تلاوت و تدبر
آدم علی ندوی
مدرسۃ العلوم الاسلامیہ، علی گڑھ
صحابہ رضی اللہ عنہم کے کتب خانہ میں سب سے بنیادی اور اہم کتاب قرآن مجید تھی، اسی کی تلاوت و تدبر نے ان کو دنیا و آخرت دونوں جہان کی کامیابی سے ہمکنار کیا، اسی قرآن نے ان کو علم کی اس چوٹی پر پہنچا دیا کہ وہ میدانِ علم کے امام قرار پائے، انہیں آیات قرآنیہ کی تعلیمات نے ان کو اخلاق کی اس بلندی پر فائز کر دیا کہ شمس و قمر بھی رشک کرنے لگے، اسی کی پاکیزہ تعلیمات نے ان میں وہ قوت وعزیمت اور ایمانی طاقت پیدا کر دی کہ قیصر و کسریٰ کا وجود خطرے میں پڑ گیا۔
قرآن نے ان امیوں کو قرّاء اور علماء بنا دیا، گلہ بانی کرنے والوں کو خیرِ امت اور ہادی و رہبر بنا دیا، صحرائے عرب کے گمنام و خانہ بدوشوں کو متمدن دنیا کے لیے ہیرو و اسوہ بنا دیا۔ صحیح لفظوں میں یوں کہیں: جو مردہ تھے، قرآن نے ان کو زندگی بخش دی، ان میں وہ روح پھونک دی کہ وہ صرف خود زندہ نہ ہوئے بلکہ مسیحا بن گئے۔وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا(سورۃ الشوریٰ: ۵۲)ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ہے، ایک روح اپنے امر میں سے۔
قرآن روح ہے !
قرآن روح ہے۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی زندگی جس کمیت و کیفیت کے ساتھ اس روح سے وابستہ رہی، اسی اعتبار سے ترقی و کامیابی ان کے قدم چومتی رہی اور وہ دنیا میں زندہ اور متحرک سمجھے گئے۔ کسی کی کیا مجال تھی کہ نظر اٹھا کر دیکھ سکے! لیکن جوں جوں مسلمان اس روح سے یعنی قرآن سے دور ہوتا گیا، اس کی تعلیمات سے کنارہ کشی اختیار کی، وہ لاشۂ بے جان ہو گیا، اس دھرتی پر بوجھ بنتا گیا اور دنیا نے اس کو گیند اور فٹبال کی طرح لڑھکانا شروع کر دیا۔
وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا(سورۃ طٰہٰ: ١٢٤)اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا تو اس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔
نصیحت نامہ سے اعراض
نصیحت نامہ سے اعراض و دوری کے نتیجے میں "معیشۃ ضَنْکا"(تنگ زندگی) کی تصویر دیکھنی ہو تو عالم اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ صورت حال اس کی کھلی مثال ہے۔غلامی و پستی، مظلومیت و بے بسی مقدر بن چکی ہے۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار و مشرکین کے لیے کہا تھا:وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا(سورۃ الفرقان: ۳۰)اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ: یا رب! میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی ہے۔
لیکن ہم اس میں کہاں ان سے پیچھے ہیں؟ بس فرق یہ ہے کہ وہ عقیدے کے اعتبار سے قرآن سے دور تھے اور ہم اپنے عمل سے اس کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ(مسلم: ۸۱۷)بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب، قرآن، کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند فرماتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کو پست کر دیتا ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی ١٤٠٠ سالہ تاریخ دونوں پہلو پیش کرتی ہے۔ ایک طرف صحابہ و تابعین تھے، جو تلاوتِ قرآن اور اس کی تعلیمات کو حرزِ جاں بنائے ہوئے تھے، دوسری طرف ہم ہیں کہ تلاوت، تدبر، عمل اور تبلیغ، ہر اعتبار سے اپنا رشتہ قرآن سے توڑ چکے ہیں۔اجتماعی تعلیمات میں تو ہم بے بسی کی حد تک پہنچ گئے ہیں اور انفرادی تعلیمات میں بھی ہم غفلت و لاپرواہی کا شکار ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہمارا دل مردہ ہو گیا اور ہمارا سماج کھوکھلا ہو گیا، بلکہ دل شیطان کا مسکن اور سماج کرپشن و تاریکی میں تبدیل ہو گیا۔
إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ(ترمذی: ٢٩١٤)بے شک جس کے سینے میں قرآن کا کچھ حصہ محفوظ نہ ہو، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔
اس وقت عمومی طور پر مسلمان قرآن سے دور ہے، البتہ ایک مختصر طبقہ جو جزوی طور پر قرآن سے وابستہ ہے، ان میں بھی تقسیم ہے۔ ایک طبقہ صرف تلاوت کو کافی سمجھتا ہے اور اس کے باقی تقاضوں سے کوئی سروکار نہیں، دوسرا طبقہ صرف تدبر و تفکر میں مست ہے، تلاوت کو لایعنی اور وقت کا ضیاع سمجھتا ہے۔ عمل اور تبلیغ کا معاملہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔درسِ قرآن کے لیے اب بھی لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں اور اس کے حلقوں سے دلچسپی لینے والوں کی تعداد نہ کے برابر ہوتی ہے۔
اب آئیے خیر القرون اور بعد کی صدیوں میں قرآن سے تعلق اور عشق کو دیکھیں اور اپنا موازنہ کریں کہ ہم کہاں ہیں؟ خود ذات قدسی کو دیکھیں:إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(سورۃ المائدہ: ۱۱۸)تو اگر انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بھی تو زبردست ہے، حکمت والا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت پر پوری رات گزار دی اور صبح ہو گئی۔ (سنن النسائی: ۱۰۱۰)
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوری پوری رات ایک رکعت میں گزار دیتے تھے، جس میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔ (الاستیعاب، جلد دوم، صفحہ ٤٤٨)حضرت عثمان کہتے تھے کہ اگر تمہارے دل پاک ہو جائیں تو تم کو کبھی کلام اللہ سے سیری نہ ہو۔ میں نہیں چاہتا کہ میری عمر میں کوئی دن ایسا گزرے جس میں مجھے قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے کی نوبت نہ آئے۔ آپ جس مصحف میں تلاوت فرماتے تھے، وہ ان کی کثرتِ تلاوت سے جابجا سے شکستہ ہو گیا تھا۔ (حیاۃ الصحابہ، مولانا محمد یوسف کاندھلوی، جلد چہارم، صفحہ ۲۳ و ٢٤)
زرارہ بن اوفی نے سورۃ مدثر کی آیت:فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى الْكَافِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍ(سورۃ المدثر: ۸-۱۰)پھر جس وقت صور پھونکا جائے گا تو وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا، نہ کی آسان۔تلاوت فرمائی اور روح پرواز کر گئی۔ (قیام اللیل: ۵۷)
قرآن سے تعلق و عشق اور شغف کا یہ سلسلہ بعد کی صدیوں میں بھی جاری رہا۔ علامہ ابن جوزی ہر ہفتہ قرآن ختم کرتے تھے۔ حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی نظر بندی کے ایام میں، جو تقریباً چار سال پر مشتمل تھے، ۸۰ قرآن مکمل کیے اور ان کا مشغلہ صرف تلاوتِ قرآن تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی یومیہ چار چار پارے سنتے اور قرآن مجید سن کر اکثر آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ (قرآن کے اصول و مبادی، سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ، ص ١٧٦ تا ۱۹۱)
دراصل قرآن ہے ہی وہ اکسیر، وہ نسخۂ کیمیا جو سینے سے لگانے، دل میں بسانے اور زندگی میں سجانے کی چیز ہے۔لَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ(ترمذی: ٢٩٠٦)اس سے سیری ناممکن ہے۔ اس کے معنی میں غوطہ خوری کرنے والے کا کوئی ساحل نہیں، اس کے لعل و گہر کا خاتمہ نہیں۔
اسی لیے حکمِ الٰہی ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا(سورۃ آل عمران: ۱۰۳)تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔
یہی رسی ہے جس کو تھام کر انسانیت گمراہی کے دلدل سے نکل سکتی ہے، تاریکیوں میں بھٹکتی روحوں کو نجات مل سکتی ہے۔ اسی حبل اللہ کو پکڑ کر انسان دنیا کی پستی و ذلت سے اور آخرت کے عذاب سے نجات پا سکتا ہے۔
يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ(سورۃ مریم: ۱۲)اے یحییٰ! کتاب کو مضبوطی اور پوری قوت کے ساتھ تھام لو۔
الکتاب، آسمان سے نازل ہونے والی آیات و تعلیمات، مضبوطی سے پکڑ لو، اپنی پوری توانائی صرف کر دو، اس کی تلاوت سے زبان کو پاکیزگی بخشو، اس میں تدبر و تفکر سے اور اس پر عمل سے قلب کو سلیم بناؤ، اس کی تدریس و تبلیغ سے تاریک دنیا کو روشنی بخشو۔
اس کی تاثیر و سحر انگیزی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ زبان کے ماہرین سے جب کچھ نہ بن سکا تو اس کو جادو قرار دیا:إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ(سورۃ المدثر: ٢٤)یہ جادو کے سوا کچھ نہیں ہے جو پہلے لوگوں سے نقل چلا آتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر سورۃ طٰہٰ کی آیات نے وہ اثر ڈالا کہ وہ پکار اٹھے: یہ کس قدر عمدہ کلام ہے! پھر سرور کائنات کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام کا اعلان کیا۔(قرآن کے فنی محاسن، سید قطب، ص ۲۱)
ولید بن مغیرہ نے جب آیاتِ قرآنیہ سنا تو قابو نہ پا سکا اور حقیقت حال کی عکاسی اس طرح کی: خدا کی قسم! اس میں شیرینی ہے، اس میں تروتازگی اور شادابی ہے، جو چیز بھی اس کے مقابل آئے، اس کو ریزہ ریزہ کر ڈالتا ہے اور وہ غالب ہے، مغلوب نہیں۔ (قرآن کے فنی محاسن، سید قطب، ص ۲۲)
قرآن مجید کی شیرینی و تر و تازگی اور عمدگی کے ساتھ ہمارے سامنے قرآن کی زبان میں اس کا وہ تعارف بھی موجود ہے جو سخت دل کو بھی اپنی طرف کھینچتا ہے، اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی فضائلِ قرآن کے عنوان سے ایسی تعلیمات موجود ہیں جو ترغیب کے لیے کافی و شافی ہیں، لیکن اس کے باوجود ہماری قرآن کی تلاوت اور اس کی تعلیمات سے دوری قابلِ تعجب اور حیرت انگیز ہے۔
قرآن نور و شفا ہے
قرآن نور اور شفا ہے۔ (سورۃ یونس٥٧۔مائدہ ١٥)تلاوتِ قرآن کے وقت سکینت اور رحمت کا نزول ہوتا ہے، فرشتے گھیر لیتے ہیں، مجلسِ الٰہی میں ذکر خیر شروع ہو جاتا ہے۔(مسلم: ٢٦٩٩)کثرت سے تلاوت کرنے والا ماہرِ قرآن فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے، اس کو بھی دو گنا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ (مسلم: ۷۹۸)قرآن سفارشی بن کر اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا اور اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گا۔ (مسلم: ٨٠٤)قرآن کی تلاوت سے دلوں کا زنگ دور ہوتا ہے۔ (بیہقی، شعب الایمان: ۱۸۵۹)تلاوتِ قرآن سے گناہ معاف ہوتے ہیں، ایک ایک حرف پر ۱۰ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (ترمذی: ۲۹۱۲)جو قرآن کی تلاوت میں مشغول ہوتا ہے، اس کی تمام ضرورتوں کی کفالت کا سامان غیب سے کیا جاتا ہے۔ (ترمذی: ٢٩٢٦)
اسی کے ساتھ ساتھ قرآن مجید میں وہ خصوصی خزانے بھی رکھ دیے گئے ہیں جو اپنی قدر و اہمیت کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہی امتیازی مقام رکھتے ہیں اور ہماری معراج کا آسان اور سہل نسخہ ہیں۔ سورۂ فاتحہ پورے قرآن کے برابر ہے۔ (بخاری: ٥٠٠٦) سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔(بخاری: ۵۰۱۳) اور سورۂ کافرون ربعِ قرآن کے مثل ہے۔ (ترمذی: ٢٨٩٤) سورۂ یٰسین قرآن کا دل ہے۔ (ترمذی: ۲۸۸۷) جبکہ آیت الکرسی "أعظم القرآن”قرآن کی عظیم ترین آیت ہے۔ (مسلم: ۸۱۰) اور انسان کے لیے دنیا میں حفاظتی دستہ اور شیطان کے مقابلے میں دشمن ہے۔ (بخاری: ۳۲۷۵) سورۂ ملک قبر میں محافظ اور سفارشی ہے۔ (ترمذی: ١٤٠٠) اور سورۂ واقعہ کی تلاوت حصولِ رزق میں اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ (بیہقی، شعب الایمان: ٢٤٩٨) معوذتین آفات و بلاؤں کے علاج کے لیے کارگر ہے۔ (بخاری: ٥٠١٦)
اس طرح قرآن مجید کے مختلف حصوں میں اللہ تعالیٰ نے وہ مزید خصوصی تاثیرات رکھ دی ہیں جو انسان کی دنیاوی و اخروی ضروریات کی تکمیل میں "شارٹ کی”کی حیثیت رکھتی ہیں، اور انسان کم وقت میں اپنی بڑی بڑی ضرورتیں پوری کر سکتا ہے۔
یقیناً قرآن مجید کی تلاوت مقصود بالذات ہے۔ اس کے فضائل و ثواب کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اس کے فوائد و ثمرات سے چشم پوشی کی جا سکتی ہے؛ لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ صرف تلاوت ہی پر اکتفا اور تکیہ کر لینا کافی ہے، بلکہ قرآن مجید کا ایک اہم ترین حق یہ ہے کہ اس میں تدبر و تفکر کیا جائے، اس کے پیغام کو سمجھا جائے، اسے اپنی زندگی میں بسایا جائے اور اس کی اشاعت و تبلیغ کی جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا(سورۃ محمد: ٢٤) ترجمہ: ’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟‘‘
قرآن مجید نے بار بار ہماری توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ اس کتابِ ہدایت میں ہماری رہنمائی کا پورا سامان موجود ہے۔ ہماری دنیاوی و اخروی کامیابی کی تمام کنجیاں اس میں رکھ دی گئی ہیں۔
اس لیے تلاوتِ قرآن کے ساتھ تدبر و تفکر بھی ضروری ہے۔ اگر انسان خود قرآن کے معانی و مطالب میں براہِ راست غور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ بہت بہتر ہے، ورنہ ترجمہ دیکھنا، ترجمہ سمجھنا، تفاسیر کا مطالعہ کرنا، درسِ قرآن کی مجلسیں سجانا، علماء سے اس سلسلے میں رابطہ رکھنا اور قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش کرنا لازمی اور ضروری ہے۔
اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کے لیے اپنے وقت کو دو حصوں میں تقسیم کر لیں۔ تلاوت کے لیے الگ وقت مقرر کریں، جس میں کم از کم ایک پارہ تلاوت کرنے کی کوشش ہو، اور ترجمہ و معانی سمجھنے کے لیے الگ وقت نکالیں، جس میں روزانہ قرآن مجید کے کچھ حصے کو کسی مختصر اور مستند تفسیر کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ پھر جو کچھ سمجھا جائے، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے اور اس پر عمل کی کوشش کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے اور اس کی دعوت و تبلیغ کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔
قرآنِ مجید صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، بلکہ سمجھنے، عمل کرنے، زندگی سنوارنے اور دوسروں تک اس کا پیغام پہنچانے کی کتاب ہے۔ جب تلاوت کے ساتھ تدبر، تدبر کے ساتھ عمل، اور عمل کے ساتھ دعوت و تبلیغ شامل ہو جائے تو قرآن مجید سے ہمارا تعلق حقیقی اور زندہ تعلق بن جاتا ہے۔
وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ
