مفتی محمد ثنا الہدی قاسمی کی شاہکار تصنیف یادوں کے چراغ
نور اللہ جاوید مشہور ادیب اور نامور انشاء پرداز، عظیم صحافی، محقق، مصنف مولانا عبد الماجد دریا بادی رحمۃاللہ علیہ نے لکھا ہے کہ’’بہار کی سرزمین آج سے نہیں گوتم بدھ کے زمانے سے پر بہار چلی آرہی ہے،کیسے کیسے عالم ،درویش، حکیم، ادیب،مورخ ، شاعر اسی خاک سے اٹھے اور یہیں کے خاک میں مل کر رہ گئے۔ یہ وہی بہار ہے جس کا پانی کوئی غبی پی لے تو وہ ذہین ہو جائے ،یہ گیان کی سرزمین ہے‘‘۔اگر بہار کے موجودہ گرگٹ نما سیاست دانوں کو فراموش کردیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ بہار ہمیشہ سے پر بہار اور مر دم خیز رہاہے، علماء ، صلحاء ، اولیاء ، صوفیا، ادباء ، اور شعرا کا مرکز رہا ہے، بہار کی تاریخ کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تین قدیم مذاہب جین مت، ہندو مت اور بدھ مت کی تاریخ اسی بہار کی سرزمین سے جڑی ہوئی ہے۔بہار کا ویشالی ضلع کی تاریخ کومہابھارت کی تاریخ سے جوڑا جاتا ہے۔مورخین کایہ بھی دعویٰ ہے کہ 600سال قبل مسیح یہاں سب سے پہلی جمہوری حکومت قائم تھی ۔ ویشالی ضلع بدھ ازم اورجن مت کے حوالے سے بھی کافی اہم ہے۔یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ گوتم بدھ اپنا آخری پیغام اسی سرزمین سے دیا تھا۔جین دھرم کے بانی مہاویر کا جنم استھان بھی ویشالی ہے۔ویشالی دراصل راجہ ویشال سے منسوب ہے اور مہابھارت میں انہیں ایک عظیم بادشاہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔گوتم بدھ اس سرزمین کا متعدد مرتبہ دور ہ کیا ۔ جب راجہ اشوک نے اس دھرم کو اپنا یا تو انہوں نے اپنا ایک اسٹمپ یہاں بنایا تھا۔ایک دور میں ویشائی تجارت اور فنون لطیفہ کے مرکز کے طور پر بھی متعارف تھا۔مسلمانوں کی تاریخ کے حوالے سےبھی یہ پورا خطہ تاریخی ہے۔1857 کے انقلاب کے بعد نو آبادیات اور علاحدگی پسندگی کی مخالفت میں اس علاقے کی اہم شخصیات نے تاریخی کردار ادا کیا ۔ان میں شفیع دائودی کا نام سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔شفیع دائودی تحریک آزادی کے وہ عظیم شخصیت ہیں…
Read more