سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم
سید ازہر شاہ قیصر کی صحافت اور ماہنامہ دارالعلوم— سہیل انجم سید ازہر شاہ قیصر دسمبر 1920ء میں محدث عصر علامہ سید انور شاہ کشمیری کے گھر دیوبند کے محلہ دیوان میں پیدا ہوئے. ان کا انتقال 1985 میں ہوا. وہ ایک عالم دین مصنف اور صحافی تھے. وہ علامہ انور شاہ کشمیری کے بڑے فرزند تھے. یوں تو انھوں نے متعدد اخبارات و رسائل میں صحافتی خدمات انجام دیں لیکن ان کا صحافتی امتیاز یہ ہے کہ وہ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ *دارالعلوم* کے 32 سال تک ایڈیٹر رہے. انھوں نے اپنی علمیت اور صحافتی لیاقت سے اس رسالے کو بام عروج پر پہنچایا. ابتدائی تعلیم کے لیے ان کا داخلہ دار العلوم دیوبند میں کرایا گیا، لیکن جب ان کے والد علامہ انور شاہ کشمیری 1927ء میں دار العلوم دیوبند سے استعفیٰ دے کر جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ وہیں منقتل ہو گئے. 1933 میں جب وہ بارہ سال کے تھے تو ان کے والد انور شاہ کشمیری کا انتقال ہو گیا. ان کے انتقال پر ملک بھر کے لوگوں نے اظہار تعزیت کیا. ان میں مصنف، صحافی اور شاعر ظفر علی خان بھی شامل تھے. اس موقع پر دیوبند کی جامع مسجد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے خطبہ استقبالیہ بارہ سالہ ازہر شاہ قیصر نے تیار کیا تھا. اسے اجتماع میں بلند آواز سے پڑھا بھی گیا. ظفر علی خان کو یہ خطاب اتنا پسند آیا کہ انھوں نے اسے اپنے اخبار *زمیندار* کے صفحہ اول پر شائع کیا. اس طرح کم عمری ہی میں ان کی ادبی و صحافتی زندگی کا آغاز ہو گیا. سید ازہر شاہ قیصر نے اسی سال مضمون نگاری کا باضابطہ آغاز کر دیا. ان کے مضامین سب سے پہلے بجنور سے شائع ہونے والے ماہنامہ *غنچہ* اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ماہنامہ *پیامِ تعلیم* میں شائع ہوئے. دوسرے رسائل میں بھی ان کی تخلیقات پابندی سے شائع ہوتی رہیں. 1936ء میں سہارنپور سے ہفت روزہ *صداقت* جاری ہوا تو…
Read more