مدثر احمد قاسمی
اسلام نے انسان کو زندگی گزارنے کے جو اصول عطا کیے ہیں وہ نہایت عملی، جامع اور متوازن ہیں۔ انہی اصولوں پر چل کر انسان سکون، خوشی اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔ لیکن جب کبھی ان رہنمائیوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو زندگی میں بے ترتیبی، بے سکونی اور پریشانیاں جنم لینے لگتی ہیں۔
اسلام کے اصول چونکہ اعتدال، توازن اور حقیقت پسندی پر مبنی ہیں، اس لیے ان پر قائم رہنے والی امت کو قرآن مجید نے "اُمّتِ وَسَط” قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اسی طرح ہم نے تم کو اُمت وسط بنایا۔” (البقرہ: 143) "وسط” کا مطلب ہے درمیانی راستہ اختیار کرنے والی امت، جو نہ کسی انتہا پسندی میں مبتلا ہو اور نہ ہی غفلت و لاپرواہی کا شکار ہو۔
اس امت کا توازن اس بات میں ہے کہ اس کے نظریات اور اعمال میں افراط و تفریط نہیں بلکہ اعتدال اور توازن ہے؛ اسی وجہ سے وہ دنیا کی دوسری قوموں کے درمیان ایک نمونہ اور معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا اسلام کے ماننے والے اگر اپنے دین پر صحیح طور پر عمل کریں تو وہ اعتدال و توازن کی عملی تصویر بنتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھے، حدودِ الٰہی کی پاسداری کرے اور ہر موقع پر ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جس سے معاشرے میں خیر اور بھلائی کے اسباب پیدا ہوں۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اعتدال کے بجائے بے اعتدالی کو اپنی پہچان بنالیا ہے۔ گویا جس امت کو دنیا کے لیے توازن اور سکون کا سرچشمہ ہونا چاہیے تھا، وہ خود بے ترتیبی اور افراط و تفریط میں الجھ کر دوسروں کے لیے باعثِ عبرت بن گئی۔ اس کی ایک واضح مثال فضول خرچی ہے جس سے اسلام نے سختی کے ساتھ منع کیا ہے، کیونکہ یہ عمل معاشی بدحالی اور اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج اکثر مسلمانوں کی زندگیوں میں فضول خرچی ایک عام روایت بن گئی ہے، حالانکہ قرآن نے اسے شیطان کا عمل قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔”( بنی اسرائیل:27) یہ رویہ دراصل امت کے زوال اور مشکلات کی بنیادی جڑ ہے، اور جب تک مسلمان دوبارہ راہِ اعتدال کی طرف رجوع نہیں کرتے، وہ نہ اپنی حالت بدل سکیں گے اور نہ ہی دوسروں کے لیے حقیقی نمونہ بن سکیں گے۔
مسلمانوں کی موجودہ زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اسلامی طرزِ حیات اور اس کے سنہری اصولوں کو ترک کرنے کی اصل وجہ صرف جہالت نہیں ہے بلکہ زیادہ بڑی وجہ غفلت اور غیر اسلامی تہذیب سے مرعوبیت ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ مسلمان اسلام کی سادگی اور فطری طرزِ زندگی کو اس خوف سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں دنیا والے ہمیں قدامت پسند نہ کہیں یا یہ نہ سمجھیں کہ ہم زمانے کے ساتھ چلنے والے نہیں ہیں۔ یہی مرعوبیت انسان کو اپنے دین کی اصل روح سے دور کر دیتی ہے اور دوسروں کے معیار پر اپنی زندگی کو ڈھالنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
یہ رویہ اس بات کا اظہار ہے کہ مسلمان اپنے معیار کو اللہ اور اس کے رسول کے بجائے لوگوں کی رائے کے تابع کر چکے ہیں۔ جب کہ قرآن نے بار بار یہ تعلیم دی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے، نہ کہ لوگوں کی خوشنودی میں۔ایک افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اس کہاوت کی عملی تصویر بن چکا ہے کہ "کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا”۔ یہ طبقہ دوسروں کی تہذیب اور طرزِ زندگی کی اندھی تقلید میں عملا اسلامی طرز زندگی سے کوسوں دور ہوچکا ہے۔
یہی رویہ دراصل امت کے بحران کی علامت ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کی نقالی سے کبھی کوئی قوم ترقی نہیں کرتی۔ قوموں کی اصل طاقت ان کی اپنی فکری بنیاد اور تہذیبی خود اعتمادی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔اسی پس منظر میں قرآن اہل ایمان کو متنبہ کرتے ہوئے ان سے تصحیح اور تجدید ایمان کا مطالبہ کرتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے۔” (النساء: 136) اس آیت میں ایمان والوں سے ایمان لانے کا مطالبہ یہ واضح کرتا ہے کہ ایمان محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جسے وقتاً فوقتاً تازہ کرنے اور عملا مضبوط بنانے کی ضرورت ہے؛ کیونکہ یہی مسلمانوں کی انفرادیت، بقا اور کامیابی کی ضمانت ہے۔
زیرِ بحث مضمون کے تناظر میں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اسلام کی بعض تعلیمات پر عمل پیرا ہے، مگر بعض کو یکسر نظر انداز کر بیٹھا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:”اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔” (البقرہ: 208)یہ آیت واضح اعلان ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کو غالب کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، معیشت ہو یا معاشرت، تہذیب ہو یا سیاست—ہر جگہ اسلامی اصولوں کو اپنانا ہی حقیقی مسلم شناخت ہے۔ جو لوگ دین کے چند حصوں کو اختیار کر کے باقی کو نظرانداز کر دیتے ہیں، وہ دراصل ایمان کی اصل روح کو کھو بیٹھتے ہیں اور شیطانی وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔مسلمانوں میں دیندار کہلانے والوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے کہ جب خود عمل کی باری آتی ہے تو انتہائی کمزور اور غافل دکھائی دیتا ہے، لیکن جب دوسروں کو نصیحت کرنے کا موقع ملتا ہے تو وعظ و نصیحت کی پوری کتاب ان کی زبان پر آ جاتی ہے۔ یہ رویہ دراصل قول و فعل کے تضاد کی بدترین شکل ہے جس کی قرآن نے سخت مذمت کی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔” (الصف: 2)یہ آیت اہل ایمان کو متنبہ کرتی ہے کہ نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو عمل کا پیکر بنائیں۔ کیونکہ قول و فعل کا تضاد نہ صرف اللہ کے غضب کا باعث بنتا ہے بلکہ دین کی دعوت کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی اصل روح اعتدال، سادگی اور مکمل اطاعت میں ہے۔ اس لیئے مسلمان اس طرز زندگی کو اپنا کر نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی کے لیے بھی آسانی اور سکون کی راہ ہموار کریں۔
2025 Problem of evil از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ 2/1/2026 اک بزم وفا پروانوں کی جاوید احمد غامدی جاوید اختر ندوی جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیں جہاد جہاد کیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے انتظار میں اسلام کی نصرت کے لیے سنجیدہ عمل چھوڑ کربیٹھ جانے والوں کے نام ایک پیغام تحریر : شیخ عبدالفتاح ابو غدہ خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت خواتین کی تعلیم و تربیت/ خواتین کی تعلیم و تربیت/ اسلامی نظام تعلیم خوشگوار ازدواجی زندگی ایک مطالعہ دار العلوم دیوبند دار العلوم دیوبند کی سیر سال نو سالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دل سوانح ابن تیمیہ شرح عقائد شرکا مسئلہ شمائل ندوی کون ہیں صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ علامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائد علامہ انور شاہ کشمیری علامہ انور شاہ کشمیری: حیات و خدمات علامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہ فلسفہ قارونی صفت قرآن کا پیغام مصنوعی ذہانت مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی مفتی شمائل احمد ندوی مفتی شمائل ندوی مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی نمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیں وہ جو بیچتے تھے دوائے دل پرواز رحمانی ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی ڈیبیٹ کارڈ کی شرعی حیثیت ؟ کریڈٹ کارڈ کی شرعی حیثیت ؟ کیا خدا موجود ہے ؟ وجود باری تعالیٰ کیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے ؟ یکساں سول کوڈ اور ان کے نقصانات ۲۰۲۵ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کیسا رہا؟محمد علم اللہ، لندن 🔰انسان كا قتلناقابل عفو گناه!