HIRA ONLINE / حرا آن لائن
بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟

بچہ نہ دینے والی بکری کی قربانی کاکیا حکم ہے؟ از: مفتی سلیم احمد قاسمی جواب:صورتِ مسئولہ میں ایسی بکری جو بچہ نہ جن سکتی ہو، اس کی  قربانی جائز ہے ۔      فتاویٰ عالمگیری میں ہے: "ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها السعال، والعاجزة ‌عن ‌الولادة لكبر سنها.” (كتاب الأضحية،الباب الخامس فی بیان محل اقامۃ الواجب،ج5،ص297)      شامی میں ہے : "تجوز التضحية بالمجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها سعال، والعاجزة ‌عن ‌الولادة لكبر سنها.” (كتاب الاضحیہ،ج6،ص325)

Read more

نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔

نفل قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ساری اولاد ملکر ایک قربانی کرسکتے ہیں یا نہیں؟۔ از : مفتی سلیم احمد قاسمی جواب: ساری اولاد کو مرحوم والد کے ایصال ثواب کے لئے قربانی کرنا ہے، تو ایک لڑکا پورا ساتواں حصہ لے کر قربانی کرے، اور ثواب والد مرحوم کو پہونچادے۔ کئی لڑکوں کا ایک حصہ خرید کر قربانی کرنا جائز نہیں کیونکہ قربانی کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ  پورے چھوٹے جانور کا ایک آدمی مالک ہو اور بڑے جانور میں ساتویں حصے سے کم نہ ہو۔ قال فی الہدایة وکذا اذا کان نصیب احدہم اقل من السبع لایجوز الخ۔

Read more

واجب قربانی کے ساتھ نفلی قربانی کرنا کیسا ہے ؟

ایک شخص جس پر قربانی واجب ہے وہ اپنی واجب قربانی کے ساتھ دوسری ایک نفل قربانی بھی اپنی جانب سے ادا کرنا چاہتا ہے، اس نفل قربانی کا ثواب اپنے تمام مرحوم رشتہ داروں کو پہونچانا چاہتا ہے، تو پہونچا سکتا ہے یا نہیں ؟ از : مفتی سلیم احمد قاسمی جواب: نفل قربانی کا ثواب جن جن لوگوں کوبخشنا چاہیں بخش سکتے ہیں ۔ حضور اقدس ﷺ سے بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرکے پوری امت کو ایصال ثواب کرنا ثابت ہے۔

Read more

💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟

💠 قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا کیسا ہے؟ قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینا جائز ہے، البتہ مسلمان محتاجوں اور ضرورت مندوں کو دینا زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے۔ 📖 حوالہ: الفتاوى الهندية (5/300) "ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي، كذا في الغياثية” ترجمہ: قربانی کے گوشت میں سے جسے چاہے دے سکتا ہے، خواہ مالدار ہو یا فقیر، مسلمان ہو یا ذمی (غیر مسلم)۔ ✅ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم In hindi क्या क़ुर्बानी का गोश्त ग़ैर-मुस्लिमों को देना जायज़ है? क़ुर्बानी का गोश्त ग़ैर-मुस्लिमों को देना जायज़ है, लेकिन मुसलमान गरीबों और ज़रूरतमंदों में तक़सीम करना ज़्यादा बेहतर और अफ़ज़ल है। 📖 हवाला: अल-फ़तावा अल-हिंदिया (5/300) "ويهب منها ما شاء للغني والفقير والمسلم والذمي” तर्जुमा: क़ुर्बानी के गोश्त में से जिसे चाहे दे सकता है, चाहे अमीर हो या गरीब, मुसलमान हो या ग़ैर-मुस्लिम। ✅ इससे मालूम हुआ कि क़ुर्बानी का गोश्त ग़ैर-मुस्लिमों को भी दिया जा सकता है। فقط واللہ اعلم

Read more

قربانی کا نصاب کیا ہے ؟

💠 قربانی کا نصاب کیا ہے؟💠 कुर्बानी का निसाब क्या है? جس مسلمان کے پاس ایامِ قربانی (10 تا 12 ذوالحجہ) میں بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال موجود ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔ जिस मुसलमान के पास कुर्बानी के दिनों (10 से 12 ज़िलहिज्जा) में बुनियादी ज़रूरतों से ज़्यादा इतना माल मौजूद हो जो साढ़े बावन तोला चाँदी की कीमत के बराबर हो, उस पर कुर्बानी वाजिब है। 📌 اہم مسائل:📌 अहम मसाइल: ✔ قربانی کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ✔ कुर्बानी के लिए एक साल गुजरना शर्त नहीं ✔ نقد رقم، سونا، چاندی یا مالِ تجارت سب شامل ہیں ✔ नकद रकम, सोना, चाँदी या माल-ए-तिजारत सब शामिल हैं ✔ حاجتِ اصلیہ سے زائد مال نصاب میں شمار ہوگا ✔ ज़रूरत से ज़्यादा माल निसाब में शामिल होगा ✔ عاقل، بالغ اور مقیم مسلمان پر قربانی واجب ہے ✔ आक़िल, बालिग और मुक़ीम मुसलमान पर कुर्बानी वाजिब है 📖 یاد رکھیں:📖 याद रखें: اگر قربانی کے دنوں میں کسی وقت بھی نصاب مکمل ہو جائے تو قربانی لازم ہو جاتی ہے۔ अगर कुर्बानी के दिनों में किसी भी वक्त निसाब पूरा हो जाए तो कुर्बानी लाज़िम हो जाती है۔

Read more

دھار کی مسجد کمال مولانا – تاریخ کے آئینے میں

کمال مولانا مسجد تاریخ کے آئینے میں یہ تصاویر "مسجد کمال مولانا” دھار کے اندرونی حصے کی ہیں۔ جس کے بارے میں کل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ مسلم فریق کے دلائل سے قائل نہ ہو سکے۔ یہ باتیں وکلا اور لیگل ٹیموں کی ہیں۔‌ ان کو یہ ہینڈل کر لینے دیا جائے۔ ہمیں چند موٹی موٹی باتیں اِس مسجد کے بارے میں جان لینا چاہیے۔ اس علاقے کو جس وقت سلطان علاؤالدین خلجی نے فتح کیا اس وقت سلسلۂ چشتیہ کے ایک صوفی بزرگ شیخ کمال یہاں مقیم تھے۔ سلطان مشائخِ چشتیہ کا ارادت مند اور عقیدت مند تھا، اس نے یہاں ایک عالیشان مسجد بنوانے کا حکم دیا۔ ساتھ ساتھ اس میں درویشوں اور طلبا کے لیے کمرے بھی بنوائے تاکہ شیخ کے مریدین اور شاگرد یہاں آرام کر سکیں۔ چونکہ یہ عمارت بہت کم مدت میں تعمیر ہوئی تھی اور اس میں خاطر خواہ گارہ یا اس وقت کے لحاظ سے مضبوط مسالے کا استعمال نہیں ہوا تھا، لہذا ایک صدی پوری ہونے سے پہلے پہلے یہ محمد بن تغلق کے دور میں مرمت کی طالب ہوئی۔ سلطان علاؤالدین نے اس مسجد کو چودھویں صدی عیسوی کے بالکل ابتدائی دنوں میں بنوایا تھا اور اس کی مرمت چودہویں صدی بالکل آخر میں ہوئی۔ محمد بن تغلق کے گورنر دلاور خان غوری نے اس کی مرمت کروائی اور اس پر تختی بھی لگوا دی کہ مسجد محمد بن تغلق کے عہد میں مرمت کے بعد مزین ہوئی۔ اس مسجد کی عمارت میں چونکہ جو پتھر لگا ہے، یہ بالکل صاف طور سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ یہ کسی پرانے مندر کا ملبہ ہے۔ اور چونکہ ان پتھروں اور ستونوں میں کسی چیز کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کی گئی ہے، لہذا اِس بات کی پوری گنجائش موجود ہے کہ اس کو ہندو عوام سے خرید کر یہاں لگایا گیا ہو۔ اور جب کہ ہمیں کئی سو سال تک اس پر کسی طرح کی کوئی چپقلش اور باہمی عداوت نہیں نظر آتی سو اس کو درست…

Read more