HIRA ONLINE / حرا آن لائن
مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ ​بھارت کی موجودہ سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں جمہوریت کے روایتی طریقے اور انتخابی حکمتِ عملیاں اپنی افادیت کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں انڈیا (INDIA) اتحاد کے حالیہ اجلاس میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کا بیان محض ایک سیاسی تقریر نہیں، بلکہ بھارتی اپوزیشن کی بقا اور مستقبل کی سیاست کا ایک نیا مینی فیسٹو (Manifesto) بن کر سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن کو واضح لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ اب روایتی سیاست کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے—اور وہ ہے "مسلسل مزاحمت”۔ ​راہل گاندھی کا بیانیہ: راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے اجلاس میں اپوزیشن سے کہا ہے کہ اسے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جب انتخابات منصفانہ نہیں ہیں تو مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔ راہل نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کے وجود پر بات کی ہے اور اس کے مستقبل پر بھی۔ ایک بات وہ بالکل واضح طور پر کہہ رہے ہیں: بھارت کے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں آر ایس ایس (RSS) کا بھی خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مزاحمت کے راستے پر چلیں گے تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظام کو شکست دے دیں گے۔” ​اس بیان کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں یہ بنیادی سوالات بھی گونجنے لگے ہیں کہ: کیا کانگریس اور اپوزیشن کے پاس آر ایس ایس جیسی گہری جڑیں رکھنے والی تنظیم سے لڑنے کا حوصلہ، صبر اور تنظیمی ڈھانچہ ہے؟ کیا اپوزیشن جماعتیں راہل کی طرح ہر روز مزاحمت کے لیے تیار ہیں، اور کیا خود راہل ہر روز اس محاذ پر صفِ اول میں نظر آئیں گے؟ ​تقریر کا گہرائی سے تجزیہ اور بنیادی ستون​اگر اس تقریر کا سیاسی, سماجی اور تنظیمی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے، تو اس کے تین بنیادی ستون سامنے آتے ہیں: ​1. انتخابی سیاست سے آگے کا…

Read more

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں تمہید دنیا میں انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئی ہیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان اور توحید کی نعمت ہے۔ یہی وہ دولت ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے، کتابیں نازل کی گئیں، جہاد کیے گئے، اور اللہ کے نیک بندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت قبول کرلی مگر کلمۂ توحید سے دستبردار نہ ہوئیں، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون کے ظلم کو برداشت کیا مگر توحید کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی وہ عظیم دولت ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار مصائب برداشت کیے۔ توحید اسلام کی بنیاد، ایمان کی روح اور نجاتِ آخرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے قیمتی سرمایہ یہی عقیدہ ہے۔ توحید کا معنی و مفہوم توحید کا لغوی معنی ہے: کسی کو ایک ماننا اور یکتا تسلیم کرنا۔ شرعی اصطلاح میں توحید سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، افعال اور عبادات میں یکتا اور بے شریک ماننا۔ یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا، حاجت روا اور عبادت کے لائق واحد معبود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: عقیدۂ توحید انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکز تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کی دعوت کا محور صرف اور صرف توحید تھا۔ توحید انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا: اس آیت سے واضح ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد دنیا کمانا، شہرت حاصل کرنا یا عیش و آرام نہیں بلکہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت اور توحید کا قیام ہے۔ توحید عبادات کی قبولیت…

Read more

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 🖋️ احمد نور عینی یہ دور ایک ایسے ابراہیم کی تلاش میں ہے جو تہذیبِ حاضر کے تراشیدہ بتوں اور دانش فرنگ کی من موہ مورتیوں کو زمیں بوس کرے، دورِ خلیل کے آزر نے تو صرف پتھر کے بت تراشے تھے مگر دورِ جدید کے آزروں نے ترشوائے صنم اور، ایسا نہیں ہے کہ پتھر کے بت اس دور میں نہیں پائے جاتے ، ضرور پائے جاتے ہیں، مگر یہ دور سنگ وگل کے بجائے فکر ونظر کے بتوں کا دور ہے، ان بتوں کے آگے پجاری جبینِ سر کے بجائے جبینِ عقل خم کرتے ہیں، اس دور کے ابراہیم کو سنگ وگل کے بتوں کے ساتھ ساتھ فکر ونظر کے بتوں سے بھی نمٹنا ہے، مغربی افکار وباطل نظریات، ملحدانہ خیالات وغیر اسلامی نظام ہائےحیات یہ وہ بت ہیں جنھیں اس دور میں پوجا جاتا ہے۔ ان میں ایک بت ہے قومیت کا ، یہ ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا ہے، اس سے امت مسلمہ خانوں میں بٹتی ہے اور قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے، جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اسلام اس کا مخالف نہیں ہے، کیوں کہ اسلام دین فطرت ہے اور وطن سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے، اس لیے اسلام حب وطن کے جذبات کا پورا احترام کرتا ہے؛ مگر اس بت کے پجاری وطن کا درجہ محبوب سے بڑھا کر معبود تک پہنچاتے ہیں، سرحدی لکیروں کی بنیاد پر مسلمانوں کو شہری اور اجنبی کے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں، رنگ ونسل کو مذہب پر مقدم کرکے وطن کو ہیئت اجتماعیہ انسانیہ کے اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس بت کی پوجا کا اثر ہے کہ مسلمانوں کی مرکزیت عنقا ہوئی، دار الاسلام کے حصے بخرے ہوئے اور ہر حصے نے مستقل وجود کی شکل اختیار کی، شیرازۂ وحدت کے تار وپود ہواؤں میں بکھر گئے، اور بالآخرچاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا ایک بت ہے ہیومنزم کا، لغوی مفہوم کے اعتبار سے تو اس میں کوئی برائی نہیں…

Read more

سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری

سناتنی لٹریچر میں ذبح وقربانی اور گوشت خوری 🖋️ احمد نور عینی کہا جاتا ہے کہ اس ملک کا تہذیبی مزاج عدم تشدد کا ہے، اور جیو ہتیا (ذبح جانور) تشدد ہے اس لیے ذبح وقربانی اور گوشت خوری اس ملک میں ناقابل برداشت عمل ہے، اور چوں کہ مسلم قوم کا نظریاتی وعملی دونوں سطح پر گوشت خور ہونا ایک بے غبار حقیقت ہے، نیز اسلام اور مسلم قوم سے بھارتی اقوام کو مانوس نہ ہونے دینا دور جدید کے برہمنواد کا اہم منصوبہ ہے اس لیے ذبح وقربانی اور گوشت خوری کو لے کر اسلام پر اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ گو کہ یہ دعوی بھی محتاج بحث ہے کہ آیا ذبح وقربانی اور گوشت خوری اس ملک کے تہذیبی مزاج اور ثقافتی ورثہ کے خلاف ہے یا نہیں نیز یہ مسئلہ بھی تحقیق طلب ہے کہ جیو ہتیا کے پاپ ہونے کا تصور کہاں سے شروع ہوا، مگر اس مضمون میں اس بحث کو نہ چھیڑتے ہوئے سناتنی لٹریچر سے ذبح وقربانی اور گوشت خوری کے منتروں اور اشلوکوں کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اپنے پیاروں سے ہم کہہ سکیں کہاتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایتدامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ ▪️ وید: سناتنی لٹریچر میں سر فہرست وید آتے ہیں، وید کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع یگیہ (قربانی) ہے، ویدوں میں رگ وید کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس کے پہلے منڈل کے سوکت: ۱۶۲، کے دوسرے منتر میں گھوڑے اور بکروں کی قربانی کا ذکر ہے، آگے اس سوکت کے دیگر منتروں میں اشومیدھ یگیہ (گھوڑے کی قربانی) کی تفصیلات ہیں۔دسویں منڈل میں ہے کہ اندر دیوتا کہتا ہے: میرے لیے یگیہ کرتا (قربانی کرنے والے) لوگ پندرہ سے بیس بیل پکاتے ہیں (۸۶:۱۴) ۔اسی منڈل کا سوکت ۹۱ بتاتا ہے کہ اگنی کے لیے گھوڑوں،سانڈوں، بیلوں، جوان گایوں اور مینڈھوں کی قربانی دی جاتی تھی (۱۴)، سوکت ۷۲ بتاتا ہے کہ گائے کو تلوار یا کلہاڑی سے ذبح کیا جاتا تھا (۶)۔ اور سوکت ۲۸ بتاتا ہے کہ اندر کے لیے یجمان…

Read more

موجودہ حالات میں ہماری کامیابی کا انحصار !

از : محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔ جب سے یہ دنیا قائم ہے، ہر دور میں افراد و اشخاص اور قومیں آزمائشوں سے گزری ہیں، مگر تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ وہی قومیں سربلند ہوئیں جنہوں نے مشکل حالات میں اپنے اصولوں، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق اور اپنے ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔ آج ہندوستان کے مسلمان بھی ایک نازک، مشکل ، ناگفتہ بہ اور پیچیدہ دور سے گزر رہے ہیں۔ سماجی بے چینی، فکری انتشار، مذہبی غلط فہمیاں اور سیاسی کشمکش نے ملت اسلامیہ کے سامنے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے حالات میں وقتی جذبات، شور و غوغا اور بے مقصد ردِّ عمل کوئی پائیدار حل نہیں دے سکتے، بلکہ کامیابی کا راستہ سنجیدہ فکر، خاموش خدمت، اتحادِ ملت، دینی شعور اور جمہوری و آئینی جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔ مسلمانوں کی حقیقی کامیابی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو آباد کریں ، مسجد سے اپنے دلوں کو معلق کریں ،اپنے گھروں کو ایمان، علم، اخلاق اور تسبیح و تلاوت اور ذکر و شکر کا مرکز بنائیں۔کوئی بھی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک اس کے اندرون مضبوط نہ ہوں۔ اگر ہمارے گھروں میں فجر کی نماز کی پابندی نہ ہو، اگر تلاوتِ قرآن کی آوازیں خاموش ہوجائیں، اگر بچوں کی تربیت اسلامی فکر و شعور کے مطابق نہ ہو، اگر سونے سے پہلے گھروں میں سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلامی کتابوں کا مطالعہ نہ ہو، اگر نئی نسل کو اسلامی تاریخ، اعلیٰ اخلاق اور صحیح افکار سے واقف نہ کرایا جائے، تو پھر محض نعروں اور احتجاجوں سے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھر کو ایک چھوٹا دینی و اخلاقی مرکز بنائے۔ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھیں۔ معاشرتی اصلاح کی ایسی مہم چلائی جائے جس میں محبت، خیر خواہی، اخلاق اور کردار کی طاقت ہو۔ کیونکہ قوموں کی تعمیر جلسے جلوسوں سے نہیں بلکہ گھروں کی علمی ، روحانی اور دینی…

Read more

دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں

کمال مولانا مسجد تاریخ کے آئینے میں یہ تصاویر "مسجد کمال مولانا” دھار کے اندرونی حصے کی ہیں۔ جس کے بارے میں کل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ مسلم فریق کے دلائل سے قائل نہ ہو سکے۔ یہ باتیں وکلا اور لیگل ٹیموں کی ہیں۔‌ ان کو یہ ہینڈل کر لینے دیا جائے۔ ہمیں چند موٹی موٹی باتیں اِس مسجد کے بارے میں جان لینا چاہیے۔ اس علاقے کو جس وقت سلطان علاؤالدین خلجی نے فتح کیا اس وقت سلسلۂ چشتیہ کے ایک صوفی بزرگ شیخ کمال یہاں مقیم تھے۔ سلطان مشائخِ چشتیہ کا ارادت مند اور عقیدت مند تھا، اس نے یہاں ایک عالیشان مسجد بنوانے کا حکم دیا۔ ساتھ ساتھ اس میں درویشوں اور طلبا کے لیے کمرے بھی بنوائے تاکہ شیخ کے مریدین اور شاگرد یہاں آرام کر سکیں۔ چونکہ یہ عمارت بہت کم مدت میں تعمیر ہوئی تھی اور اس میں خاطر خواہ گارہ یا اس وقت کے لحاظ سے مضبوط مسالے کا استعمال نہیں ہوا تھا، لہذا ایک صدی پوری ہونے سے پہلے پہلے یہ محمد بن تغلق کے دور میں مرمت کی طالب ہوئی۔ سلطان علاؤالدین نے اس مسجد کو چودھویں صدی عیسوی کے بالکل ابتدائی دنوں میں بنوایا تھا اور اس کی مرمت چودہویں صدی بالکل آخر میں ہوئی۔ محمد بن تغلق کے گورنر دلاور خان غوری نے اس کی مرمت کروائی اور اس پر تختی بھی لگوا دی کہ مسجد محمد بن تغلق کے عہد میں مرمت کے بعد مزین ہوئی۔ اس مسجد کی عمارت میں چونکہ جو پتھر لگا ہے، یہ بالکل صاف طور سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہ کسی پرانے مندر کا ملبہ ہے۔ اور چونکہ ان پتھروں اور ستونوں میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ہے، لہذا اِس بات کی پوری گنجائش موجود ہے کہ اس کو ہندو عوام سے خرید کر یہاں لگایا گیا ہو۔ اور جب کہ ہمیں کئی سو سال تک اس پر کسی طرح کی کوئی چپقلش اور باہمی عداوت نہیں نظر آتی سو اس کو درست…

Read more