HIRA ONLINE / حرا آن لائن
آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں

آزادیٔ ہند : تاریخی تناظر میں برصغیر کی آزادی کی داستان محض 1947ء کی ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک مسلسل اور خونچکاں جدوجہد کی تاریخ ہے۔ انگریزوں کے قدم اس سرزمین پر 17ویں صدی کے اوائل میں تجارت کے بہانے پڑے، مگر آہستہ آہستہ ان کا قبضہ سیاسی، فوجی اور معاشی طاقت میں بدل گیا۔ اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی کئی لہریں اٹھیں، جو مختلف ادوار میں "جنگ آزادی” یا "تحریک آزادی” کے عنوان سے یاد کی جاتی ہیں۔ ذیل میں ان اہم سنگ میلوں کا تاریخی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگ آزادی — جنگِ پلاسی (1757ء) پس منظر: نواب سراج الدولہ نے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیے تجارتی قلعہ بندیوں پر پابندی لگائی۔ انگریزوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر فوجی تصادم ہوا۔ واقعات: پلاسی کے مقام پر جنگ ہوئی۔ میر جعفر سمیت کئی امرا نے غداری کی۔ نتیجہ: نواب کو شکست، انگریزوں کا بنگال پر قبضہ، اور کمپنی کی سیاسی بالادستی کی بنیاد۔ اہمیت: یہ واقعہ انگریز اقتدار کے ابتدائی دور کا نقطۂ آغاز تھا، جس نے آئندہ برصغیر میں انگریز سامراج کے دروازے کھول دیے۔ دوسری جنگ آزادی — جنگِ بکسر (1764ء) پس منظر: میر قاسم (نواب بنگال)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور مغل بادشاہ شاہ عالم دوم نے انگریزوں کے خلاف اتحاد کیا۔ واقعات: بکسر کے میدان میں فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں انگریزوں نے جدید فوجی تربیت اور اسلحے کی بدولت فتح حاصل کی۔ نتیجہ: انگریزوں کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی کے حقوق مل گئے، اور مغل بادشاہ محض علامتی حکمران رہ گیا۔ اہمیت: یہ وہ موڑ تھا جہاں سے انگریزوں کا معاشی اور سیاسی تسلط ناقابلِ واپسی ہوگیا۔ تیسری جنگ آزادی — ٹیپو سلطان کی مزاحمت (1782ء تا 1799ء) پس منظر: میسور کے سلطان ٹیپو، اپنے والد حیدر علی کی وراثت میں ملی ریاست کو انگریزوں سے بچانے کے لیے پرعزم تھے۔ واقعات: چار میسور جنگوں میں انگریزوں اور ان کے حلیفوں (مرہٹہ، حیدرآباد) کے…

Read more