جنگ آزادی اور مسلمان
*_جنگ آزادی اور مسلمان_*(١) *١٥/ اگست آتے ہی آزادی اور تحریک آزادی کی باتیں ہونے لگتی ہیں، اس دوران زعفرانی پرچم کی بلندی، آر ایس ایس کی چالبازیاں اور پورے ہندوستان پر سیاسی و معاشی تسلط کے باوجود مسلمانوں کا تذکرہ کئے بنا کوئی تقریر و تحریر پوری نہیں ہوتی؛ حالانکہ بار بار یہ باور کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں نے آزادی ہند میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا؛ لیکن ان کے پاس سوائے پروپیگنڈہ کے اور کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے منصف مزاج قلم اٹھاتے ہیں اور یک قلم سرخی پھیر دیتے ہیں، خود انہیں کی صف کے ماہرین و مفکرین تار عنکبوت کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں، خواہ کتنی ہی سازشیں ہوں، ہندوازم اور زعفرانی پرچم کی بلندی ہو، حکومت و سلطنت پر قبضہ ہو یا پھر سماجی و معاشرتی زندگی میں زہر گھولنا ہو، ہر صورت میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے – اس وقت ہندوستان کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، آزادی کے پرچم تلے، قانون کی بالادستی کی باتیں کرتے ہوئے جو کچھ کیا جارہا ہے وہ بھلا کس سے پوشیدہ ہے؟ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ علی الإعلان مسلمانوں کا سر قلم کرنے کی بات کہی گئی، میڈیا نے برائے نام خبر چلائی، کچھ کو گرفتار کیا گیا؛ لیکن جلد ہی انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا گیا، اس کے بعد ایک جبہ، ٹوپی اور داڑھی والے نوجوان کو پولس کے سامنے چند بدمعاش، اوباش اور زعفرانی رومال اوڑھے لوگوں کے ذریعے پیٹے، مارتے اور بڑی بے دردی کے ساتھ بعض غلط فہمیوں کی بنا پر کچلتے دیکھا گیا، بعضوں کی کاوشوں اور چرچا کی وجہ سے کیس درج کیا گیا، مگر جلد از جلد انہیں بھی ضمانت دے دی گئی، اس کے برعکس صرف اکا دکا تقریر اور حق کی آواز بلند کرنے پر اب بھی نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کو دیش دروہ کے الزام میں گرفتار کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا گیا،…
Read more

