سیرتِ رسولﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔
مدرسہ, نور الاسلام, موئی کلاں, کنڈہ, پرتاپگڑھ 9506600725

زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کو ہر قدم ایسے حالات سے سابقہ پیش آتا ہے، جہاں محض علم کافی نہیں ہوتا، صرف جذبہ کارگر نہیں ہوتا اور محض قوت و طاقت بھی مسئلے کا حل نہیں بن سکتی؛ وہاں دور اندیشی، معاملہ فہمی، صبر و تحمل، حکمت و بصیرت فراست و دانش مندی اور حالات کے صحیح ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

دور اندیشی اور معاملہ فہمی کی اہمیت

فرد ہو یا خاندان، جماعت ہو یا معاشرہ، قوم ہو یا ملت، سیاسی معاملات ہوں یا معاشرتی مسائل، قومی مصلحتیں ہوں یا بین الاقوامی تعلقات، حتیٰ کہ میدانِ جنگ ہو یا امن کا ماحول ،ہر جگہ کامیابی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انسان حالات کو صرف سطحی اور جذباتی نگاہ سے نہ دیکھے، بلکہ ان کے پس منظر، نتائج اور دور رس اثرات کو بھی سامنے رکھے۔

دور اندیشی دراصل آنے والے حالات کو موجودہ حالات کی روشنی میں سمجھنے اور تطبیق دینے کا نام ہے، اور معاملہ فہمی یہ ہے کہ مختلف مشکلات ،مسائل ،الجھنوں، جذبات، مصلحتوں اور امکانات کے درمیان صحیح فیصلہ کیا جائے۔ بسا اوقات ایک ایسا فیصلہ جو بظاہر بہت معمولی دکھائی دیتا ہے، مستقبل میں بڑے نتائج پیدا کرتا ہے؛ اور کبھی وقتی طور پر سخت معلوم ہونے والا اقدام کسی بڑے فساد کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔ اسی طرح بعض مواقع پر حق بات کہہ دینا بھی کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ حق بات کس وقت، کس انداز، کس زبان اور کس مصلحت کے ساتھ کہی جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذبات اور حکمت، جوش اور ہوش، فوری ردِعمل اور دور رس بصیرت کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔

قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے بڑے فتنے دشمن کی طاقت سے نہیں، بلکہ اپنوں کی عجلت، جذباتیت، باہمی بداعتمادی، رقابت اور غلط فیصلوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ کتنے ہی اختلافات ایسے ہوتے ہیں جنہیں ابتدا ہی میں حکمت و تدبر سے ختم کیا جا سکتا تھا، لیکن جذبات نے انہیں تنازع بنا دیا؛ کتنے ہی معمولی واقعات ایسے ہوتے ہیں جو معاملہ فہمی کے فقدان کے باعث قومی بحران بن جاتے ہیں؛ اور کتنی ہی اجتماعی قوتیں اس لیے بکھر جاتی ہیں کہ ان کے افراد اپنے جذبات کو اپنی بصیرت پر غالب آنے دیتے ہیں۔ آج کا ہمارا معاشرہ بھی اسی حقیقت کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔ اختلافِ رائے کو اختلافِ قلب بنا دینا، معمولی بات کو انا کا مسئلہ بنا لینا، ہر واقعے پر فوری تبصرہ اور فوری ردِعمل کو ضروری سمجھنا، مخالف کو سمجھنے سے پہلے اس پر حکم لگا دینا اور وقتی اشتعال میں ایسے فیصلے کر بیٹھنا جن کے نتائج دیر تک بھگتنا پڑیں یہ سب دور اندیشی کے فقدان کی علامتیں ہیں۔

 

سیرتِ نبوی ﷺ: حکمت و بصیرت کا کامل نمونہ

ایسے انتشار اور افتراق کے ماحول میں سیرتِ طیبہ ﷺ ہمارے لیے محض ماضی کی تاریخ نہیں، بلکہ حاضر اور مستقبل کے لیے مکمل رہنمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ میں ہمیں حکمت و بصیرت، صبر و تحمل، موقع شناسی، انسانی نفسیات کی گہری معرفت اور حالات کے صحیح تجزیے کے بے شمار نمونے ملتے ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ جذبات کو نظر انداز کیا اور نہ جذبات کے ہاتھوں فیصلے کیے؛ نہ دشمن کی سازشوں سے غافل ہوئے اور نہ ہر مخالفت کو فوری تصادم کا ذریعہ بنایا؛ نہ اصولوں پر سمجھوتہ کیا اور نہ حکمت و مصلحت کے دروازے بند کیے۔ آپ ﷺ کا طرزِ عمل یہ بتاتا ہے کہ اصولوں پر استقامت اور طریقۂ کار میں حکمت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ کامیاب قیادت کے دو لازم و ملزوم پہلو ہیں۔

 

حجرِ اسود کے تنازع کا حکیمانہ حل

حجرِ اسود کے نصب کرنے کے موقع پر قبائل کے درمیان پیدا ہونے والا نزاع بظاہر ایک پتھر کو اپنی جگہ رکھنے کا مسئلہ تھا، مگر اس کے پس پردہ قبائلی غیرت، عزت و وقار اور باہمی رقابت کے جذبات کار فرما تھے۔ معمولی سی بے احتیاطی خونریزی کا سبب بن سکتی تھی۔ ایسے نازک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے جس بصیرت کے ساتھ مسئلہ حل فرمایا، وہ معاملہ فہمی کی ایسی مثال ہے جس سے آج کے قومی، سیاسی اور معاشرتی تنازعات کے حل کے لیے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ایک انتہائی حساس موقع پر آپ ﷺ کے صبر، تحقیق، انسانی نفسیات کے ادراک اور فیصلہ کرنے میں عجلت سے اجتناب کی روشن مثال ہے۔ بظاہر معاملہ سنگین تھا، لیکن آپ ﷺ نے اس کے پس منظر کو سمجھا، متعلقہ شخص کو وضاحت کا موقع دیا اور پھر اس کی سابقہ خدمات اور نیت کے پہلو کو بھی سامنے رکھا۔ یہاں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر غلطی غداری نہیں ہوتی اور ہر ظاہری واقعہ اپنے باطن کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کے جذبات کو بھی آپ ﷺ نے حکمت کے ساتھ قابو میں رکھا۔

عبداللہ بن اُبی کے معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی دور اندیشی

 

عبداللہ بن اُبی بن سلول کی مسلسل منافقت، سازشوں اور شاطرانہ چالوں کے باوجود آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر فوری انتقامی اقدام سے گریز فرمایا؛ اس لیے نہیں کہ آپ ﷺ حقیقت سے بے خبر تھے، بلکہ اس لیے کہ آپ ﷺ فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے، دشمن کے ساتھ ساتھ عوامی تاثر، حال کے ساتھ ساتھ مستقبل اور ایک واقعے کے ساتھ ساتھ اس کے دور رس نتائج کو بھی سامنے رکھتے تھے۔ یہی حقیقی قیادت ہے کہ قائد صرف یہ نہ دیکھے کہ ابھی کیا کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ جو کچھ ابھی کیا جائے گا، اس کے بعد کیا ہوگا۔

سیرتِ نبوی ﷺ کا یہ پہلو قومی و ملی زندگی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی قیادت کو فیصلوں میں عجلت کے بجائے بصیرت چاہیے، مذہبی و علمی قیادت کو اختلاف کے مواقع پر حلم و تحمل چاہیے، معاشرتی زندگی کو باہمی برداشت اور حسنِ تدبیر چاہیے، دعوتی میدان کو حکمت و موعظت چاہیے اور عسکری معاملات میں شجاعت کے ساتھ حکمتِ عملی اور حالات کی صحیح واقفیت چاہیے۔ صرف بہادری جنگ جتانے کے لیے کافی نہیں؛ کب لڑنا ہے، کب رکنا ہے، کہاں پیش قدمی کرنی ہے، کہاں صبر کرنا ہے اور کس مرحلے پر مصلحت کو ترجیح دینی ہے یہ سب بھی قیادت کا حصہ ہے۔

آج جب دنیا سیاسی کشمکش، فکری انتشار، معاشرتی بے چینی، مذہبی و مسلکی اختلاف، باہمی بداعتمادی اور جذباتی ردِعمل کے ایک نئے دور سے گزر رہی ہے، سوشل میڈیا نے ہر شخص کو فوری تبصرہ کرنے اور ہر واقعے پر فوری فیصلہ سنانے کا موقع دے دیا ہے، ایسے وقت میں سیرتِ رسول ﷺ کے اس پہلو کو سمجھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں اپنے مزاج میں یہ تبدیلی پیدا کرنا ہوگی کہ ہر بات کا فوری جواب ضروری نہیں، ہر اشتعال کا فوری ردِعمل دانش مندی نہیں، ہر اختلاف دشمنی نہیں اور ہر خاموشی کمزوری نہیں۔ کبھی خاموشی حکمت ہوتی ہے، کبھی تاخیر بصیرت ہوتی ہے، کبھی درگزر مستقبل کی تعمیر کرتا ہے اور کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا بڑے تصادم کو روک دیتا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دور اندیشی کا مطلب کمزوری، مصلحت پرستی یا اصولوں سے دست برداری نہیں؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصولوں کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے ان کے نفاذ کا حکیمانہ طریقہ اختیار کیا جائے۔ معاملہ فہمی کا مطلب حق و باطل میں امتیاز کھو دینا نہیں، بلکہ حق کو حکمت کے ساتھ غالب کرنے کی تدبیر اختیار کرنا ہے۔ صبر کا مطلب بزدلی نہیں، بلکہ جذبات کو عقل و بصیرت کے تابع رکھنے کی قوت ہے؛ اور تحمل کا مطلب ظلم کو قبول کرنا نہیں، بلکہ مناسب وقت اور مناسب طریقۂ کار کے انتخاب کی صلاحیت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سیرتِ رسول اللہ ﷺ میں دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا مطالعہ محض ایک تاریخی موضوع نہیں، بلکہ آج کے انسان، آج کے معاشرے اور آج کی قیادت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر ہمارے قومی و ملی فیصلوں میں جذبات کے بجائے بصیرت، اختلاف میں شدت کے بجائے حکمت، ردِعمل کے بجائے تدبر، انتقام کے بجائے مصلحت اور وقتی مفاد کے بجائے دور رس نتائج کو جگہ مل جائے تو بہت سے ایسے مسائل حل ہو سکتے ہیں جو آج ہمیں ناقابلِ حل دکھائی دیتے ہیں۔

زیرِ نظر مضمون میں سیرتِ طیبہ کے انہی روشن ابواب سے چند واقعات اور مثالیں پیش کی جا رہی ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی غیر معمولی دور اندیشی، بے مثال معاملہ فہمی، صبر و تحمل، انسانی نفسیات کی معرفت اور حالات کے مطابق حکیمانہ طرزِ عمل نمایاں ہوتا ہے۔ ان واقعات کو محض تاریخی واقعات سمجھ کر پڑھنے کے بجائے اگر آج کے حالات کی روشنی میں، اپنے قومی و ملی مسائل اور اجتماعی زندگی کے تناظر میں پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سیرتِ رسول ﷺ ماضی کا ایک محفوظ باب نہیں، بلکہ ہر دور کے لیے زندہ دستورِ حیات ہے۔

اور شاید آج ہماری سب سے بڑی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہم سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف محبت سے نہ پڑھیں، بلکہ محبت کے ساتھ سمجھیں، سمجھنے کے بعد اپنے مزاج میں اتاریں اور پھر اپنی اجتماعی زندگی میں اس کے اصولوں کو بروئے کار لائیں۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بنتیں؛ ان کی تعمیر بصیرت، تحمل، حکمت، اتحاد اور درست فیصلوں سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہی شعور عطا کرتی ہے کہ بڑے بحرانوں کے سامنے گھبرانا نہیں، جذبات کے طوفان میں بہہ جانا نہیں، ہر مخالف کو دشمن سمجھنا نہیں، بلکہ حالات کو سمجھنا، انسانوں کو پڑھنا، نتائج کو دیکھنا اور پھر حق و حکمت کے حسین امتزاج کے ساتھ قدم اٹھانا ہے۔

یہی دور اندیشی ہے، یہی معاملہ فہمی ہے، یہی قیادت کا کمال ہے اور سیرتِ رسول اللہ ﷺ اس کمال کی سب سے روشن، جامع اور کامل تصویر ہے۔

دوستو !

سیرت رسول ﷺ میں تحمل و برداشت، ، فہم و شعور ، ادراک و فراست اور معاملہ فہمی کی درجنوں نہیں ، بلکہ سیکڑوں نمونے اور مثالیں موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی فیصلہ عجلت اور جلد بازی میں نہیں لیتے تھے، معاملے کے تمام پہلوؤں پر باریکی سے نظر ڈالتے اور اس کے عوامل و اسباب پر بہت گہرائی ،باریکی اور گیرائی سے نظر ڈالتے ، اصحاب رائے کی رائے سے فائدہ اٹھاتے اور ان سے مشورہ لیتے، باوجود کہ آپ مشورہ کے اصلا پابند نہیں تھے کیونکہ آپ رسول اور نبی تھے، آپ پر براہ راست وحی کا نزول ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود و شاورھم فی الامر کے تحت نازک اور حساس مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے مشورہ لے کر ہی کوئی حتمی رائے قائم کرتے، فیصلہ لیتے اور اس مسئلہ کا حل پیش کرتے۔ بہت سے موقع پر منافقین کی شرارتوں، فتنہ پردازیوں اور ریشہ دوانیوں پر، بعض صحابہ کو سخت غصہ آیا اور انہوں نے جذبات میں آکر سامنے والے کو، جس کی حرکت اور شرارت سے اسلام اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا، قتل کی اجازت چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع کردیا اور صبر و برداشت کی تلقین کی ۔ عبد اللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار تھا، بارہاں اس کی طرف سے ایسی حرکتیں سرزد ہوئیں ، اس نے ایسے ایسے گھناونے جرم کئے ، جس کی سزا قتل سے کم نہیں تھی، لیکن ہر موقع پر آپ نے صبر، برداشت،تحمل ، حکمت اور دانش مندی سے کام لیا اور وقت شناسی اور معاملہ فہمی کا ایسا ثبوت دیا کہ نتائج اور عوامل کے اعتبار سے اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ عبد اللہ بن ابی کو اس کے کھلم کھلا نفاق اور اسلام دشمنی کے باوجود بہت سی مصلحت کے پیش نظر قتل نہیں کیا گیا اور اسے سزا نہ دینے کی وجہ یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آخرت میں عذاب عظیم دینے کا اعلان فرما دیا تھا دنیاوی سزا و حد سے اس میں تخفیف ہوجاتی، البتہ علامہ ابن حجر رح کا کہنا ہے کہ واقعہ افک میں اس پر بھی حد قذف نافذ ہوا تھا ۔۔

ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ افک کے بعد سر عام عبد اللہ بن ابی منافق کی ذلت و رسوائی کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس کیفیت کو دیکھ کر کہا کہ اے عمر ! تمہارا کیا خیال ہے؟ دیکھو! والله اگر تم نے اس شخص کو اس دن قتل کردیا ہوتا، جس دن تم نے مجھ سے اسے قتل کرنے کی بات کہی تھی، تو اس کے بہت سے ہمدرد اٹھ کھڑے ہوتے، لیکن اگر آج انہیں ہمدردوں کو اس کے قتل کا حکم دیا جائے، تو وہ اسے قتل کردیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا،، واللہ میری سمجھ میں خوب آگیا کہ رسول ﷺ کا معاملہ میرے معاملہ سے زیادہ با برکت ہے۔ (سیرت ابن ہشام)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے سے پہلے حجر اسود کے رکھنے کے سلسلہ میں جو جھگڑا اور تنازعہ ہوا تھا ، اس موقع پر جس انداز سے سب قبیلے کی دل بستگی کی اور ہر ایک کو نمائندگی کا موقع دیا، وہ خود ایک مثال ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ منورہ کے بعد امن و شانتی، صلح و آشتی اور بقائے باہم کے لیے دیگر اقوم کے ساتھ جو معاہدہ کیا اور جو تجاویز طے کئے، جو میثاق مدینہ کے نام سے معروف ہے، اس معاہدہ کی مرکزیت اور جامعیت کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔
ہم یہاں سیرت رسول ﷺ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاملہ فہمی اور حسن معاملہ کا ایک اور واقعہ پیش کرتے ہیں، جس میں ہمارے لیے بہت کچھ عبرت اور نصیحت ہے اور سوچنے اور غور و فکر کے بہت سے بہلو ہیں۔۔

 

حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ کا واقعہ

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نسلا قحطانی تھے، ایام جاہلیت میں قبیلئہ *بنو اسد* کے حلیف تھے، ان کا آبائی وطن ملک یمن تھا۔ مکہ میں غلامی یا حلیفانہ تعلق کے باعث سکونت پذیر تھے ۔ شاعری اور شہسواری میں منفرد حیثیت کے مالک تھے قبل از ہجرت حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور جب مدینہ منورہ اسلام کا پائے تخت اور مرکز رشد و ہدایت قرار پایا، تو آپ بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ وارد یثرب ہوئے اور حضرت منذر بن محمد انصاری رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنا مہمان بنایا اور حضرت خالد بن زحبلہ رضی اللہ عنہ سے مواخات ہوئی۔

آپ ان خوش قسمت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں ہیں جو غزوئہ بدر، احد، خندق اور تمام مشہور غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم رکاب رہے ۔
دربار مصر میں والئی مصر مقوقس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رقعہ اور مکتوب گرامی لے کر حاطب بن بلتعہ ہی کو بھیجا تھا ۔ آپ نے نہ صرف سفارت اور ایلچی کا ہی فریضہ انجام دیا، بلکہ *مصر* کے والی مقوقس کے سامنے اسلام کی شاندار اور بہترین ترجمانی کی اور بادشاہ *مقوقس* کو اسلام کی دعوت پیش کی ۔
*حضرت حاطب بن بلتعہ* نے جو مکالمہ پیش کیا اور جو زبردست اسلام کی ترجمانی کی اس دلنشیں لہجہ اور انداز پر *مقوقس* نے بے اختیار صدائے تحسین و آفرین بلند کی اور بولا تم حکیم ہو اور ایک حکیم کی طرف سے آئے ہو ۔ میں نے جہاں تک غور کیا یہ نبی کسی لغو کام کا حکم نہیں دیتا اور نا پسندیدہ امور سے باز رکھتا ہے ،میں اس کو نہ تو گمراہ جادو گر کہہ سکتا ہوں اور نہ جھوٹا کاہن ،اس میں نبوت کی بہت سی نشانیاں ہیں، میں عنقریب اس پر غور کروں گا۔ اس کے بعد آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نامئہ مبارک لے کر ہاتھی کے دانت کے ایک ڈبہ میں بند کیا اور مہر لگا کر اپنی پیش خدمت کنیز کی حفاظت میں دیا ۔ اس کے بعد مقوقس نے حضرت حاطب کو نہایت عزت و احترام سے رخصت کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گراں قدر تحائف و ہدیات ساتھ کر دیے،جن میں ماریہ و سرین دو لونڈیاں، دلدل نام ایک خچر اور بہت سے قیمتی کپڑے تھے ۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مصر جاکر سفارتی خدمت بھی آپ نے انجام دیا، مقوقس کے دربار میں جاکر ایک معاہدہ ترتیب دیا جو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حملئہ مصر تک طرفین کا معمول بہ تھا ۔

اخلاق وفا شعاری ،احسان پذیری اور صاف گوئی، ان کے مخصوص اوصاف ہیں ۔ مزاج میں قدرے سختی تھی، غلاموں پر سختی کر جاتے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین ان کی اصلاح کرکے دباتے تھے۔ البتہ احباب اور رشتہ داروں کا بے حد خیال رکھتے تھے، فتح مکہ کے موقع پر انہوں نے مشرکین کو جو خط لکھا تھا اور جس خط کا ابھی نیچے تزکرہ کیا جائے گا، وہ درحقیقت ان ہی جذبات پر مبنی تھا ۔ اسی نیت خیر و صاف گوئی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر کا معاملہ فرمایا۔

فتح مکہ کے لئے جب تیاریاں شروع ہوئیں، تو اس کے لئے تمام احتیاطی تدبیریں عمل میں لائی گئیں اور غنیم کو بے خبر رکھنے کی پوری کوشش کی گئی۔ حضرت حاطب بن بلطعہ رضی اللہ عنہ گو مکہ کے رہنے والے نہ تھے، تاہم ایام جاہلیت میں قریش سے جو تعلقات پیدا ہوگئے تھے ،اس نے ان کو احبابِ قدیم کی موادات و مدارات پر برانگیختہ کیا۔ انہوں نے ان تیاریوں کے متعلق خط لکھ کر ایک عورت کی معرفت مکہ کی طرف روانہ فرمایا، لیکن کشاف غیب نے قبل از وقت اس راز کو طشت ازبام کردیا ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ روضئہ خاخ کے پاس جاکر اس عورت سے خط چھین لائیں ،غرض خط گرفتار ہوکر آیا اور پڑھا گیا تو آپ نے تعجب سے فرمایا ۰۰ حاطب یہ کیا ہے ؟ ۰۰

عرض کی یا رسول اللہ!

میرے معاملے میں عجلت نہ فرمائیے ۔ میں قریشی نہیں ہوں تاہم ایام جاہلیت میں،ان سے تعلقات پیدا ہوگئے تھے ۔ چونکہ تمام مہاجرین اپنے مکی اعزہ و اقارب کی حمایت و مساعدت کرتے رہتے ہیں، اس لئے میں نے بھی چاہا کہ اگر نسبی تعلق نہیں ہے تو کم سے کم اس احسان کا معاوضہ ادا کردوں، جو قریش میرے رشتہ داروں کے ساتھ رکھتے ہیں، میں نے یہ کام مذھب سے مرتد ہوکر یا کفر کو اسلام پر ترجیح دے کر نہیں کیا ہے ۔ (بخاری شریف کتاب المغازی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ جو کچھ سچی بات تھی ، اس نے ظاہر کردی ،اس لئے اس کو کوئی برا نہ کہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ!
یہ خدا اور رسول اور مسلمانوں کی خیانت کا مرتکب ہوا ہے ،اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ۔ ۰۰ ارشاد ہوا۰۰ کیا وہ معرکئہ بدر میں شریک نہ تھا ؟ خدا نے تمام اہل بدر کو اجازت دے دی ہے کہ تم جو چاہو کرو ،تمہارے لئے جنت واجب ہوچکی ہے ۔ رحمۃ للعالمین کی اس شان در گزر پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔

اسی واقعہ کے بعد دشمنان اسلام سے الفت و مودت کی ممانعت کی گئی اور قرآن پاک میں یہ احکام نازل ہوئے ۔
*یاایھا اللذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودة و قد کفروا بما جاءکم من الحق*۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( الممتحنة ع ۱)
اے وہ لوگو جو کہ ایمان لائے ہو میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ ۔ تم ان کی طرف محبت سے پیش آتے ہو ،حالانکہ تمہارے پاس جو (مذھب) حق آیا ہے اس کا انہوں نے انکار کیا ہے ۔ ( مستفاد از کتاب مہاجرین جلد دوم)

 

حضرت حاطبؓ کے واقعے سے حاصل ہونے والے اسباق

اس واقعہ سے پہلا سبق یہ ملا کہ اگر انسان سے خطا اور بھول چوک یا کسی طرح کی غلطی ہوجائے یا علمی فرو گزاشت ہوجائے تو فورا اپنی غلطی اور کوتاہی کا اعتراف کرلے ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی بجائے حق پرستی اور صاف گوئی کو اپنا شیوہ بنائے ۔ سواد اعظم اور جمہور کی پیروی کرلے اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم نہیں رہے ۔۔

 

قیادت اور اداروں کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ کی رہنمائی

اس واقعہ میں حکومت، تنظیم و ادارہ اور جماعت و تحریک چلانے والوں کے لئے بھی بے شمار عبرت اور نصیحت کے پہلو موجود ہیں کہ ان کا دل کتنا کشادہ ہونا چاہیے اور عفو و درگزر کی کیسی مثالیں پیش کرنی چاہیے، پرانے اور مخلص احباب سے بشری تقاضے پر ہونے والی خطاؤں اور لغزشوں کو کس قدر معاف کرنا چاہیے اور کس طرح ان کی صلاحیتوں سے غلطی اور خطا پر معافی مانگ لینے کے بعد فائدہ اتھانا چاہیے اور خود ایسے لوگوں کو جن سے بھول چوک ہوجائے، کس طرح صاف گوئی اور سچائی سے کام لینا چاہیے اور پھر جماعت کیساتھ اخلاص کے ساتھ شریک ہوجانا چاہیے ۔

نیز کسی قضیہ اور معاملہ کے حل میں عجلت اور جلد بازی سے پرہیز کرنا چاہیے اور معاملہ کی گہرائی تک پہنچنے کی کرنی چاہیے۔

اس واقعہ کی روشنی میں حکومت اور اداروں نیز علمی اور تحریکی مراکز کے ذمہ داروں کو بھی غور کرنا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے ماتحتوں میں سے اگر کسی سے غلطی اور چوک ہو جائے ،تو کیا سنبھلنے اور نظر ثانی کا موقع انہیں دیتے ہیں؟ کیا ان کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش دوبارہ کی جاتی ہے ؟
دیکھنے میں تو یہی آتا ہے اور مشاہدہ یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو موقع نہیں دیا جاتا ہے اور پھر وہ اچھی صلاحیت والے، جنیس قابل لوگ گوشئہ گمنامی میں چلے جاتے ہیں اور اپنا شخصی وجود اور حیثیت کھو دیتے ہیں ۔
یہی رویہ حکومت اور ادارہ کا بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے کہ اس کی اس صلاحیت کو برباد کردیتے ہیں جبکہ دوسرا آپشن اور حل موجود رہتا ہے ۔ دور نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے زمانے کے اس واقعہ کو ہمیں غور سے پڑھنا چاہیے اور اس کی گہرائی میں جاکر جو لعل و گہر ہیں اس کو تلاش کرنا چاہئے ۔

 
اس واقعہ کا سب سے موثر پہلو یہ ہے کہ انسان کو حق گوئی اور صاف گوئی سے کام لینا چاہئے ۔ اپنی غلطی کا اعتراف فورا کرلینا چاہئے اور جو حقیقت ہے اس کا برملا اظہار کردینا چاہیے، کیونکہ صاف گوئی اور حقیقت بیانی سے مفید نتائج ظاہر ہوتے ہیں اور انسان کے لئے مشکلات سے نکلنے کا راہ ہموار ہو جاتا ہے ۔۔

 

اکراہ کی حالت میں خلاف توحید کلمات: شرعی حکم اور حدود

 

ربیع الاول اور سیرت النبی ﷺ: آپ آئے تو سب کو ملی روشنی