HIRA ONLINE / حرا آن لائن
اہل بیت اور اہل سنت

اہل بیت اور اہل سنت (پہلی قسط) 🖋مولانا خالد سیف اللہ رحمانی     ‏ اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے کا حکم دیا ہے ، اور گناہ کے کاموں میں مددگار بننے سے منع فرمایا ہے : تَعَاوَنُوْا عَلیَ البِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الإثمِ وَالعُدْوَان (المائدۃ :۲) نیکی کے کام میں تعاون کی صورتوں میں ایک نہایت ہی اہم صورت یہ ہے کہ داعیان حق کا ساتھ دیاجائے ؛ کیوں کہ اگر خیر و بھلائی کی دعوت میں بہت سے لوگ شریک ہو جائیں تو اس کا نتیجہ خیز اور ثمر آور ہونا آسان ہو جاتا ہے ، اور دعوت کا کام ایک انفرادی عمل سے بڑھ کر تحریک بن جاتا ہے ، دنیا میں جتنے لوگوں نے خیر و صلاح کی دعوت دی ہے ، ان میں سب سے برگزیدہ ہستیاں وہ تھیں ، جن کے سروں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج رکھا تھا ، ان ہی ہستیوں کو ہم نبی کہتے ہیں ، انبیاء کا کام بہت دشوار ہوا کرتا تھا ؛ کیوں کہ وہ اس دور میں مبعوث کئے جاتے تھے ، جب سماج میں بگاڑ اپنی انتہا پر پہنچ جاتا تھا اور عمل کے بگاڑ کے ساتھ انسان کی سوچ بھی بگڑ جاتی تھی ، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھی بات ، تاریکی کو روشنی اور رات کو دن سمجھنے لگتے تھے ، ان کو اس غلط موقف سے ہٹانے اور صحیح راستہ پر لانے کے لئے بڑی محنتوں اور ریاضتوں سے گزرنا پڑتا تھا ، علمی بصیرت ، کردار کی پاکیزگی ، تفہیم کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر خیر خواہی اور درد مندی کا غیر معمولی جذبہ، یہ سب مل کر حالات کو بدلتے تھے ؛ اسی لئے انبیاء کے رفقائے عالی مقام کا بڑا اونچا مقام ہے ۔ قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں، حضرت یوشع علیہ السلام کے فرماں بردار سپاہیوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ثابت قدم حواریوں کا اسی حیثیت سے ذکر کیا ہے، رسول اللہ ﷺ پر چوں کہ…

Read more