Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
16.08.2026
Trending News: آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
  • Get Started
16.08.2026
Trending News: آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میںہندوستان کی تاریخ آزادیاسلام، تصور آزادی کا معیارجنگ آزادی اور مسلمانجنگ آزادی اور مسلمانسورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہغسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکمٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیممآزادی کی حقیقت اور جنگ آزادی کی تاریخکیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*مسواک کی جگہ ٹوتھ پیسٹ اور برشدس محرم کا روزہ کیوں ؟انجکشن سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہصفا انسٹی ٹیوٹ کےزیر اہتمام ایک روزہ ڈیجیٹل میڈیاورکشاپ اختتام پذیرتلاوت و تدبرتبلیغی جماعت: پس منظر، تحریک اور علمی تجزیہتحریک پیام انسانیتمصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکامناخن پالشقرآن کا حیرت انگیز اعجاز: سورۃ الحج میں مکھی کی مثال اور خارجی نظامِ ہضمسرمایہ دار صحابہ کرامبینک کے سود کے مصارفٹیکس میں سود کی رقم دینابینک کے لئے مکان کرایہ پر دیناقسطوں پر سامان کی فروختعورتوں کے لیے سونا پہننا کیسا ہے؟مولانا قاضی محمد معین اللہ اندوریکیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بچے مسجد آتے تھے؟اگر بچے مسجد میں شور کریں تو کیا کریں؟کیا بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے؟مولانا سلمان حسینی ندوی مرحوم مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہےپروفیسر سید ظہیر حسین جعفری : دو ملاقاتیںمولانا سلمان حسینی ندویؒ: ایک عہدِ علم و دعوت کا خاتمہجمہوریت کا نیا چہرہ-زہران ممدانیعقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیادمقررین کی مجلس میں علماء کی تلاشمیاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حلآبنائے ہرمز: عالمی معیشت کی شہ رگ پر بڑھتا ہوا دباؤ از : شان محمد ندوینماز پڑھنے کا صحیح طریقہ | سنت کے مطابق مکمل رہنمائی (مرحلہ وار)فکر ندوہ نہیں سمجھا ہے تو آپ ندوی نہیں ہیںشبلی روایت اور تجدید کا معیاراہل بیت اور اہل سنتموجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح باتقیام اللیل: صالحین کا طریقہمولانا سید سلمان حسینی ندوی: ایک شعلہ خاموش ہو گیااستاذ محترم مولانا سید سلمان حسینی ندویمولانا سلمان حسینی ندوی مختصر سوانحی ، علمی خاکہحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ علم، دعوت، فکر اور جرأتِ اظہار کی ایک باکمال ہستیاہل بیت اور اہل سنترلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوسیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہدس محرم کا روزہ کیوں ؟عہد حاضر میں مدارس کی اہمیت اور جدت کا امتزاج ڈاکٹر ظفردارک قاسمیسید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلومسیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحانفتنۂ انکارِ حدیث*محرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہ*علامہ انور شاہ کشمیری رحمة الله عليه اور احادیث پر فنی کلام ڈاکٹر محمد اکرم ندوی، آكسفورڈ (نومبر 2025)مدارس کے فضلاء کو درپیش چیلنجز اور مطلوبہ لائحۂ عملمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ: افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمحرم الحرام کی حقیقت اور شہادتِ حسینؓ ، افراط و تفریط کے درمیان اہلِ سنت کا راستہمعاصر چیلنجز اور فقہ اسلامی کی تجدید: ایک علمی و عملی لائحہ عملگداگری اور ہمارا رویہہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانوننیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعاتمیں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہعقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میںفتنۂ انکارِ حدیث اور سرسید احمد خان:مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی نظر میںڈاکٹر اسرار احمدؒ — ایک عہد ساز مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلامفتنۂ تکفیر اور علما کی ذمہ داریاز: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی (آکسفورڈ)یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےبشیر بدر: جدید اردو غزل کا روشن باب ایک تحقیقی و ادبی جائزہمولانا خالد سیف اللہ رحمانی: عہدِ حاضر کے ممتاز فقیہ، محقق اور مفکرِ اسلاممولانا سید بلال عبد الحئی حسنی ندوی: حیات، خدمات اور علمی کارنامےسناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوریقربانی واجب ہونے کی شرائط کیا ہیں؟موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !فضائلِ عشرہ ذوالحجہ اور اسلاف کا طرزِ عملبچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟قربانی کا نصاب کیا ہے ؟دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میںقربانی کا شرعی حکمبھینس کی قربانی شریعت کی نظر میںماہ ذی الحجہ فضائل و اعمالBhojshala : تاریخ، تنازع اور عدالت کا حالیہ فیصلہالحاد جدید کی فلسفیانہ اساس عہد جدید کے مغربی فلاسفہ کے حوالے سےنالندہ کا زوال: ہندوستان میں بدھ مت کا انخلاءبچوں کے لئے دینی تعلیم کی اہمیتخلافتِ عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام: شیخ الاسلام مصطفیٰ صبری التوقادی 1286–1373ھ / 1869–1954قربانی کس پر واجب ہے ؟ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہذبح کرنے کا صحیح طریقہحدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفرمولانا ڈاکٹر نذیر احمد خاں ندوی اٹاوی مرحوم(خلوص وشرافت کا پیکر اور عربی زبان وادب کا ایک بے لوث خادم)نماز کن چیزوں سے ٹوٹ جاتی ہے؟ (مکمل فہرست مختصر اور آسان انداز میں)نماز کی نیت کیسے کریں؟ (آسان اور مکمل رہنمائی)
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Courses
  • Books
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • اسلامیات
  • فکر و نظر
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • سفر نامہ
  • مضامین و مقالات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

وحدت دین نہ کہ وحدتِ ادیان

  1. Home
  2. وحدت دین نہ کہ وحدتِ ادیان

وحدت دین نہ کہ وحدتِ ادیان

  • hira-online.comhira-online.com
  • مضامین و مقالات
  • جون 13, 2025
  • 0 Comments

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے ایک راستہ بنایا ہے، اسی راستہ سے اس چیز کو حاصل کرنے میں انسان کی بھلائی ہے اور اس راستہ کو چھوڑ دینے میں اور اپنی طرف سے نئے راستے بنانے میں انسان کی بربادی ہے، اللہ تعالیٰ نے غذا کو پیٹ تک پہنچانے کے لئے منھ کا راستہ رکھا ہے اور اسی کے لحاظ سے جسمانی نظام بنایا گیا ہے، جب انسان کوئی لقمہ اپنے منھ میں رکھتا ہے تو خود بخود منھ میں لعاب پیدا ہوتا ہے، اور یہ لعاب کھانے کے ساتھ مل کر اس کو معدہ تک پہنچانے کے لائق بناتا ہے، پھر معدہ اسے پیستا ہے، جو اجزاء انسان کے لئے کار آمد ہیں، ان کو جذب کرتا ہے اور جو بے فائدہ ہیں، انہیں ایک مقر ر راستہ سے باہر پھینک دیتا ہے، اگر انسان صرف کھانے اور ہضم ہونے کے اس نظام پر غور کر لے تو خدا کے وجود پر ایمان لانے کے لئے کافی ہے، سانس کی نالی کے ذریعہ آکسیجن جسم کے اندر جاتی ہے اور پھیپھڑے تک پہنچتی ہے، اس سے انسان کا پورا نظام چلتا ہے، اگر کوئی شخص کھانے کی نالی کی بجائے غذا کو ناک میں ڈال دے، یا کوئی لقمہ سانس کی نالی میں ڈال دے تو زندگی خطرے میں پڑ جائے گی، جس سانس کے ذریعہ زندگی قائم رہتی ہے اور جس غذا سے انسان کا وجود ہے، وہی اس کے لئے ہلاکت کا سبب بن جائے گا۔

اسی طرح ایک راستہ وہ ہے، جو انسان کو اس دنیا سے آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس راستہ کی رہنمائی کی ہے اور اس کو کھول کھول کر انسانیت کے سامنے پیش کیا ہے، اسی راستہ کو اسلام کہا گیا ہے: ان الدین عند اللہ الاسلام (آل عمران: ۱۹) اسلام کے معنی سر جھکا دینے کے ہیں، یعنی ایسا طریقہ زندگی جس میں انسان ایک اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے، اس کی رضا کے مقابلے میں اپنی خواہشات کو بھول جاتا ہے، یہی طریقہ اللہ کے یہاں مقبول ہے، اس سے ہٹ کر کوئی اور طریقہ اللہ کی بارگاہ میں قابل ِقبول نہیں؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرۃ من الخاسرین ( آل عمران: ۸۵)

یہ دین جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، انسان کی کامیابی اور نجات اسی میں ہے ،اس کے علاوہ انسان کوئی بھی راستہ اختیار کرے، وہ اس کے لئے نقصان اور ناکامی کا راستہ ہے۔

اسلام کی اگرچہ آخری صورت جو قیامت تک قائم رہے گی، وہی ہے جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے؛ لیکن اسلام اس کائنات انسانی میں اول دن سے رسولوں کے ذریعہ آتا رہا ہے، حضرت آدم پہلے انسان بھی تھے اور پیغمبر بھی، پھر، تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین کی دعوت دی: ووصیٰ بھا ابراھیم بنیہ ویعقوب یٰبنی ان اللہ اصطفیٰ لکم الدین فلا تموتن الا وأنتم مسلمون (البقرہ: ۱۳۲) أم کنتم شھداء اذ حضر یعقوب الموت اذ قال لبنیہ ما تعبدون من بعدی قالوا نعبد الھک والہ ابائک ابرھیم واسمعیل واسحق الھا واحد ونحن لہ مسلمون (البقرہ: ۱۳۳) ’’ابراہیم بھی اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کر گئے ہیں اور یعقوب بھی (کہ) میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمہارے لئے دین کو پسند فرما لیا ہے؛ اس لئے اسلام ہی کی حالت میں تمہیں موت آنی چاہئے‘‘ ’’کیا تم اس وقت موجود تھے، جب یعقوب کا آخری وقت آیا ، اس وقت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا: تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟ انھوں نے جواب دیا: ہم آپ کے خدا، آپ کے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے خدا یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ ‘‘ اس دین ِ حق کی آخری اور مکمل شکل وہ ہے، جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ انسانیت تک پہنچی، پچھلی کتابوں میں جو تحریف اور ملاوٹ پیدا کر دی گئی تھی، قرآن مجید کے ذریعہ ان کو دور کیا گیا، پچھلی شریعتوں کے بعض احکام منسوخ کر دئیے گئے تھے؛ا س لئے ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی، جس میں منسوخ اور تحریف شدہ احکام نہ ہوں، یہ ضرورت قرآن مجید کے ذریعہ پوری کی گئی۔

یوں تو آپ سے پہلے بھی ہر دور میں اللہ کے نبی آتے رہے اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں کے لئے الگ الگ پیغمبر بھیجے گئے، جو اپنے مخاطب کی زبان سے واقف تھے، اور اسی زبان میں ان پر آسمانی کتاب نازل کی گئی؛ لیکن سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے بعد جو بھی پیغمبر پیدا ہوئے، وہ ان ہی کی نسل سے پیدا ہوئے، ان کے دو صاحبزادے تھے: سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام ،جن کی والدہ مصری نژاد خاتون حضرت ہاجرہ ؑ تھیں، ان کی نسل سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے، دوسرے : سیدنا حضرت اسحاق علیہ السلام ، جن کی والدہ حضرت سارہؑ تھیں، تمام انبیاء بنو اسرائیل حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے، حجاز مقدس اور اس کے قلب میں آباد مکہ مکرمہ میں کعبۃ اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر فرمائی، جہاں پوری دنیا کے مسلمان فریضۂ حج ادا کرنے کے لئے جاتے ہیں، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے فلسطین کے شہر بیت المقدس میں بھی عبادت گاہ تعمیر کی، جو آج ’’ مسجد اقصیٰ‘‘ کہلاتی ہے۔

انبیاء بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد ہے؛ لیکن جن پیغمبروں سے منسوب قومیں آج تک موجود ہیں اور دنیا میں آباد ہیں، وہ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے یہودی کہلائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے عیسائی، اس طرح دنیا کے تین بڑے مذہبی گروہ: مسلمان، یہود، اور عیسائی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت رکھتے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادی تعلیم توحید کی تھی؛ مگر یہودیوں اور عیسائیوں نے تحریف اور آمیزش پیدا کر دی؛ اس لئے آج حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی تعلیمات مسخ شدہ اور تحریف شدہ حالت میں ہیں، اور جو کچھ ہیں، ان پر بھی ان قوموں کا عمل نہیں ہے، نہ ان کے خواص کا نہ عوام کا، سیدنا ابراہیم اور تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم عقیدہ توحید پر مبنی تھی، آج بھی تورات یہاں تک کہ خود انجیل میں بھی توحید سے متعلق واضح مضامین موجود ہیں، جن میں بہت خوبصورتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا تعارف کرایا گیا ہے، جیسے کسی سامان میں ملاوٹ پیدا کرنے کے بعد اُس سامان کے کچھ نہ کچھ اجزاء اس میں باقی رہ جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ چاول میں ملاوٹ کی وجہ سے وہ مٹی بن جائے، اور گیہوں میں ملاوٹ کی وجہ سے وہ پتھر بنا جائے، اسی طرح تورات وانجیل میں ڈھیر ساری تحریفات کے باوجود دین حق کی سچائیوں کے ذرات بھی موجود ہیں، عقیدۂ توحید بھی ہے ، رسالت اور وحی اور آسمانی کتاب کا تصور بھی ہے، جنت اور دوزخ کا بھی تذکرہ ہے، حلال وحرام کے احکام بھی ہیں؛ لیکن ان قوموں نے اس دین کو پس پشت ڈال دیا، اس کا نتیجہ ہے کہ ان کے مختلف فرقوں میں مشرکانہ رسوم ورواج بھی آگئے، ملحد اور ددھریہ بھی یہودی اور عیسائی کہلانے لگے، انھوں نے اللہ کی شریعت کی بجائے اپنی خواہش اور شہوت کو اپنی شریعت بنا لیا،غرض کہ یہودی اور عیسائی دین ابراہیمی کے راستے سے ہٹ چکے ہیں اور احکام الٰہی سے آزاد ہو چکے ہیں، صرف امت مسلمہ اپنی بہت سی کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجود دین ابراہیمی پر قائم ہے۔

اب اس وقت مغربی دنیا کی طرف سے مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے ’’ ابراہیمہ‘‘ کے نام سے ایک نیا فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کو اس تصور کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے کہ اسلام، یہودیت اور عیسائیوں کے درمیان قربت پید اکی جائے اور اس کے لئے ایسے مراکز قائم کئے جائیں، جن میں مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ ایک ہی احاطہ میں ہوں، مغربی قوتیں اسلام کو یہودیت اور عیسائیت میں ضم کرنے کے لئے اس اصطلاح کا استعمال کر رہی ہیں، جب ۱۹۷۹ء میں مصر اور اسرائیل کے درمیان ’’ کیمپ ڈیوڈ ‘‘ معاہدہ ہوا، جس کا محرک امریکہ تھا تو امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا کہ ’’ آئیے ہم جنگ کو ایک طرف رکھ دیں اور ہم ابراہیم کے تمام پیاسے بیٹوں کے لئے امن کا ایک معاہدہ کریں؛ تاکہ مکمل انسان ہمسائے؛ بلکہ مکمل بھائی بہن بن جائیں‘‘ پھر ۱۹۹۳ء میں میں اوسلو معاہدہ ہوا، اس وقت ایک اور امریکی صدر کلنٹن نے کہا: ’’ آج اس بہادری کے سفر میں ہم ابراہیم کے بیٹے اسحاق اور اسماعیل کے ساتھ مل کر امن کو اپنے دل وجان سے پیش کر رہے ہیں‘‘ پھر ۱۹۹۴ء میں جب اسرائیل اور اردن کے درمیان معاہدہ ہوا تو اس موقع پر اردن کے شاہ حسین نے کہا: ’’ آج کے دن کو ہم اور ہماری نسلیں ابراہیم کے بیٹوں کی حیثیت سے یاد رکھیں گی‘‘۔

اسلام میں’’ ابراہیمیہ‘‘ کے نام سے یا کسی اور نام سے مختلف مذاہب کے معجون مرکب اور ملغوبہ کا کوئی تصور نہیں ہے؛ مگر افسوس کہ عرب قائدین نے اپنی نا اہلی اور ناسمجھی کی وجہ سے اس تصور کو قبول کرنے میں احمقانہ پیش قدمی کی ہے، مصر کے سابق صدر انور السادات نے اسی جذبہ کے تحت سینا کے علاقہ میں ’’ مجمع الادیان‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا تھا، یہ اصطلاح اس وقت اور زیادہ مشہور ہوئی اور عالمی سطح پر اس کا آوازہ بلند ہونے لگا، جب ۲۰۲۰ء میں امریکہ کے زیر سر پرستی عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنے کی بات سامنے آئی اور ستمبر ۲۰۲۰ء میں وہائٹ ہاؤس میں اُس معاہدہ پر دستخط ہوا، جس کو امریکی صدر ٹرمپ نے ’’ابراھام معاہدہ‘‘ کا نام دیا، اور اسی کا ایک مظہر یہ کہ عرب امارات کی راجدھانی ابو ظہبی میں ’’ ا براھیمہ ہاؤس‘‘ کا افتتاح ہوا، جس میں مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہیں اکھٹے طور پر بنائی گئیں، مغرب میں ایک خاص سازش کے تحت یہ خلاف ِواقعہ اور ناقابل ِقبول تصور پیش کیا گیا ہے اور افسوس کہ عالم عرب نے اپنی بے بسی، نافہمی اور مغرب کی خوشامد میں اس اصطلاح کو قبول کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ دراصل وحدت ِادیان کی ایک عالمگیر کوشش ہے، اس کی ابتداء تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب تین قوموں سے ہوا ہے؛ لیکن اندیشہ ہے کہ بتدریج اس میں دیگر بڑے مذاہب خاص کر ہندو اور بودھ دھرموں کو بھی شامل کر لیا جائے۔

’’مذہب‘‘ بنیادی طور پر تین عناصر کو شامل ہوتا ہے: عقیدہ، شریعت اور اخلاق ، اخلاقی تعلیمات تمام ہی مذاہب میں ملتی جلتی ہیں، ہر مذہب میں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک، بڑوں کے ساتھ احترام ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت ، ماں باپ کی خدمت، پڑوسیوں کے ساتھ بہتر سلوک، اسی طرح صفائی ستھرائی کی تعلیم دی گئی ہے؛ البتہ اس سلسلہ میں اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے اخلاقی تعلیم کو پورے ایک نظام کی شکل میں پیش کیا ہے؛ تاکہ لوگوں کے لئے اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے، جیسے رشتہ داروں کے ساتھ حُسن سلوک، مذاہب کی ایک مشترک تعلیم ہے؛ لیکن اسلام نے نفقہ اور وراثت کا قانون اور مختلف رشتہ داروں کے حقوق متعین کر کے اس کی متعین صورت مقرر کر دی ہے، صفائی ستھرائی کو ہر مذہب میں پسند کیا گیا ہے؛ لیکن اسلام نے اس کے لئے استنجاء، وضو غسل، نماز ادا کرنے کے لئے لباس اور جگہ کی صفائی کے تفصیلی احکام دئیے ہیں، اخلاقی پہلوؤں کو جب قانون کے دائرے میں لے آیا جاتا ہے، تو ان پر عمل آسان ہو جاتا ہے اور ہر شخص ان کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

عقیدہ کے معاملہ میں اسلام مکمل طور پر عقیدۂ توحید کا داعی ہے، اور مسلمان ہونے کے لئے توحید کا اقرار کافی نہیں ہے؛ بلکہ شرک سے برأت کا اظہار بھی ضروری ہے؛ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اني برئی مما تشرکون (انعام: ۷۸) اب غور کیا جائے کہ جو مذہب ایک خدا کو مانتا ہے اور جس مذہب میں تین تین خدا مانے گئے ہوں، یا خدا کے اختیارات بندوں کے ہاتھ میں دے دئیے گئے ہوں، یا جس میں خدا کی مخلوق کو یہاں تک کہ انسان سے کم درجہ کی مخلوق کو بھی خدا قرار دیا گیا ہو، وہ کیسے ایک ہو سکتے ہیں؟

جہاں تک شریعت کی بات ہے تو اسلام میں حلال وحرام پسندیدہ اور ناپسندیدہ افعال کی ایک پوری فہرست ہے، جو امور جائز ہیں ان میں کوئی فرض ہے اور کوئی واجب، جو امور ناجائز ہیں، ان میں کوئی حرام ہے اور کوئی مکروہ، جب کہ موجودہ یہودیت اور عیسائیت نے اپنے آپ کو شریعت کے احکام سے پوری طرح آزاد کر لیا ہے، ’’ سود‘‘ کو یہودیت اور عیسائیت میں بھی حرام قرار دیا گیا ہے؛ مگر آج پوری مغربی دنیا سود اور قمار میں نہ صرف مبتلا ہے؛ بلکہ اس کی داعی ہے، زنا کے حرام ہونے پر تورات اور قرآن مجید دونوں کا اتفاق ہے؛ لیکن آج عیسائی دنیا میں زنا کی حرمت کا کوئی تصور نہیں؛ بلکہ ایسے خیالات کو دقیانوسیت سمجھا جاتا ہے تو ایسے مذاہب کو ایک کیسے بنایا جا سکتا ہے، یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہی رنگ سرخ بھی کہلائے اور سفید بھی، یہ کیسے ممکن ہے؛ اس لئے وحدت ادیان یا مغرب کے نام نہاد مذہب ’’ابراہیمیہ‘‘ دین ِحق کو حقانیت سے محروم کرنے کی ایک گہری اور شاطرانہ سازش تو ہو سکتی ہے؛ لیکن کسی بھی صاحب عقل کے لئے قابل ِقبول نہیں ہو سکتی۔

دین ِحق کو اس کی سچائی سے محروم کرنے کے لئے ایسی کوششیں ہمیشہ سے ہوتی رہی ہیں، جب اہل مکہ نے اسلام کے ننھے منے پودے کو اکھاڑنے کی ہزار کوششیں کیں اور ناکام و نامرا د رہے تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک ملے جلے مذہب کو ماننے کی پیش کش کی کہ ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت کر لیں اور آپ بھی ہمارے بتوں کی پوجا میں شامل ہو جائیں؛ لیکن قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ صاف اعلان کرا دیا کہ میں تمہارے باطل معبودوں کی عبادت نہیں کر سکتا: لا أعبد ما تعبدون (الکافرون: ۲)

اسی طرح مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ، اس نے اپنے متبعین کی ایک بڑی جماعت تیار کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہلایا کہ ہم لوگ نبوت کو آپس میں تقسیم کر لیں آدھے لوگ آپ کو نبی تسلیم کریں اور آدھے مجھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مسترد فرما دیا تو جنگ یمامہ کا واقعہ پیش آیا، جس میں بارہ ہزار صحابہؓ شہید ہوئے، جن میں سات سو حافظ قرآن تھے، اسی حادثہ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر قرآن مجید کو جمع کرنے کا خیال پیدا ہوا، جو عہد نبوی کے تمام غزوات میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی مجموعی تعداد ۲۵۵؍ سے زیادہ ہے۔اس طرح کی کوششیں کئی بار کی گئی ہیں، جن میں مغل دور میں اکبر کے’’ دین الٰہی‘‘ نے بھی بہت شہرہ حاصل کیا، اکبر چاہتا تھا کہ اسلام اور ہندو مت کو ملا کر ایک ملا جلا مذہب تشکیل دیا جائے، اس کے لئے اس نے بعض گمراہ نام نہاد مسلمان مولویوں اور ہندو مذہب کے واقف کاروں سے مدد حاصل کی ، اور اس نئے مذہب کو ’’ دین الٰہی ‘‘ کا نام دیا ، شیخ احمد سرہندیؒ نے اس کے خلاف سخت مزاحمت کی، جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈالا اور اس سازش کو ناکام بنایا، یہی ان کا سب سے بڑا تجدیدی کام تھا، جس کی وجہ سے وہ’’ مجدد الف ثانی‘‘ کہلائے۔بعد میں بھی خاص کر ۱۹۴۷ء سے پہلے اور اس کے بعد بعض قائدین کی طرف سے اس طرح کی باتیں کہی گئیں اور خواہش کی گئی کہ مسلمان ہندو مذہب کے بعض نظریات کو قبول کر لیں، اور برادران وطن اسلام کی بعض حقیقتوں کو قبول کر لیں، ظاہر ہے یہ بات مسلمانوں کے لئے قابل ِقبول نہیں تھی، دونوں مذاہب کے درمیان اتنا تضاد ہے کہ ہندو مذہبی قائدین کے لئے بھی اس کو قبول کرنا ممکن نہیں تھا؛ چنانچہ اگرچہ اکا دکا لوگوں نے اس نظریہ کی تائید کی، یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے جو آخری مردم شماری ہوئی، اس میں بعض حضرات نے مذہب کے خانہ میں اپنے لئے ’’ محمدی ہندو‘‘ کی تعبیر استعمال کی؛ لیکن اس تصور کو فروغ حاصل نہیں ہو سکا۔اگر اس کوشش کا مقصد اہل مذاہب کے درمیان اتفاق اور رواداری کا ماحول پیدا کرنا ہوتو تو اس کا راستہ وہ ہے، جو قرآن مجید نے بتایا ہے کہ ہر قوم اپنے مذہبی تصورات اور مذہبی احکام پر قائم رہے، اور جیسے وہ خود اپنے مذہب پر عمل کرے، دوسرے اہل مذاہب کے لئے بھی اس حق کو تسلیم کرے کہ وہ بھی اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھیں اور اپنے مذہب کے مقرر کئے ہوئے قانون ِزندگی پر عمل کریں، قرآن کریم کے الفاظ میں: لکم دینکم ولی دین (الکافرون:۶)

باہم اخوت اور امن وامان کا حل یہی ہے کہ ہر آدمی اپنے مذہب پر عمل کرے اور دوسرے کے ساتھ بہتر سلوک کرے، ہر ایک کی جان ومال ، عزت وآبرو، مذہبی جذبات کا احترام کیا جائے، قرآن مجید میں بارہا ان حقوق کو کھول کھول کر بیان فرمایا گیا ہے اور رواداری، تحمل اور حُسن سلوک کی دعوت دی گئی ہے، مسلمانوں کو ایسے فتنوں کے بارے میں با شعور رہنا چاہئے اور ایسے دام میں آنے سے خود کو محفوظ رکھنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے عالم اسلام کی بھی حفاظت فرمائے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھی۔۰ ۰ ۰

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

قربانی، ماحول اور مسلمان: عبادت سے ذمہ داری تک مولانا مفتی محمد اعظم ندوی
اردو ادب اور فارغین مدارسایک مفروضہ کا مدلل جواب

Related Posts

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • hira-online.comhira-online.com
  • آزادی ہند
  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more

Continue reading
  • hira-online.comhira-online.com
  • ہندوستان کی تاریخ آزادی
  • اگست 14, 2026
  • 0 Comments
ہندوستان کی تاریخ آزادی

ہندوستان کی تاریخ آزادی محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔ دگھی گڈا جھارکھنڈ دوستو ! پندرہ اگست کی تاریخ محض تقویم کا ایک دن نہیں، یہ ہندوستان کی تاریخ کا وہ روشن اور سنہری باب ہے، جس کے پیچھے ایک طویل داستانِ جدوجہد، قربانی، عزم، حوصلہ اور آزادی کی تڑپ پوشیدہ ہے۔ آج جب ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمارے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ آزادی صرف کسی ایک طبقے، ایک جماعت یا ایک قوم کی کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کا ثمر ہے، جس میں ہندوستان کے مختلف مذاہب، طبقات اور علاقوں کے لوگوں نے اپنے اپنے انداز میں حصہ لیا۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر برادرانِ وطن نے اپنی جان، مال، آرام اور مستقبل کو داؤ پر لگایا؛ جیلیں آباد ہوئیں، پھانسیاں دی گئیں، گھر اجڑے، بستیاں ویران ہوئیں اور آزادی کی خاطر نسلوں نے قربانیاں پیش کیں۔ لیکن تاریخ کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس پوری داستان کو جذبات سے نہیں، حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری سچائی اور قوت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ برطانوی اقتدار کے خلاف منظم مزاحمت کی ابتدائی اور بڑی آوازوں میں مسلمانوں کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلم جیالوں کی قیادت، مولوی احمد اللہ شاہ، مولوی لیاقت علی، خان بہادر خان، بیگم حضرت محل اور بے شمار مجاہدین کی جدوجہد اس تاریخ کا ناقابلِ فراموش حصہ ہے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی علماء، مجاہدین اور عام مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے استعمار کے خلاف مزاحمت کی اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب آزادی کی یہ چنگاری مختلف گوشوں میں سلگ رہی تھی، جب مزاحمت کے یہ ابتدائی آثار نمایاں ہو رہے تھے اور جب ہندوستان کے باشندوں میں غلامی کے خلاف شعور بیدار ہونے لگا تھا، تو رفتہ رفتہ یہ جدوجہد ایک وسیع عوامی تحریک کی صورت…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں 14.08.2026
  • ہندوستان کی تاریخ آزادی 14.08.2026
  • اسلام، تصور آزادی کا معیار 14.08.2026
  • جنگ آزادی اور مسلمان 13.08.2026
  • جنگ آزادی اور مسلمان 13.08.2026
  • سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ 13.08.2026
  • غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم 13.08.2026
  • ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم 13.08.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • حدیث و علوم حدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

  • hira-online.com
  • اگست 14, 2026
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں
مضامین و مقالات

ہندوستان کی تاریخ آزادی

  • hira-online.com
  • اگست 14, 2026
اسلامیات

اسلام، تصور آزادی کا معیار

  • hira-online.com
  • اگست 14, 2026
اسلام، تصور آزادی کا معیار
مضامین و مقالات

جنگ آزادی اور مسلمان

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
جنگ آزادی اور مسلمان
مضامین و مقالات

جنگ آزادی اور مسلمان

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
جنگ آزادی اور مسلمان
اسلامیات

سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
سورة الکہف: ۱۰ انکار،(لا) تدبر کی ایک نئی راہ
اسلامیات

غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم
فقہ و اصول فقہ

ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم

  • hira-online.com
  • اگست 13, 2026
ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم

Contact Info

Mobile 📲 :9519856616
Email ✉️: hiraonline2001@gmail.com

Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top