HIRA ONLINE / حرا آن لائن
ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون

ہجرت نبوی: ایک فکر، ایک عبادت، ایک درسگاہ اور ایک قانون تحریر: شیخ ونیس مبروکترجمانی: ڈاکٹر محمد اعظم ندوی نئے ہجری سال 1448 کے استقبال کے موقع پر مناسب نہیں کہ ہجرت نبوی ہمارے ذہنوں میں محض ایک تاریخی یادگار یا ماضی کا ایک عظیم واقعہ بن کر رہ جائے، جس کے اوراق ہم الٹتے پلٹتے رہیں یا جس کی تفصیلات سن کر متاثر ہوتے رہیں؛ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہجرت کو ایک زندہ فکر، ایک مشروع عبادت، ایک عظیم تربیتی درسگاہ، قوموں اور معاشروں کی زندگی میں جاری اللہ تعالیٰ کے اٹل قوانین میں سے ایک قانون کے طور پر سمجھیں۔ ہجرت ایک زندہ فکر ہے، محض ایک تاریخی سفر نہیں جو اپنے مسافروں کے ساتھ ختم ہوگیا ہو، یہ ایسی فکر ہے جو ہر اس وقت نئی زندگی کے ساتھ سامنے آتی ہے جب اہل ایمان پر حالات تنگ کر دیے جائیں، جب حق کے پیغام کو دبانے کی کوشش کی جائے، یا جب انسان کو اپنے دین، عزت اور ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے سے روک دیا جائے، جو شخص اصول، پیغام اور اقدار سے وابستہ ہو، اسے ہر دور میں ظالموں، ارباب جبر واستبداد اور فساد پھیلانے والوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے وقت میں یا تو وہ ایسی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں اپنے دین پر عمل کرسکے، اپنی عزت محفوظ رکھ سکے اور قرآن کے الفاظ میں: ﴿وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً﴾ (النساء:100) (جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سی پناہ گاہیں اور وسعت پائے گا)؛ یا پھر وہ اپنی اقدار سے دستبردار ہوکر ذلت ورسوائی کو قبول کرلے اور ظلم، جبر اور ناانصافی کو خاموشی سے دیکھتا رہے۔ اس اعتبار سے ہجرت ذمہ داری سے فرار کا نام نہیں، بلکہ بے بسی کے ماحول سے نکل کر صلاحیت اور عمل کے میدان میں قدم رکھنے کا نام ہے؛ جبر کی فضا سے تعمیر کی فضا کی طرف سفر کا نام ہے؛ اور محض حالات کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے ایسا…

Read more

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات

نیا ہجری سال: اصلاحِ نفس اور کامیاب زندگی کی نئی شروعات اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت وقت ہے۔ انسان کی پوری زندگی وقت ہی کے مختلف حصوں کا مجموعہ ہے۔ جب ایک ہجری سال اختتام پذیر ہوتا ہے اور نیا سال شروع ہوتا ہے تو درحقیقت یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری عمر کا ایک حصہ کم ہو گیا اور ہم اپنی آخرت کے سفر میں ایک منزل مزید آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے نئے اسلامی سال کا آغاز ہر مسلمان کے لیے غور و فکر، اصلاحِ احوال اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہے۔ ہجری سال کی بنیاد اور اس کا پیغام اسلامی کیلنڈر کی بنیاد ہجرتِ نبوی ﷺ پر رکھی گئی ہے۔ یہ وہ عظیم واقعہ ہے جس نے اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ مکہ مکرمہ میں ظلم و ستم کے باوجود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دینِ اسلام پر ثابت قدمی اختیار کی اور اللہ کے حکم سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین، عقیدے اور اصولوں پر ثابت قدم رہے، خواہ اس راہ میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ پیش آئیں۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں برائیوں، گناہوں اور غلط عادات کو چھوڑ کر نیکی، تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی کی طرف ہجرت کرے۔ وقت کی اہمیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے، جو اس کی عظمت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو وقت گزر جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ انسان مال و دولت دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن ضائع شدہ وقت واپس نہیں لا سکتا۔ نئے سال کا آغاز ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم نے گزشتہ سال اپنے وقت کو کس حد تک اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیا؟ کیا ہمارا وقت عبادت، علم، خدمتِ خلق اور نیک اعمال میں صرف ہوا یا فضول مشاغل اور غفلت…

Read more

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟

میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کیوں نہیں کہتا؟ از ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ متعدد علماء اور مفتیانِ کرام کی جانب سے مجھے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں طعن وتشنيع كے سخت لہجے میں سوال کیا گيا ہے کہ میں فلاں اور فلاں افراد سے تعلق کیوں رکھتا ہوں، ان کے بعض علمی، فکری یا سماجی کاموں کی تحسین کیوں کرتا ہوں، یا ان کے بارے میں حسنِ ظن کیوں رکھتا ہوں، جبکہ اکابر، علماء یا دینی ادارے انہیں کافر اور گمراہ قرار دے چکے ہیں۔ ان تمام خیر خواہوں اور ناصحین کی خدمت میں نہایت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ میرا موقف کسی مصلحت، تعلق یا گروہی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اصولی سوچ پر مبنی ہے، اور اسی اصول کی بنا پر میں کسی مسلمان کو کافر یا گمراہ کہنے سے حتی الامکان اجتناب کرتا ہوں۔ میرا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو شخص خود کو مسلمان کہتا ہے، اسلام سے اپنی نسبت کا اظہار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور قرآنِ مجید پر ایمان کا اقرار کرتا ہے، میں اسے مسلمان سمجھتا ہوں۔ اس کے باطن، نیت اور انجام کا فیصلہ اپنے ذمہ لینے کو نہ اپنا حق سمجھتا ہوں اور نہ اپنی صلاحیت۔ انسانوں کے دلوں کا حال اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اور قیامت کے دن بندوں کے ایمان و اعمال کا آخری فیصلہ بھی اسی کے حضور ہونا ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ میں خود بھی اسی عدالت میں کھڑا ہونے والا ایک محتاج بندہ ہوں، اس لیے دوسروں کے ایمان کے بارے میں فیصلے صادر کرنے میں بڑی احتیاط برتتا ہوں۔ میرے نزدیک تکفیر محض ایک علمی اصطلاح نہیں بلکہ ایک نہایت سنگین شرعی اور اخلاقی حکم ہے۔ کسی شخص کو مسلمان قرار دینے میں کوئی پیچیدگی نہیں، کیونکہ وہ خود اس کا دعویٰ کرتا ہے؛ لیکن کسی مسلمان کو اسلام سے خارج قرار دینا ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے اثرات دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہیں۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ اس باب میں غیر…

Read more

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ

مزاحمت کا راستہ اور بھارتی اپوزیشن کا مستقبل: راہل گاندھی کے بیان کا تجزیہ ​بھارت کی موجودہ سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں جمہوریت کے روایتی طریقے اور انتخابی حکمتِ عملیاں اپنی افادیت کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ ایسے میں انڈیا (INDIA) اتحاد کے حالیہ اجلاس میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کا بیان محض ایک سیاسی تقریر نہیں، بلکہ بھارتی اپوزیشن کی بقا اور مستقبل کی سیاست کا ایک نیا مینی فیسٹو (Manifesto) بن کر سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن کو واضح لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ اب روایتی سیاست کا وقت ختم ہو چکا ہے اور اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے—اور وہ ہے "مسلسل مزاحمت”۔ ​راہل گاندھی کا بیانیہ: راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے اجلاس میں اپوزیشن سے کہا ہے کہ اسے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، جب انتخابات منصفانہ نہیں ہیں تو مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔ راہل نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کے وجود پر بات کی ہے اور اس کے مستقبل پر بھی۔ ایک بات وہ بالکل واضح طور پر کہہ رہے ہیں: بھارت کے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں آر ایس ایس (RSS) کا بھی خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مزاحمت کے راستے پر چلیں گے تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظام کو شکست دے دیں گے۔” ​اس بیان کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں یہ بنیادی سوالات بھی گونجنے لگے ہیں کہ: کیا کانگریس اور اپوزیشن کے پاس آر ایس ایس جیسی گہری جڑیں رکھنے والی تنظیم سے لڑنے کا حوصلہ، صبر اور تنظیمی ڈھانچہ ہے؟ کیا اپوزیشن جماعتیں راہل کی طرح ہر روز مزاحمت کے لیے تیار ہیں، اور کیا خود راہل ہر روز اس محاذ پر صفِ اول میں نظر آئیں گے؟ ​تقریر کا گہرائی سے تجزیہ اور بنیادی ستون​اگر اس تقریر کا سیاسی, سماجی اور تنظیمی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے، تو اس کے تین بنیادی ستون سامنے آتے ہیں: ​1. انتخابی سیاست سے آگے کا…

Read more

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

عقیدۂ توحید کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں تمہید دنیا میں انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی گئی ہیں، لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ایمان اور توحید کی نعمت ہے۔ یہی وہ دولت ہے جس کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے، کتابیں نازل کی گئیں، جہاد کیے گئے، اور اللہ کے نیک بندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے شہادت قبول کرلی مگر کلمۂ توحید سے دستبردار نہ ہوئیں، حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون کے ظلم کو برداشت کیا مگر توحید کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی وہ عظیم دولت ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار مصائب برداشت کیے۔ توحید اسلام کی بنیاد، ایمان کی روح اور نجاتِ آخرت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کا سب سے قیمتی سرمایہ یہی عقیدہ ہے۔ توحید کا معنی و مفہوم توحید کا لغوی معنی ہے: کسی کو ایک ماننا اور یکتا تسلیم کرنا۔ شرعی اصطلاح میں توحید سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، افعال اور عبادات میں یکتا اور بے شریک ماننا۔ یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق، مشکل کشا، حاجت روا اور عبادت کے لائق واحد معبود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: عقیدۂ توحید انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکز تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء کی دعوت کا محور صرف اور صرف توحید تھا۔ توحید انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے انسان اور جنات کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا فرمایا: اس آیت سے واضح ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مقصد دنیا کمانا، شہرت حاصل کرنا یا عیش و آرام نہیں بلکہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت اور توحید کا قیام ہے۔ توحید عبادات کی قبولیت…

Read more

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 🖋️ احمد نور عینی یہ دور ایک ایسے ابراہیم کی تلاش میں ہے جو تہذیبِ حاضر کے تراشیدہ بتوں اور دانش فرنگ کی من موہ مورتیوں کو زمیں بوس کرے، دورِ خلیل کے آزر نے تو صرف پتھر کے بت تراشے تھے مگر دورِ جدید کے آزروں نے ترشوائے صنم اور، ایسا نہیں ہے کہ پتھر کے بت اس دور میں نہیں پائے جاتے ، ضرور پائے جاتے ہیں، مگر یہ دور سنگ وگل کے بجائے فکر ونظر کے بتوں کا دور ہے، ان بتوں کے آگے پجاری جبینِ سر کے بجائے جبینِ عقل خم کرتے ہیں، اس دور کے ابراہیم کو سنگ وگل کے بتوں کے ساتھ ساتھ فکر ونظر کے بتوں سے بھی نمٹنا ہے، مغربی افکار وباطل نظریات، ملحدانہ خیالات وغیر اسلامی نظام ہائےحیات یہ وہ بت ہیں جنھیں اس دور میں پوجا جاتا ہے۔ ان میں ایک بت ہے قومیت کا ، یہ ان تازہ خداؤں میں سب سے بڑا ہے، اس سے امت مسلمہ خانوں میں بٹتی ہے اور قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے، جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اسلام اس کا مخالف نہیں ہے، کیوں کہ اسلام دین فطرت ہے اور وطن سے محبت انسان کی فطرت میں داخل ہے، اس لیے اسلام حب وطن کے جذبات کا پورا احترام کرتا ہے؛ مگر اس بت کے پجاری وطن کا درجہ محبوب سے بڑھا کر معبود تک پہنچاتے ہیں، سرحدی لکیروں کی بنیاد پر مسلمانوں کو شہری اور اجنبی کے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں، رنگ ونسل کو مذہب پر مقدم کرکے وطن کو ہیئت اجتماعیہ انسانیہ کے اصول کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ اس بت کی پوجا کا اثر ہے کہ مسلمانوں کی مرکزیت عنقا ہوئی، دار الاسلام کے حصے بخرے ہوئے اور ہر حصے نے مستقل وجود کی شکل اختیار کی، شیرازۂ وحدت کے تار وپود ہواؤں میں بکھر گئے، اور بالآخرچاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا ایک بت ہے ہیومنزم کا، لغوی مفہوم کے اعتبار سے تو اس میں کوئی برائی نہیں…

Read more