غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم
(26 ) فقہی ذخیرے سے آج کا مسئلہ غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم بالوں کے مصنوعی جوڑے جو ہمارے زمانے میں عورتیں بکثرت استعمال کرنے لگی ہیں ، اور جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اگر ان کو باندھ ہی لیں تو سوال یہ ہے کہ وضو و غسل میں ان کا کیا حکم ہوگا ؟ چوں کہ یہ بال اس کے جسم کا حصہ نہیں ہیں ، نہ کسی ضرورت کی بناء پر لگائے گئے ہیں اور نہ ان کا نکالنا چنداں دشوار ہے ۔ اس لئے اس کی حیثیت ایک خارجی چیز کی ہوگی۔ غسل میں تو یوں بھی عورتوں کے لئے بال کی جڑوں تک پانی پہنچانا کافی ہے بال دھونا ضروری نہیں۔ وليس على المراة ان تنقض ضفائرها في الغسل اذا بلغ الماء اصول الشعر – وضو میں بھی ان کی حیثیت یہی ہوگی ۔ مثلا اگر کوئی خاتون اس طرح سر کا مسح کرے کہ صرف مصنوعی بالوں کے حصہ پر مسح ہو اور اصلی بالوں پر کم از کم چو تھائی سر کے مقدار بھی مسح نہ ہو پائے تو کافی نہ ہو گا۔ ان کو اپنے اصل بالوں پر مسح کرنا چاہئے۔ غسل و وضو میں بال کے مصنوعی جوڑوں کا حکم حوالہ : کتاب : جدید فقہی مسائل صفحہ: 100 جلد : 1 کتب خانہ نعیمیہ دیوبند
Read more

