HIRA ONLINE / حرا آن لائن
قربانی کا شرعی حکم

قربانی کا شرعی حکم کیا ہے؟ مکمل رہنمائی قربانی اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک اہم عبادت ہے جو ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر ادا کی جاتی ہے۔ یہ عبادت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ شریعتِ اسلامیہ نے قربانی کے لیے مخصوص شرائط اور احکام بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کن لوگوں پر قربانی واجب ہے اور کن پر نہیں۔ قربانی کا شرعی حکم اگر کسی مسلمان میں شریعت کی بیان کردہ تمام شرائط پائی جائیں تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے۔ اور اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط موجود نہ ہو تو قربانی واجب نہیں بلکہ نفلی یا سنت شمار ہوگی۔ فقہائے احناف کے نزدیک صاحبِ نصاب، مقیم اور بالغ مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ قربانی واجب ہونے کی شرائط 1۔ مسلمان ہونا قربانی صرف مسلمان پر واجب ہے۔ غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔ 2۔ مقیم ہونا قربانی مقیم شخص پر واجب ہے، مسافر پر واجب نہیں۔ مسافر کسے کہتے ہیں؟ شرعی اعتبار سے وہ شخص مسافر کہلاتا ہے: ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں ہوتی۔ 3۔ صاحبِ نصاب ہونا جس شخص کے پاس درج ذیل میں سے کوئی چیز نصاب کے برابر موجود ہو وہ صاحبِ نصاب کہلاتا ہے: لیکن اگر اس پر اتنا قرض ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ 4۔ بالغ ہونا بالغ مسلمان پر قربانی واجب ہے۔ نابالغ بچہ اگرچہ مالدار ہو تب بھی اس پر قربانی واجب نہیں۔ قربانی کا حکم قرآن سے اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ترجمہ: “پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔” اس آیتِ مبارکہ میں “وَانْحَرْ” امر کا صیغہ ہے اور اصولِ فقہ کے مطابق مطلق امر وجوب پر دلالت کرتا ہے، اسی لیے فقہائے کرام نے اس آیت سے قربانی کے واجب ہونے پر استدلال کیا ہے۔ قربانی کے بارے میں احادیث ہر گھر پر قربانی حضرت مخنف…

Read more

بھینس کی قربانی شریعت کی نظر میں

بھینس کی قربانی شریعت کی نظر میں از: مفتی محمد عبیداللہ قاسمی بہرائچیاستاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد اجتماع و معاشرت تاریخ اسلامی حج و قربانی فقہی احکام و مسائلبھینس کی قربانی عہد نبوی اورعہد صحابہ میں جزیرة العرب میں بھینس نہیں پائی جاتی تھی؛ اس لیے بھینس کی قربانی آپ … اور صحابہ سے نہ تو عملاً ثابت ہے اور نہ ہی آپ … نے صراحتاً بھینس کی قربانی کے بارے میں کوئی حکم صادر فرمایا ہے، اس کو بنیاد بنا کر غیر مقلدین حضرات یہ کہتے ہیں : چوں کہ ”جاموس“ (بھینس ) کی قربانی کا تذکرہ قرآن و حدیث میں نہیں ہے اورنہ ہی عملاً آپ … اور صحابہ سے ثابت ہے؛ اس لیے بھینس کی قربانی جائز نہیں؛جبکہ دوسری طرف بر صغیر پاک و ہند وغیرہ میں جس طرح مسلمان گائے، بکرا اور دنبہ وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں، اسی طرح بھینس کی قربانی بھی بکثرت کرتے ہیں اور تمام علماء اہل السنة والجماعة بالاتفاق اسے جائز قرار دیتے ہیں اور بعض علماء غیر مقلدین بھی بھینس کی قربانی کے جواز کے قائل ہیں؛ کیوں کہ قرآن و حدیث میں قربانی کے باب میں جاموس (بھینس ) کا تذکرہ نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قربانی جائز نہ ہو، ورنہ توزمانہٴ موجودہ کی بہت ساری اشیاء (موبائل، کمپیوٹر، جہاز اور ٹرین وغیرہ) جن کا ذکر قرآن واحادیث میں نہیں ہے، ان سب کا استعمال ناجائز ہوگا ؛ حالا نکہ ایسا نہیں ہے؛ اس لیے یہ دیکھا جائے گا علماء امت کا بھینس کی قربانی کے سلسلہ میں کیا موقف اور عمل رہا ہے ؟فقہاء اور محدثین نے بھینس کی قربانی کو کس بنیاد پر جائز قرار دیا ہے؟ وہ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ اہل لغت کی کیا رائے ہے؟ اسی طرح بعض علماء غیرمقلد ین اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟۔ تو واضح رہے کہ تمام فقہاء، محدثین، اور اہل لغت حتی کہ بعض علماء غیر مقلدین نے بھی بھینس (جاموس)کو گائے (بقر)کی جنس سے مانا ہے؛ بلکہ اس پر اجماع ہے، یعنی بھینس گائے ہی کی ایک نوع…

Read more

قرض لے کر قربانی کرنے کا حکم (قرآن و حدیث کی روشنی میں): قرض لیکر قربانی کرنے کا حکم: قرآن و حدیث کی روشنی میں مذہب اسلام میں ہمیشہ اعتدال اور آسانی کو پیشِ نظر رکھا گیا ، اسی لیے انسانوں پر وہی ذمہ داریاں ڈالی ہیں جو وہ آسانی سے ادا کر سکے، اور  بے جا مشقت میں مبتلا نہیں کیا گیا ہے ۔  ارشاد ربانی ہے : "لا يكلف الله نفسا إلا وسعها " “اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا” (سورۃ البقرہ: 286) اس آیت سے اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین میں وہی چیز لازم ہے جو انسان کی استطاعت میں ہو ۔ اگر کسی کے پاس قربانی کی مالی طاقت نہیں ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث  میں ہے کہ جو شخص صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے، اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ  صاحبِ نصاب مرد و عورت پر ہی قربانی واجب ہے ۔  عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا ” سنن ابن ماجه (2/ 1044) قرض لیکر واجب قربانی کی ادائیگی کرنا کیسا ہے ؟ اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور نقد پیسے کا انتظام نہ ہو تو قرض لے کر قربانی کر لے بعد میں ادا کردے ۔  قرض لیکر نفلی قربانی کی ادائیگی کرنا کیسا ہے ؟ اور اگر قربانی واجب نہ ہو لیکن وہ نفلی قربانی کرنا چاہتا ہو تو  اگر آسانی سے قرض دینے والا مل جائے اور اپنے پاس سے بعد میں ادا کرنے کی وسعت ہو۔ تو  قرض لے کر قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ورنہ وسعت نہ ہونے کی صورت میں مقروض ہونا ٹھیک نہیں، پھر قربانی کے لیے قرض نہ لے۔  بہتر کیا ہے؟ 👉 اسلام آسانی کا دین ہے، خود کو مشکل میں ڈالنا درست نہیں

Read more

قربانی کس پر واجب ہے ؟

Writingقربانی کس پر واجب ہے؟ (قرآن و حدیث کی روشنی میں) اللہ تعالیٰ نے انسان پر وہی چیز واجب قرار دی ہے جو اس کی استطاعت میں ہو۔ اسی اصول کے تحت قربانی بھی ایک ایسی عبادت ہے جو صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر واجب کی گئی ہے۔ قربانی کا حکم: قربانی ہر اس مسلمان، عاقل، بالغ، مقیم شخص پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو، یعنی اس کے پاس ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال ہو جو زکوٰۃ کے نصاب کے برابر ہو، خواہ اس مال پر سال گزرنا ضروری نہیں۔ قرآن مجید سے دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ” ترجمہ: "پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔” (سورۃ الکوثر: 2) اس آیت میں نماز کے ساتھ ساتھ قربانی کا بھی حکم دیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ احادیث مبارکہ سے دلیل: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں قربانی کی وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔” (سنن ابن ماجہ)یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنا سخت محرومی کا سبب ہے۔ قربانی واجب ہونے کی شرائط: اہم وضاحت:

Read more

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ

ذبح کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ آسان، منظم اور رحم پر مبنی ہے۔ اس میں صفائی، احتیاط اور اللہ کا نام لینا بنیادی اصول ہیں۔ ذبح کا درست طریقہ اہم ہدایات حدیث کی روشنی میں حضرت محمد ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے جانور ذبح فرمایا، اللہ کا نام لیا اور تیز چھری استعمال کی۔(حوالہ: صحیح مسلم) خلاصہ صحیح ذبح وہ ہے جس میں اللہ کا نام لیا جائے، تیز چھری استعمال ہو، ضروری رگیں کاٹی جائیں اور جانور کو کم سے کم تکلیف دی جائے۔ مزید اسلامی رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔

Read more

ذبح کرنے کا صحیح طریقہ

اسلام میں جانور کو ذبح کرنے کا ایک مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے، جس میں صفائی، احتیاط اور اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ ✅ ذبح کا درست طریقہ: جانور کو قبلہ رخ لٹائیں بہتر یہ ہے کہ جانور کو بائیں کروٹ پر لٹایا جائے تاکہ ذبح کرنے میں آسانی ہو۔ تیز چھری استعمال کریں چھری اچھی طرح تیز ہو تاکہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو۔ اللہ کا نام لیں ذبح کرتے وقت یہ پڑھیں:"بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰہُ أَكْبَرُ” صحیح جگہ پر ذبح کریں جانور کے گلے میں حلق اور لبہ کے درمیان چھری چلائیں۔ضروری رگیں کاٹیںدرج ذیل چار چیزیں کاٹنا ضروری ہیں:حلقوم (سانس کی نالی)مری (کھانے کی نالی)دو رگیں (اوداج) جو خون لے جاتی ہیںگردن مکمل نہ کاٹیںسر کو الگ نہ کریں اور نہ ہی حرام مغز تک چھری پہنچائیں۔ ⚠️ اہم ہدایات: جانور کو تکلیف دینا منع ہے، اس لیے نرمی اختیار کریںمکمل خون نکلنا ضروری ہے، اسی میں پاکیزگی ہےذبح کے علاوہ دوسرے طریقے (جھٹکا وغیرہ) درست نہیں 📖 حدیث کی روشنی میں: صحابی حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہحضرت محمد ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے قربانی کی،"بسم اللہ، اللہ اکبر” پڑھا اور جانور کو لٹا کر ذبح فرمایا۔(صحیح مسلم) 📚 فقہی خلاصہ: فقہ حنفی کے مطابق اگر چار میں سے اکثر رگیں کٹ جائیں تو ذبیحہ حلال ہو جاتا ہے، لیکن مکمل طریقہ یہی ہے کہ چاروں کاٹ دی جائیں۔(ماخوذ از: فتاویٰ ہندیہ)⭐ خلاصہ:صحیح ذبح وہ ہے جس میں:اللہ کا نام لیا جائےتیز چھری استعمال ہوضروری رگیں کاٹی جائیںجانور کو کم سے کم تکلیف دی جائے

Read more