Skip to content HIRA ONLINE / حرا آن لائن
18.02.2026
Trending News: ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
  • Get Started
18.02.2026
Trending News: ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسیصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدماتقرآن کے پانچ اساسی علوماُس بازار میں : شورش کاشمیریماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسیایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظرQuranic Arabic Grammar Courseشب برات کی فضیلتزکوة کی اہمیت احادیثِ نبویہ کی روشنی میںطبقاتی نظام کی کچھ اہم خصوصیاتیو جی سی کے نئے ضابطےہنگامہ ہے کیوں برپا؟!!!شبِ برات کی شرعی حیثیت اور ہماری ذمہ داریاںاہلِ سنت والجماعت دیوبند کے مؤقف کی روشنی میںدعوت ڈبیٹ پر مقدم ہےعصر حاضر میں مکاتب کی اہمیتالوافی شرح اصول الشاشیشعبان المعظم: رمضان کی تیاری اور مغفرت کا مہینہپالنپور میوزیم یادیں، باتیںوسوسہ کیا ہوتا ہے ؟اسراء ومعراج کے مضمرات محمد اعظم ندویطبقاتی نظام ، ایک تعارفبوئے گُل‘ نالۂ دل‘ دُود چراغ ِمحفل(مولانا جعفر مسعود حسنی ندویؒ)غامدی و راشد شاز کیا قرآن کے ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں ملتی ہیں ؟اسلامی معیشت کے بنیادی اصولعقل کا دائرۂ کار اور اس کے حدودڈاکٹر محمد منظور عالمؒ: آزاد ہندوستان کا ایک بامقصد دانشورمسئلۂ شر اور بہوجن نفسیاتمولانا سيد ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليه اور تصوفندوہ اور علم کلامخواتین کا مسجد میں آنا اور اس کی شرعی و تربیتی اہمیتقرآن بحیثیت دستورِ انسانیت: ایک فکری مطالعہسہ روزہ ’دعوت‘ کے سابق ایڈیٹر پرواز رحمانی کی آخری پروازپرواز رحمانی – ذمے دارانہ صحافت کی آبروعالم اسلام: ایک جائزہامام غزالی علم و دانش کے پیکر تھےاردو صحافت کے امین ۔۔۔۔ پرویز رحمانیجہاد ضرورت اور فضیلتندوه اور علم كلامبڑی جیل سے چھوٹی جیلامریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہنمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیںعلامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائدخدا كا وجود اور كائنات كی شہادتسالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دلکیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے؟از Yethroshکامیابی کے اصول (laws of success)جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیںمفتی شمائل احمد ندوی: تعارف، علمی و فکری خدماتقارونی صفت از : مولانا محمد عارف ندویشر کا مسئلہ "Problem of Evil "۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندنحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ🔰انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں یہ بات ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمصنوعی ذہانت ۔۔ ایجابی اور سلبی پہلوکرسمس کے موقع پرعیسائی بھائیوں کے لئے خاص تحفہنام کتاب : تراوش قلماک بزم وفا پروانوں کیکیا خدا کا وجود ہے؟مطالعۂ کتب خوش گوار ازدواجی زندگی: مترجم ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی : ایک تعارفخواتین کی نمازِ باجماعت فقہاء کی نظر میں ۔دار العلوم دیوبند کی سیربینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکامدو دن دیارِ علم و معرفت دیوبند میںدار العلوم (وقف) دیوبند میں مولانا انور شاہ کشمیری پر سمیناروہ آئے اور ہمیں بھولا ہوا سبق یاد دلا گئےحضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقشبندیہمارے عہد کی عظیم شخصیت"مزاحمت” ایک مطالعہعلامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ: برصغیر کی حدیثی روایت کے معمارمنہج، امتیازات، آراء اور اثرات—ایک جائزہعلامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی — عصرِ حاضر کے ممتاز مصنف، محقق اور مفکرصفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام میڈیالٹریسی کے عنوان سے پروگرام کاانعقادصحافی غفران نسیم،صحافی سعودالحسن،مفتی منورسلطان ندوی ،اور مولانامصطفی ندوی مدنی کاخطاب*_بابری مسجد کے ساتھ نا انصافی_*وارث نہیں ، غاصب از : مولانا مفتی محمد اعظم ندوی🔰جہاد ، حقیقت اور پروپیگنڈه🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‏‎کامیاب ازدواجی زندگی کے تقاضےعلم کیا ہے ؟*عوامی مقامات پر نماز ادا کرنالفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائمانحرافات غامدیبدلتے مغربی نظام کی دروں بینیکرپٹو کرنسی حقیقت ، ماہیت اور احکامسہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(٢)سہ روزہ سمینار میں بعنوان: ‘بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ(١)ہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہو ؟🔰ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل۔اسلام میں سود کی حرمت قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائیقرض حسن اور اس سے متعلق احکامساس جو کبھی بہو تھیعلامہ شبیر احمد عثمانی ایک عظیم مفسر قرآنبہار: این ڈی اے کے گلے ہار، مہا گٹھ بندھن کی ہارکیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟ مائیکرو فائنانس کے شرعی احکامہیلتھ انشورنسملک و ملت کی نازک صورت حال میں مسلمانوں کے لئے رہنما خطوط مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کی تحریروں کی روشنی میںتلفیق بین المذاھب اور تتبع رخص ایک مطالعہ از : اسجد حسن ندویبچوں کی اسلامی تربیت : کچھ رہ نما اصول ڈاکٹر محمد سلیم العواترجمہ: احمد الیاس نعمانیخلافتِ بنو امیہ تاریخ و حقائقسادگی کی اعلی مثال : ڈاکٹر محمد نذیر احمد ندوی رحمۃ اللہ علیہ
  • Home
  • About us
  • Contact
  • Books
  • Courses
  • Blog
  • قرآن و علوم القرآن
  • حدیث و علوم الحدیث
  • فقہ و اصول فقہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • مضامین و مقالات
    • اسلامیات
    • سیرت و شخصیات
    • فکر و نظر
    • کتابی دنیا
    • سفر نامہ
    • گوشہ خواتین
HIRA ONLINE / حرا آن لائن

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا - اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا

  • Get Started

قربانی: مادی فوائد اور سماجی اثرات

  1. Home
  2. قربانی: مادی فوائد اور سماجی اثرات

قربانی: مادی فوائد اور سماجی اثرات

  • hira-online.comhira-online.com
  • اسلامیات
  • مئی 30, 2025
  • 0 Comments

ڈاکٹر محمد اعظم ندوی

استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

قربانی! محض ایک مذہبی رسم یا خونریزی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا جامع عمل ہے جو روح کو جلا دیتا ہے، سماج کو جوڑ دیتا ہے، معیشت کو تقویت دیتا ہے اور شریعت کے مقاصد کو پورا کرتا ہے، یوں تو دنیا کے بیشتر مذاہب میں نذر ونیاز کا تصور پایا جاتا ہے، لیکن اسلام میں قربانی کو جو مقام ومنزلت حاصل ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ قربانی خالص عبادت کا درجہ رکھتی ہے، آج کے جدید، سوشل میڈیا زدہ دنیا میں جہاں ہر چیز کو ROI یعنی Return on Investment کے ترازو میں تولا جاتا ہے، قربانی کے مفہوم کو بھی کچھ لوگ ازسرِنو جانچنے لگے ہیں، اور اسے عقل کے میزان میں تولنے لگے ہیں، جب کہ یہ عشق ومحبت کا مظہر ہے، قربانی فقط ذبح کا نام نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ} (الحج: 37) (اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے، نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے)، یہ آیت وہ بنیادی تمہید فراہم کرتی ہے جو ہمیں سمجھاتی ہے کہ قربانی دراصل ایک علامت ہے — اندرونی خلوص، جذب دروں، اطاعتِ خداوندی اور اجتماعی شعور کے اظہار کی، گویا خون کی بو نہیں، خلوص کی خوشبو مطلوب ہے۔

لیکن اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ محض باطنی پہلو پر قناعت نہیں کرتا، وہ ہر عمل کو ایسے ڈھانچے میں ڈھالتا ہے جس سے فرد بھی نفع پائے، اور سماج بھی سنورے؛ لہٰذا قربانی کا یہ خالص روحانی عمل، اپنی ظاہری صورت میں بھی بے شمار فوائد کا حامل ہے،

اسلامی فقہ کے ماہرین جب "مقاصد شریعت” پر گفتگو کرتے ہیں تو وہ پانچ بڑے مقاصد کا ذکر کرتے ہیں:1. حفظ الدین (دین کا تحفظ)2. حفظ النفس (جان کا تحفظ)3. حفظ المال (مال کا تحفظ)4. حفظ العقل (عقل کا تحفظ)5. حفظ النسل (نسل کا تحفظ)

دلچسپ امر یہ ہے کہ قربانی بیک وقت کم از کم تین اہم مقاصد کو براہِ راست پورا کرتی ہے:

دین کا تحفظ: قربانی شعائرِ اسلام میں سے ہے، اس کا احیاء دین کے علانیہ اظہار کی صورت ہے، خصوصاً ہندوستان جیسے تنوع سے بھرپور ملک میں۔

مال کا تحفظ اور اس کا تزکیہ: مال سے جانور خریدا جاتا ہے، یعنی مال خرچ ہوتا ہے، مگر اس سے نفس کی تطہیر، غربا کی امداد، گوشت کی فراہمی اور معیشت کا ایک مکمل نظام بنتا ہے، گویا مال کا صرف خرچ نہیں، circulate ہونا، flow میں آنا — یہی اسلامی معاشیات کی روح ہے۔

نفس کی تطہیر: انسان جب جانور کے سامنے چھری چلاتا ہے تو دراصل اپنی انا، بخل، اور غفلت پر چھری چلاتا ہے، گویا قربانی نفس کا مجاہدہ ہے، جو مادی بھی ہے اور معنوی بھی، اور انسان کی جان جانور کی قربانی کے عوض محفوظ کردی گئی، یہ اس کا شکرانہ ہے۔

بعض روشن خیال طبقے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قربانی میں صرف جانور ضائع ہوتا ہے، ماحول خراب ہوتا ہے اور صرف خون بہتا ہے، اس سے غربت نہیں مٹتی، جب کہ یہی لوگ افطار پارٹی میں ہزاروں اڑاتے ہیں، اور خالص دنیا داری میں تو کروڑوں، یہاں عبدیت کا امتحان ہے، جس سے عقلیت پرستی مانع ہوتی ہے، غور کریں تو قربانی خالص عبادت ہونے کے ساتھ ایک نفع بخش معاہدہ ہے — خدا کے ساتھ بھی، سماج کے ساتھ بھی، اور اپنی ذات کے ساتھ بھی۔

قربانی کی معاشی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کو عبادت کے ساتھ ہی ایک معاشی سرگرمی (economic activity) کے طور پر بھی دیکھیں، یہ محض ایک دن یا تین دن کا عمل نہیں بلکہ ہفتوں پہلے سے معاشی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں اور ہفتوں بعد تک جاری رہتی ہیں، جس کے کئی پہلو ہیں:

1. جانوروں کی خرید وفروخت:دیہی کسان مہینوں پہلے جانور پالتے ہیں، ویشی منڈیاں سجتی ہیں، جن میں نقل وحمل، چارہ، خیمے، مزدور سب جُڑ جاتے ہیں، لاکھوں کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے، جو دیہی معیشت میں نئی جان ڈالتا ہے۔2

. قصاب اور مزدور طبقہ:عید الاضحیٰ کے دنوں میں قصاب سب سے مصروف اور ‘بزنس کلاس’ کے مسافر بن جاتے ہیں، مزدور، صفائی والے، گوشت بنانے والے، سپلائی چین میں ہر کوئی شامل ہو جاتا ہے۔3

. چمڑے کی صنعت:کھال جمع کرنے والے NGO یا تاجر، تنی ہوئی رسیوں کے ساتھ ہر گلی میں حاضر ہوتے ہیں، بھارت میں چمڑا ایک بڑی صنعت ہے، جو لاکھوں ہنر مندوں کو روزگار دیتی ہے — مسلمانوں، دلتوں، اور دیگر کمزور طبقات کو، جوتے، بیلٹ، بیگ، فائل کور، حتی کہ گاڑی کے سیٹ کور وغیرہ اسی چمڑے سے تیار ہوتے ہیں، افسوس کہ مسلمانوں کی اس نفع بخش تجارت پر شب خوں مار دیا گیا۔4

. خواتین کی گھریلو معیشت:کلیجہ، پائے، مغز، گوشت محفوظ کرنا، اچار بنانا — یہ سب وہ سرگرمیاں ہیں جو گھریلو خواتین کی دستکاری اور پکوان کو بڑھاتی ہیں، گھر گھر گوشت تقسیم ہوتا ہے، مہمان آتے ہیں، خواتین کی باورچی خانہ کی معیشت سرگرم ہو جاتی ہے، اور لا تعداد لوگوں کو قربانی کے دنوں میں اور بعد تک مفت کھانا نصیب ہوتا ہے۔5

. گوشت کی معیشت:گوشت بیچنے والے، فرج اور ڈیپ فریزر بنانے والی کمپنیاں، برف والے، مصالحہ فروش، یہاں تک کہ باربی کیو چارکول والے بھی مستفید ہوتے ہیں۔6. شہری و دیہی روابط:شہر والے دیہات سے جانور منگواتے ہیں، یا وہاں جا کر خریداری کرتے ہیں، دیہی علاقوں میں نقدی آتی ہے، جس سے مقامی بازاروں میں جان آتی ہے، افسوس کہ گاؤ رکھشکوں نے بیڑا غرق کر رکھا ہے، ایک جانور کی محبت میں مسلمانوں ہر ہجومی حملے کرتے ہیں اور ملک کی معیشت کی بھی کمر توڑتے ہیں:بایں عقل ودانش بباید گریست7

. زکوٰۃ و صدقات کی تکمیلی صورت:قربانی کے گوشت سے وہ لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں جنہیں عام حالات میں گوشت نصیب نہیں ہوتا، اور زکوۃ وصدقات کے مقاصد یعنی غریبوں کی حاجت براری کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے۔8. ماحول اور صفائی:اگر بلدیاتی ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں تو یہ موقع صفائی، ماحولیات اور مشترکہ خدمت کا بہترین ماڈل بن سکتا ہے۔قربانی کا تصور یہاں ہندو بھائیوں کو بھی جانوروں کی افادیت کے نئے رخ سے روشناس کراتا ہے، سیاسی رکاوٹوں، میڈیا کے پروپیگنڈے، اور سماجی دباؤ کے باوجود مسلمان قربانی کرتے ہیں — یہ مذہبی آزادی کا ایک عملی اظہار ہوتا ہے، مسلمانوں کی معاشی شرکت اور احترامِ قانون کے ساتھ قربانی ہندوستانی جمہوریت کا ایک خوبصورت نمونہ بن سکتی ہے، اگر قربانی کے جانور پہلے سے پالے جائیں، قدرتی چارے پر رکھے جائیں، اور صفائی کے اصول اپنائے جائیں تو یہ ایک ماحول دوست environment friendly عمل بن سکتا ہے، گوشت کا بقیہ حصہ compost میں تبدیل ہو سکتا ہے، ہڈیاں کھاد یا جانوروں کی خوراک میں استعمال ہو سکتی ہیں۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ قربانی صرف ایک ذبح کا عمل نہیں، یہ ایک جامع، ہمہ گیر، بہبود پر مبنی نظامِ خیر ہے، یہ مال کی طہارت ہے، نفس کی تربیت ہے، سماج کی تنظیم ہے، اور معیشت کی توانائی کا ذریعہ ہے، یہ شعور کی بیداری ہے، خلوص کا اظہار ہے، اور مقاصدِ شریعت کا عملی مظہر ہے۔ویسے بھی انسانی فطرت اور جبلّت کے اہم تقاضوں میں غذا بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اور گوشت خوری اس غذا کا ایک فطری، تاریخی اور ثقافتی عنصر ہے، مختلف مذاہب نے اسے کبھی عبادت کا ذریعہ بنایا، کبھی روحانی مجاہدہ کا موقع، اور کبھی اخلاقی آزمائش کا میدان، اسلام میں گوشت خوری کو نہ صرف مباح قرار دیا گیا ہے بلکہ قربانی، ذبیحہ اور حلال کے اصولوں کے ذریعے اسے تزکیہ نفس، اطاعتِ رب، اور سماجی خیرات سے جوڑ دیا گیا ہے، یوں گوشت خوری محض ایک حیوانی عمل نہیں، بلکہ ایک اخلاقی و روحانی تجربہ بن جاتا ہے، جو غربت کے خلاف ایک علامتی مزاحمت بھی ہے، اور نفس پر غلبے کا مظہر بھی، ہم دیگر مذاہبِ کی بات کریں تو یہودیت میں گوشت خوری کا تصور اگرچہ موجود ہے، مگر اسے سخت شرعی قوانین (کوشر) کے تحت منضبط کیا گیا ہے، یہودی صرف ان جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں جو مخصوص صفات کے حامل ہوں، اور جنہیں ایک ماہر ذبیحہ کار شرعی طریقے سے ذبح کرے، خون کا مکمل اخراج ضروری ہے، اور گوشت و دودھ کو کبھی ایک ساتھ نہیں کھایا جا سکتا، کوشر گوشت صرف غذائی عنصر نہیں، بلکہ یہودی تہذیب، عبادت اور طرزِ حیات کا ایک اہم جزو ہے، خاص ایام اور تہواروں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جیسے عید الفصح کے مواقع پر، جہاں گوشت خوری مخصوص شرائط کے تحت انجام دی جاتی ہے، یہ عمل بھی یہود کے مذہبی قوانین خور ونوش "کشروت” کے تابع ہے، وہ کھانے جو ہلاخاہ (تحریری اور زبانی توریت پر مشتمل یہودی قوانین کے مجموعہ) کے مطابق حلال ہیں انھیں کوشر کہا جاتا ہے۔دوسری طرف، مسیحیت میں گوشت خوری کی عمومی اجازت پائی جاتی ہے، البتہ کیتھولک عیسائی "لینٹ” جیسے روحانی ایام میں اس سے پرہیز کرتے ہیں، گویا روحانی ریاضت کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، ہندو مت میں معاملہ تہذیبی وزمانی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتا رہا— ویدک دور میں یگیہ کی قربانیوں میں گوشت کا استعمال عام تھا، ہندو مت میں پانچ عظیم قربانیاں، جنہیں پنج مہا یگیہ کہا جاتا ہے، زندگی کے مختلف شعبوں میں فرض کی ادائیگی اور روحانی پاکیزگی کا مظہر ہیں، بھووت یگیہ تمام جانداروں—جانوروں اور پرندوں—کے ساتھ شفقت کا اظہار ہے، جب کہ پتھری یگیہ آبا واجداد کی روحوں کے لیے خراج عقیدت ہے، دیو یگیہ دیوتاؤں کے حضور عقیدت کے اظہار کا ذریعہ ہے، جس میں ویدک منتر اور آہوتی شامل ہوتی ہے، برہم یگیہ علم کی بقا، ویدوں کی تعلیم و تدریس اور روحانی پاکیزگی کا مظہر ہے، اور اتھی یگیہ مہمان نوازی، دردمندی اور انسان دوستی کی اعلیٰ مثال ہے، یہ تمام یگیہ ہندو عقیدے میں کائناتی توازن، اخلاقی ذمہ داری اور روحانی ارتقاء کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔مگر بدھ مت وجین مت کے اثر سے "اہنسا” کا تصور عام ہوا اور اس نے سب کچھ بدل دیا، یہاں تک کہ گائے کے ذبیحہ کو قومی و مذہبی تقدیس کا عنوان بنا دیا گیا، آج ہندوستانی تناظر میں یہ اختلاف مذہبی آزادی، ثقافتی کشمکش اور سماجی ہم آہنگی کا حساس سوال بن چکا ہے، جہاں گوشت خوری صرف غذا نہیں، ایک نظریاتی بیانیہ اور تشخص کی علامت بن چکی ہے؛ اس لیے مذاہبِ عالم میں گوشت خوری کو صرف جسمانی تغذیہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، روحانی اور تمدنی علامت کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا، اور اسی اعتبار سے قربانی کی اسلامی روح سے برادران وطن کو واقف کرانے کے ساتھ ہی قربانی کے عمل میں احتیاط کے تمام تر تقاضوں کی رعایت کرنا حکمت ودانش مندی کی بات ہوگی۔

hira-online.com

،حراء آن لائن" دینی ، ملی ، سماجی ، فکری معلومات کے لیے ایک مستند پلیٹ فارم ہے " حراء آن لائن " ایک ویب سائٹ اور پلیٹ فارم ہے ، جس میں مختلف اصناف کی تخلیقات و انتخابات کو پیش کیا جاتا ہے ، خصوصاً نوآموز قلم کاروں کی تخلیقات و نگارشات کو شائع کرنا اور ان کے جولانی قلم کوحوصلہ بخشنا اہم مقاصد میں سے ایک ہے ، ایسے مضامین اورتبصروں وتجزیوں سے صَرفِ نظر کیا جاتاہے جن سے اتحادِ ملت کے شیرازہ کے منتشر ہونے کاخطرہ ہو ، اور اس سے دین کی غلط تفہیم وتشریح ہوتی ہو، اپنی تخلیقات و انتخابات نیچے دیئے گئے نمبر پر ارسال کریں ، 9519856616 hiraonline2001@gmail.com

پوسٹوں کی نیویگیشن

عشرۂ ذی الحجہ: بندگی کی جولاں گاہ اور تسلیم ورضا کا موسمِ بہار
خلع کی حقیقت اور بعض ضروری وضاحتیں

Related Posts

  • hira-online.comhira-online.com
  • استقبال رمضان
  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی
  • فروری 5, 2026
  • 0 Comments
ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی​ ماہِ رمضان کے استقبال کا ایمان افروز خطبہ ​اے مسلمانو!دیکھو، تمہارے مہمان (رمضان) کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور اس کی خوشبو پھیل چکی ہے۔ یہ بہترین اترنے والا، سب سے افضل آنے والا اور دلوں کا معزز ترین مہمان ہے۔ دل اس کے مشتاق اور روحیں اس کے لیے بے قرار ہیں۔ پس اس کی آمد کا انتظار کرو اور اس کے پہنچنے کی راہ تکو، کیونکہ اس کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے اور اس کا بہترین استقبال کرنا شرافت و مروت ہے۔ ​اللہ کے بندو!تمہارا یہ مہمان ہلکا پھلکا اور نرم مزاج ہے۔ یہ بلند صفات، کریمانہ عادات اور وسیع نوازشات والا مہمان ہے۔ یہ مہمان ہے تو سہی مگر عام مہمانوں جیسا نہیں؛ یہ تمہارے پاس اپنی کسی حاجت کے لیے نہیں آتا، نہ ہی کسی سوال کے لیے تمہاری زیارت کرتا ہے، بلکہ یہ ایسا مہمان ہے جو دیتا ہے مگر لیتا کچھ نہیں، نوازتا ہے مگر احسان نہیں جتاتا، خوشیاں بانٹتا ہے اور پریشان نہیں کرتا۔​پس خبردار! اس مہمان کو اپنے لیے ایسا ڈراونا خواب نہ بنانا جو تمہاری لذتوں کو کاٹ دے، یا ایسا بوجھ نہ سمجھنا جو تمہاری زندگی کو اجیرن کر دے اور تمہاری عادتوں کو بدل دے۔ اور خبردار! اس مہمان کی موجودگی میں کام کے بہانے اپنی جگہوں کو نہ چھوڑنا، نہ ہی سیاحت و سفر کے مقصد سے اپنی ذمہ داریوں (سرحدوں) سے دور ہونا۔ بلکہ اپنے نفسوں کو تیار کرو، اپنے ارادوں کو مضبوط کرو، اپنے اوقات کو (عبادت کے لیے) فارغ کرو، اپنے رب کی رحمتوں کے سامنے دستِ دعا پھیلاؤ اور اپنے مہینے کے فضائل کو غنیمت جانو۔​اے (رمضان کے) مشتاقو!تمہارا یہ معزز مہینہ مبارک ہے؛ اس کی راتیں فضائل و انعامات سے بھرپور ہیں، اس کے دن نفیس تحفوں اور بخششوں والے ہیں، اور اس کے لمحات رحمتوں اور کرامتوں کے حامل ہیں۔ یہ بھلائی اور احسان کا مہینہ ہے؛ اس نے کتنے ہی زخموں پر مرہم رکھا، کتنے ہی مصیبت زدوں کو دلاسا دیا اور…

Read more

Continue reading
جہاد ضرورت اور فضیلت
  • hira-online.comhira-online.com
  • جہاد
  • جہاد کی حقیقت
  • جنوری 7, 2026
  • 0 Comments
جہاد ضرورت اور فضیلت

اصلاحِ امتجہاد۔ضرورت و فضیلت آدم علی ندویمدرسۃ العلوم الاسلامیہ۔ علی گڑھ جہاد امت کا اجتماعی فریضہ:اسلام ایک مکمل دین ہے جو صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اور عبادات اربعہ کی طرح اور بھی فرائض متعین کرتا ہے، انہی اہم فرائض میں سے ایک فریضہ جہاد فی سبیل اللہ ہے، جو قرآن و سنت متواتر کی روشنی میں قیامت تک امت پر لازم ہے۔جہاد کی فرضیت:قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔” (البقرہ: 216)یہ آیت بتاتی ہے کہ جہاد بھی اسی طرح فرض ہے جیسے روزہ یا نماز۔جہاد کی فرضیت و تاکید کے لئے "کتب علیکم القتال” کی تعبیر اسی طرح آئی ہے جیسے روزہ کی فرضیت کے لئے۔ اگرچہ یہ نفس پر بھاری معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ امت کی عزت، تحفظ اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جہاد قیامت تک باقی رہے گا۔” (ابو داود-33)اس کا مطلب ہے کہ یہ فرض کسی زمانے یا علاقے کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں زندہ ہے۔ امت کو ہر وقت اپنی مادی اور روحانی طاقت کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جہاد صرف فوجی میدان تک محدود نہیں، بلکہ ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اس فریضے میں شریک ہے:کچھ لوگ میدانِ جنگ میں لڑ کر۔کچھ اپنے مال کے ذریعے مدد کر کے۔کچھ قلم اور زبان سے اسلام کا دفاع کر کے۔نبی ﷺ نے فرمایا:”جو شخص نہ جہاد کرے اور نہ دل میں نیت رکھے، وہ نفاق پر مرتا ہے۔” (مسلم-4931)جہاد کا مقصد محض جنگ نہیں بلکہ:باطل کو ختم کرنا،دینِ حق کو غالب کرنا،امت کو ظلم سے بچانا،اور اسلام کی عزت قائم کرنا ہے۔قرآن نے واضح فرمایا:”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔” (البقرہ: 193)جہاد ایک لازمی فریضہ ہے جس سے امتِ مسلمہ کو ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے۔…

Read more

Continue reading

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی 18.02.2026
  • صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ 16.02.2026
  • "روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق” 15.02.2026
  • دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات 14.02.2026
  • قرآن کے پانچ اساسی علوم 14.02.2026
  • اُس بازار میں : شورش کاشمیری 06.02.2026
  • ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی 05.02.2026
  • ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر 02.02.2026

حالیہ تبصرے

  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از hira-online.com
  • لفظ ” مستشرقین ” کے معنی اور ان کے نا پاک عزائم از کلیم الدین
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از حراء آن لائن
  • خدمت کا درویش، علم کا چراغ(حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ)✍🏼: م ، ع ، ن از Technology
  • دنیا کی فرضی معاشی اڑان اور اسلام از Business

زمرے

  • Blog
  • اسلامیات
  • حدیث و علوم الحدیث
  • سفر نامہ
  • سیرت النبی ﷺ
  • سیرت و شخصیات
  • فقہ و اصول فقہ
  • فکر و نظر
  • قرآن و علوم القرآن
  • کتابی دنیا
  • گوشہ خواتین
  • مضامین و مقالات

Other Story

مضامین و مقالات

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.com
  • فروری 18, 2026
مضامین و مقالات

صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ

  • hira-online.com
  • فروری 16, 2026
صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
مضامین و مقالات

"روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”

  • hira-online.com
  • فروری 15, 2026
مضامین و مقالات

دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات

  • hira-online.com
  • فروری 14, 2026
دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
قرآن و علوم القرآن

قرآن کے پانچ اساسی علوم

  • hira-online.com
  • فروری 14, 2026
فکر و نظر

اُس بازار میں : شورش کاشمیری

  • hira-online.com
  • فروری 6, 2026
اُس بازار میں : شورش کاشمیری
اسلامیات

ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب : ڈاکٹر زیاد الریسی

  • hira-online.com
  • فروری 5, 2026
فکر و نظر

ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر

  • hira-online.com
  • فروری 2, 2026
ایپسٹائن فائلز: مغربی اشرافیہ کا زوال اور اسلامی نکتہ نظر
Copyright © 2026 HIRA ONLINE / حرا آن لائن | Powered by Asjad Hassan Nadwi [hira-online.com]
Back to Top