HIRA ONLINE / حرا آن لائن
بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا

بینک کے لئے مکان کرایہ پر دینا بینک ایک سودی کاروبار ہے ، اس لئے اگر پہلے سے مقصد معلوم ہو تو خالص اس مقصد کے لئے مکان کرایہ پر دینا جائز نہ ہو گا کہ یہ معصیت میں ایک طرح کا تعاون ہے ۔ ہاں اگر یوں ہی کسی نے کرایہ پر مکان لے لیا اور بعد کو اس میں بینک قائم ار دیا ۔ تو اب اس پر کوئی بار گناہ نہیں ، امام سرخسی، لکھتے ہیں : لاباس بان يواجر المسلم دارا من الزمي ليسكنها فان شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أوادخل فيها الخنازير لم يلحق للمسلم اثم فى شيئى من ذالك لانه لم يواجرها لذالك والمعصية فى فعل المستاجر دون قصد رب الدار فلا اثم على رب الدار في ذالك –  مسلمان ، ذمی کو کوئی گھر رہائش کے لئے دے ۔ اس میں مضائقہ نہیں ۔ پھر اگر وہ اس میں شراب پیتے ، صلیب کی پرستش کرے یا سور داخل کرے ، تو مسلمان کو ان کا کوئی گناہ نہ ہوگا، اس لئے کہ اس نے اس مقصد کے لئے نہیں دیا ہے ۔ گناہ کرایہ دار کا عمل ہے اور اس کے اس عمل میں صاحب مکان کے ارادہ کو کوئی دخل نہیں ہے ۔ اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ " بعض فقہاء کے اقوال سے جواز بھی معلوم ہوتا ہے ۔ مگر شریعت کا مزاج اسے قبول کرتا نظر نہیں آتا ۔ واللہ اعلم جدید فقہی مسائل : ج : 1 ص ( 410 )

Read more

بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام

اے ٹی ایم کارڈ ( 🏧 ATM ) چونکہ معاملات میں اصل اباحت ہے ، اس لیے اے ٹی ایم ( ATM ) کارڈ جس کے ذریعے مشین سے اپنی جمع کردہ رقم نکالی جاتی ہے کے استعمال میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ( یعنی جائز ہے) ڈیبیٹ کارڈ (debit card) ڈیبیٹ کارڈ کا استعمال ، اس کے ذریعہ خرید و فروخت اور ایک کھاتہ سے دوسرے کھاتہ میں رقم کی منتقلی درست اور جائز ہے۔ کریڈٹ کارڈ ( Cradit card) کریڈٹ کارڈ کی مروج صورت چونکہ سودی معاملہ پر مشتمل ہے ، لہذا کریڈٹ کارڈ یا اس قسم کے کسی کارڈ کا حاصل کرنا جائز نہیں ہے ۔ نوٹ : اے ٹی ایم کارڈ اور ڈیبیٹ کارڈ کے حصول اور استعمال کے لیے جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ کارڈ کا معاوضہ اور سروس چارج ہے ، اس لیے اس کا ادا کرنا جائز ہے حوالہ: کتاب نام : بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام: ص : 19 )

Read more