HIRA ONLINE / حرا آن لائن
*شامی اخوان المسلمون کی خونیں سرگزشت*(ہبہ الدباغ کی خودنوشت ’صرف پانچ منٹ‘ کامطالعہ)*

از: محمد رضی الاسلام ندوی سرزمینِ شام، جس سے اسلامی تاریخ کی عظمتِ رفتہ وابستہ ہے، گزشتہ دو سال سے خونِ مسلم سے لالہ زار ہے۔ یہاں انسان نما وحشی درندے ظلم و جبر ، قتل وغارت گری اور انسانیت سوزی کی بدترین داستانیں رقم کررہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ساٹھ ﴿۶۰﴾ہزار سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں، بستیوں کی بستیاں ویران ہوگئی ہیں اور لاکھوں افراد ہجرت کرکے پڑوسی ممالک میں قائم پناہ گزیں کیمپوں میں کس مپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہبہ الدباغ کی خودنوشت ’خمس دقائق و حسب‘ ، جس کا اردو ترجمہ ’صرف پانچ منٹ‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ہے، دستاویزی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ شام کے اسلام پسند عوام پر انسانیت سوز مظالم کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے، بلکہ گزشتہ چالیس سال سے برابر جاری ہے۔ اس کا آغاز شام کے موجودہ حکمراں کے باپ حافظ الاسد نے کیاتھا۔ اس کا تعلق اشتراکی نظریات کی حامل بعث پارٹی سے تھا۔ اسی طرح وہ گم راہ علوی نصیری فرقے سے تعلق رکھتاتھا۔ اس نے اپنے عہدِ حکومت میں مغربی کلچر اور اشتراکیت کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی اور اقتدارپر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے فوج اور انتظامیہ میں علویوں کو بھردیا، جب کہ شام کی غالب اکثریت سنّی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ ان میں اسلامی عقائد اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیادیں بہت گہری تھیں اور وہ غیراسلامی کلچر اور اقلیتی غلبے سے سخت متنفر تھے۔ شامی اخوان المسلمون ، جن کی سرگرمیاں مصر میں اس تحریک کی تاسیس ﴿۱۹۲۸ء﴾ کے کچھ عرصے بعد ہی شروع ہوگئی تھیں، حافظ الاسد کے منصوبوں اور عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہر جگہ اس کی مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے۔ اس لئے حافظ الاسد ان کی سرکوبی کے بہانے ڈھونڈتا رہتاتھا۔ ۱۹۸۰ء میں سنّی مسلمانوں اور نصیریوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشمکش برپا ہوئی تو بعثی حکومت نے اس کا ذمہ دار اخوان المسلمون کو قرار دے کر ان پر پابندی عائد…

Read more

(1) ۔ مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء لکھنؤ کے چھٹے فقہی سیمنار کا آغاز ہو چکا ہے، حسب تین اہم موضوعات زیر تحقیق ہیں: جانوروں کی مصنوعی افزائش۔ یسر و تیسیر اور عصر حاضر کے تقاضے۔ بیع معدوم کی جدید شکلیں۔ اس افتتاحی نشست کی صدارت حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی نے کی اور بصیرت افروز خطبہ پیش کیا اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ ( 2) ۔ اجتماعی اجتہاد کا سب سے پہلا ادارہ "مجمع البحوث الإسلامية” الأزهر 1961 میں قائم کیا گیا، اس کے فورا بعد ہی31 دسمبر 1963 میں مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے ندوے میں مجلس تحقیقات شرعیہ کی بنیاد رکھی، اس کے تین سمینار منعقد ہوئے، انشورنس اور رویت ہلال جیسے اہم مسائل پر فیصلے کیے گئے۔ مولانا اسحق سندیلوی اس کے اولین ناظم مقرر کیے گئے تھے۔ہندوستان میں یہ ایک اہم کوشش تھی، مگر بدقسمتی سے یہ ادارہ معطل کر دیا گیا۔ اخیر دور میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی رحمہ اللہ کے ہاتھوں اس کی نشأت ثانیہ عمل میں آئی، معروف فقیہ اور باکمال مصنف حضرت مولانا عتیق احمد بستوی نے ایک نئی روح پھونکی، الحمد للہ گزشتہ چند برسوں میں یہ تیسرا سمینار منعقد ہو رہا ہے۔ ( 3) ۔ ہندوستان میں اجتماعی اجتہاد کے حوالے سے ایک اہم نام اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ہے، اسے عالمی سطح پر وقار و اعتبار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اکیڈمی کے فیصلوں کو پاکستان کی عدالتوں، عالم عرب کی مجامع فقہیہ اور عالم اسلام کی یونیورسٹیوں میں بحث و نقاش کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ جامعہ ام القری مکہ مکرمہ میں ماسٹرز کا ایک مقالہ اکیڈمی پر جمع کیا گیا ہے، الأزهر یونیورسٹی میں فقہ اکیڈمی کے بانی فقیہ النفس حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کے فقہی افکار و خدمات پر تحقیقی مقالہ لکھوایا گیا ہے۔فقہ النوازل کے عنوان سے چار جلدوں میں ایک کتاب طبع ہوئی ہے، اس میں مجامع فقہیہ کے فیصلوں کو ابواب کی ترتیب…

Read more

دستور اور آئین پر عمل آوری

از : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی قدرت نے دو قوتیں انسان کے ساتھ رکھی ہیں ، ایک انسان کی خواہشات ، دوسرے اخلاقی جوہر ، خواہشات بعض اچھی بھی ہوتی ہیں ، اور بعض بُری بھی ، خواہشات کی دنیا بہت وسیع ہے ، اگر انسان ہر خواہش پوری کرنے لگے تو وہ گناہ سے بچ نہیں سکتا ، مثلاً انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت مند ہو جائے ، چاہے اس کے لیے رشوت لینی پڑے ، ظلم وزیادتی کا راستہ اختیار کرنا پڑے ، دوسروں کی زمینوں اور جائیداد پر ناجائز قبضہ کی نوبت آجائے اور اخلاقی جوہر انسان کو نیکی و بھلائی کی طرف بلاتا ہے اور ظلم وزیادتی اور بُری باتوں سے روکتا ہے ، انھیں دونوں قوتوں کو حدیث میں ’’ لمۂ ملکوتی ‘‘ اور ’’لمۂ شیطانی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ، (مشکوٰۃ شریف : ۱؍۱۹ ، باب فی الوسوسۃ )مہذب انسانی معاشرہ میں خواہشات کو اخلاق کے دائرہ میں رکھنے کے لیے قانون بنایا جاتا ہے ؛ اس لیے قانون کی بڑی اہمیت ہے ، اور اسی پر سماج میں عدل و انصاف کا قائم رہنا موقوف ہے ۔ چند روز پہلے ۲۶؍ نومبر کی تاریخ گذری ہے ، جو دستور کی تدوین میں اہم کردار کرنے والی شخصیت جناب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب کی یوم پیدائش ہے؛ اسی لئے اس کو یوم دستور کی حیثیت سے منایا جاتا ہے، ہمارے ملک نے نصف ِصدی سے زیادہ اس دستور کا تجربہ کرلیا ہے ، جو دنیا کا مفصّل اور طویل دستور سمجھا جاتا ہے اور ۲۳ ؍ ابواب ، ۳۹۵؍دفعات اور ۱۲؍ جدولوں پر مشتمل ہے ، یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ دستور بننے اور اس کے نافذ ہونے کے باوجود لا قانونیت ہمارے سماج کا ایک لازمی جز بن گئی ہے ، اس پس منظر میں ملک کے بہی خواہوں کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح لوگوں کے رجحان کو بدلیں ، انھیں صحیح رُخ دیں ، اور انھیں قانون کا پابند…

Read more

کتاب : اسالیب القرآن (عربی)

کتاب : اسالیب القرآن (عربی) افادات : مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللّٰہ ناشر : مکتبہ حمیدیہ، سرائے میر 64: صفحات تعارف نگار : معاویہ محب اللّٰہ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مولانا حمید الدین فراہی ؒ کی قرآنی بصیرت اور کلامِ الہی کے لیے آپ کی خدمات کا تعارف کرانا سورج کو چراغ دکھانے کے مرادف ہے، علامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے مولانا کی وفات پر وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ کی وفات پر استعمال ہوئے تھے ’’الصلوۃ علی ترجمان القرآن‘‘۔مولانا ان الفاظ کے صحیح معنوں میں مصداق تھے۔ یوں تو مولانا فراہی ؒ نے قرآنیات اور علوم القرآن کے بہت سارے مباحث پر لکھا ہے، نفیس سے نفیس، قیمتی سے قیمتی اور نایاب نہیں تو کم یاب تحقیقات ضرور چھوڑی ہیں، عربیت کا ذوق، زبان وبیان کا ملکہ اور جاہلی شاعری کے اسلوب و بلاغت کا جو حصہ مشیتِ ایزدی نے مولانا کو عطا فرمایا تھا، بر صغیر میں ایسے افراد خال خال ہی نظر آئے ہیں۔ ’’اسالیب القرآن‘‘ بھی مولانا فراہی کی قرآنیات کے متعلق تحقیقات میں سے ایک ہے، یہ کتاب در حقیقت مولانا کے حسین خواب کی نامکمل تعبیر ہے، آپ کا ارادہ تھا کہ کلامِ عرب کے اسالیب کا احاطہ کسی ایک ہی رسالہ میں یکجا دستیاب ہو جائے تاکہ بلاغتِ مبین سے دلچسپی رکھنے والے احباب کی تسکین کا سامان ہوسکے، لیکن مولانا اپنے اس خیال کو پورا نہ کرسکے تھے کہ وعدۂ اجل آ پہنچا، مولانا کی وفات کے بعد اسی نامکمل کام کو مولانا بدر الدین اصلاحی ؒ نے’’ من افاداتہ‘‘ کے اضافہ کے ساتھ شائع کیا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو اس کے مخاطبین کی بلیغ ترین زبان میں نازل کیا ہے، یہی عربی زبان ترجمان الوحی رسول اللّٰہ ﷺ کی زبان تھی؛ إِنَّاۤ أَنزَلۡنَـٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیࣰّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُونَ:ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم سمجھ سکو (يوسف۲)۔ عربی زبان بھی وہ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں فصحاء اور شعراء بولا کرتے تھے، اس وقت کے عربی معاشرہ میں فصاحت وبلاغت اور زبان وبیان…

Read more

*بہار جمعیۃ کے اجلاس میں نتیش کمار کی غیر حاضری: بہار کے مسلمانوں کے لیے واضح پیغام*

*@مختصر_کالم* بہار میں جمعیۃ علماء ہند (الف) کا ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا، جس میں اندازہ ہے کہ دو لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ قائد جمعیۃ مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں مختلف اہم موضوعات زیر بحث آئے، جن میں سے وقف ترمیمی بل کی مخالفت بھی اہم موضوع تھا۔ اس اجلاس کے لیے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار نے اس دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت نہیں کی نتیش کمار کی غیر حاضری کو صرف مولانا ارشد مدنی یا جمعیۃ علماء ہند کی دعوت کو ٹھکرانے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ پورے بہار کے مسلمانوں کی دعوت کو ٹھکرانے کے مترادف ہے۔ یہ واقعہ واضح طور پر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بہار کے مسلمانوں کی نتیش کمار کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رہی۔ ان کے اس رویے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اب انہیں مسلمانوں کے ووٹوں کی بھی پرواہ نہیں رہی۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ نتیش کمار کے اس طرز عمل کے باوجود کچھ مسلم سیاستدان اور رہنما ابھی بھی ان کے حمایتی بنے ہوئے ہیں۔ وہ یا تو سیاسی بصیرت سے محروم ہیں یا پھر اپنے ذاتی مفادات کے لیے نتیش کمار کی چاپلوسی کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے رویے کے بعد جنتا دل یونائٹڈ (جدیو) سے جڑا ہر مسلمان سیاستدان فوراً اپنی حمایت واپس لے لیتا اور اس جماعت سے خود کو الگ کر لیتا۔ لیکن یہ سیاسی بے حسی اور بصیرت کی کمی ہے جو بہار کے مسلمانوں کو ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے سے روکے ہوئے ہے۔ نتیش کمار کی اس حرکت کو بہار کے مسلمانوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سیاسی حیثیت اور ووٹ کی اہمیت کو کیسے مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اگر بہار کے مسلمانوں نے اس واقعے…

Read more

*یوگی حکومت کا ظلم اور مسلم نوجوانوں کا قتل*

*@مختصر_کالم* اترپردیش کا وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اسرائیلی دہشت گرد نیتن یاہو کے بعد دنیا کے سب سے بڑے متعصب حکمران کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔ اس کی ظالمانہ حکومت میں مسلمانوں کی جان، مال، عبادت گاہیں سبھی نشانے پر ہیں۔ سنبھل کی شاہی جامع مسجد پر ایک بے بنیاد اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر عدالت نے جانچ کا حکم دیا کہ یہ مسجد مبینہ طور پر کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی، حالانکہ اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں۔ یوگی کی پولیس نے چوروں کی طرح رات کی تاریکی میں مسجد کی جانچ کے لیے دھاوا بولا۔ اس واقعے نے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کر دیا۔ اگلے دن مسلم نوجوانوں نے مسجد کی حمایت میں پرامن احتجاج کیا، مگر ظالم حکومت کو یہ بھی گوارا نہ ہوا۔ یوگی کی متعصب پولیس نے احتجاج کو دبانے کے لیے گولیاں برسا دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ سے زیادہ بے گناہ مسلم نوجوان شہید ہو گئے، جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے کھڑے تھے۔ یہ وقت ہے کہ ملی تنظیمیں اور قائدین خاموشی کا لبادہ اتار کر سر جوڑ کر بیٹھیں اور مسلمانوں کی مساجد اور جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس ظلم کے خلاف پرامن ملک گیر احتجاج وقت کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں، اگر آج آواز بلند نہ کی گئی تو یوگی حکومت کا ظلم مزید بڑھے گا، اور ہماری مساجد و عبادت گاہیں ایک کے بعد ایک نشانہ بنتی رہیں گی۔ یہ وقت یکجہتی اور عمل کا ہے، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔* از: آفتاب اظہر صدیقی*کشن گنج بہار25/ نومبر 2024ء

Read more