ندوہ کا یہ مجنوں:
کاش ہر ادارہ کو عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ملے
(ناصرالدین مظاہری)
دنیا میں بعض لوگ کسی ادارے میں پڑھتے ہیں، بعض وہاں پڑھاتے ہیں، بعض کسی ادارے کے عہدہ دار ہوتے ہیں، بعض اس ادارے کی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ادارے کے ساتھ صرف وابستہ نہیں ہوتے بلکہ ادارہ ان کی رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔
مولانا عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ندوی مدظلہ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں۔
یہ ندوہ کے صرف استاد نہیں، ندوہ کے عاشق ہیں۔ ان کی ہر سانس میں ندوہ ہے، ہر آواز میں ندوہ ہے، ان کا اوڑھنا ندوہ ہے، بچھونا ندوہ ہے، ان کی آن ندوہ ہے، ان کی شان ندوہ ہے۔ یہ ندوہ سے ہیں اور ندوہ بھی جیسے ان سے ہے۔
ندوہ کے لیے ان کا جذبہ دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص نے اپنے وجود کو بھی ندوہ کے نام وقف کردیا ہے۔ وہ ندوہ میں جیتے ہیں، ندوہ کے لیے سوچتے ہیں، ندوہ کے لیے دوڑتے ہیں اور ان شاء اللہ ندوہ ہی کی محبت کو دل میں لیے اس دنیا سے ان شاءاللہ رخصت ہوں گے۔
میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عجیب آدمی ہیں! ہر ملاقات کے بعد مجھے لگا کہ ندوہ کے لیے اس مجنوں کا جنون پہلے سے کچھ اور بڑھ گیا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ آخر کوئی شخص کسی ادارے سے اتنا عشق کیسے کرسکتا ہے؟ لیکن مولانا کو دیکھ کر یقین آتا ہے کہ ہاں، ادارے بھی محبوب بن سکتے ہیں۔
تدریس میں عمر گزاری، نظام میں عمر خرچ کی، انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں، اور ندوہ کے مالی استحکام کے لیے کام کرتے ہوئے کئی مرتبہ اپنا عہدہ و منصب تک بھول جاتے ہیں۔ ندوہ کی ترجمانی کا فریضہ بھی اس انہماک سے انجام دیتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا ترجمان ملے جو اپنے ادارے کی فکر میں کبھی ہاتھ کا نوالہ منہ تک لے جانا بھول جائے!
یہ صرف الفاظ نہیں، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
مولانا عبد العزیز ندوی بن عبدالرزاق خلیفہ کا تعلق بھٹکل، ضلع کاروار، کرناٹک سے ہے۔ 7 جون 1952ء کو بھٹکل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انجمن ہائی اسکول بھٹکل میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، پھر جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں دینی اور عربی تعلیم حاصل کی۔ 1969ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ پہنچے اور 1977ء میں عالمیت و فضیلت، تخصص فی الحدیث کے ساتھ تعلیم مکمل کی۔
تعلیم مکمل کرکے وطن واپس گئے، مگر والد محترم کے انتقال کے بعد مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے حکم پر 1978ء کے اوائل میں دوبارہ ندوہ واپس آگئے۔ یہ واپسی محض ایک طالب علم یا مدرس کی واپسی نہ تھی، شاید تقدیر نے انہیں ہمیشہ کے لیے ندوہ کے ساتھ باندھ دیا تھا۔
مولانا کے والد محترم کا حضرت مفکر اسلام رحمہ اللہ سے والہانہ تعلق تھا۔ مولانا عبد العزیز نے اس تعلق کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے مزید مضبوط کیا۔ حضرت مولانا رحمہ اللہ کا اعتماد حاصل کیا، ہندوستان کے مختلف علاقوں کے اسفار میں رفاقت کا شرف پایا، خدمت کی، قرب حاصل کیا اور دعائیں لیں۔
حضرت مفکر اسلام رحمہ اللہ کے اشارے پر والد محترم کے انتقال کے بعد ندوہ واپسی کے بعد 9 جمادی الثانی 1398ھ کو معہد دارالعلوم میں مدرس مقرر ہوئے۔ بعد میں دارالعلوم میں منتقل ہوئے اور آج بھی تفسیر و حدیث کی تدریس سے وابستہ ہیں۔
تدریس کے ساتھ ندوۃ العلماء کی ترجمانی کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔ نائب وکیل کلیۃ الشریعہ واصول الدین کی ذمہ داری سنبھالی، پھر 12 ذیقعدہ 1427ھ کو طلبہ کے داخلے اور نقشۂ تعلیمی کی ترتیب کے لیے معاون مہتمم اور اس کے بعد نائب مہتمم بنائے گئے۔ تدریس کے ساتھ یہ انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے۔
"تعمیر حیات” سے بھی شروع ہی سے عملی تعلق رہا۔ اس کی توسیع و اشاعت کے لیے جنوبی ہند کے متعدد اسفار کیے اور اپریل 2018ء میں مجلس مشاورت کے رکن منتخب ہوئے۔
لیکن یہ سب تو مولانا کی سوانح کے چند خشک اوراق ہیں، مولانا کی اصل سوانح ان کا ندوہ کے ساتھ عشق ہے۔
کہاں بھٹکل اور کہاں لکھنؤ!
تہذیب الگ، خورد و نوش جدا، بود و باش مختلف، رہن سہن میں فرق، ثقافت میں نمایاں تفاوت، مگر ندوہ کے عروج و ارتقا، اس کی نشوونما اور استحکام کے لیے مولانا نے اپنے آپ کو اس طرح وقف کردیا کہ بھٹکل کی دوری بھی حائل نہ ہوئی اور لکھنؤ کی اجنبیت بھی رکاوٹ نہ بن سکی۔
انہوں نے ندوہ کو صرف اپنا ادارہ نہیں سمجھا، اپنا گھر سمجھا ہے۔
ایسے لوگ کسی ادارے کی عمارتوں میں نہیں ملتے، اس کے اینٹ پتھر میں نہیں ملتے، اس کے کاغذات اور فائلوں میں نہیں ملتے؛ ایسے لوگ ادارے کی روح میں بس جاتے ہیں۔
کاش! ہر مدرسے کو ایک ایسا مجنوں مل جائے۔
کاش! ہر تعلیم گاہ کو ایک ایسا دیوانہ نصیب ہو جسے اپنے ادارے کی ترقی اپنی ترقی محسوس ہو، جسے ادارے کا نقصان اپنا نقصان لگے، جسے ادارے کی عزت اپنی عزت محسوس ہو، جس کی نیند میں بھی ادارہ ہو اور بیداری میں بھی ادارہ!
سچ کہتا ہوں، اسے مبالغہ پر محمول نہ کیا جائے، دور حاضر میں ندوہ کے جن ارباب و اصحاب سے مجھے ملنے کا موقع ملا، ان سب میں ندوہ کے لیے جو عشق، جو جذبہ، جو بے قراری اور جو جنون میں نے مولانا عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ندوی کے اندر دیکھا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
ایسی قربانیاں دینے والے لوگ اس عہد میں چراغ لے کر تلاش کرنے سے بھی مشکل سے ملیں گے۔
ندوہ خوش نصیب ہے کہ اسے مولانا عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی ندوی جیسے عاشق ملے۔
اور مولانا بھی خوش نصیب ہیں کہ انہیں ندوہ جیسا محبوب ملا۔
مت سہل اسے جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
( پانچ ربیع الاول چودہ سو اڑتالیس ہجری)

