سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟
سوال: وطن کی محبت میں وندے ماترم پڑھنا اور گانا شرعاً کیسا ہے ؟ از : قاضی محمد حسن ندوی جواب: چونکہ اس میں بعض ایسے اشعار ہیں جن کا مطلب ہے اے زمین ہم تجھے پوجتے ہیں، یہ جملہ شرک پر دلالت کرتا ہے، حالانکہ اسلام شرک کے مخالف ہے، جس کی بنیاد خالص توحید پر ہے، یعنی اللہ تعالی کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ، جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اللہ تعالی انہیں بھی معاف نہیں کرتے ، قرآن مجید میں ہے. إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يُشَاءُ (نساء ۔ 166) لہذا کسی مسلمان کے لیے وندے ماترم کا پڑھنا اور گانا شرعاً درست نہیں ہے بلکہ حرام ہے، اس سے خود بھی بچے اور اپنی اولاد کو بھی بچائے۔ جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں مذہب اسلام نے ترغیب دی ہے کہ ہر شخص اپنے وطن اور ملک سے محبت رکھے اور اس کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دے، بلکہ وطن سے محبت رکھنے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے ملک کے ذرے ذرے سے پیار و محبت ہے۔ جب جب ملک کو خوں کی ضرورت پڑی تو مسلمانوں نے اپنی جان و مال کو ملک کی آزادی کے لیے نچھاور کر دی، مگر محبت اور عبادت میں فرق ہے، محبت ہر ایک چیز سے ہو سکتی ہے لیکن ہر ایک کی عبادت جائز نہیں ، مثلاً مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ ، خانہ کعبہ مسجد حرام، مسجد نبوی ، گنبد خضراء والدین اور اساتذہ سے محبت ہے لیکن ان کی عبادت کسی حالت میں درست نہیں ہے، قرآن پاک میں ہے۔ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَ رَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَهُ النَّارُ وَ مَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ( قرآن مجید
Read more