HIRA ONLINE / حرا آن لائن
سیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحان

سیاسی موقع پرستی کا بڑھتا رجحان ڈاکٹر ظفردارک قاسمی جب انسانی سوچ اور اس کا نظریہ مستحکم ہوتا ہے تو اس سے معاشرے کو فائدہ یا نقصان دونوں ہوتے ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے کہ انسانی سوچ یا تو منفی افکار و نظریات کی علمبردار ہوگی یا پھر مثبت اور تعمیری سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ بہر دو صورت میں معاشرہ متاثر یقیناً ہوتا ہے ۔ البتہ ہر صاحب تدبر اور صاحب بصیرت کی خواہش ہوتی ہے کہ معاشرے میں مثبت افکار کی ترویج و اشاعت ہو ۔ منفی نظریات کا اثر سماج پر بالکل بھی نہ پڑے ۔ یہ سوچ رکھنا اور اس کے لیے عملی اقدامات کرنا عین فطرت کے مطابق ہے ۔ جب ہم معاشرے کے احوال پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج معاشرے میں منفی نظریات یا سماج کے اتحاد کو پاش پاش کرنے والے نظریات کی گھن گرج ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے اس پر ہمیں سوچنا ہوگا ۔ سیاسی ماحول اس وقت جس قدر غیر مناسب اور بے اطمینان ہوتا دکھ رہا ہے اس نے تو ثابت کردیا ہے کہ اب سیاسی اخلاقیات اور تعمیری نظریات کی کوئی اہمیت نہیں بچی ہے ۔ سب پیسہ کا کھیل ہے ۔ بعض ماہرین سیاست کا کہنا ہے کہ سیاست میں وفاداری نہیں ہوتی بلکہ سمجھداری چلتی ہے ۔ یعنی جہاں فائدہ نظر آئے وہاں کا رخ کرلیا جاتاہے ۔ ابھی حال میں بھارت جیسے سیکولر ملک میں جس طرح کی سیاسی اتھل پتھل دکھائی دے رہی ہے، اسے موقع پرستی سے تعبیر کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ جہاں آج انہوں نے برسر اقتدار پارٹی میں ضم ہونے کو بہتر سمجھا ہے کل یقیناً وہ موقع پاتے ہی واپس بھی آسکتے ہیں ۔ البتہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سیاست میں کب کیا ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ سیاست کا میدان ہو یا پھر کوئی اور میدان ، انسان کو اپنی فکر اور نظریات سے کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔ جو لوگ آج طاقت اور چمک دمک کو…

Read more