آج ہر شخص کی فکر صرف اپنے گھر تک محدود نظر آتی ہے ، کہ کیسے میرے بچے تعلیم یافتہ ہو جائے ، کیسے ہماری بشری تمام ضروریات پوری ہوجائے ، اور کیسے
زندگی پرسکوں ہوجائے وغیرہ ۔
یہ ایک اچھی سوچ ہے ، یہ ذمہ داری کا مظہر ہے ، اور ادائیگی فریضہ کا طریقہ کار ہے، بلکہ اگر نیت درست ہو تو یہ عبادت بھی ہے ۔
لیکن صرف انفرادی فکر اور سوچ کے ساتھ اجتماعی کامیابی اور معاشرہ میں امن و امان کی بحالی ممکن نہیں ہے ، بلکہ مکمل کامیابی و کامرانی کے لیے انفرادی غور و خوض کے ساتھ اجتماعی طور پر بھی غور فکر کرنی پڑے گی ، گھر ، فیملی اور خاندان سے آگے گاؤں ملک اور عالمی سطح پر غور و خوض کرنا ہوگا ، تاکہ ہر ایک کے ذریعے پورے گاؤں شہر اور ملک کے انسان کا فائدہ ہو ۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کی نعمت سبھوں پر برستی ہے ، اپنے اور پرانے اور مسلم غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں ہوتا ، اور جس طرح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور نبوی ہدایت سبھوں کے لئے ہے ، اسی طرح ہماری سوچ اور فکر اور عمل پوری سوسائٹی اور سماج کو صالح بنانے کی ہونی چاہیے، ورنہ ہمارا چھوٹا مکان بھی ماحول کی آلودگی سے محفوظ نہیں رہ سکتا ، محلہ، اور گاؤں میں جب آگ لگتی ہے اس کے زد میں سبھوں کے گھر آتے ہیں ،کیونکہ
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف غریبوں کا مکان تھوڑی ہے ۔
افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ اہل ثروت اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کے لئے ہر طرح کے جتن اور محنت کرر ہے ہیں ، باہر بھیج کر اعلی تعلیم دلا رہے ہیں ، مگر گاؤں کے غریب گھرانے کے بچے بچیوں کی تعلیم کی بالکل فکر نہیں ہو پاتی ہے ، کہ آیا گاؤں محلہ کے بچے مدرسے اسکول جارہے ہیں یا نہیں ، اگر نہیں جارہے ہیں تو ان کے والدین سے ملاقات کریں وجہ پوچھیں ، سمجھا بجھا کر آمادہ کریں کہ وہ بھی اپنے بچے کو تعلیم دلائیں ، لیکن ان گوشوں سے بالکل بے توجہی برتی جا رہی ہے، ہر ایک ملت اور امت کے مفاد پر اپنے ہی مفاد کو ترجیح دی رہاہے ۔
موجودہ حالات میں امت سے جہالت کو دور کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، جو تعلیم و ترتیب کے فروغ سے ہی ممکن ہے ، اور اگر ہم نے اپنے دامن کو جہالت کے اس دلدل سے نکالنے کی کوشش انفرادی طور پر کرکے یہ سمجھ لیا کہ بس ہماری کامیابی کے اتنا ہی کافی ہے اور امت کو گمراہی سے بچانے کی کوشش نہیں کی تو ہمارا گھر اور دامن بھی اس جہالت سے داغدار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
اس لئے اگر ہم نے اس پہلو سے فکر کی تو انشاء اللہ ہمارے گھر کے ساتھ محلہ اور گاؤں کا ماحول خوشگوار ہوگا ورنہ وہی ہوگا جو ہو رہا ہے، بڑے حادثات اور ہونگے ، اور نہ ہی گھر محفوظ رہے گا اور نہ ہی کاروبار ۔ اس لیے یہ خوش فہمی پالنا کہ ہم نے کیمرہ لگا لیا ہے ، تو ہمارا مکان محفوظ ہوگیا تو در حقیقت یہ ایک خواب ہے ،
اس لیے ضرورت ہے کہ انفرادی فکر کے ساتھ ساتھ اجتماعی محنت بھی ہو ، تبھی گاؤں اور اطراف کا ماحول خوشگوار ہوگا اور علاقے میں تعلیمی اثرات ظاہر ہونگے، جہالت، شراب نوشی، اور لون جیسی ناسور بیماری کا خاتمہ ہوگا ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق دے آمین
از : محمد حسن ندوی
حال مقیم : بھروچ
- فروری 2026
- جنوری 2026
- دسمبر 2025
- نومبر 2025
- اکتوبر 2025
- ستمبر 2025
- جولائی 2025
- جون 2025
- مئی 2025
- اپریل 2025
- مارچ 2025
- فروری 2025
- جنوری 2025
- دسمبر 2024
- نومبر 2024
- اکتوبر 2024
- ستمبر 2024
- اگست 2024
- جولائی 2024
- جون 2024
- مئی 2024
- اپریل 2024
- مارچ 2024
- فروری 2024
- Blog
- اسلامیات
- حدیث و علوم الحدیث
- سفر نامہ
- سیرت النبی ﷺ
- سیرت و شخصیات
- فقہ و اصول فقہ
- فکر و نظر
- قرآن و علوم القرآن
- کتابی دنیا
- گوشہ خواتین
- مضامین و مقالات
- Blog
- اسلامیات
- حدیث و علوم الحدیث
- سفر نامہ
- سیرت النبی ﷺ
- سیرت و شخصیات
- فقہ و اصول فقہ
- فکر و نظر
- قرآن و علوم القرآن
- کتابی دنیا
- گوشہ خواتین
- مضامین و مقالات
شکریہ جناب!
ماشاء اللہ عمدہ مضمون ہے
ان شااللہ
السلام علیکم! یہ مضمون بہت گہرائی اور تفصیل سے دین کی تفہیم کے مختلف مناہج پر روشنی ڈالتا ہے۔ مجھے…
یہ تحریر بہت گہرے معنی رکھتی ہے اور ہمیں اخلاقیات اور ایمان کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ کیا…
- ماہِ رمضان کی آمد، فضیلت اس کے استقبال کے آداب :ڈاکٹر زیاد الریسی
- صفاانسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام عصرحاضرمیں میڈیااورمسلمان کے موضوع پر مذاکرہ
- "روزہ کی اہمیت اور اسلام اور دیگر مذاہب کے روزوں کا فرق”
- دار العلوم دیوبند کی پانچ بڑی خدمات
- قرآن کے پانچ اساسی علوم
Problem of evil ابو الجیش ندوی اردو صحافت کے امین ۔۔۔ پرویز رحمانی از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ 2/1/2026 امام غزالی علم و دانش کے پیکر تھے امام غزالی کون تھے ؟ امریکی سامراج اور وینزویلا: لاطینی امریکہ میں مداخلت کا تجزیہ اسلامی سیاسی فکر کے تنقیدی فریم میں ایک مطالعہ بڑی جیل سے چھوٹی جیل تراوش قلم جاوید احمد غامدی جاوید اختر– مفتی شمائل ندوی مباحثے کے تناظر میں چند متفرق باتیں جہاد جہاد کیا ہے جہاد کی حقیقت خدا كا وجود اور كائنات كی شہادت خواتین کی تعلیم و تربیت/ خواتین کی تعلیم و تربیت/ اسلامی نظام تعلیم دار العلوم دیوبند سال نو سالِ نو( 2026) : جشن کا موقع یا احتسابِ حال دل سوانح ابن تیمیہ شرح عقائد شمائل ندوی کون ہیں علامه تفتازانى رحمه الله كى شرح العقائد علامہ انور شاہ کشمیری علامہ انور شاہ کشمیری: حیات و خدمات علامہ انور شاہ کشمیریؒ — برصغیر کے علمی آسمان کا درخشاں ستارہ علم کلام فلسفہ قارونی صفت قرآن کا پیغام معاویہ محب اللہ مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی مفتی شمائل احمد ندوی مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی ندوہ اور علم کلام نمایاں مؤثر شخصیات کی سات عادتیں وہ جو بیچتے تھے دوائے دل پرواز رحمانی پروفیسر محسن عثمانی ندوی پرویز رحمانی ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی کرسمس کیا خدا موجود ہے ؟ وجود باری تعالیٰ کیا فلسفہ کی تدریس مضر ہے ؟ یکساں سول کوڈ اور ان کے نقصانات
HIRA ONLINE / حرا آن لائن
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا – اور اک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
اجتماعی فکر : ترقی کی ضمانت
آج ہر شخص کی فکر صرف اپنے گھر تک محدود نظر آتی ہے ، کہ کیسے میرے بچے تعلیم یافتہ ہو جائے ، کیسے ہماری بشری تمام ضروریات پوری ہوجائے ، اور کیسے زندگی پرسکوں ہوجائے وغیرہ ۔ یہ ایک اچھی سوچ ہے ، یہ ذمہ داری کا مظہر ہے ، اور ادائیگی فریضہ کا…
جواب دیں