HIRA ONLINE / حرا آن لائن
عقیدہ توحید ایمان و اسلام کی بنیاد

عقیدهٔ توحید ایمان واسلام كی بنیاد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ‏‎#شمع_فروزاں🕯 اهل سنت اور اهل تشیع مسلمانوں كے دو قدیم اور بڑے فرقے هیں، ان كے درمیان بنیادی اختلاف امامت وولایت كا هے، اهل سنت كے نزدیك امام المسلمین كا انتخاب مسلمانوں كے ارباب حل وعقد كے ذریعه هوتا هے، (الاحكام السلطانیه، لابی یعلی:۱؍۳۳، فصول فی الامامۃ)؛ چنانچہ حضرت ابو بكر صدیق رضی الله تعالیٰ عنه كا صحابه میں سے ارباب حل عقد نے انتخاب كیا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۶۸۳، كتاب الحدود، باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت) حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنه كو اگرچه حضرت ابو بكر نے صحابه كے مشوره سے نامزد فرمایا تھا؛ لیكن خود حضرت عمر ؓ نے پیش كش كی تھی كه اگر مسلمان چاہیں تو اُن كے هاتھ پر بیعت كریں یا كسی اور كے هاتھ پر بیعت كر لیں؛ مگر سبھوں نے ان كے نام پر اتفاق كیا (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۰۰۷۳، كتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم ) پھر حضرت عمرؓ نے اپنی شهادت كے وقت صحابهؓ میں سے چھ ممتاز شخصیتوں كو نامزد كیا كه مسلمان ان میں سے كسی كو امیر منتخب كر لیں، حضرت عبد الرحمٰن بحضرت عثمان غنی رضی الله تعالیٰ عنه تیسرے خلیفه راشد مقرر هوئے (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۳۷۰۰، كتاب فضائل اصحاب النبی صلی الله علیه وسلم ) حضرت عثمانؓ كی مظلومانه شهادت كے بعد مدینه كے ارباب حل وعقد نے به  اصرار   سیدنا حضرت علی كرم الله وجهه كے ہاتھوں پر بیعت كیا، اگرچه حضرت معاویهؓ اور ان كے گروه نے بیعت نهیں كی؛ لیكن ایسا نهیں تھا كه وه حضرت علی ؓكو خلافت كا مستحق نهیں سمجھتے تھے؛ بلكه ان كا مطالبه تھا كه پهلے قاتلان عثمان سے قصاص لیا جائے، حضرت علی ؓ اور ان كے بعد چھ ماه حضرت حسن ؓكی حكومت رهی، اسی پر خلافت راشده ختم هوگئی، یه خود رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم كی پیشین گوئی تھی كه میرے بعد ۳۰؍ سال خلافت رهے گی، اس كے بعد ملوكیت قائم هو جائے گی، (سنن…

Read more

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل

میاں بیوی کے اختلافات: اسباب اور اسلامی حل ✒️: محمدجمیل اخترجلیلی ندوی ہدی چلڈرنس اکیڈمی، بلیاپور، دھنباد(جھارکھنڈ) رابطہ نمبر: 8292017888 اللہ تعالیٰ نے انسان کو تنہا زندگی گزارنے کے لیے پیدا نہیں فرمایا؛بل کہ اس کی فطرت میں محبت، الفت اور سکون کی خواہش رکھی، اسی لیے اسلام نے نکاح کو ایک مقدس عبادت، مضبوط عہد اور پاکیزہ رشتہ قرار دیا ہے،نکاح صرف دو افراد کا نہیں؛ بل کہ دو خاندانوں کا تعلق ہے اور یہی تعلق ایک صالح معاشرہ کی بنیاد بنتا ہے، اگر گھر آباد ہوں گے تو معاشرہ آباد ہوگا اور اگر گھروں میں اختلاف، نفرت اور بے سکونی ہوگی تو پورا معاشرہ اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔   آج ہمارا معاشرہ جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں میاں بیوی کے اختلافات، گھریلو جھگڑے، علیحدگی اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح نہایت تشویش ناک ہے، معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، بچوں کا مستقبل برباد ہو جاتا ہے، والدین پریشان رہتے ہیں اور خاندان تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ان اختلافات کے اسباب کو سمجھیں اور ان کا اسلامی حل اختیار کریں۔   اللہ تعالیٰ نے نکاح کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾(الروم:21)’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں‘‘، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے تین بنیادی ستون بیان فرمائے ہیں:(۱)سکون(۲)محبت(۳)رحمت، اگر ان تین چیزوں کو گھر سے نکال دیا جائے تو گھر صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت رہ جاتا ہے، جنت کا نمونہ نہیں رہتا۔ اسی طرح شوہروں کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ…

Read more

موجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح بات

بسم اللہ الرحمن الرحیم *موجودہ ہنگامہ آرائی اور بالکل واضح بات*     *سید احمد اُنیس ندوی* مؤرخہ 29 جون بروز پیر مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ تعالی اس دار فانی سے رخصت ہوئے تھے۔ راقم نے مولانا کی تعزیت میں چند کلمات بھی عرض کیے تھے اور پھر مولانا کے جنازے میں بھی شریک ہوا۔ مولانا کے وصال کے بعد گزشتہ تین چار دنوں سے جو ہنگامہ آرائی سوشل میڈیا پر جاری ہے، میں نے طے کیا تھا کہ اس پر کچھ نہیں لکھوں گا۔ لیکن خود میرے پاس ذاتی طور پر جو پیغامات آ رہے ہیں، اس کے بعد ضروری محسوس ہوتا ہے کہ چند اصولی باتیں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کر دی جائیں اور ضرورت پڑے تو ان کو ریکارڈ بھی کرا دیا جائے تاکہ اگر کسی کو غلط فہمی ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے، شکوک و شبہات ہوں تو وہ رفع جائیں اور خلط مبحث نہ ہو سکے۔ البتہ فتنہ انگیزی اور شر پسندی کا کسی کے پاس بھی علاج نہیں ہے۔ پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مولانا نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بارے میں اپنے جن خیالات اور نظریات کا مسلسل اظہار شروع کیا تھا، تو خود راقم سطور نے اور میرے علاوہ مولانا کے سیکڑوں طلبہ اور علمائے امت کی غالب ترین اکثریت نے ان موضوعات کے تناظر میں مولانا سے علانیہ اختلاف کیا تھا۔ ہم لوگوں نے نہ تو کبھی اس موضوع سے متعلق مولانا کا دفاع کیا، نہ ان کی تائید و موافقت کی اور نہ ہی ان کی اس موضوع سے متعلق تقریروں اور تحریروں کی کبھی نشر و اشاعت کی۔ بلکہ اس کی وجہ سے ان کے دیگر موضوعات بھی نشر و اشاعت کے اعتبار سے یقینی طور پر متاثر ہوتے چلے گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ خود راقم سطور نے اور میرے جیسے متعدد طلبہ نے اور اہل علم نے ان موضوعات پر تنقیدیں بھی کیں، ان سے اختلاف بھی کیا اور وہ تعداد اس کے علاوہ ہے جنہوں…

Read more

قیام اللیل: صالحین کا طریقہ

قیام اللیل: صالحین کا طریقہ قیام اللیل (رات کی نماز) اسلام کی نہایت عظیم عبادت اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ انبیائے کرام علیہم السلام اور نیک لوگوں کا معمول رہا ہے۔ رات کی تنہائی میں بندہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے، جب دنیا کے شور و غل اور مصروفیات ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا﴾ "اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کیجیے، یہ آپ کے لیے اضافی عبادت ہے۔ امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود عطا فرمائے گا۔” (سورۂ الإسراء: 79) اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ۝ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ "وہ رات کو بہت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں اللہ سے مغفرت مانگا کرتے تھے۔” (سورۂ الذاریات: 17-18) قیام اللیل کی فضیلت فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کا ذریعہ ہے۔ دل اور چہرے میں نور پیدا کرتی ہے۔ دعا کی قبولیت اور گناہوں کی مغفرت کا سبب بنتی ہے۔ مضبوط ایمان اور اللہ سے گہری وابستگی کی علامت ہے۔ دل میں سکون، اطمینان اور روحانی راحت پیدا کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔” (صحیح مسلم) ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "قیام اللیل کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے، تمہارے رب کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، گناہوں کا کفارہ ہے اور انسان کو گناہوں سے روکتا ہے۔” (سنن ترمذی، جسے متعدد اہلِ علم نے حسن قرار دیا ہے) سلف صالحین قیام اللیل کو استقامت اور اللہ کی توفیق حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: "میں عبادت میں کوئی چیز رات کے آخری حصے کی نماز سے زیادہ دشوار (نفس پر بھاری) نہیں جانتا۔”…

Read more

سیرتِ حسنین : مصلحت و مقاومت کا عظیم استعارہ

سیرت حسنین : مصالحت و مقاومت کا عظیم استعارہ از : مولانا ابو الجیش ندوی    ​”حسن اور حسین نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں” — (الحدیث) ​امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ساداتِ اہل بیت کا مقام محض نسبی فضیلت کا نہیں، بلکہ وہ دینِ اسلام کے عملی محافظ، شارح اور شارعِ اعظم ﷺ کے مزاج شناس تھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے ان دونوں نواسوں کی تربیت اس انداز سے فرمائی تھی کہ وہ رہتی دنیا تک کے لیے دو مختلف مگر تکمیلی (Complementary) نمونہ ہائے عمل بن سکیں۔ جہاں حضرت امام حسنؓ نے امت کو ایثار، عفو اور صلح کا درس دیا، وہاں حضرت امام حسینؓ نے اصول پرستی، جرات اور باطل کے سامنے سینہ سپر ہونے کا عزم سکھایا۔ یہ دونوں رویے بظاہر مختلف نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں: امت کی بقا اور دین کا تحفظ۔ ​۱۔ حسنِ تدبر اور صلحِ حسنؓ: عظیم نقصان سے بچانے کا فلسفہ ​جب ہم حضرت امام حسن علیہ السلام کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں، تو جو سب سے نمایاں پہلو سامنے آتا ہے وہ آپ کا عزمِ صلح اور امت کو خونریزی سے بچانے کی تڑپ ہے۔ ​الف) تاریخی پس منظر اور خلافت کی دستبرداری ​حضرت علی المرتضیٰؓ کی شہادت کے بعد کوفہ اور دیگر اسلامی مراکز میں حضرت امام حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی۔ آپ مسلمہ طور پر خلیفۂ راشد تھے۔ دوسری طرف شام کی قوتیں تھیں اور امت ایک بار پھر ایک ایسی ہولناک خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑی تھی جس میں ہزاروں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔ ​ب) صلح کا فکری و سیاسی محرک ​حضرت امام حسنؓ بزدل نعوذ باللہ نہیں تھے، آپ شیرِ خدا کے بیٹے تھے اور جنگِ جمل و صفین میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھا چکے تھے۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ: ​امت کی افرادی قوت کا زیاں: اگر جنگ ہوتی تو مسلمانوں کی بہترین صلاحیتیں آپس میں لڑ کر ختم ہو جاتیں۔ ​خارجی خطرات: اسلامی سلطنت کی سرحدوں پر رومی اور دیگر سلطنتیں…

Read more

دس محرم کا روزہ کیوں ؟

دس محرم کا روزہ کیوں ؟ 1️⃣ مدینہ منورہ آمد پر رسول اللہ ﷺ نے یہود کو عاشورا کا روزہ رکھتے دیکھا کیونکہ اس دن فرعون غرق ہوا تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نجات ملی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر ہمارا حق تم سے زیادہ ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابن ماجہ: 1734) 2️⃣ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یوم عاشورہ کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ (صحیح مسلم: 1162) 3️⃣ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان شاء اللہ آئندہ سال ہم 9 محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔“ اگلا سال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم: 1134) 4️⃣ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو عاشورہ کے علاوہ کسی دن اور رمضان کے سوا کسی مہینے کو افضل سمجھ کر روزے کا خصوصی اہتمام کرتے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری: 2006)

Read more