حوض اور پانی کی ٹنکی کی تطہیر: نجاست گرنے کی صورت میں پانی کا حکم
گھروں میں استعمال ہونے والے چھوٹے حوض، پانی کی ٹنکیاں اور دیگر ذخائرِ آب میں کبھی کبھار نجاست گر جانے کا مسئلہ پیش آتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹنکی کا پانی پاک رہے گا یا ناپاک ہوجائے گا؟ اگر پانی ناپاک ہوجائے تو اسے پاک کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلے پانی کی دو بنیادی قسمیں اور فقہائے احناف کے مقرر کردہ اصول کو سمجھنا ضروری ہے۔
پانی کی بنیادی دو قسمیں
فقہ کی کتابوں میں پانی کی بنیادی طور پر دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں:
پانیِ جاری: جو مسلسل بہہ رہا ہو۔
پانیِ راکد: جو ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہو۔
راکد پانی کی بھی دو صورتیں ہیں: کثیر اور قلیل۔
قلیل پانی کا حکم
اگر ٹھہرا ہوا پانی کم مقدار میں ہو تو اس میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے، خواہ نجاست کی وجہ سے پانی کے رنگ، بو یا ذائقے میں کوئی تبدیلی پیدا ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔
کثیر پانی کا حکم
اگر پانی کثیر مقدار میں ہو تو محض نجاست کے گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت ناپاک ہوگا جب نجاست کی وجہ سے پانی کے رنگ، بو یا ذائقے میں تبدیلی پیدا ہوجائے۔
کثیر پانی کی مقدار کتنی ہے؟
پانی کی مقدار کو متعین کرنے کے لیے فقہائے احناف نے ایک واضح معیار بیان کیا ہے۔ ایسا حوض جس کی لمبائی اور چوڑائی تقریباً دس ہاتھ کے برابر ہو، اسے کثیر پانی کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے۔ فقہی اصطلاح میں اسے دَہْ دَر دَہْ کہا جاتا ہے۔
لہٰذا جو حوض یا ٹنکی اس مقدار کی ہو، اس میں محض نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا، جب تک نجاست کی وجہ سے پانی کے اوصاف میں تبدیلی نہ آئے۔
پانی کی ٹنکی میں نجاست گر جائے تو کیا حکم ہے؟
گھروں میں استعمال ہونے والی پانی کی ٹنکی کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، اس لیے ہر ٹنکی کا حکم ایک جیسا نہیں ہوگا۔
1. ٹنکی میں پانی مسلسل داخل اور خارج ہوتا ہو
اگر ٹنکی ایسی ہو کہ ایک طرف سے پانی مسلسل داخل ہوتا رہے اور دوسری طرف سے پانی نکلتا رہے، تو ایسی صورت میں پانی جاری پانی کے حکم میں ہوگا۔
لہٰذا محض کسی معمولی نجاست کے گرنے سے پورا پانی ناپاک نہیں ہوگا، البتہ اگر نجاست کی وجہ سے پانی کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل ہوجائے تو پانی ناپاک ہوجائے گا۔
2. ٹنکی کثیر مقدار میں ہو لیکن پانی
مسلسل داخل یا خارج نہ ہوتا ہو
اگر ٹنکی میں پانی کا آمد و رفت کا مسلسل نظام نہ ہو، لیکن ٹنکی اتنی بڑی ہو کہ اس کا پانی کثیر کے حکم میں آتا ہو، تو محض نجاست گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا۔
البتہ اگر نجاست کی وجہ سے پانی کے اوصاف، یعنی رنگ، بو یا ذائقہ میں تبدیلی پیدا ہوجائے تو پانی ناپاک ہوجائے گا۔
3. ٹنکی چھوٹی ہو اور پانی کا مسلسل آمد و رفت کا نظام بھی نہ ہو
اگر ٹنکی چھوٹی ہو اور اس میں پانی نہ جاری ہو اور نہ وہ کثیر مقدار میں ہو، تو اس میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک ہوجائے گا، خواہ پانی کے رنگ، بو یا ذائقے میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی ہو۔
ناپاک پانی کی ٹنکی کو پاک کرنے کا طریقہ
اگر کسی چھوٹی ٹنکی یا حوض کا پانی نجاست گرنے کی وجہ سے ناپاک ہوجائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف سے پاک پانی داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے پانی نکالا جاتا رہے۔
جب نیا پاک پانی داخل ہوتا رہے اور ٹنکی کا ناپاک پانی باہر نکلتا رہے، یہاں تک کہ ناپاک پانی خارج ہوجائے، تو ٹنکی پاک ہوجائے گی۔
البتہ اگر ٹنکی میں کوئی عینی نجاست موجود ہو، مثلاً کوئی مردہ جانور یا نجاست کا کوئی ٹھوس ٹکڑا، تو پانی داخل کرکے نکالنے سے پہلے اس نجاست کو نکالنا ضروری ہوگا۔
فقہائے احناف کی تصریح
اس مسئلے کی اصل فقہی کتب میں موجود ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
«حوض صغير متنجس ماء، فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض من جانب آخر، كان الفقيه أبو جعفر يقول: كما سال ماء الحوض من الجانب الآخر يحكم بطهارة الحوض.»
یعنی: اگر چھوٹا حوض ناپاک ہوجائے، پھر اس میں ایک طرف سے پاک پانی داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے حوض کا پانی نکلتا رہے تو فقیہ ابو جعفرؒ کے نزدیک جب حوض کا پانی دوسری طرف سے بہہ جائے تو حوض کے پاک ہونے کا حکم کیا جائے گا۔
خلاصہ
-
لہٰذا پانی کی ٹنکی یا حوض یں نجاست گرنے کا حکم ٹنکی کے حجم اور پانی کے جاری یا راکد ہونے پر منحصر ہے۔
چھوٹے راکد پانی میں نجاست گرنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔
کثیر پانی محض نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا، جب تک اس کے اوصاف تبدیل نہ ہوں۔
جس ٹنکی میں پانی مسلسل داخل اور خارج ہوتا رہے، وہ جاری پانی کے حکم میں ہے۔
ناپاک چھوٹی ٹنکی کو پاک کرنے کے لیے ایک طرف سے پاک پانی داخل کرکے دوسری طرف سے ناپاک پانی نکالا جائے۔
اگر کوئی عینی نجاست موجود ہو تو پہلے اسے نکالنا ضروری ہے۔

