*کیا حادثہ میں ملنے والی رقم میں وراثت جاری ہوگی؟*
از: محمد رضی الاسلام ندوی
سوال :
ایک صاحب بیرونِ ملک جاب کرتے تھے ۔ وہیں ایک سڑک حادثے میں ان کی وفات ہو گئی ۔ ان کے وارثین میں اہلیہ ، تین لڑکیاں (شادی شدہ) اور ایک لڑکا ہے ۔ ان کا صرف ایک چھوٹا سا مکان ہے ۔ حادثہ کے بعد بیرونِ ملک سے کچھ معاوضہ (Compensation) کی رقم ملی تھی ۔ اس سے ایک نیا مکان تعمیر کیا گیا اور ایک آٹو رکشہ خریدا گیا ۔ مکان کی ایک منزل کرایے پر اٹھا دی گئی اور آٹو رکشہ کو کرائے پر لگا دیا گیا ۔ دونوں کی آمدنی سے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کا گزر بسر ہو رہا ہے ۔
اب وراثت کی تقسیم پیشِ نظر ہے ۔ کیا مکان (جس کی قیمت بارہ لاکھ روپے لگ رہی ہے) کو فروخت کر کے اس کی رقم تمام ورثہ میں تقسیم کر دی جائے ، یا اسے مرحوم کی اہلیہ اور لڑکے کے قبضے میں رہنے دیا جائے اور اسے فروخت کر کے ان کے لیے مزید آمدنی کے کسی ذریعے میں خرچ کر دیا جائے؟ مرحوم کی تینوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں اور خوش حال زندگی گزار رہی ہیں ، جب کہ ان کی بیوہ اور لڑکے کو رقم کی ضرورت ہے ۔
جواب:
1 ۔ ایکسیڈنٹ کے بعد ملنے والی رقم بہ طور معاوضہ دی گئی ہے تو اس میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا ، لیکن اگر وہ بہ طور امداد بیوہ یا لڑکے کے نام سے جاری کی گئی ہے تو وہ صرف اسی کی سمجھی جائے گی جس کے نام سے جاری کی گئی ہے ۔
2 ۔ موروثی مکان میں تمام ورثہ کا حصہ ہوگا ، جو درج ذیل تفصیل کے مطابق دیا جائے گا :
بیوہ کو آٹھواں حصہ(1/8) ملے گا ۔ باقی لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر ملے گا ۔(لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَیینِ) دوسرے الفاظ میں بیوہ کو 12.5% ، لڑکے کو35% اور ہر لڑکی کو17.5%ملے گا ۔
3 ۔ تقسیمِ وراثت کی بنیاد ’ضرورت‘نہیں ہے کہ جس کو ضرورت ہو اسے دے دیا جائے اور جس کو ضرورت نہ ہو اسے نہ دیا جائے ، بلکہ اس کی بنیاد مرنے والے سے قریبی تعلق ہے ۔ اس بنا پر لڑکیاں چاہے فارغ البال ہوں ، لیکن ان کا بھی حصہ لگایا جائے گا۔ البتہ وہ اپنی ماں اور بھائی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی آزاد مرضی سے چاہیں تو اپنا حصہ چھوڑ سکتی ہیں ۔
اگرچہ فقہا کہتے ہیں کہ پہلے ہر صاحبِ حق کو اس کا حصہ دے دیا جائے ، پھر وہ چاہے تو اپنی پوری رضامندی سے اپنا پورا حصہ یا کچھ حصہ کسی دوسرے وارث کو یا جسے وہ چاہے اسے دے دے ۔

