HIRA ONLINE / حرا آن لائن
*جمی کارٹر کی خارجہ پالیسی؛ تین اہم اور متنازع فیصلے: ایک تنقیدی جائزہ*

از : ✍️ ریحان بیگ ندوی امریکی صدر جمی کارٹر، (جو حال ہی میں 100 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے) اپنی صدارت کے دور میں کیے گئے چند اہم خارجہ پالیسی کے فیصلوں کی وجہ سے امریکی صدارتی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کو نہ صرف ان کے وژن اور انسانی حقوق کے لیے ان کی کوششوں کی علامت سمجھا جاتا ہے، بلکہ ان پر تنقید بھی کی گئی، خاص طور پر ان کے دور رس اثرات کی وجہ سے۔ ان کی پالیسیوں نے جہاں کچھ اہم کامیابیاں حاصل کیں، وہیں ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعات نے امریکہ کے عالمی کردار پر مزید سوالیہ نشان کھڑے کئے۔ ذیل میں ان کے دور صدارت کے تین اہم خارجہ پالیسی کے فیصلے مختصراً پیش کئے جارہے ہیں:1- *کیمپ ڈیوڈ معاہدے: عرب دنیا کی تقسیم یا مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوشش؟* کیمپ ڈیوڈ معاہدے Camp David Accords جمی کارٹر کی صدارت کے دوران ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدہ کروایا، جس کے تحت اسرائیل نے "سینا” مصر کو واپس کیا اور اس کے نتیجے میں مصر پہلا عرب ملک بنا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔لیکن فلسطینی مسئلے پر کیے گئے وعدے عملی طور پر پورے نہ ہو سکے۔ فلسطینی خودمختاری کی ضمانت محض کاغذی ثابت ہوئی، اور اسرائیل نے اپنے قبضے کو مزید مضبوط کیا۔ اس معاہدے نے جہاں مصر کو اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے میں مدد دی، وہیں عرب دنیا میں مصر کو تنہائی کا شکار کر دیا۔یہ معاہدے اگرچہ وقتی طور پر ایک اہم پیش رفت تھے، لیکن ان کے طویل المدتی اثرات نے فلسطینی کاز کو نقصان پہنچایا۔ کارٹر نے اپنی صدارت کے بعد بھی فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی، لیکن ان کی کوششوں کو کبھی وہ کامیابی نہ مل سکی جس کی وہ خواہش رکھتے تھے2- *افغانستان میں مداخلت: سرد جنگ کی فتح یا علاقائی عدم استحکام کی بنیاد؟* کارٹر نے افغانستان میں سوویت مداخلت کو…

Read more

ماضی کا احتساب اور آئندہ کا پروگرام

اب چند دنوں میں ۲۰۲۵ کا آغاز ہونے والا ہے، ۳۱ دسمبر کو آنے والی رات کو جوں ہی کانٹا بارہ بجے کو پہنچے گا، تو یہ صرف AM اور PM ہی کی تبدیلی نہیں ہوگی؛ بلکہ یہ ایک سال کی تبدیلی ہوگی اور ایک نئے کیلنڈر کو وجود میں لائے گی، نیا سال در اصل ہمیں دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے، ماضی کا احتساب اور آئندہ کا پروگرام، انسان کے لئے اپنے آپ کا محاسبہ ضروری ہے، یہ محاسبہ ہمہ پہلو ہونا چاہئے، محاسبہ دنیوی امور میں بھی ضروری ہے، اگر آپ تاجر ہیں تو آپ اپنی تجارت کا جائزہ لیں کہ اس میں آپ نے کیا کچھ ترقی کی ہے؟ اگر نہیں کی ہے یا آپ پیچھے ہٹے ہیں تو اس کے کیا اسباب ہیں؟ کہیں اس میں آپ کی کوتاہی کو تو دخل نہیں ہے؟ اگر آپ کسی سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں ملازم ہیں تو غور کریں کہ اس میں آپ جو بہتر پوزیشن حاصل کر سکتے تھے یا اپنی ایمانداری اور بہتر کارکردگی کے ذریعے جو اعتماد آپ کا پیدا ہو سکتا تھا، آپ نے کس حد تک اسے حاصل کیا ہے؟ اسی طرح ہر شعبہ زندگی میں اپنی کامیابی و ناکامی اور پیش قدمی و پست رفتاری کا جائزہ لینا چاہئے۔انسان کا کسی چیز میں پیچھے ہو جانا بری بات نہیں، بری بات یہ ہے کہ انسان بے حسی میں مبتلا ہو جائے، وہ ناکام ہو اور اپنی ناکامی کے اسباب پر غور نہ کریں، اس کے قدم پیچھے ہٹیں اور فکر مندی کی کوئی چنگاری اس کے دل و دماغ میں سلگنے نہ پائے، وہ ٹھوکر کھائے؛ لیکن ٹھوکر اس کے لئے مہمیز نہ بنے، جو شخص اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہے، اپنی کتاب زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو محسوس کرتا ہے، وہی گر کر اٹھتا اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے، جس میں اپنے احتساب اور اپنی کمزوریوں کے اعتراف کی صلاحیت ہی نہ ہو، وہ کبھی اپنی منزل کو نہیں پا سکتا۔ اقتباس از راہ…

Read more

بنگلہ دیش سے ایک تشویش ناک خبر

از: محمد رضی الاسلام ندوی بنگلہ دیش سے بڑی تشویش ناک خبر آئی ہے ، جس سے واقف ہوکر بہت زیادہ افسوس اور شرمندگی ہوئی – امّت کو کیا ہوگیا ہے؟ وہ کب ہوش کے ناخن لے گی؟ آج کل جب کہ دنیا کے تمام ممالک میں اسلام کے نام لیواؤں کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے؟ اسلام پر عمل کرنے والوں کو فنڈامنٹلسٹ اور ٹیررسٹ جیسے القاب سے نوازا جارہا ہے اور ان سے رائے اور عمل کی آزادی سلب کی جارہی ہے ، ایسے شنیع اعمال کا ارتکاب کرنے والے اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اور اپنے اعمال سے گویا دشمنوں کی باتوں کی تصدیق کررہے ہیں معلوم ہوا ہے کہ دو روز قبل 18 دسمبر 2024 کو بنگلہ دیش میں ٹونگی عالمی اجتماع میں تبلیغی جماعت کے دونوں گروپوں کے درمیان خون ریز لڑائی ہوئی ہے ، جس میں اب تک چار افراد کے جاں بحق ہونے اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں – چند برس قبل تبلیغی جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی : ایک کے امیر مولانا سعد صاحب ہیں ، جب کہ دوسرا گروپ شوریٰ والوں کا کہلاتا ہے – اسی وقت سے ہندوستان کی مختلف مساجد میں ، خاص طور پر اجتماعات کے مواقع پر دونوں گروپوں میں خون ریز لڑائیاں ہوتی رہی ہیں – اب تازہ واردات بنگلہ دیش میں پیش آئی ہے – میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگی میدان میں شوریٰ والے اعلان کے مطابق اپنا اجتماع کر رہے تھے – رات کے آخری پہر تقریباً تین بجے مولانا سعد گروپ کے لوگوں نے اجتماع گاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور متعدد اطراف سے حملہ آور ہوئے – چنانچہ اجتماع کے میدان میں الگ الگ مقامات پر دونوں گروپوں کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں – کافی دیر کے بعد پولیس پہنچی اور اس کی کوششوں سے معاملہ قابو میں آیا – اس تنازعہ کو کسی جماعت کا اندرونی معاملہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا – نہ دوسری جماعتوں کے وابستگان کو اس پر خوش ہونا ،…

Read more

امت میں فتنہ و فساد کی اصل جڑ غلو اور بے اعتدالی !

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔استاذ/مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725 گزشتہ سے پیوستہ کل یعنی 18/ دسمبر 2024ء کو بنگلہ دیش کے ٹونگی عالمی اجتماع میں تبلیغی جماعت کے دونوں گروپوں کے درمیان خون ریز لڑائی ہوئی ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک چار لوگوں کے مارے جانے اور سیکڑوں لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے. بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹونگی میدان میں شوریٰ والے پہلے سے اعلان کے مطابق اجتماع کر رہے تھے، صبح تقریباً تین بجے سے مولانا سعد صاحب کے امارت والا گروپ متعدد اطراف سے اجتماع گاہ کا قبضہ لینے کے ارادہ سے شوریٰ والوں پر حملہ آور ہوا. میدان کے الگ الگ مقامات اور راستوں پر متعدد جھڑپیں ہوئیں. کافی دیر کے بعد پولیس ایکشن کے ذریعہ معاملہ قابو میں آیا۔۔۔۔۔۔ یقینا یہ واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے،امت مسلمہ کی اس گھناونے واقعہ سے ذلت و رسوائی ہوئی ہے، اور دشمنوں اور خاص طور پر میڈیا والوں کو ہنسنے ہنسانے کا موقع ان نادانوں نے دیا ہے ۔یہ صورت حال ہم سب کے لیے بہت تشویشناک اور افسوسناک بھی ہے. تبلیغی جماعت کا کام جو دنیا کا پر امن ترین کام تھا، اور جس جماعت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول اکرام مسلم بھی ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے اس کے ذمہ داروں کو کیا ہوگیا ہے، یہ سمجھ میں نہیں آتا ، لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ سب امارت کی ہوس ،عہدے اور منصب کے لالچ اور اپنی بالا دستی کے لیے ہو رہا ہے ۔ اقبال مرحوم نے صحیح فرمایا تھا کہ براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے ہوس چھپ چھپ کہ سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں نظام الدین سے لیکر متعدد مساجد اور اجتماعات میں خون ریز لڑائیاں عام بات سی ہوگئی ہے ،جو صرف تبلیغی جماعت سے جوڑے ہوئے لوگوں کے لئے نقصان دہ نہیں، بلکہ یہ پوری امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہونچا رہا ہے. مسئلہ دن بدن بگڑتا جارہا ہے اور ادھر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس سنگین صورتحال پر کیسے قابو…

Read more

*تبلیغی جماعت کے دونوں دھڑوں میں خوں ریز تصادم- ایک لمحہ فکریہ*

*سید احمد اُنیس ندوی* دو دن پہلے مؤرخہ 17 دسمبر کو ٹونگی اجتماع گاہ (بنگلہ دیش) میں جماعتِ تبلیغ کے دونوں دھڑوں کے درمیان جو خوں ریز تصادم ہوا ہے، جس میں کم از کم تین افراد جاں بحق اور درجنوں شدید زخمی ہیں، وہ جماعت کی تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین باب ہے۔ وہ جماعت جو "اللہ کی طرف دعوت” اور "اصلاح امت” کا عَلَم لے کر وجود میں آئی تھی، اور جس جماعت کے بارے میں یہ تصور عام تھا کہ ان کو "زمین کے نیچے” اور "آسمان کے اوپر” سے ہی مطلب رہتا ہے، اور جس جماعت کے افراد نے واقعی بے نظیر جانی مالی قربانیاں پیش کی تھیں، اور جس کے بانیان اور سلف نے پوری دنیا میں مجاہدات، قربانی اور اخلاص کی ناقابل یقین تاریخ رقم کی، وہی جماعت اپنے بانیان کے اصولوں سے اس قدر جلدی منحرف ہو جاۓ گی، اور اُس میں ایسا پُرفتن زوال اور انحطاط آۓ گا، یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ "حب جاہ” اور "عصبیت” کا ایسا نشہ خواص سے لے کر عوام تک اور پرانوں سے لے کر جوانوں تک سب پر طاری ہوگا کہ جس کے نتیجے میں اکثر و بیشتر افراد جماعت "گروہ بندی” اور "عصبیت” کے گڑھوں میں یوں جا گریں گے، یہ تصور سے بھی بالاتر تھا۔ آرا کا شدید اختلاف تو سیاسی جماعتوں میں بھی ہوتا ہے، مگر موجودہ دنیا میں وہ بھی ظاہری اخلاق کا پاس و لحاظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے افکار و نظریات میں شدید اختلاف کے باوجود اپنے مشترکہ دشمن سے مقابلے کے لیے مل جل کر مختلف سیاسی جماعتوں کا "اتحاد” قائم کرتی ہیں۔ کیا جماعت کے ان دونوں گروہوں کا بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ دشمن "شیطان” نہیں ہے ؟ کیا خارجی محاذ پر ابلیسی, دجالی اور طاغوتی قوتیں پوری امت کے لیے "آزمائش” اور "فتنہ” نہیں ہیں ؟ لیکن اس کے باوجود آپس میں ہی یہ خوں ریز تصادم ؟؟؟ مجھے تحقیق کے ساتھ یہ بات نہیں معلوم کہ اس تصادم میں زیادتی کس…

Read more

قرآنی بیانیے میں حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ

از: ابوفہد ندوی، نئی دہلی یہ محض اتفاق نہیں کہ اللہ نے خود کے لیے "رب العالمین”، نبی ﷺ کے لیے "رحمۃ للعالمین” اور قرآن کے لیے "ذکر للعالمین” کی تراکیب استعمال کی ہیں۔ تینوں جگہ "العالمین” کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ ’’للعالمین‘‘ کا لفظ دیگر چیزوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، جیسے بیت اللہ کو ’’ھدی للعالمین‘‘ کہا گیا ہے اور نوح علیہ السلام کی کشتی اور اس واقعے کو ’’آیۃ للعالمین‘‘۔ مگر بیانیے کا فرق بہرحال موجود ہے اور ’’العالمین‘‘ کی نسبت ہر جگہ یکساں معنویت کی حامل نہیں۔اللہ نے اپنے لیے "رب العالمین” کا خطاب یا تمغۂ امتیاز پسند فرمایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے لیے "رحمۃ للعالمین” کا خطاب یا تمغۂ امتیاز۔ پھر اپنے اس امتیاز کو قرآن کی سب سے اہم اور سب سے عظیم سورہ، سورۂ فاتحہ کی پہلی ہی آیت میں بیان فرمایا اور وہ بھی تعریفی و توصیفی بیان کے پس منظر میں۔ قرآن کی توقیفی ترتیب میں یہی جملہ "الحمد للہ رب العالمین” فاتحۃ الکتاب ہے، یعنی سرنامۂ قرآن، جیسے دیوان کی پہلی غزل کا مطلع ہوتا ہے۔ اللہ نے سورۂ انبیاء میں نبی ﷺ کے خطاب و امتیاز کے بارے میں فرمایا:وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (الأنبیاء: ۱۰۷)۔اور سورۂ توبہ میں نبی ﷺ کی اسی صفتِ رحمت کو اس طرح مؤکد کیا ہے:قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٌ۬ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُمۡ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٌ۬ رَّحِيمٌ۬(التوبۃ: ۱۲۸)۔’’اے لوگو! یہ رسول جو تمہارے درمیان آیا ہے، یہ تمہاری اپنی ہی قوم سے ہے۔ تمہاری تکالیف اس پر نہایت شاق گزرتی ہیں، یہ تمہاری ہدایت کا طالب اور حریص ہے اور اہلِ ایمان کے لیے بطور خاص انتہائی مشفق اور مہربان ہے۔‘‘اور قرآن کے بارے میں ارشاد فرمایا:إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ (ص: ۸۷)۔ قرآن کے لیے اسی نوعیت کے جملے مزید چار پانچ مقامات پر بھی وارد ہوئے ہیں۔ یہاں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ان سب مقامات پر ’’مؤمنین‘‘ یا ’’مسلمین‘‘ کا لفظ نہیں بلکہ ’’العالمین‘‘ کا لفظ ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا…

Read more