(23) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ

مصنوعی دانتوں کی صورت میں وضو و غسل کے احکام



مصنوعی دانت دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو مستقل طور پر لگا دئیے جائیں اور پھر ان کو آسانی سے نکالا نہ جاسکے ۔ دوسرے وہ جو بنائے ہی اس طرح جاتے ہیں کہ حسب ضرورت ان کا استعمال کیا جائے اور حسب ضرورت نکال لیا جائے ۔

پہلی صورت میں یہ مصنوعی دانت اصل دانت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اس لئے ان کا حکم اصل دانتوں ہی کا ہو گا۔ وضو میں ان دانتوں تک پانی پہنچانا مسنون ہو گا

اور غسل میں فرض، دانت نکالنے اور تہ تک پانی پہنچانے کی ضرورت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس طرح کے دانت لگانے یا دانتوں کو سونے چاندی کے تاروں سے کنے کی اجازت دی ہے (۱) ۔ اب ظاہر ہے اس اجازت کا مطلب میں ہو گا کہ ان کے اندرونی حصوں میں پانی پہنچانا ضروری نہیں ہے ، ورنہ یہ اجازت بڑی پریشان کن بھی ہوگی اور بے معنی بھی۔

جب کہ دوسری صورت میں اس کی حیثیت ایک ” زائد چیز” کی ہوگی۔ یعنی غسل اسی وقت درست ہو سکے گا جب اس کو نکال کر اصل جسم تک پانی پہنچ جائے ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو غسل درست نہ ہو گا۔ 

اور ر چوں کہ وضو میں کلی کرنا سنت ہے اور فقہاء کے نزدیک کلی سے مقصود پورے منہ میں پانی پہنچانا ہے ۔ وحد المضمضة استيعاب الماء جميع الضم ) ۔ اس لئے اس کو نکالے بغیر کلی کرنے کی سنت ادا نہیں ہو پائے گی ۔

 



حوالہ:

کتاب : جدید فقہی مسائل 

صفحہ: 78 

جلد : 1 

مکتبہ: کتب خانہ نعیمیہ دیوبند