بارات کے کھانے کا شرعی حکم
:سوال نمبر: 266بارات میں جانا، اور لڑکی والے کے یہاں کھانا کیسا ہے؟ الجواب-و باللہ تعالیٰ التوفیق-: بارات جانا اسلامی طریقہ نہیں ہے- اسلامی طریقہ یہ ہے کہ جب رشتہ طے ہوجائے، تو لڑکا اور اس کے گھر والوں میں سے چند افراد لڑکی والے کے یہاں جاکر سادہ انداز میں نکاح گاہ میں، اور بہتر ہے کہ مسجد میں نکاح پڑھوا کر رخصتی کرواکر دلہن کو لے آئیں- شادی کے موقع سے کھانے کا انتظام لڑکی والے کی ذمہ داری نہیں ہے- عام طور سے لڑکی والے سماجی دباؤ میں کھانے کا انتظام کرتے ہیں، لہٰذا بارات میں جانے اور کھانا کھانے سے بچنا چاہیے-نبی کریم – صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ وصحبہ اجمعین وسلم- کا ارشاد ہے: "دع ما يريبك إلى ما لا يريبك”. (سنن نسائی، کتاب الاشربہ، باب الحث علی ترك الشبهات، حدیث نمبر 5711، سنن دارمی، حدیث نمبر 2532، بہ روایت: حسن بن علی – رضی اللہ تعالیٰ عنہما-، اور یہ صحیح درجہ کی حدیث ہے)-در اصل شادی کے موقع سے کھانے کا انتظام لڑکے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق عقد کے وقت یا عقد کے بعد، اور بہتر یہ ہے کہ میاں بیوی کے ملاپ کے بعد ولیمہ کا انتظام کرے- لیکن ولیمہ میں بھی تکلفات سے بچے، نام و نمود سے دور رہے اور ولیمہ میں مالدار کے ساتھ فقراء کو بھی مدعو کرے-خود نبی اکرم – صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلی آلہ واصحابہ اجمعین وسلم- نے اپنے ولیمہ کے موقع سے کبھی بکرے کے گوشت کا بھی انتظام فرمایا، تو کبھی کھجور اور ستو وغیرہ جو میسر تھا، اسی کا ولیمہ کیا-اسلامی تعلیمات و ہدایات اپنانے میں ہی خیر و برکت ہے- تمام مسلمانوں کو ان کا اہتمام کرنا چاہیے-حضرت انس بن مالک – رضی اللہ تعالیٰ عنہ- سے روایت ہے: "ما أولم النبي -صلى الله تعالى عليه و سلم- على شيء من نسائه ما أولم على زينب، أولم بشاة”. (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الولیمہ ولو بشاة، حدیث نمبر 5168، مسند ابی عوانہ، حدیث نمبر 4165)-ان ہی کی ایک دوسری روایت ہے:…
Read more