HIRA ONLINE / حرا آن لائن

قرض لے کر قربانی کرنے کا حکم (قرآن و حدیث کی روشنی میں): قرض لیکر قربانی کرنے کا حکم: قرآن و حدیث کی روشنی میں مذہب اسلام میں ہمیشہ اعتدال اور آسانی کو پیشِ نظر رکھا گیا ، اسی لیے انسانوں پر وہی ذمہ داریاں ڈالی ہیں جو وہ آسانی سے ادا کر سکے، اور  بے جا مشقت میں مبتلا نہیں کیا گیا ہے ۔  ارشاد ربانی ہے : "لا يكلف الله نفسا إلا وسعها " “اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا” (سورۃ البقرہ: 286) اس آیت سے اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ دین میں وہی چیز لازم ہے جو انسان کی استطاعت میں ہو ۔ اگر کسی کے پاس قربانی کی مالی طاقت نہیں ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث  میں ہے کہ جو شخص صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے، اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ  صاحبِ نصاب مرد و عورت پر ہی قربانی واجب ہے ۔  عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا ” سنن ابن ماجه (2/ 1044) قرض لیکر واجب قربانی کی ادائیگی کرنا کیسا ہے ؟ اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور نقد پیسے کا انتظام نہ ہو تو قرض لے کر قربانی کر لے بعد میں ادا کردے ۔  قرض لیکر نفلی قربانی کی ادائیگی کرنا کیسا ہے ؟ اور اگر قربانی واجب نہ ہو لیکن وہ نفلی قربانی کرنا چاہتا ہو تو  اگر آسانی سے قرض دینے والا مل جائے اور اپنے پاس سے بعد میں ادا کرنے کی وسعت ہو۔ تو  قرض لے کر قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ورنہ وسعت نہ ہونے کی صورت میں مقروض ہونا ٹھیک نہیں، پھر قربانی کے لیے قرض نہ لے۔  بہتر کیا ہے؟ 👉 اسلام آسانی کا دین ہے، خود کو مشکل میں ڈالنا درست نہیں

Read more