حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر
﷽حدیثیی سمینار میں شركت كے لئے ماٹلی والا ،بھروچ – گجرات كا سفر ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندویاستاذ حدیث وفقہ: جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات آج سے تقریباً تیس سال پہلے ۳۰ / دسمبر ۱۹۹۴ء تا ۲ / جنوری ۱۹۹۵ء كو دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں ایك فقہی سمینار منعقد ہوا تھا ، اس وقت حضرت قاضی مجاہد الاسلامی قاسمی ؒ (بانی اسلامك فقہ اكیڈمی ، انڈیا ) باحیات تھے اور سمینار كی قیادت كر رہے تھے، اس سمینار میں شركت كی سعادت مجھے بھی حاصل ہوئی تھی، اور یہیں سے اسلامك فقہ اكیڈمی (انڈیا) كے فقہی سمینار میں میری شركت كی ابتداء ہوئی ، اس سمینار میں ایك موضوع” رؤیت ہلال “ بھی تھا ، جس پر میں نے بھی مقالہ لكھا تھا ، بعدمیں اس پورے مقالہ كو” رمضان كے شرعی احكام “ میں شامل اشاعت كردیا ، جو كہ راقم الحروف كی تصنیف اور وجہ تعارف ہے، بہر حال فقہی سمینار كے لئے یہ میرا پہلا مقالہ تھا، اس كے بعد سےالحمد للہ ہر سال ایك دو كبھی تین موضوعات پر لكھتا رہتا ہوں ، اور یہ جو كچھ بھی ہوتا ہے محض اللہ كے فضل وكرم سے ہوتا ہے ۔ حدیثی سمینار میں شركت: ایك لمبے عرصہ كے بعد اسی مقام یعنی دارالعلوم اسلامیہ عربیہ ماٹلی والا ، بھروچ – گجرات میں گذشتہ سال پہلا حدیثی سمینار ہوا تھا جس میں میری حاضری ہوئی تھی، امسال تیسری مرتبہ دوسرےحدیثی سمینارمنعقدہ ۱۹، ۲۰ / شوال المكرم ۱۹۴۷ھ مطابق ۸، ۹ / اپریل ۲۰۲۶ء بروز بدھ اور جمعرات میں شركت كے لئےجانا ہوا، میرے ساتھ جامعۃ العلوم گڑھا – گجرات سے دو اور مؤقر اساتذہ جناب مولانا توصیف صاحب مظاہری مدظلہ العالی اورجناب مولانا سفیان صاحب ندوی مدظلہ العالی بھی تھے، ہم لوگ مؤرخہ۱۸ / شوال المكرم ۱۴۴۷ھ مطابق ۷ / اپریل ۲۰۲۶ء روز منگل دس بجے رات میں پہنچے ، ریلوے اسٹیشن پر داعی كی جانب سے مہمانوں كے استقبال كے لئے كوئی نظم نہیں تھا؛ اس لئے خود ہی اپنے طور پر كرایہ كے آٹو…
Read more