تحریک پیام انسانیت
تحریک پیام انسانیت اس تحریک کا اصل مقصد ملک کے انصاف پسند شہریوں کو ساتھ لے کر انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنا اور بیدار کرنا تھا۔ انسانی اقدار کی حفاظت کرنا انھیں فروغ دینا اور ان کی بنیاد پر لوگوں کو قریب کرنا تھا۔ اسکا مقصد مسلمانوں کے تئیں پیدا شدہ غلط فہمیوں کو دور کرنا اور مختلف طبقات کے انٹلیکچول طبقے کے ذہن کو صاف کرنا اور معاشرے سے ظلم کو ختم کر کے امن و انصاف کو قائم کرنا تھا اور یہ کام مختلف طبقات کے لوگوں کو ساتھ لیے بغیر ممکن نہ تھا۔ تحریک پیام انسانیت کے مقاصد اور ضرورت کے سلسلے میں حضرت مولانا لکھتے ہیں۔۔ "بقائے باہم ،انسانی اور شہری بنیادوں پر اتحاد و تعاون اور انسانی جان و آبرو کے تحفظ انسان کے احترام اور اس سے محبت کی تبلیغ و تلقین ضروری ہے، اس ملک کی فضا کو مستقل طور پر معتدل اور پر سکون بلکہ راحت اور باعزت رکھنے کی ضامن ہے اور جس کے بغیر اس ملک (جس کے لیے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا مرکز اور دیس ہونا مقدر ہو چکا ہے )کی ترقی اور نیک نامی الگ رہی ، امن و امان اور اطمینان کے ساتھ باقی رہنا بھی مشکل ہے” ( موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں ؟ ص: 21) اس مقصد کے حصول کے لیے تحریک پیام انسانیت کے نام سے مولانا علی میاں ندوی 1974 میں اس تحریک کا آغاز کیا تھا ،ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی ملک میں تحریک پیام انسانیت جیسی کوششوں کی اہمیتِ اظہر من الشمس ہے،ان تحریکوں کے ذریعے ایک ساتھ کئی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن دو مقصد سب سے اہم ہے اول اس طرح کی کوششیں قائدانہ حیثیت میں متعارف کراتی ہیں،کسی دوسرے جہنڈے تلے جمع ہو کر نعرہ بازی کرنے والی بھیڑ کے بجائے ایک با مقصد جماعت کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جس کے پاس اپنے حقوق کی بازیابی کسی مخصوص زبان کی تحفظ ملازمتوں اور دیگر تعلیمی ومعاشی مواقع میں اپنے مفاد کے بجائے ملک و ملت اور انسانیت…
Read more

