے طلباء کو کسی حد تک فارسی کی تراکیب و لفظیات ،مبادیات شعریات اور تعبیرات سے ہم اہنگ کر دیتی ہیں۔

عربی کے لغوی علوم و نظام سے واقفیت کے لیے میزان الصرف اور علم الصیغہ اور نحوی علم کے لیے نحومیر،ہدایت النحو، کافیہ اور شرح جامی جیسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسی لیے مدارس کے طلباء پلک جھپکتے ہی عربی الفاظ و مصطلحات کی اصلیت و ماہیت کو سمجھ لیتے ہیں اور معنی بھی اخذ کر لیتے ہیں جبکہ اسکولی سطح پر اردو میں عربی و فارسی الفاظ کو جاننے کے لیے ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے ۔علاوہ ازیں ہندوستان کے دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے تمام علوم( فقہ, اصول فقہ, حدیث, تفسیر, علم کلام ,علم منطق وغیرہ کا ذریعہ تعلیم بھی اردو ہی ہوتا ہے, اساتذہ صاف وشفاف اردو میں تکلم کرتے ہیں، دوران درس عربی، فارسی اور اردو کے اشعار بھی سناتے رہتے ہیں۔طلبہ اساتذہ کی تقریریں اور تمام درسی باتیں اردو میں لکھتے ہیں۔

خالص اردو بولتے ہیں،اساتذہ اورطلبائے مدارس کوبہت سے فارسی واردو کے اشعار ازبر ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے اردو ان کے ذہن پر اس طرح ثبت ہو جاتی ہے کہ اس کا حصہ بن جاتی ہے ۔عملی تحریری تربیت کے لیے مدارس میں دیواری پرچے بھی نکالے جاتے ہیں۔ خوش خطی، املا کی درستگی یہاں تک کہ کسی حد تک عبارت ارائی اور مضمون نویسی کی صلاحیت بھی ان کے اندر خواہی نہ خواہی پیدا ہو جاتی ہے۔اس کے برعکس اسکولی نظام تعلیم میں اردو کے حوالے سے طلبہ کے لیے اتنی گنجائشیں نہیں ہوتیں۔ طلباء کا بھی عمومی رجحان ہندی،انگریزی، ریاضی، سائنس وغیرہ کی طرف ہوتا ہے اس لیے ان کی اردو ہینڈ رائٹنگ اکثر مکڑی کی ٹانگوں کی طرح ہوتی ہے۔ ایک سطر میں املاکی کئی کئی غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔تلفظ کا تو کہنا ہی کیا ہے ۔اردو میں اس قدر کمزور طلباء جب کالج اور یونیورسٹیوں میں ادب پڑھنے کے لیے اتے ہیں تو ان کے سامنے لاچارگی و بے بسی اور ادھر ادھر جھانکنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔
طلبائےمدارس میں ادبی لیاقت پیدا ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ درس نظامی میں القراۃ الواضحہ،نفحۃ العرب ،مقامات حریری، دیوان متنبی اور سبع الملقات جیسی خالص ادبی و شعری کتابوں کو جگہ دی گئی ہے تاکہ وہ امراؤ القیس، لبید بن ربیعہ، زہیر بن ابی سلمی، عنترہ بن شداد العبسی، حارث بن حلزہ،عمروبن کلثوم، اعشی القیس، حسان بن ثابت ،کعب بن زہیر، عبداللہ بن رواحہ ،جریر ،اخطل ،فرزدق،ابو نواس اور متنبی کی شاعری کو اس کے اصل متن و تشریح کے ساتھ پڑھیں اور اپنے اندر شعر و شاعری کا ذوق اور ادب کی اعلی صلاحیت پیدا کرلیں ۔شعر و شاعری اور ادب عالیہ کے ایسے پرکشش نظام سے اسکولی طالب علم محروم رہتے ہیں۔


اردو ادب کی عمارت جس لسانی ڈھانچے پر قائم ہے اس میں عربی و فارسی کی حیثیت سیمنٹ کی ہے اس کے بغیر اردو ادب کی عمارت پختہ نہیں ہو سکتی۔ اردو کے بڑے بڑے ادیبوں پر اس نقطہ نظر سے ایک غائرانہ کیا طائرانہ ہی نظر ڈال لیجئے سب عربی و فارسی سے کسی حد تک واقف کار دکھائی دیں گے۔ سر سید احمد خان مولانا حالی، مولانا محمد حسین ازاد، شبلی, مولانا ازاد, جوش, اقبال، حسرت میں کیا کوئی ایسا ہے جو فارسی و عربی سے نابلدہو۔ طلبائے مدارس کی ادب سے واقفیت، اردو سے دلچسپی اور عربی و فارسی دانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ملک کی چند ایک یونیورسٹیوں نے برج کورس کرا کے ان کے لیے بھی بی اے اور ایم اے‌ اردو میں داخلے کے لیے دروازے کھول دیے کہ وہ ضرورت کی حد تک عصری علوم سے بھی اشنا ہو جائیں اور اردو زبان و ادب میں بھی اپنا کریئر بنا لیں۔ مدارس کے ان طلباء نے جے ار ایف اور نیٹ کے امتحانات میں کامیابی درج کرائی جبکہ ان امتحانات میں ایک پیپر اردو کے علاوہ دیگر بہت سے عصری موضوعات پر مبنی ہوتا ہے۔


لسانی مباحث کے علاوہ ادب کی تفہیم یا اردو ادب سے قربت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اردو ادب میں پڑھائے جانے والے ان موضوعات و مضامین کابھی جائزہ لے لیا جائے جو اردو نثر و شاعری میں بکثرت پائے جاتے ہیں یا جن سے اردو کا خمیر اور خلقیہ تیار ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے ہم تصوف کے موضوع پر بات کر لیتے ہیں جسے اردو نثر اور شاعری دونوں میں خوب برتا گیا۔ ظاہر ہے کہ تصوف کا موضوع طلبائے مدارس کے لیے نیا نہیں ہوتا ۔ وہ صوفیاوبزرگان دین اور ان کے کلام سے بہت حد تک واقف ہوتے ہیں اور بہت سے عملی طور پر تصوف کی گزر گاہوں سے بھی گزرتے ہیں۔

اردو کی شعری اصناف قصیدہ ،مثنوی، مرثیہ،غزل،رباعی وغیرہ میں اسلام، اسلامی تاریخ ،اسلامی شخصیات، اسلامی تہذیب و معاشرت ،پندو نصیحت وموعظت کے موضوعات پر بھی طبع آزمائی کی گئی ہے اور ان سے مدارس کے طلباء کا گہرا واسطہ ہوتا ہے۔ مرثیے میں تو کربلا، خاندان حسین، توحید، رسالت غرض اسلامی تاریخ و موضوعات پر ہی بالعموم بات ہوتی ہے، مثنوی کی بات کریں تو مثنوی کے اجزائے ترکیبی میں حمد و مناجات، نعت اور منقبت جیسے اجزاء بھی شامل ہیں جن کا تعلق راست طور پر خدا ،رسول اور اسلامی شخصیات سے ہے ۔مثنوی سحر البیان میں حمد و نعت اور منقبت کے 100 اشعار اور قطب مشتری میں ڈھائی سو سے زیادہ اشعار سے اردو شاعری میں اسلامی موضوعات کے برتاؤ کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اردو قصائد کی تفہیم بھی مدارس کے طلبہ کے لیے اتنی دشوار نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ عربی قصائد کو پڑھ کر اتے ہیں اور اردو قصائد میں الفاظ کی گھن گرج اور تراکیب کا طمطراق دوسرے پس منظر رکھنے والے لوگوں کے لیے بہت زیادہ دشوار ہوتا ہے لیکن مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے یہ اتنا دشوار کن مرحلہ نہیں ہوتا گویا کہ مثنوی، مرثیہ ،قصیدہ ایسی اصناف ہیں جن پر مدرسے والوں کی گرفت دوسرے لوگوں کے مقابلے میں اسانی سے ہو جاتی ہے جہاں تک اردو کی مشہور صنف غزل کی بات ہے تو غزل میں بالعموم عشق حقیقی اور عشق مجازی،دنیاکی بے ثباتی اور حالات حاضرہ وغیرہ کی باتیں ہوتی ہیں جو ان کے لیے نئی نہیں ہوتیں۔ راقم کا خیال ہے کہ مدرسے کے فارغین عشق حقیقی اور عشق مجازی کو کمیونزم ،سوشلزم، ڈارونزم اور سیکولرزم کو سمجھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ سمجھتے ہیں، اس لیے کہ مذہب کی تعلیم بھی ان کے پاس ہوتی ہے اور عربی قصائد میں وہ حسن و عشق کے معاملات بھی پڑھ کر اتے ہیں۔ اردو شاعری میں بہت بڑا ذخیرہ طنزیہ شاعری کا ہے اور ظاہر ہے کہ طنزیہ اور ہجویہ شاعری میں اخطل، فرزدق،جریر اور متنبی کی نظیر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی گویا کہ طنزیہ و ہجویہ شاعری کی تفہیم کی صلاحیت بھی مدارس کے طلباء میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ جہاں تک بات سماجی و معاشرتی علوم و معاملات کی ہے تو مدارس میں ایسی کتابیں داخل نصاب ہیں جن میں عائلی خاندانی معاشرتی اجتماعی معاملات پر بہت گہرائی کے ساتھ بحث کی گئی ہے حتی کہ تمدنی تہذیبی سیاسی قانونی اقتصادی اور طبی سطح پر بھی قران و حدیث میں ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جس کو تفصیل و تشریح کے ساتھ مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔ میڈیکل سأئنس یاطب سے بھی طلباء مدراس کو زیادہ شغف ہوتا ہے، اسی لیے زیادہ تر اطباء و حکماء انہیں میں سے نکلتے رہے ہیں۔اردو شاعری میں حب الوطنی اور گنگا جمنی تہذیب ملتی ہے لیکن یہ ایسا موضوع نہیں جس کی تفہیم باشندگان ہند کے لیے مشکل ہو ۔الحاد و لادینیت کی شاعری بھی اردو میں موجود ہے لیکن عقیدہ توحید و رسالت کے تحت مدرسے میں الحاد اور اس کی مختلف شکلوں پر بہت گہری بحثیں ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے ملحدین کے الزامات ، طنز اور اشارات کو مدرسے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں چاہے وہ نثر میں کیے جائیں یا شاعری میں۔
اگر سائنسی اور تکنیکی نقطہ نظر سے اردو کے شعر و

ادب کا جائزہ لیا جائے تو اس کی نمائندگی اردو میں بہت کم دکھائی دیتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ مدارس کے طلباء اس طرح کی تحریروں اور شعروں کی تفہیم میں اسکولی بیک گراؤنڈ کے طلبہ سے پیچھے رہ جائیں لیکن اس طرح کا شعری و نثری سرمایہ تو ہمارے اردو ادب میں چند فیصد بھی نہیں ہے ۔زیادہ تر حصہ تو انہی موضوعات و مضامین پر مبنی ہے جو مدارس کے طلباء کی گرفت سے باہر نہیں ہے، اس لیے وہ اردو ادب کے میدان میں آسانی سے کامیاب و بامراد بھی ہو جاتے ہیں۔ مولانا حالی، مولانا اسماعیل میرٹھی، شبلی، مولانا قاسم نانوتوی، سید سلیمان ندوی، عبد السلام ندوی، عامر عثمانی، علی میاں ندوی،ندوی مولانا مناظر احسن گیلانی، مفتی کفایت اللہ، قاری محمدطیب اور ابو الکلام قاسمی جیسے ادیبوں اور شاعروں کی ایک طویل فہرست تیار کی جا سکتی ہے جنہوں نے اردو زبان و ادب کو مالا مال کیا۔


چند دہائیوں قبل کے اسکولوں میں بھی اردو کی تعلیم کا اچھا نظام تھا لیکن وقت کے ساتھ وہ زوال پذیر ہوتا چلا گیا فی الوقت اسکول کے طلباء کی صورتحال یہ ہے کہ وہ اردو صرف ایک مضمون کے طور پر پڑھ کر اتے ہیں اور اس میں بھی بالعموم مہارت و دلچسپی نہیں رکھتے حد تو یہ ہے کہ ان کی صرف اردو ہی کمزور نہیں ہوتی بلکہ دیگر مضامین میں بھی وہ کمزور ہوتے ہیں جو قدرے بہتر ہوتے ہیں وہ اردو کے علاوہ کوئی اور سبجیکٹ منتخب کر لیتے ہیں ۔دیکھا گیا ہے کہ کمزور صلاحیت والے اسکولی طلباء ہی اردو کی طرف اتے ہیں اس لیے ان کے بارے میں زیادہ غور و فکر کی ضرورت ہے کہ اردو زبان و ادب کے تعلق سے ان کی صلاحیتوں کو کیسے نکھارا جائے۔ عین ممکن ہے کہ نئی ایجو کیشن پالیسی کے نفاذ کے بعد صورت حال بہتر ہو جائے کیونکہ اس میں ابتدائی تعلیم کے مادری زبان میں حاصل کرنے بات کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ایک شکل یہ ہو سکتی ہے کہ بارہویں کے بعد ان کے لیے کسی ایسے کورس کو متعارف کرایا جائے جس میں ان کی لسانی بنیاد کو مضبوط کرنے پر توجہ دی جائے ۔نیز جن موضوعات و مضامین ،تصورات و نظریات اور اصطلاحات کا استعمال اردو ادب میں ہوتا ہے ان سے بھی انہیں متعارف کرایا جائے تاکہ وہ اردو ادب کے میدان میں بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں اور اردو ادب کے سرمائے سے استفادہ کرنے کے لائق بن سکیں۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

وحدت دین نہ کہ وحدتِ ادیان
🔰دینی مدارس کی حفاظت كیوں ضروری هے؟

Related Posts

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 20, 2026
  • 0 Comments
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری: دو ملاقاتیں بقلم: ڈاکٹر محسن عتیق خان (مدیر سہ ماہی عربی مجلہ اقلام الہند)   13 جولائی 2026 کو پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری صاحب، سابق صدر شعبہ تاریخ، دہلی یونیورسٹی، کے انتقال کی خبر ملی تو جہاں ایک طرف مجھے آپ کی وفات پر انتہائی صدمہ لگا، وہیں دوسری طرف میں خود کو اپنی تساہلی پر کوسنے لگا۔ آج چار سال ہو گئے میری کتاب A Hostoy of Bais Rajputs کو شائع ہوئے مگر آپ سے ملنا تو دور ابھی تک آپ کی خدمت میں اس کا ایک نسخہ تک نہ ارسال کر سکا تھا۔ آپ کا حق تو یہ بنتا تھا کہ نہ صرف اُسکا نُسخہ بطور تشکر و امتنان کے آپ کو بھیجا جاتا بلکہ اس کی رونمائی بھی آپ سے کرائی جاتی کیونکہ آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اس پر ایک وقیع مقدمہ لکھا تھا جو کتاب کے موضوع کے تعلق سے اپنے اندر بہت سی قابل ذکر معلومات سموئے ہوئے تھا۔ یہ سن 2020 کے اوائل کی بات ہے، میری کتاب کا مسودہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا مگر میں ابھی بھی تشنگی محسوس کر رہا تھا اس لیے تقریباً سات سال تک اس موضوع پر کام کرنے کے باوجود کچھ نہ کچھ تحقیق و جستجو کا سلسلہ ابھی بھی چل رہا تھا۔ اس دوران مجھے پروفیسر جعفری صاحب کے کئی مضامين ملے جن میں اودھ کے زمینداروں اور بیس راجپوتوں کا تذکرہ تھا۔ میں نے جعفری صاحب کے بارے میں تھوڑا سا سرچ کیا تو پتہ چلا کہ آپ ہندوستان کے ممتاز مؤرخ، دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے سابق صدر، اور انڈین ہسٹری کانگریس کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ آپ کو ایک ایسے مؤرخ کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی علمی تحقیق مضبوط آرکائیوی شواہد پر مبنی ہے اور جو عام لوگوں کی سماجی و معاشی زندگی کو سمجھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی جہاں آپ نے معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی نگرانی میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل…

Read more

Continue reading
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی
  • hira-online.comhira-online.com
  • جولائی 18, 2026
  • 0 Comments
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

لمحۂ فکریہ جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی                      کلیم الدین ندوی  مدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔علی گڑھ   امریکہ میں نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی تاریخی کامیابی نے نہ صرف امریکی سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر جمہوریت کے تصور کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔   زہران ممدانی ایک مسلمان، سوشلسٹ اور عوام دوست سیاست دان ہیں جنہوں نے اس تاثر کو توڑ دیا کہ اقتدار ہمیشہ دولت، نسل یا اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ان کی جیت اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، نمائشی جمہوریت اور چند خاندانوں کی اجارہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کے متلاشی ہیں جہاں وہ صرف ووٹر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں شریکِ اقتدار ہوں۔   یہ بیداری صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ آج ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک اسی بحران سے گزر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمائندہ جمہوریت واقعی عوام کی آواز بن سکی ہے؟ کیا منتخب نمائندے واقعی عوامی مفاد کے ترجمان ہیں؟ یا جمہوریت ایک رسمی رسمِ انتخاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟   امریکہ بھر میں تقریباً ستر لاکھ افراد نے "No to Kings – بادشاہوں کو نہیں” کے نعرے کے ساتھ 2600 سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے،یہ نعرہ دراصل اس عوامی احساس کی ترجمانی ہے جو طاقت کے ارتکاز کے خلاف ابھر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازی ہمیشہ سے چند مخصوص گروہوں کے ہاتھ میں رہی ہے — خواہ وہ منتخب نمائندے ہوں یا غیر منتخب ماہرین۔ یہ طبقہ اکثر اجتماعی فہم کے نام پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو عوامی مفاد کے برعکس ہوتے ہیں۔   صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت نے اس تضاد کو مزید نمایاں کر دیا۔ وہ خود کو عوام کا نمائندہ کہتے تھے، مگر ان کی طرزِ حکمرانی میں فردِ واحد کی آمریت جھلکتی تھی۔ انہوں نے کئی مواقع پر مطلق العنان حکمرانوں کی تعریف کی اور کھلے عام کہا…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری 01.08.2026
  • کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟ 29.07.2026
  • اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟ 29.07.2026
  • کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟ 29.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے 20.07.2026
  • پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں 20.07.2026
  • مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ 18.07.2026
  • جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی 18.07.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

سیرت و شخصیات

مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری

  • hira-online.com
  • اگست 1, 2026
مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوری
فقہ و اصول فقہ

کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟
فقہ و اصول فقہ

اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟
فقہ و اصول فقہ

کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟

  • hira-online.com
  • جولائی 29, 2026
کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
مضامین و مقالات

پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں

  • hira-online.com
  • جولائی 20, 2026
پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیں
سیرت و شخصیات

مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
مولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہ
مضامین و مقالات

جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

  • hira-online.com
  • جولائی 18, 2026
جمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانی

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top